وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

قطر ایران تعلقات کی بحالی پر سعودی عرب کی ناراضی ۔۔چہ معنی دارد

جمعه 01 ستمبر 2017 قطر ایران تعلقات کی بحالی پر سعودی عرب کی ناراضی ۔۔چہ معنی دارد

قطر نے گزشتہ روز ایران سے سفارتی تعلقات مکمل طورپر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے،اور اس اعلان کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتکاروں کاتبادلہ بھی کرلیاگیا ہے،قطر کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے اس اعلان سے سب سے زیادہ دھچکہ سعودی عرب کو پہنچاہے،کیونکہ قطر کے اس اعلان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سعودی عرب کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ اور اس سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کا نہ صرف یہ کہ قطر پر کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ سعودی عرب سے مفاہمت کیلئے اس کی شرائط تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ہوا بلکہ ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا اعلان کرکے اس نے سعودی عرب اور اس کی حمایت میں قطر سے تعلقات منقطع کرنے والے ممالک کو یہ پیغام دیاہے کہ آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کو خواہ وہ کتناہی چھوٹا کیوں نہ معمولی سمجھ کر اس پر اپنے فیصلے مسلط کرنے کی کوششیں نہیں کرنی چاہئیں ۔
قطر کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اس اعلان کو اس اعتبار سے خوش آئند قرار دیاجاسکتا ہے کہ اس سے خلیجی ممالک اور ایران کے مابین دوری کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ قطر نے گزشتہ سال سعودی عرب کی پیروی میں ایران سے اس وقت تعلقات منقطع کیے ۔ جب جنوری 2016 میں سعودی عرب میں ایک شیعہ رہنما کو پھانسی دی گئی تھی اور جس کے ردعمل میں تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کیا گیا تھا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ مسلمان ممالک کے درمیان اندرونی کشمکش کا فائدہ ہمیشہ دشمنوں نے اٹھایا ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان مخاصمت کو 4 دہائیاں گزر چکی ہیں جس کا دونوں اطراف کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ عراق ایران جنگ ایک دہائی جاری رہی بعد ازاں تعلقات میں بہتری آئی مگر دیرپا خوشگوار تعلقات قائم نہ رہ سکے۔ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک نے ایران کو خطرہ قراردیکر سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور خلیجی ممالک کو غیر ضروری طورپر اسلحہ خریدنے پر مجبور کیا۔ بارک اوباما کے دور میں امریکا ایران تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی تو یہ نئی پیش رفت بھی خلیجی ممالک کے لئے تشویش سے کم نہ تھی۔ انہوں نے بہت واویلا کیا مگر اوبامہ انتظامیہ نے ایران سے ایٹمی معاہدہ کرنے کی ٹھان لی اور وہ ایسا کرکے رہے۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد ایران پر سے اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ عاید کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اور کچھ پابندیاں لگانے کااعلان بھی کرچکے ہیں لیکن ایرانی قیادت کی جانب سے انتہائی سخت موقف اختیار کیے جانے کے بعد امریکا نے اس معاملے میں خاموش ہوجانے ہی میں مصلحت سمجھی اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی ایران ان پابندیوں سے بڑی حد تک آزاد ہے ،ایران نے اب تک کھلے عام ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا ہے جس سے یہ تاثرلیا جاسکے کہ وہ خلیجی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کررہا ہے۔ خلیجی ممالک میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ ایران اپنے منجمد اثاثے بحال ہونے اور خام تیل کی برآمد کے بعد اپنے وسائل کو عدم استحکام پھیلانے کیلئے استعمال کرے گا۔ ایران نے اب تک انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خلیجی ممالک کے خدشات درست نہیں ہیں ۔ جبکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب’ خلیجی ممالک سے توقعات رکھتا ہے کہ وہ اہم علاقائی مسائل میں اس کی رائے کا احترام کریں ،اور یہ توقعات پوری نہ ہونے پربعض ممالک سے اس کے گلے شکوے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ قطر کے ساتھ بھی اس کا یہی مسئلہ ہے۔ قطری قیادت نے اپنی خودمختاری دکھانے کی جب بھی کوشش کی سعودی عرب سے اس کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔ سعودی قیادت کو یہ بات ناگوار ہے کہ خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تعلقات رکھیں ۔
جہاں تک قطر اور ایران کے درمیان تعلقات کا سوال ہے تو اس ضمن میں یہ بات مدنظر رکھی جانی چاہئے کہ ان دونوں ملکوں کی گیس فیلڈ مشترکہ ہے اور دونوں بعض نظریاتی حوالوں سے بھی ایک دوسرے کے قریب ہیں ۔ ایک معاملہ اخوان المسلمین کا ہے۔ ایران نے مصر میں اخوان کی حکومت کو نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کے قیام کے بعد کوئی ایرانی صدر طویل عرصے کے بعد مصر کے دورے پر گیا تھا۔ قطر نے مصر میں اخوان حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مخالفت کی اور کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ قطر کی قیادت کی یہ جرات سعودی عرب کو پسند نہیں آئی اور اس نے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا۔ سعودی عرب نے قطر پر اب بھی یہی الزام لگایا ہے کہ قطر اخوان المسلمین کی حمایت کرتا ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ مصر میں جس انداز میں اخوان المسلمین کی حکومت کاتختہ الٹا گیا پاکستانی عوام کی اکثریت نے اسے پسند نہیں کیا اور اخوان المسلمین کے حوالے سے سعودی پالیسی پر پاکستانی عوام کی بھاری اکثریت کو تحفظات ہیں ،یہاں تک کہ قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے کوبھی پاکستان کے عوام نے پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا ۔پاکستانیوں کی ہمیشہ سے ایک رائے ہے کہ مسلم ممالک کو اپنے تمامتر اختلافات کے باوجود ان اختلافات کو منظر عام پر لانے سے گریز کرنا چاہئے، پاکستانی عوام اتحاد امت کے داعی ہیں اور ہمیشہ سے وہ اس کے خواہاں بھی رہے ہیں ،اس لئے جب بھی کسی مسلمان ملک کی جانب سے دوسرے مسلمان ملک کے ساتھ کشیدگی کی خبریں آتی ہیں تو پاکستانی پریشان ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئی تو خطے میں جاری کشیدگی بھی ختم ہوجائے گی اور مسلمان ممالک میں جاری ان کی پراکسی جنگ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ قطر اگر ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرتاہے تو بجائے اس پر ناراضگی کااظہار کرنے کے سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ مسلمان ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کی بحالی کے عمل کا حصہ بنیں اور اپنی سخت پالیسی ترک کرکے مسلم اْمہ کے وسیع تر اتحاد کے لئے کام کریں ۔
حرمین شریفین یعنی مکہ اور مدینہ کی وجہ سے سعودی عرب کو عالم اسلام میں خصوصی مرکزی حیثیت ہے سعودی عرب دنیا بھر کے مسلمانوں کاروحانی مرکز ہے قدرتی وسائل تیل وغیرہ اور جغرافیائی لحاظ بھی اس کی اہمیت، حیثیت اور مقام ہے ماضی میں سعودی عرب کا عالمِ اسلام میں مرکزی کلیدی کردار رہا دنیا بھر کے مسلمانوں کی مدد راہنمائی اور ترجمانی کرنے والا امام ملک سعودی عرب جہاں شاہ فیصل جیسے درد دل رکھنے والے دانشور قسم کے حکمران نے پوری زندگی عالمِ اسلام کو متحد کرنے میں گزار دی،لیکن آج کی صورت حال اس کے بالکل برعکس نظر آرہی ہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ موجودہ سعودی حکمران اپنے ماضی کے فریضے اور ذمہ داریوں کو فراموش کرچکے ہیں ، عالمِ اسلام کی تنظیم او آئی سی کو غیر موثر اور غیر فعال بنادیا گیاہے اورایسا معلوم ہوتاہے کہ امریکا کی ایما پر عالمِ اسلام کو شیعہ اور سنی 2گروپوں میں تقسیم کرکے جنگی حالات پیدا کیے جارہے ہیں اور یہ صاف محسوس ہورہاہے کہ یہ سب کچھ امریکا کے اشارے پر اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کیاجارہاہے ، مئی 2017کے آخر میں سعودی عرب میں مسلم ممالک کے اجلاس میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی بطور مہمان خصوصی شرکت اور خطاب تاریخ کا ایک بڑا سانحہ یا المیہ ہے اس اجلاس میں امریکی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی موجودگی میں بھارت میں دہشت گردی کی مذمت کی اوربا الفاظ دیگر پاکستان کے خلاف اور مسئلہ کشمیر کے خلاف بات کی لیکن دنیائے اسلام کے ایک معتبر ملک اور واحد اسلامی ایٹمی ملک کے وزیر اعظم کو تقریر کا بھی موقع نہیں دیا گیا ، مسئلہ کشمیرکی حمایت میں بات کرنے کے بجائے بھارت کے حق میں اور مظلوم کشمیریوں کے خلاف بات کی گئی فلسطین کے مظلوم مسلمان بھائیوں کی آزادی پر تو کسی نے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اس طرح امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی شاہ کی امامت میں یہ کانفرنس صرف اور صرف امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کو تباہ کرنے کی بنیاد بنی۔ سعودی حکمرانوں نے اس کانفرنس کے اختتام پر ٹرمپ کو ڈیڑھ ارب ڈالرز مالیت کے تحائف سے نواز کر تاریخ اسلام اور تاریخ عالم میں نئی تاریخ رقم کی ہے ٹرمپ کو انعام میں ملنے والی دیگر اشیاکے ساتھ 20کلو سونے کی تلوار بھی شامل ہے،اس کانفرنس میں بھی قطر کے حوالے سے کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جس سے یہ اندازا ہوتاکہ سعودی عرب یا کسی اور خلیجی ملک کو قطر کی کسی پالیسی سے کوئی اختلاف ہے لیکن کانفرنس کے فوری بعد سعودی شاہ نے اچانک قطر کے خلاف کارروائی کااعلان کرکے عملاً اس کی ناکہ بندی کردی ،سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا قطر یا ایران کے خلاف صف بندی کرکے عالم اسلام کی خدمت کی جا رہی ہے ؟ یقینا ایسا ہرگز نہیں ہے،بلکہ دراصل یہ عالم اسلام کو تباہ کرنے کی صف بندی کا آغاز ہے اس عالم اسلام کو جس صورت حال کاسامناہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے بجائے افہام و تفہیم کی راہ اپنائیں ۔ قطرہمیشہ سے سعودی عرب کا اتحادی رہا ہے اس کی فوج یمن میں سعودی عرب کے اتحادی کے طور پر لڑ رہی تھی سوال یہ ہے کہ پھر اچانک ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے قطر نے آخر کیا جرم کیابظاہر نظر یہی آتاہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حداد نے بس یہ جرم کیا کہ اس نے سعودی بادشاہ کی طرف سے ٹرمپ کو دئیے جانے والے تحائف پر شدید تنقید کی تھی دوسرا یہ بھی کہا کہ ایران اسلامی دنیا کا ایک طاقتور ملک ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، قطر کے ایران سے دوستانہ تعلقات ہیں قطر کے امیر کا یہ بیان سعودی عرب اور امریکا کو پسند نہیں آیا اور اس کی ناکہ بندی کر دی گئی،قطرکے خلاف اس کارروائی کا جواز یہ پیش کیاگیا کہ قطر اخوان المسلمین کی مالی مدد کرتا ہے یہ الزام ثابت کرنے کیلئے سعودی عرب سمیت کسی بھی ملک کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے 1950اور 1960کی دہائی میں سعودی عرب خود اخوان المسلمین کا مددگار رہا ہے ریاض میں اس کا دفتر قائم تھا۔امید کی جاتی ہے کہ سعودی فرمانروا حقیقی معنوں میں حرمین شریفین کے والی ہونے کاکردار ادا کرنے پر توجہ دیں گے اور امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے متحد اور منظم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ پوری دنیا پر یہ ثابت ہوسکے کہ پوری دنیا کے مسلمان متحد ہیں ان کی سوچ ایک ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آسکتاہے، اگر مسلم امہ یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہوجائے تو دنیا کے مختلف ممالک میں اس وقت مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں کاسلسلہ بڑی حد تک رک جائے گا۔


متعلقہ خبریں


چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی وجود - پیر 27 جنوری 2020

چین میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 80تک پہنچ گئی جبکہ تقریبا 3000افراد میں اس بیماری کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ چینی حکام کی جانب سے چینی نئے سال کی قومی تعطیلات میں تین روز کا اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے جبکہ چین میں بہت سے شہروں میں سفر پر پابندی عائد کی گئی ۔حکام کے مطابق کورونا وائرس اپنی علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی اپنی افزائش کے دوران پھیل رہا ہے اور اس وجہ سے اسے روکنا مشکل ہو رہا ہے ۔ وزیر صحت ما زیائی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہ...

چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پزیر وجود - پیر 27 جنوری 2020

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پذیر ہیں۔صرف راولپنڈی میں 710جبکہ لاہور میں 513خاندان آباد ہیں۔رپورٹ کے مطابق خانہ بدوش دنیاکے ہر خطے میں موجود ہیں انکاسفر کہاں سے شروع ہوتاہے انکے متعلق کئی مختلف روایات ہیں۔کہاجاتاہے کہ یہودیوں کے گمشدہ قبائل میں سے ہیں جو ادھر ادھر بکھر گئے ،ایک روایت کے مطابق جب شہنشاہ ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی تو ہمایوں ایران بھاگ گیا،جبکہ اسکے امراء اور وزراء نے شیر شاہ سوری کے ڈر سے خانہ بدوشی اختیار کرلی۔رپورٹ کے مطابق خانہ بدوشی اس ...

پاکستان میں 60لاکھ سے زائد خانہ بدوش رہائش پزیر

سینیٹ کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا اجلاس ،ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش وجود - پیر 27 جنوری 2020

سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اطفال کے اجلاس میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش کی گئی ، ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن نے مانسہرہ زیادتی کیس پربریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی حالت اتنی خراب تھی سوچا کہ کیا کوئی انسان ایسا کرسکتا ہے ۔ پیر کوسینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا جائزہ لیا گیا اور ان کے تدارک پر بات چیت کی گئی۔ ارکان نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات صرف مدرسو...

سینیٹ کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا اجلاس ،ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات پیش

چینی حکومت نے کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے 9 بلین ڈالر جاری کر دیے وجود - پیر 27 جنوری 2020

چینی وزارت خزانہ اور نیشنل ہیلتھ کمیشن نے کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنے کے لئے 9بلین امریکی ڈالر کے برابر رقم جاری کر دی ۔یہ بات چینی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ۔ چینی حکومت نے اس وائرس کے پھیلا ئوکو روکنے کے لیے ووہان شہر سمیت متعدد شہروں میں سفری رابطے منقطع کر رکھے ہیں جبکہ ملک میں جاری سالانہ چھٹیاں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ کئی بڑے کاروباری ادارے بھی بند ہیں۔

چینی حکومت نے کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے 9 بلین ڈالر جاری کر دیے

عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون وجود - هفته 25 جنوری 2020

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی بیس پر ایرانی حملے کے بعد 34 امریکی فوجیوں کو شدید دماغی چوٹ(ٹی بی آئی)کی تشخیص کی گئی ہے ۔ ایک ترجمان کے مطابق فی الحال 17 فوجیوں کی اب بھی طبی نگہداشت کی جا رہی ہے ۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آٹھ جنوری کو ایران کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بدلے میں کیے جانے والے حملے میں کوئی بھی امریکی زخمی نہیں ہوا۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کسی بھی فرد کے زخمی نہ ہونے کے پیشِ نظر کیا گیا۔لیک...

عراق میں امریکی بیس پر حملے میں 34 امریکی فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں،پینٹاگون

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی وجود - هفته 25 جنوری 2020

ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں جس کے نتیجے میں 19افراد ہلاک، 750 سے زائد زخمی جبکہ 30افراد لاپتہ ہوگئے ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے مختلف علاقوں میں 6.8 شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں منہدم ہوگئیں اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں عمارتوں کے ملبے تلے افراد کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ترکی کے صوبائی گورنر نے کہا کہ مشرقی صوبے الازگ میں زلزلے سے 19افراد ہلاک اور 750سے زائد زخمی ہوگئے ،مزید ...

ترکی میںزلزلہ، متعدد عمارتیں زمین بوس،19افراد جاں بحق ،750زخمی

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران وجود - جمعه 24 جنوری 2020

ایران نے مشرق وسطی کو درپیش مسائل کے حل اور خطہ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تہران میں ایرانی صدر کے چیف آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ، سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہشمند ہے ، انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں ۔

سعودی عرب کیساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں ،ایران

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر وجود - جمعه 24 جنوری 2020

چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر26 ہوگئی جبکہ830 افراد متاثر بھی ہوئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کوروناوائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان کے قریب 7شہروں میں ٹرانسپورٹ بند کر دی گئی جب کہ شہریوں کو جھیلوں، دریائوں اور نہروں پر جانے سے روک دیا گیا ۔عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے اسے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے ۔ حکام نے کہا کہ کرونا وائرس کو عالمی وبا ئوقرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس وائرس کے پھیلا پر کڑی نظر رکھی جارہی ...

چین،کرونا وائرس سے ہلاکتیں 26ہو گئیں ، 830 متاثر

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

ایران کی پیراملٹری فوج بسیج کے کمانڈرعبدالحسین مجدمی کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کمانڈرعبدالحسین مجدمی کوصوبہ خوزستان کے شہردرخوین میں گھرکے سامنے نقاب پوش افراد نے نشانہ بنایا۔ پیراملٹری فوج کے سربراہ عبدالحسین مجدمی امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھی تھے ۔ موٹرسائیکل پر سوار دو بندوق برداروں نے حملہ کیا، حملہ آوروں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے اور چار گولیاں چلائی گئی ہیں۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے تاہم اس ...

تہران، جنرل قاسم سلیمانی کا قریبی کمانڈر قاتلانہ حملے میں قتل

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا پراسرار کورونا وائرس اب ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی پھیلنے لگا ، چین کے صوبے ہوبائی کے دارلحکومت ووہان میں کورونا وائرس سے 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 547 تک پہنچ گئی ۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صحت حکام نے وائرس کے پھیلا سے بچنے کے لئے 1 کروڑ افراد پر مشتمل شہر ووہان کو مکمل طور سیل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چین میں ٹرینوں اور بس سروسز کا نظام معطل ہونے کے باعث قمری سال کی تعطیلات گزارن...

چین ، کرونا وائرس بے قابو، ہلاکتیں 17ہو گئیں

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم وجود - جمعرات 23 جنوری 2020

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون چرچ کے دورے کے دوران فرانسیسی اہلکاروں کے ساتھ اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو دیکھ کربرہم ہو گئے ۔ ایمانویل میکرون نے انگریزی میں ڈانٹتے ہوئے اسرائیلی سکیورٹی اہلکار سے کہا کہ باہر جائوجو تم نے میرے سامنے کیا وہ بالکل پسند نہیں آیا، سب کو رولز معلوم ہیں ناں؟ یہ قواعد صدیوں سے ہیں، میرے ساتھ فرانسیسی اہلکار ہی رہیں گے ، قانون کا احترام کریں ۔واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کا چرچ آف سینٹ این فرانس کی ملکیت ہے ، 1967 ء میں یہاں اسرائیلی قبضے کو بھی فران...

فرانسیسی صدر چرچ کے باہر اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے وجود - بدھ 22 جنوری 2020

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی مختلف تنظیموں کے سینکڑوں کارکنوں نے پورٹ لینڈ شہر میں مظاہرے کیے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی پولیس کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف اس مظاہروں کی کال بلیک لائف میٹر اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والی دوسری تنظیموں نے دی تھی۔ مظاہرے کے شرکا نے زمین پر لیٹ کر پولیس کے نسل پرستانہ تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے لازمی اقدامات کی اپیل کی۔امریکہ میں کرائے جانے والے رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق 56 فی صد امریکی شہ...

امریکا ، پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرے