وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

قطر ایران تعلقات کی بحالی پر سعودی عرب کی ناراضی ۔۔چہ معنی دارد

جمعه 01 ستمبر 2017 قطر ایران تعلقات کی بحالی پر سعودی عرب کی ناراضی ۔۔چہ معنی دارد

قطر نے گزشتہ روز ایران سے سفارتی تعلقات مکمل طورپر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے،اور اس اعلان کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتکاروں کاتبادلہ بھی کرلیاگیا ہے،قطر کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے اس اعلان سے سب سے زیادہ دھچکہ سعودی عرب کو پہنچاہے،کیونکہ قطر کے اس اعلان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سعودی عرب کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ اور اس سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کا نہ صرف یہ کہ قطر پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ سعودی عرب سے مفاہمت کیلئے اس کی شرائط تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ہوا بلکہ ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا اعلان کرکے اس نے سعودی عرب اور اس کی حمایت میں قطر سے تعلقات منقطع کرنے والے ممالک کو یہ پیغام دیاہے کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کو خواہ وہ کتناہی چھوٹا کیوں نہ معمولی سمجھ کر اس پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوششیں نہیں کرنی چاہئیں ۔
قطر کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اس اعلان کو اس اعتبار سے خوش آئند قرار دیاجاسکتا ہے کہ اس سے خلیجی ممالک اور ایران کے مابین دوری کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ قطر نے گزشتہ سال سعودی عرب کی پیروی میں ایران سے اس وقت تعلقات منقطع کیے ۔ جب جنوری 2016 میں سعودی عرب میں ایک شیعہ رہنما کو پھانسی دی گئی تھی اور جس کے ردعمل میں تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کیا گیا تھا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ مسلمان ممالک کے درمیان اندرونی کشمکش کا فائدہ ہمیشہ دشمنوں نے اٹھایا ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مخاصمت کو 4 دہائیاں گزر چکی ہیں جس کا دونوں اطراف کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عراق ایران جنگ ایک دہائی جاری رہی بعد ازاں تعلقات میں بہتری آئی مگر دیرپا خوشگوار تعلقات قائم نہ رہ سکے۔ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے ایران کو خطرہ قراردیکر سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور خلیجی ممالک کو غیر ضروری طورپر اسلحہ خریدنے پر مجبور کیا۔ بارک اوباما کے دور میں امریکا ایران تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی تو یہ نئی پیش رفت بھی خلیجی ممالک کے لئے تشویش سے کم نہ تھی۔ انہوں نے بہت واویلا کیا مگر اوبامہ انتظامیہ نے ایران سے ایٹمی معاہدہ کرنے کی ٹھان لی اور وہ ایسا کرکے رہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد ایران پر سے اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ عاید کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور کچھ پابندیاں لگانے کااعلان بھی کرچکے ہیں لیکن ایرانی قیادت کی جانب سے انتہائی سخت موقف اختیار کیے جانے کے بعد امریکا نے اس معاملے میں خاموش ہوجانے ہی میں مصلحت سمجھی اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی ایران ان پابندیوں سے بڑی حد تک آزاد ہے ،ایران نے اب تک کھلے عام ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا ہے جس سے یہ تاثرلیا جاسکے کہ وہ خلیجی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کررہا ہے۔ خلیجی ممالک میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ ایران اپنے منجمد اثاثے بحال ہونے اور خام تیل کی برآمد کے بعد اپنے وسائل کو عدم استحکام پھیلانے کیلئے استعمال کرے گا۔ ایران نے اب تک انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خلیجی ممالک کے خدشات درست نہیں ہیں ۔ جبکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب’ خلیجی ممالک سے توقعات رکھتا ہے کہ وہ اہم علاقائی مسائل میں اس کی رائے کا احترام کریں ،اور یہ توقعات پوری نہ ہونے پربعض ممالک سے اس کے گلے شکوے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ قطر کے ساتھ بھی اس کا یہی مسئلہ ہے۔ قطری قیادت نے اپنی خودمختاری دکھانے کی جب بھی کوشش کی سعودی عرب سے اس کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ سعودی قیادت کو یہ بات ناگوار ہے کہ خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تعلقات رکھیں ۔
جہاں تک قطر اور ایران کے درمیان تعلقات کا سوال ہے تو اس ضمن میں یہ بات مدنظر رکھی جانی چاہئے کہ ان دونوں ملکوں کی گیس فیلڈ مشترکہ ہے اور دونوں بعض نظریاتی حوالوں سے بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ ایک معاملہ اخوان المسلمین کا ہے۔ ایران نے مصر میں اخوان کی حکومت کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کے قیام کے بعد کوئی ایرانی صدر طویل عرصے کے بعد مصر کے دورے پر گیا تھا۔ قطر نے مصر میں اخوان حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مخالفت کی اور کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ قطر کی قیادت کی یہ جرات سعودی عرب کو پسند نہیں آئی اور اس نے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا۔ سعودی عرب نے قطر پر اب بھی یہی الزام لگایا ہے کہ قطر اخوان المسلمین کی حمایت کرتا ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ مصر میں جس انداز میں اخوان المسلمین کی حکومت کاتختہ الٹا گیا پاکستانی عوام کی اکثریت نے اسے پسند نہیں کیا اور اخوان المسلمین کے حوالے سے سعودی پالیسی پر پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت کو تحفظات ہیں ،یہاں تک کہ قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے کوبھی پاکستان کے عوام نے پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا ۔پاکستانیوں کی ہمیشہ سے ایک رائے ہے کہ مسلم ممالک کو اپنے تمامتر اختلافات کے باوجود ان اختلافات کو منظر عام پر لانے سے گریز کرنا چاہئے، پاکستانی عوام اتحاد امت کے داعی ہیں اور ہمیشہ سے وہ اس کے خواہاں بھی رہے ہیں ،اس لئے جب بھی کسی مسلمان ملک کی جانب سے دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ کشیدگی کی خبریں آتی ہیں تو پاکستانی پریشان ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی تو خطے میں جاری کشیدگی بھی ختم ہوجائے گی اور مسلمان ممالک میں جاری ان کی پراکسی جنگ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ قطر اگر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرتاہے تو بجائے اس پر ناراضگی کااظہار کرنے کے سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ مسلمان ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کی بحالی کے عمل کا حصہ بنیں اور اپنی سخت پالیسی ترک کرکے مسلم اْمہ کے وسیع تر اتحاد کے لئے کام کریں ۔
حرمین شریفین یعنی مکہ اور مدینہ کی وجہ سے سعودی عرب کو عالم اسلام میں خصوصی مرکزی حیثیت ہے سعودی عرب دنیا بھر کے مسلمانوں کاروحانی مرکز ہے قدرتی وسائل تیل وغیرہ اور جغرافیائی لحاظ بھی اس کی اہمیت، حیثیت اور مقام ہے ماضی میں سعودی عرب کا عالمِ اسلام میں مرکزی کلیدی کردار رہا دنیا بھر کے مسلمانوں کی مدد راہنمائی اور ترجمانی کرنے والا امام ملک سعودی عرب جہاں شاہ فیصل جیسے درد دل رکھنے والے دانشور قسم کے حکمران نے پوری زندگی عالمِ اسلام کو متحد کرنے میں گزار دی،لیکن آج کی صورت حال اس کے بالکل برعکس نظر آرہی ہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ موجودہ سعودی حکمران اپنے ماضی کے فریضے اور ذمہ داریوں کو فراموش کرچکے ہیں ، عالمِ اسلام کی تنظیم او آئی سی کو غیر موثر اور غیر فعال بنادیا گیاہے اورایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکا کی ایما پر عالمِ اسلام کو شیعہ اور سنی 2گروپوں میں تقسیم کرکے جنگی حالات پیدا کیے جارہے ہیں اور یہ صاف محسوس ہورہاہے کہ یہ سب کچھ امریکا کے اشارے پر اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کیاجارہاہے ، مئی 2017کے آخر میں سعودی عرب میں مسلم ممالک کے اجلاس میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی بطور مہمان خصوصی شرکت اور خطاب تاریخ کا ایک بڑا سانحہ یا المیہ ہے اس اجلاس میں امریکی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں بھارت میں دہشت گردی کی مذمت کی اوربا الفاظ دیگر پاکستان کے خلاف اور مسئلہ کشمیر کے خلاف بات کی لیکن دنیائے اسلام کے ایک معتبر ملک اور واحد اسلامی ایٹمی ملک کے وزیر اعظم کو تقریر کا بھی موقع نہیں دیا گیا ، مسئلہ کشمیرکی حمایت میں بات کرنے کے بجائے بھارت کے حق میں اور مظلوم کشمیریوں کے خلاف بات کی گئی فلسطین کے مظلوم مسلمان بھائیوں کی آزادی پر تو کسی نے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اس طرح امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی شاہ کی امامت میں یہ کانفرنس صرف اور صرف امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کو تباہ کرنے کی بنیاد بنی۔ سعودی حکمرانوں نے اس کانفرنس کے اختتام پر ٹرمپ کو ڈیڑھ ارب ڈالرز مالیت کے تحائف سے نواز کر تاریخ اسلام اور تاریخ عالم میں نئی تاریخ رقم کی ہے ٹرمپ کو انعام میں ملنے والی دیگر اشیاکے ساتھ 20کلو سونے کی تلوار بھی شامل ہے،اس کانفرنس میں بھی قطر کے حوالے سے کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جس سے یہ اندازا ہوتاکہ سعودی عرب یا کسی اور خلیجی ملک کو قطر کی کسی پالیسی سے کوئی اختلاف ہے لیکن کانفرنس کے فوری بعد سعودی شاہ نے اچانک قطر کے خلاف کارروائی کااعلان کرکے عملاً اس کی ناکہ بندی کردی ،سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا قطر یا ایران کے خلاف صف بندی کرکے عالم اسلام کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ یقینا ایسا ہرگز نہیں ہے،بلکہ دراصل یہ عالم اسلام کو تباہ کرنے کی صف بندی کا آغاز ہے اس عالم اسلام کو جس صورت حال کاسامناہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے بجائے افہام و تفہیم کی راہ اپنائیں ۔ قطرہمیشہ سے سعودی عرب کا اتحادی رہا ہے اس کی فوج یمن میں سعودی عرب کے اتحادی کے طور پر لڑ رہی تھی سوال یہ ہے کہ پھر اچانک ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے قطر نے آخر کیا جرم کیابظاہر نظر یہی آتاہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حداد نے بس یہ جرم کیا کہ اس نے سعودی بادشاہ کی طرف سے ٹرمپ کو دئیے جانے والے تحائف پر شدید تنقید کی تھی دوسرا یہ بھی کہا کہ ایران اسلامی دنیا کا ایک طاقتور ملک ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، قطر کے ایران سے دوستانہ تعلقات ہیں قطر کے امیر کا یہ بیان سعودی عرب اور امریکا کو پسند نہیں آیا اور اس کی ناکہ بندی کر دی گئی،قطرکے خلاف اس کارروائی کا جواز یہ پیش کیاگیا کہ قطر اخوان المسلمین کی مالی مدد کرتا ہے یہ الزام ثابت کرنے کیلئے سعودی عرب سمیت کسی بھی ملک کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے 1950اور 1960کی دہائی میں سعودی عرب خود اخوان المسلمین کا مددگار رہا ہے ریاض میں اس کا دفتر قائم تھا۔امید کی جاتی ہے کہ سعودی فرمانروا حقیقی معنوں میں حرمین شریفین کے والی ہونے کاکردار ادا کرنے پر توجہ دیں گے اور امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے متحد اور منظم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ پوری دنیا پر یہ ثابت ہوسکے کہ پوری دنیا کے مسلمان متحد ہیں ان کی سوچ ایک ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آسکتاہے، اگر مسلم امہ یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو دنیا کے مختلف ممالک میں اس وقت مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں کاسلسلہ بڑی حد تک رک جائے گا۔


متعلقہ خبریں


پی پی 38 سیالکوٹ ضمنی انتخابات:پی ٹی آئی نے میدان مار لیا وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

سیالکوٹ حلقہ پی پی 38 کے ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے میدان مارلیا۔ پی ٹی آئی کے امیدوار احسن سلیم جیت گئے ۔ احسن سلیم بریار نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار طارق سبحانی کو 7ہزار ووٹوں کی برتری سے شکست دے دی ہے تمام 165 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار احسن سلیم بریار نے 59799 ووٹ حاصل کیے جبکہ ن لیگ کے امیدوار طارق سبحانی نے 52799 ووٹ حاصل کیے ۔ یوں سیالکوٹ حلقہ پی پی 38 کا یہ معرکہ تحریک انصاف نے اپنے نام کرلیا ہے ۔ یہ نشس...

پی پی 38 سیالکوٹ ضمنی انتخابات:پی ٹی آئی نے میدان مار لیا

وکلا تنظیموں کے اعتراضات مسترد ، جسٹس محمد علی مظہر کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

جوڈیشل کمیشن نے وکلا تنظیموں کے اعتراضات مسترد کر دیے ۔ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش کر دی گئی۔چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق کمیشن نے چار کے مقابلے میں پانچ کی اکثریت سے جسٹس محمد علی مظہر کے نام کی سفارش کر دی۔بعدازاں معاملہ پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو بھیج دیا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر کا سندھ ہائیکورٹ میں سنیارٹی کے لحاظ سے پانچواں نمبر تھا۔دوسری جانب پاکستان بار کو...

وکلا تنظیموں کے اعتراضات مسترد ، جسٹس محمد علی مظہر کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش

کورونا پھیلاؤ ، سندھ حکومت کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

سندھ حکومت نے کورونا کے پھیلاو کو روکنے کے لئے سخت ترین اقدامات کا فیصلہ کرلیا ہے ۔سندھ حکومت کی جانب سے این سی او سی کو سفارش کی جائے گی وفاقی سرکاری ادارروں میں 15دن کی چھٹی کے ساتھ زمینی ،فضائی اور ریلوے کے سفر پر پابندی عائد کی جائے ۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص کورونا کی لہر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے ، کراچی میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے ، جس کے ساتھ ہی سندھ حکومت نے کورونا کے پھیلا کو روکنے کے لئے سخت ترین اقدامات کا ...

کورونا پھیلاؤ ، سندھ حکومت کا سخت ترین اقدامات کا فیصلہ

احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

سندھ اپیکس کمیٹی کا اجلاس آج جمعرات 29 جولائی کو ہوگا۔ذرائع سندھ حکومت کے مطابق کراچی میں احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کا فیصلہ کرلیا ہے ۔احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کا معاملہ ایپکس کمیٹی اجلاس کے ایجنڈا میں شامل کرلیا گیاہے ۔صوبائی ایپکس کمیٹی اجلاس 29جولائی کو شیڈول ہے ۔وزیراعلی مراعلی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں کورکمانڈر کراچی ڈی جی رینجرز شریک ہونگے۔ ریاست مخالف عناصر کے خلاف کاروائی کا معاملہ بھی ایپکس کمیٹی اجلاس میں زیر غور آئیگا کراچی میں اسٹریٹ کرائم,...

احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ

افغانستان کے معاملے پر ہم پر بہت بڑا پریشر آئے گا،عمران خان وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ ہم میں اور اپوزیشن میں نظریے کا فرق ہے اور اگر ہم نظریے پر کھڑے رہے تو کبھی ناکام نہیں ہوں گے ، لیڈرشپ کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے اندر پریشر برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیئے ، افغانستان کے معاملے پر ہم پر بہت بڑا پریشر آئے گا، ہم پریشر میں آنے کے بجائے وہ فیصلے کریں گے جو عوام کی بہتری کے لیے ہوں۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی رہنمائوں کا اجلاس ہوا جس میں حکومتی رہنماوں اور ترجمانوں نے آزاد کشمیر الیکشن میں کامیابی پر وزیراعظم کو مبارکباد پ...

افغانستان کے معاملے پر ہم پر بہت بڑا پریشر آئے گا،عمران خان

قرنطینہ سینٹر سے 23کورونا مریض فرار ،سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

محکمہ صحت سندھ نے محکمہ داخلہ کو خط لکھ دیا ہے ۔محکمہ صحت نے قرنطینہ سینٹرز کی سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب تک قرنطینہ سینٹرز سے 23 کورونا مریض فرار ہوچکے ہیں سب سے زیادہ مریض سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد سے فرار ہوئے یہ مریض بیرون ملک سے پاکستان آئے ، جن میں خطرناک ڈیٹا ویرنٹ کی تصدیق ہوئی تھی یہ مریض باآسانی دوسروں میں کورونا پھیلا سکتے ہیں۔

قرنطینہ سینٹر سے 23کورونا مریض فرار ،سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ

چین جوہری ہتھیار رکھنے کیلئے زیر زمین مزید گودام بنا رہا ہے ، امریکی سائنسدان وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

امریکی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ چین جوہری ہتھیار رکھنے کیلئے زیر زمین مزید گودام بنا رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ کی مدد سے لی گئی تصاویر سے میں دیکھا جاسکتا ہے چین کے مغربی شہرکے پاس ایک صحرا میں میزائلوں کو محفوظ طریقے سے رکھنے کے لیے زیر زمین گودام تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ زیر زمین گودام بالکل اسی نوعیت کے ہیں جس میں چین نے موجودہ ایٹمی ہتھیار محفوظ کر رکھے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق دوماہ میں یہ دوسری جگہ دریافت ہوئی ہے جہاں چین زیر زمین گودام بنا رہا ہے ۔ نئے علاقے ...

چین جوہری ہتھیار رکھنے کیلئے زیر زمین مزید گودام بنا رہا ہے ، امریکی سائنسدان

ٹوکیو میں مسلسل دوسرے روز کورونا کے ریکارڈ 3 ہزار کیسز رپورٹ وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

اولمپک کی میزبانی کرنے والے جاپان کے شہر ٹوکیو میں مسلسل دوسرے روز کورونا کے ریکارڈ 3 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ۔ جاپانی حکام کے مطابق شہر میں کورونا وائرس کی نئی بھارتی قسم ڈیلٹا کے کیسز میں غیرمعمولی اضافہ ہورہا ہے ۔ٹوکیو کے قریبی تین ریجن کے گورنروں نے مرکزی حکومت سے ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کی درخواست کردی ہے جبکہ ٹوکیو میں پہلے ہی ہنگامی صورتحال کا نفاذ برقرار ہے ۔اولمپک کھیلوں میں شریک مزید 16افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد169ہوگئی ہے ۔

ٹوکیو میں مسلسل دوسرے روز کورونا کے ریکارڈ 3 ہزار کیسز رپورٹ

غیر معیاری ادویات تیاری 'ڈریپ نے 5 لوکل دوا ساز کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے غیر معیاری ادویات تیار کرنے والی دوا ساز کمپنیوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 5لوکل دوا ساز کمپنیوں کے لائسنس کینسل کر دئیے ۔ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 12 لوکل دوا سازکمپنیوں کے لائسنس معطل کر دئیے ۔ڈریپ نے سندھ کی پانچ، بلوچستان کی ایک دوا ساز کمپنی کا لائسنس معطل کردیا جبکہ خیبرپختونخوا کی 5 اور اسلام آباد کی ایک دواساز کمپنی کا لائسنس معطل کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق ڈریپ نے پنجاب کی 2، سندھ کی 2 اور اسلام آباد کی 1 فارما کمپنی کا لائسنس کینسل...

غیر معیاری ادویات تیاری 'ڈریپ نے 5 لوکل دوا ساز کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے

سینئر صحافی و سابق مشیر اطلاعات صلاح الدین حیدر انتقال کرگئے وجود - جمعرات 29 جولائی 2021

سینئر صحافی اور سابق مشیر اطلاعات صلاح الدین حیدر کراچی میں انتقال کرگئے ۔اہلخانہ کا کہنا ہے کہ صلاح الدین حیدر کچھ عرصے سے علیل تھے اور بدھ کی صبح ان کا انتقال ہوا۔ان کی صاحبزادی نے بتایا کہ والد کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔انھوں نے کہا کہ سینئر صحافی و سابق مشیر اطلاعات کی نماز جنازہ و تدفین کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

سینئر صحافی و سابق مشیر اطلاعات صلاح الدین حیدر انتقال کرگئے

پاکستان نے عدالتی نظام سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ مسترد کردی وجود - بدھ 28 جولائی 2021

پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ کی پاکستان میں عدالتی نظام سے متعلق رپورٹ مسترد کردی ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی محکمہ خارجہ کی پاکستان میں عدالتی نظام کے بارے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام کے بارے میں امریکی رپورٹ میں دیے گئے تاثرات غیر معقول اور غیرمصدقہ ہیں، پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور عدالتیں ملک کے آئین و قوانین کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی رپورٹ میں الزامات کو حقائق کے برعکس اور گمراہ کن طور پر پیش کیا گیا، حکوم...

پاکستان نے عدالتی نظام سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ مسترد کردی

معید یوسف امریکی ہم منصب سے ملاقات کیلئے امریکا روانہ وجود - بدھ 28 جولائی 2021

قومی سلامتی کے مشیرمعید یوسف امریکا کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے جو مئی میں جنیوا میں اجلاس کے دوران ان کے اور امریکی مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان کے درمیان اعلی سطح مشغولیت کے لیے ہونے والے معاہدے کا حصہ ہے ۔اس دورے کے دوران معید یوسف جیک سلیوان سے ملاقات کریں گے تاکہ وہ امریکا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لے سکیں۔وہ دیگر امریکی قانون سازوں، سینئر عہدیداروں، امریکا میں مقیم تھنک ٹینکس کے علاوہ میڈیا اور پاکستانی برادری سے بھی ملاقاتیں کری...

معید یوسف امریکی ہم منصب سے ملاقات کیلئے امریکا روانہ

مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین