وجود

... loading ...

وجود

قطر ایران تعلقات کی بحالی پر سعودی عرب کی ناراضی ۔۔چہ معنی دارد

جمعه 01 ستمبر 2017 قطر ایران تعلقات کی بحالی پر سعودی عرب کی ناراضی ۔۔چہ معنی دارد

قطر نے گزشتہ روز ایران سے سفارتی تعلقات مکمل طورپر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے،اور اس اعلان کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتکاروں کاتبادلہ بھی کرلیاگیا ہے،قطر کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے اس اعلان سے سب سے زیادہ دھچکہ سعودی عرب کو پہنچاہے،کیونکہ قطر کے اس اعلان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سعودی عرب کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ اور اس سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کا نہ صرف یہ کہ قطر پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ سعودی عرب سے مفاہمت کیلئے اس کی شرائط تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ہوا بلکہ ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا اعلان کرکے اس نے سعودی عرب اور اس کی حمایت میں قطر سے تعلقات منقطع کرنے والے ممالک کو یہ پیغام دیاہے کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کو خواہ وہ کتناہی چھوٹا کیوں نہ معمولی سمجھ کر اس پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوششیں نہیں کرنی چاہئیں ۔
قطر کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اس اعلان کو اس اعتبار سے خوش آئند قرار دیاجاسکتا ہے کہ اس سے خلیجی ممالک اور ایران کے مابین دوری کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ قطر نے گزشتہ سال سعودی عرب کی پیروی میں ایران سے اس وقت تعلقات منقطع کیے ۔ جب جنوری 2016 میں سعودی عرب میں ایک شیعہ رہنما کو پھانسی دی گئی تھی اور جس کے ردعمل میں تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کیا گیا تھا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ مسلمان ممالک کے درمیان اندرونی کشمکش کا فائدہ ہمیشہ دشمنوں نے اٹھایا ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مخاصمت کو 4 دہائیاں گزر چکی ہیں جس کا دونوں اطراف کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عراق ایران جنگ ایک دہائی جاری رہی بعد ازاں تعلقات میں بہتری آئی مگر دیرپا خوشگوار تعلقات قائم نہ رہ سکے۔ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے ایران کو خطرہ قراردیکر سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور خلیجی ممالک کو غیر ضروری طورپر اسلحہ خریدنے پر مجبور کیا۔ بارک اوباما کے دور میں امریکا ایران تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی تو یہ نئی پیش رفت بھی خلیجی ممالک کے لئے تشویش سے کم نہ تھی۔ انہوں نے بہت واویلا کیا مگر اوبامہ انتظامیہ نے ایران سے ایٹمی معاہدہ کرنے کی ٹھان لی اور وہ ایسا کرکے رہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد ایران پر سے اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ عاید کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور کچھ پابندیاں لگانے کااعلان بھی کرچکے ہیں لیکن ایرانی قیادت کی جانب سے انتہائی سخت موقف اختیار کیے جانے کے بعد امریکا نے اس معاملے میں خاموش ہوجانے ہی میں مصلحت سمجھی اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی ایران ان پابندیوں سے بڑی حد تک آزاد ہے ،ایران نے اب تک کھلے عام ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا ہے جس سے یہ تاثرلیا جاسکے کہ وہ خلیجی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کررہا ہے۔ خلیجی ممالک میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ ایران اپنے منجمد اثاثے بحال ہونے اور خام تیل کی برآمد کے بعد اپنے وسائل کو عدم استحکام پھیلانے کیلئے استعمال کرے گا۔ ایران نے اب تک انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خلیجی ممالک کے خدشات درست نہیں ہیں ۔ جبکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب’ خلیجی ممالک سے توقعات رکھتا ہے کہ وہ اہم علاقائی مسائل میں اس کی رائے کا احترام کریں ،اور یہ توقعات پوری نہ ہونے پربعض ممالک سے اس کے گلے شکوے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ قطر کے ساتھ بھی اس کا یہی مسئلہ ہے۔ قطری قیادت نے اپنی خودمختاری دکھانے کی جب بھی کوشش کی سعودی عرب سے اس کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ سعودی قیادت کو یہ بات ناگوار ہے کہ خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تعلقات رکھیں ۔
جہاں تک قطر اور ایران کے درمیان تعلقات کا سوال ہے تو اس ضمن میں یہ بات مدنظر رکھی جانی چاہئے کہ ان دونوں ملکوں کی گیس فیلڈ مشترکہ ہے اور دونوں بعض نظریاتی حوالوں سے بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ ایک معاملہ اخوان المسلمین کا ہے۔ ایران نے مصر میں اخوان کی حکومت کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کے قیام کے بعد کوئی ایرانی صدر طویل عرصے کے بعد مصر کے دورے پر گیا تھا۔ قطر نے مصر میں اخوان حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مخالفت کی اور کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ قطر کی قیادت کی یہ جرات سعودی عرب کو پسند نہیں آئی اور اس نے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا۔ سعودی عرب نے قطر پر اب بھی یہی الزام لگایا ہے کہ قطر اخوان المسلمین کی حمایت کرتا ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ مصر میں جس انداز میں اخوان المسلمین کی حکومت کاتختہ الٹا گیا پاکستانی عوام کی اکثریت نے اسے پسند نہیں کیا اور اخوان المسلمین کے حوالے سے سعودی پالیسی پر پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت کو تحفظات ہیں ،یہاں تک کہ قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے کوبھی پاکستان کے عوام نے پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا ۔پاکستانیوں کی ہمیشہ سے ایک رائے ہے کہ مسلم ممالک کو اپنے تمامتر اختلافات کے باوجود ان اختلافات کو منظر عام پر لانے سے گریز کرنا چاہئے، پاکستانی عوام اتحاد امت کے داعی ہیں اور ہمیشہ سے وہ اس کے خواہاں بھی رہے ہیں ،اس لئے جب بھی کسی مسلمان ملک کی جانب سے دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ کشیدگی کی خبریں آتی ہیں تو پاکستانی پریشان ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی تو خطے میں جاری کشیدگی بھی ختم ہوجائے گی اور مسلمان ممالک میں جاری ان کی پراکسی جنگ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ قطر اگر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرتاہے تو بجائے اس پر ناراضگی کااظہار کرنے کے سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ مسلمان ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کی بحالی کے عمل کا حصہ بنیں اور اپنی سخت پالیسی ترک کرکے مسلم اْمہ کے وسیع تر اتحاد کے لئے کام کریں ۔
حرمین شریفین یعنی مکہ اور مدینہ کی وجہ سے سعودی عرب کو عالم اسلام میں خصوصی مرکزی حیثیت ہے سعودی عرب دنیا بھر کے مسلمانوں کاروحانی مرکز ہے قدرتی وسائل تیل وغیرہ اور جغرافیائی لحاظ بھی اس کی اہمیت، حیثیت اور مقام ہے ماضی میں سعودی عرب کا عالمِ اسلام میں مرکزی کلیدی کردار رہا دنیا بھر کے مسلمانوں کی مدد راہنمائی اور ترجمانی کرنے والا امام ملک سعودی عرب جہاں شاہ فیصل جیسے درد دل رکھنے والے دانشور قسم کے حکمران نے پوری زندگی عالمِ اسلام کو متحد کرنے میں گزار دی،لیکن آج کی صورت حال اس کے بالکل برعکس نظر آرہی ہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ موجودہ سعودی حکمران اپنے ماضی کے فریضے اور ذمہ داریوں کو فراموش کرچکے ہیں ، عالمِ اسلام کی تنظیم او آئی سی کو غیر موثر اور غیر فعال بنادیا گیاہے اورایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکا کی ایما پر عالمِ اسلام کو شیعہ اور سنی 2گروپوں میں تقسیم کرکے جنگی حالات پیدا کیے جارہے ہیں اور یہ صاف محسوس ہورہاہے کہ یہ سب کچھ امریکا کے اشارے پر اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کیاجارہاہے ، مئی 2017کے آخر میں سعودی عرب میں مسلم ممالک کے اجلاس میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی بطور مہمان خصوصی شرکت اور خطاب تاریخ کا ایک بڑا سانحہ یا المیہ ہے اس اجلاس میں امریکی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں بھارت میں دہشت گردی کی مذمت کی اوربا الفاظ دیگر پاکستان کے خلاف اور مسئلہ کشمیر کے خلاف بات کی لیکن دنیائے اسلام کے ایک معتبر ملک اور واحد اسلامی ایٹمی ملک کے وزیر اعظم کو تقریر کا بھی موقع نہیں دیا گیا ، مسئلہ کشمیرکی حمایت میں بات کرنے کے بجائے بھارت کے حق میں اور مظلوم کشمیریوں کے خلاف بات کی گئی فلسطین کے مظلوم مسلمان بھائیوں کی آزادی پر تو کسی نے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اس طرح امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی شاہ کی امامت میں یہ کانفرنس صرف اور صرف امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کو تباہ کرنے کی بنیاد بنی۔ سعودی حکمرانوں نے اس کانفرنس کے اختتام پر ٹرمپ کو ڈیڑھ ارب ڈالرز مالیت کے تحائف سے نواز کر تاریخ اسلام اور تاریخ عالم میں نئی تاریخ رقم کی ہے ٹرمپ کو انعام میں ملنے والی دیگر اشیاکے ساتھ 20کلو سونے کی تلوار بھی شامل ہے،اس کانفرنس میں بھی قطر کے حوالے سے کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جس سے یہ اندازا ہوتاکہ سعودی عرب یا کسی اور خلیجی ملک کو قطر کی کسی پالیسی سے کوئی اختلاف ہے لیکن کانفرنس کے فوری بعد سعودی شاہ نے اچانک قطر کے خلاف کارروائی کااعلان کرکے عملاً اس کی ناکہ بندی کردی ،سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا قطر یا ایران کے خلاف صف بندی کرکے عالم اسلام کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ یقینا ایسا ہرگز نہیں ہے،بلکہ دراصل یہ عالم اسلام کو تباہ کرنے کی صف بندی کا آغاز ہے اس عالم اسلام کو جس صورت حال کاسامناہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے بجائے افہام و تفہیم کی راہ اپنائیں ۔ قطرہمیشہ سے سعودی عرب کا اتحادی رہا ہے اس کی فوج یمن میں سعودی عرب کے اتحادی کے طور پر لڑ رہی تھی سوال یہ ہے کہ پھر اچانک ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے قطر نے آخر کیا جرم کیابظاہر نظر یہی آتاہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حداد نے بس یہ جرم کیا کہ اس نے سعودی بادشاہ کی طرف سے ٹرمپ کو دئیے جانے والے تحائف پر شدید تنقید کی تھی دوسرا یہ بھی کہا کہ ایران اسلامی دنیا کا ایک طاقتور ملک ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، قطر کے ایران سے دوستانہ تعلقات ہیں قطر کے امیر کا یہ بیان سعودی عرب اور امریکا کو پسند نہیں آیا اور اس کی ناکہ بندی کر دی گئی،قطرکے خلاف اس کارروائی کا جواز یہ پیش کیاگیا کہ قطر اخوان المسلمین کی مالی مدد کرتا ہے یہ الزام ثابت کرنے کیلئے سعودی عرب سمیت کسی بھی ملک کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے 1950اور 1960کی دہائی میں سعودی عرب خود اخوان المسلمین کا مددگار رہا ہے ریاض میں اس کا دفتر قائم تھا۔امید کی جاتی ہے کہ سعودی فرمانروا حقیقی معنوں میں حرمین شریفین کے والی ہونے کاکردار ادا کرنے پر توجہ دیں گے اور امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے متحد اور منظم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ پوری دنیا پر یہ ثابت ہوسکے کہ پوری دنیا کے مسلمان متحد ہیں ان کی سوچ ایک ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آسکتاہے، اگر مسلم امہ یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو دنیا کے مختلف ممالک میں اس وقت مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں کاسلسلہ بڑی حد تک رک جائے گا۔


متعلقہ خبریں


بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

الیکشن کمیشن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 26 اکتوبر 2026 کو شوکاز جاری کیا گیا ہے، ایم کیو ایم پاکستان انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، سیاسی جماعت نے مقررہ توسیعی مدت 15 اکتوبر 2026...

الیکشن کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان کو شوکاز جاری کر دیا

آئی ایم ایف کا شارٹ فال پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز وجود - منگل 03 نومبر 2026

عالمی مالیاتی ادارے کا 15 ہزار 264 ارب کا سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف پورا کرنے پر زور آئی ایم ایف نے ٹیکس ریونیو میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شارٹ فال پورا کرنے کے لیے ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز دے دی ہے۔نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عالمی مالیا...

آئی ایم ایف کا شارٹ فال پر اظہار تشویش، ہنگامی ٹیکس اقدامات کی تجویز

سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب، کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہائیکورٹ وجود - منگل 03 نومبر 2026

عدالت عالیہ نے سانحہ پمز کی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا جسٹس آف پیس کا حکم معطل کردیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز میں بچوں کی اموات کا مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ...

سانحہ پمز کا ریکارڈ طلب، کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، ہائیکورٹ

شہباز شریف کی ذہانت کا دنیا کے معروف سائنسدان نیوٹن سے موازنہ، بیان سوشل میڈیا پر وائرل وجود - منگل 03 نومبر 2026

شہباز شریف کا بس چلے تو کابینہ کے 55 وزیروں میں سے 52 یا 53 فارغ ہوں گے اور 2 یا 3 ہی بچیں گے، حذیفہ رحمان وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے وزیراعظم کی ذہانت کا موازنہ معروف سائنسدان آئزک نیوٹن سے کیا ہے۔نجی ٹی وی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرا عظم کا...

شہباز شریف کی ذہانت کا دنیا کے معروف سائنسدان نیوٹن سے موازنہ، بیان سوشل میڈیا پر وائرل

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر