وجود

... loading ...

وجود

عیدالاضحی کے موقع پر آلائشیں ۔ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بھی بدبودار!!

بدھ 06 ستمبر 2017 عیدالاضحی کے موقع پر آلائشیں ۔ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی بھی بدبودار!!

عید الاضحی قربانی کا درس دیتی ہے اور فرزندانِ اسلام جانوروں کی قربانی دے کر سنّت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہیں ۔ اس سنّت کی ادائیگی کے بعد جانوروں کی آلائشیں عموماََ کچرا خانوں میں پھینکی جاتی ہیں ۔ ان آلائشوں کو اگر بر وقت شہری علاقوں سے نہ اٹھایا جائے تو علاقوں میں تعفّن اٹھنا لازمی امر ہے ۔ یہ تعفن اس قدر خطرناک ہوتا ہے کہ جو فوری طور پر طبی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ بعض حساس طبیعت کے حامل افراد کو فوری اُلٹیاں لگ جاتی ہیں جبکہ اس کے دور رس نتایج یہ برآمد ہوتے ہیں کہ اس علاقے میں انفیکشن پھیلنے لگتا ہے ۔ اور طرح طرح کی بیماریاں وبائی شکل اختیار کرنے لگتی ہیں ۔ ان بیماریوں میں پیٹ کے امراض ، آنکھوں کا انفیکشن، جلدی بیماریاں وغیرہ شامل ہیں ۔ اور اگر کوئی مریض اس علاقے میں آپریشن کے بعد گھر پر آرام کر رہا ہوتا ہے تو اس کے زخم میں انفیکشن اور پَس پڑنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ خصوصاََ معصوم نوزائیدہ بچے ایسے علاقوں میں مختلف مہلک بیماروں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔الغرض آلائشیں اُٹھانا محض صفائی سے جڑا ایک مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق طب وصحت کے مسئلے سے بھی ہے۔ اس لیے عیدالاضحی کے ایّام میں آلائشوں کے حوالے سے بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری پر ہر سال ایک سوال اُٹھایا جاتا ہے۔
آلائشیں اٹھانے کی ذمہ داری سابقہ ادوار میں شہر ی بلدیہ کی ہوا کرتی تھی۔ اب جبکہ سندھ حکومت نے بلدیاتی قوانین ایس ایل جی او 2013 ایکٹ نافذ کیا ہے اور کچرا اٹھانے کے لیے صوبہ بھر میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم کردیا ہے تو اس وقت سے یہ بلدیاتی اداروں سے زیادہ اب سندھ حکومت کی ذمہ داری ہو گئی ہے۔ تاہم سندھ حکومت نے اب تک دیگر معاملات کی طرح کچرا اٹھانے کے اختیار کو بھی کھٹائی میں ڈال رکھا ہے۔ جب سے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ قائم ہوا ہے ضلعی بلدیات کے فنڈز یہ کہہ کر روکے جاتے ہیں کہ اب کچرا آپ کو نہیں اٹھانا۔ دوسری طرف سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے اپنے قیام سے اب تک یعنی پونے دو سال میں میٹرو پولیٹن شہر کراچی ( جس کی 6ضلعی بلدیات اور ایک ضلع کونسل کراچی بھی ہے )میں سے صرف 2 ضلعی بلدیات بلدیہ شرقی اور بلدیہ جنوبی کے ساتھ معاہدے کر کے کام شروع کیا ہے اوروہ بھی ادھورا بلکہ بڑی حد تک ناقص بھی ہے۔ بلدیہ شرقی اور جنوبی میں بھی صفائی کی مجموعی صورت حال غیر میعاری ہے۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ہوتے ہوئے بھی ان دونوں اضلاع میں کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں ۔ ہر طرف تعفن سے شہری پریشان ہیں ۔ سندھ حکومت نے بظاہر یہ محکمہ پورے صوبے کے لیے بنایا ہے مگر اس کی کارکردگی مجموعی طور پر صفر ہے۔ چینی کمپنی سے معاہدہ کرنے کے باوجود بھی اب تک کارکردگی ظاہر نہیں ہوسکی ہے۔ ایسی صورت حال میں آلائشیں اٹھانے کا کام متاثر ہونا ایک لازمی جز ہے۔
عید الاضحی کے موقع پر شہریوں نے سنّت ابراہیمی تو ادا کردی مگر متعلقہ ادارے اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں ۔ ضلعی بلدیات کے افسران بھی منتخب نمائندوں کو آلائشیں اٹھانے میں چونا لگا کر بھاری کمیشن وصول کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور خمیازہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عید کے تین روز ہونے والی جانوروں کی قربانی میں شہریوں نے تقریباََ 21 لاکھ جانوروں کی قربانیاں کیں جبکہ آلائشیں 16 لاکھ کے لگ بھگ ہی اٹھائی گئیں تقریباََ 5 لاکھ آلائشیں شہر کے مختلف مقامات پر عید کے چوتھے روز بھی پڑی تھیں ۔ ان آلائشوں کے باعث پورے شہر کی مرکزی سڑکوں پر گزرنے والے شہریوں کو شدید تعفن کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اور وبائی امراض پھیلنے کاخدشہ موجود ہے۔
سب سے زیادہ گھٹیا کارکردگی بلدیہ کورنگی کی رہی ہے ۔ لانڈھی ،کورنگی ، ملیر اور شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں سے بد انتظامی کے باعث تعفن اٹھ رہا ہے۔ انتظامیہ ضلعی بلدیات کورنگی آلائشیں اٹھانے کی گھٹیا کارکردگی میں پہلے نمبر پر رہی ہے ۔ عید سے قبل ایم کیو ایم نے عشرہ صفائی مہم شروع کروائی تھی ۔ مگر بلدیہ کورنگی نے صرف فوٹو سیشن کروائے اور کچرا پورے ضلع کے ہر علاقے میں ڈھیر کا ڈھیر موجود رہا۔ جبکہ عید کے موقع پر بھی صرف ثابت آلائشیں ہی اٹھائی گئیں اورایسی آلائشیں جو پھٹ گئیں تھیں انکی باقیات وہیں چھوڑدی گئیں جس سے مسلسل تعفن پھیل رہا ہے۔اور کئی مقامات پر آلائشیں اٹھانے کی بھی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ سالڈ ویسٹ کی ذمہ داری سمیت ہر کام کا ٹھیکہ ایک ہی افسر نثار سومرو نے لے رکھا ہے اور چیئرمین نیئر رضا نے اس افسر پر اندھا اعتماد کر رکھا ہے۔ اس ضلع کے عوام بدترین دور سے گزر رہے ہیں ۔ سڑکوں پر کچرا ، کچرا کنڈیاں تعفن دیتی ہیں ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔ اسٹریٹ لائٹیں گزشتہ ایک سال سے بند ہیں ، پارک اجڑے ہوئے ہیں ۔ بلدیہ کورنگی میں منتخب چیئر مین کی موجودگی کا عوام کو احساس بھی نہیں ہوتا۔ سابقہ ایڈ منسٹریٹر کے دور اور آج کے دور میں معمولی فرق بھی نہیں آیا۔ پھر عید الاضحی کے موقع پر عوام کو سکون کیسے مل سکتا تھا۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ چیئرمین کورنگی سے عوام رابطہ بھی نہیں کر سکتے ۔ وہ اپنے دفتر سے اکثر غائب رہتے ہیں ۔ ایم کیوایم کے ایک رکن سندھ اسمبلی سے جب اس کی شکایت کی گئی تو اُن کا جواب یہ تھاکہ وہ تو ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتے۔
بدترین کارکردگی میں دوسرے نمبر پر بلدیہ غربی رہی کہ جہاں منتخب نمائندوں کی موجودگی میں ایڈمنسٹریٹر محکمہ بلدیات حکومت سندھ کو بھاری نذرانے ادا کر کے اپنی تعیناتی کرواتے ہیں ۔پھر یہ ایڈ منسٹریٹرز کرپشن کر کے اپنی سرمایہ کاری بمعہ منافع حاصل کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ بلدیہ غربی میں اورنگی ، سائٹ، کیماڑی،اور بلدیہ ٹاون، کے علاقے شامل ہیں ۔ یہاں بھی آلائشیں اٹھانے میں بھرپور بدعنوانیاں سامنے آئیں اور اس میں میونسپل کمشنر، سالڈ ویسٹ بلدیہ غربی کے افسران ملوث تھے۔
تیسرے نمبر پر بلدیہ جنوبی ہے کہ جہاں صدر اور لیاری کے علاقے شامل ہیں ۔ گنجان آباد اس ضلع میں بھی سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈکا عمل دخل ہے۔ یہاں پر بلدیہ جنوبی کے محکمہ سالڈ ویسٹ کے افسران اور میونسپل کمشنر نے طبیعت سے چونا لگایا ہے۔ آلائشیں اٹھانے کے لیے کرائے پر لی گئی گاڑیوں کی کم تعداد اور 3 روز کے لیے خاکروب بھی کم تعداد میں لیے گئے مگر بلدیہ جنوبی کے خزانے سے بھاری تعداد گاڑیوں کی اور خاکروبوں کی ظاہر کر کے وصولی کر لی جائے گی۔
چوتھے نمبر پر بلدیہ وسطی کی کارکردگی منفی رہی ہے۔ بڑا اور گنجان آباد ضلع 4 زونوں نیو کراچی، ناظم آباد، لیاقت آباد اور گلبرگ پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کے افسران سالڈ ویسٹ بھی منتخب قیادت کو بے وقوف بنانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ کروڑوں کی کرپشن کار کردگی سے نمایا ں ہے ۔ شہر بھر میں کچرا تو آلائشوں پر ڈالا جاتا رہا اور سامنے نظر آنے والی آلائشیں اٹھالی گئیں ۔ جو دب گئیں ان میں سے شدید تعفن اٹھ رہا ہے۔ اسی بد انتظامی کے باعث شہر کا حال بہت بُرا ہے۔
بد انتظامی میں پانچویں نمبر پر بلدیہ شرقی رہا ۔ یہاں ایک افسر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا ڈائریکٹر شفیق الرحمان ملوث ہے کہ جس نے بلدیہ شرقی کا ڈائریکٹر سالڈ ویسٹ اپنے ہم نوا افسر نفیس احمد کو اپنے اثر و رسوخ سے تعینات کروایا ہے ۔ نفیس احمد کو سالڈ ویسٹ کا فوکل پرسن برائے آلائش بھی بنایا گیا تھا۔ شفیق الرحمان بلدیہ شرقی میں اپنے من پسند افسران کو اہم عہدوں پراپنے اثر و رسوخ سے تعینات کرواتا ہے ۔ ذرایع کے مطابق ان افسران نے ڈھائی کروڑ کا ٹھیکہ گرداری لال نامی شخص کو 500 سوزوکی پک اپ کی 3 روز فراہمی کا دیا تھا ۔ فی گاڑی 2 ملازم 3 روز کے لیے رکھے تھے۔ اس سے قبل ہر سال فی گاڑی 3 خاکروب رکھے جاتے تھے ۔ بلدیہ شرقی جو آلائشیں اٹھانے میں اعلیٰ کارکردگی میں 14 سال تک پہلے نمبر پر رہا ہے ۔ تاہم اس سال ناقص کارکردگی کے باعث اپنا مقام کھو چکا ہے ۔
آلائشیں ٹھکانے لگانے میں بلدیہ ملیر اور ضلع کونسل کراچی کی کار کردگی قدرے مناسب نظر آئی ۔ مکمل تو نہیں تاہم ان اداروں نے کافی حد تک بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم اسے اطمنان بخش کسی طور پر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ البتہ مجموعی کارکردگی بہتر کہی جاسکتی ہے۔
ناقص کارکردگی کی اصل وجہ افرادی قوت کی کمی اور کم گاڑیوں کا استعمال ہے جن ضلعی بلدیات نے گزشتہ برسوں میں آلائشیں اٹھانے کے لیے مجموعی طور پر 1500 گاڑیوں کا استعمال کیا تھا اس سال ذ رائع کے مطابق بلدیہ وسطی نے 1200 گاڑیاں حاصل کیں ۔ بلدیہ غربی نے تو حد ہی کردی۔ ذرائع کے مطابق5 زونوں میں صرف 500 گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئیں ۔ جبکہ ادائیگی کے لیے 1200 گاڑیاں ظاہر کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔آلائشیں اٹھانے کے لیے بلدیہ غربی نے فی گاڑی 2 ملازم 3 روز کے لیے رکھے تھے اس سے قبل ہر سال فی گاڑی 3 خاکروب رکھے جاتے تھے ۔ افرادی قوت اور گاڑیوں کی کمی نے کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ۔بلدیہ کورنگی میں بھی 3 کی جگہ 2 خاکروب ایک گاڑی میں کام کر رہے تھے۔ اور ذرایع کے مطابق صرف 450 گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئیں تاہم ادائیگی کے لیے 800 تا 1200 گاڑیاں ظاہر کی جانے کی اطلاعات ہیں ۔ اس کی سب سے زیادہ ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ اس گھٹیا کار کردگی کی کہ جس نے صوبائی سطح کا ادارہ سندھ سالڈ ویسٹ تو بنا دیا مگر اس کے مثبت اثرات سے عوام کو اب تک کوئی فائدہ تو نہیں ہوا البتہ تکلیف کا سامنا ضرور ہے۔ پھر ذمہ داری ضلعی بلدیات کے منتخب چیئرمینوں کی ہے کہ انہوں نے اپنے افسران کو کیوں کھلی چھوٹ
دے رکھی ہے اور کرپشن کی خبروں پر کیوں آنکھیں بند کر کے چشم پوشی کرتے ہیں ۔ کیوں اخبارات کی خبروں کا نوٹس نہیں لیتے اور اپنے افسران کی ہر بات پر یقین کر لیتے ہیں ۔ اُن کے بعد یہ ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں کی ہے کہ وہ اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے چیئرمینوں کی کار کردگی کا جائزہ لیں اور اخبارات کی خبروں پر اپنے چیئرمینوں سے باز پرس بھی کریں ۔ ورنہ عوم اس بات کو سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ کرپشن میں منتخب نمائندے بھی ملوث ہیں اور جن سیاسی جماعتوں سے ان کا تعلق ہے وہ یا ان کے اعلیٰ عہدیداران بھی کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں ۔
عمران علی شاہ


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار وجود - پیر 26 جنوری 2026

گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو ہونا غیرقانونی ہے تو انکوائری کرکے الگ سے مقدمہ کریں انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، میڈیا سے گفتگو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم)پاکستان کے سینئررہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی زمین لیز ری نیو...

کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں کیسے رپورٹ دیں گے،فاروق ستار

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

مضامین
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود منگل 27 جنوری 2026
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود منگل 27 جنوری 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟ وجود پیر 26 جنوری 2026
ایس آئی آر کا نشانہ مسلمان کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت وجود پیر 26 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت

صبر یا جبر وجود پیر 26 جنوری 2026
صبر یا جبر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر