وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خطبہ حجۃ الوداع ،ایک عالمی منشور

جمعرات 31 اگست 2017 خطبہ حجۃ الوداع ،ایک عالمی منشور

خطبہ حجۃ الوداع دنیا بھر کے خطبوں میں الگ شان رکھتا ہے ۔پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے اس ایک خطبے میں اسلام کا پورا منشور بیان فرما دیا ہے۔ یہ خطبہ عرفات کے میدان میں اس وقت دیا گیا جب ایک لاکھ چالیس ہزار جانثار آپ کے روبروموجود تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! میں جو کچھ کہوں اسے غور سے سنو، شاید آئندہ سال اور اس کے بعد پھر کبھی یہاں تم سے ملاقات نہ ہو سکے‘‘۔
پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے درج ذیل آٹھ عنوانات پربات فرمائی۔ حقیقی روشن خیالی، انسانی جان کی حرمت، ادائے امانت، سود کی حرمت، قتل و قتال کی ممانعت، عمل صالح، حقوق زوجین کا تحفظ اور گمراہی سے حفاظت۔دور حاضر میں روشن خیالی کا بڑا چرچا ہے۔ مسلمانوں کو رجعت پسند اور بنیاد پرست ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے جس روشن خیالی کا درس آج سے چودہ سو برس قبل دیا تھا،اس کے مطابق دور حاضر کی روشن خیالی، جہالت کا دوسرا نام ہے۔
مثلا آج کی روشن خیالی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس کی عمر تقریبا سوا دو سو سال ہے۔ اس کی ابتداء انقلاب فرانس سے ہوئی جب یورپ نے اپنی تمام فرسودہ باتوں سے جان چھڑا لی اور اپنی روایات، اپنی تہذیب حتی کہ اپنے مذہب تک سے پیچھا چھڑا لیا۔ انسانی خواہشات کو اپنا حکمران بنا لیا اور درج ذیل کام کیے۔
٭… مذہب ہر انسان کاذاتی معاملہ ٹھہرا۔
٭…قتل عام کو دہشت پسندی کے خلاف جنگ کا نام دے کر امن کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔
٭…گھر کی ملکہ عورت کو پاکیزگی کی دہلیز سے کھینچ کر کلبوں کے میدان میں کھڑا کر دیا گیا۔اور اسے حقوق نسواں کا حسین عنوان دیا گیا۔ نیز اسے پیسہ کمانے کی مشین بنا دیا۔
٭…عریانی و فحاشی کا نام کلچر رکھ دیا گیا۔
٭…سود کو منافع اور پرافٹ کا نام دے کربینکوں کا کاروبار بڑھایا گیا۔نیز سرمایہ دارانہ نظام کو ورلڈ آرڈر کا نام دے کر دنیا پر ٹھونسنے کی کوشش کی گئی۔
٭…انسانی اخلاق کی قدر وقیمت گرا دی گئی اور ہر مسئلے کا حل روپیہ کمانا ٹھہرا۔
٭…خیانت اور دھوکے بازی کو سیاست کی پیکنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
یہ تھا مغرب کی روشن خیالی کا تصور، جبکہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ان تمام اقدار کو اپنے قدموں تلے روندتے ہوئے فرمایا تھا۔’’میں نے جاہلیت کی تمام روایات اپنے قدموں تلے روند دی ہیں ‘‘ ۔ اس ایک جملے میں آپ نے شرک، زنا ، جوا، سود، بے حیائی ، قتل ، حق تلفی سب جاہلی معاملات کو یکسر ختم فرما دیا۔ مسلمانوں کے ہاں روشن خیالی ، اپنی خواہشات کو رب ذوالجلال کے حکم کے سامنے سرد کر دینے کا نام ہے۔ جبکہ اہل مغرب کے نزدیک معاشرے میں جنم لینے والے منتشر خیالات روشن خیالی ہیں ۔ چنانچہ وہ ایسی اشیاء کو قانون کا حصہ بنا لیتے ہیں اگرچہ اخلاقی اعتبار سے کتنی ہی گری ہوئی ہوں ۔ جیسے ہم جنس پرستی کے جواز کا قانون وغیرہ۔
دوسری چیز جسے اہل مغرب اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے ہیں وہ ہے دہشت گردی کے خلاف قتل عام۔ جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں بھی لائحہ عمل تجویز فرمادیا۔ فرمایا’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان و مال تا قیامت حرام ہیں جس طرح آج کے دن اور اس مہینہ ذوالحجہ میں ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کرتے‘‘۔
آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے مذاہب کے افراد ، خواتین ، بچے، بوڑھے حتی کہ زمینوں اور فصلوں تک کے حقوق متعین فرما دیے۔ اور انہیں بلا ضرورت کاٹنے، اور جلانے سے منع فرما دیا۔فتح مکہ کے عظیم موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو لا تثریب علیکم الیوم (آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا) کی خوشخبریوں سے نواز دیا۔ حتی کہ اپنے دشمن امیہ بن خلف کے بیٹے ربیعہ کو اسی خطبہ حجۃ الوداع کا مکبر بنا دیا۔ چنانچہ آپ کا یہ خطبہ بلند آواز سے لوگوں تک انہی ربیعہؓ نے پہنچایا۔
جبکہ تصویر کے دوسرے رخ کا جائزہ لیں تو دنیا کے بڑے بڑے انقلابات میں کروڑوں انسان ’’امن‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انقلاب فرانس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے، پہلی جنگ عظیم میں کم از کم ایک کروڑ انسان قتل ہوئے لیکن رسول اللہ ﷺ کے انقلاب میں طرفین کے صرف 1018؍ آدمی موت کی نیند سوئے۔پھر یہ انقلاب ایسا پُر اثر تھا کہ اس کی گونج آج بھی پوری قوت سے اطراف عالم میں سنائی دے رہی ہے۔
تیسری چیز جو آپ ﷺ نے بیان فرمائی وہ ادائے امانت ہے۔ اس بارے میں آپ ﷺکا فرمان ہے۔ ’’جس کسی کے پاس دوسرے کی امانت جمع ہو اس کے مالک کو لوٹا دی جائے‘‘۔
نیز فرمایا
’’اے لوگو! میری بات گوش ہوش سے سنو! دیکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اس رشتہ کی وجہ سے کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کی کسی شے پر اس کی اجازت کے بغیر تصرف روا نہیں ہے۔ ورنہ یہ ایک دوسرے پر ظلم ہو جائے گا۔‘‘
چوتھی چیز سود ہے جس کے خاتمے کا آپ نے حکم دیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے بارے میں یہ حکم فرمایا۔
’’آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے راس المال کے سوا۔ نہ تم ایک دوسرے پر ظلم کرو، نہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے ہی نے سود کو ممنوع فرما دیا ہے۔(میرے چچاحضرت) عباس کا جو سود دوسروں کے ذمہ واجب الادا ہے اسے موقوف کیا جاتا ہے‘‘۔
انگریزی کے مشہور مقولے Charity begins at the home کے تحت سود کے خاتمے کی ابتدا اپنے گھر سے کی۔ اور پھر اسلام میں سود کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
پانچویں چیز جس کا ذکر آپﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا، قتل و قتال کی حرمت ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے گھر سے اس کی ابتداء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
’’جاہلیت کے مقتولین کا قصاص و دیت دونوں کالعدم قرار دی جاتی ہیں ۔ سب سے پہلے میں ہی بنو ہاشم کے (ایک بچے) ابن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا بدلہ اور دیت معاف کرتا ہوں ‘‘۔
نیز یہ بھی فرمایا۔
’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان اور اسی طرح مال ہر ایک قیامت تک حرام ہے جیسا کہ آج کے دن اور اس مہینہ میں تم کسی قسم کی بے حرمتی نہیں کر سکتے‘‘۔
چھٹی چیز جس کا تذکرہ اپنے اس خطبہ میں فرمایا، اخلاق حسنہ ، تقوی اور اعمال صالح ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع دیتے ہوئے اسی بات کی طرف نشاندہی فرمائی کہ
’’غور سے سنیے کہ اب عرب میں شیطان کی پرستش نہ کی جائے گی لیکن اس کی پرستاری کی بجائے اگر شیطان کی صرف اطاعت ہی کی گئی تب بھی وہ بہت خوش ہوگا۔ اس لیے دینی امور میں شیطانی وساوس کو اپنے قریب نہ آنے دو‘‘۔
نیز فرمایا۔ ’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں ہے، کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں ہے، ہاں البتہ تقوی کی بنیاد پر (ان کو ایک دوسرے پر فضیلت ہو سکتی ہے)‘‘۔
اسلام کے اسی سنہری اصول کی وجہ سے حبشی بلال کو سیدنا بلال کہہ کر پکارا گیا اور عطا ء بن ابی رباح جیسے سادہ شکل والے کے سامنے امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک بھی زانوئے تلمذ تہہ کرنا فخر سمجھتے تھے۔ ایک عجمی النسل محمد بن اسماعیل بخاری کو امیر المومنین فی الحدیث کہا گیا اور ایک فارسی النسل امام غزالی کے فلسفے کی دھوم چہار دانگ عالم میں ہے اور ایک غیر عرب نعمان بن ثابت امام اعظم کہلاتا ہے۔جبکہ ایک عربی النسل ہاشمی خانوادے کے فرزند ابولہب ، اپنے زمانے کے ابوالحکم، عمرو بن ہشام (ابو جہل)کو انہی کی کیٹگری کے لوگ بھی اچھے الفاظ میں یاد کرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔
ساتویں چیز جس کا ذکر اپنے خطبہ میں فرمایا وہ خاندانی نظام کا تحفظ ہے۔ مغرب اپنے حقوق نسواں کے نعرے پر بہت زور دیتا ہے۔ مغرب کا دعو ی ہے کہ ہم نے عورت کو وہ حقوق دیے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے بھی اسے عطا نہیں کیے۔ لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو مغرب نے عورت کو بجائے حقوق دینے کے ، اسے انہی خطوط پر چلانے کی سعی کی ہے جنہیں اسلام نے چودہ سو سال قبل جہالت کہہ کر پاؤں تلے روند ڈالا تھا۔
ذرا غورفرمائیں ۔ مغرب، عورت کو گھر کی دہلیز سے کھینچ کر سر بازار لے آیا ہے۔ مغربی مفکرین نے عورت کو مرد کے ہم پلہ قرار دیا۔ نتیجۃ مغرب نے عورت سے اس پر دوگنا بوجھ لاد دیا ہے۔ ایک تو وہ بوجھ ہے جو اس پر فطرتا مسلط ہے۔ یعنی گھریلو امور کی نگرانی، بچے جننا، اور ان کی پرورش کرنا،وغیرہ۔ یہ کام مرد نہیں کر سکتا۔ اور دوسرا بوجھ ، کمائی کرنا، نوکریاں کرنا، ڈیوٹیاں سرانجام دینا، وغیرہ۔ جبکہ اسلام نے دونوں فریقوں کے حقوق متعین کر دیے۔ اسلام نے مرد و عورت کو گاڑی کے دو پہیے قرار دیا جس کی وجہ سے زندگی کی گاڑی کا چلنا نہایت آسان ہوگیا، جبکہ مغرب نے برابر کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ کر دونوں پہیے گاڑی کی ایک ہی سمت میں لگا دیے ، چنانچہ ان کا گھریلو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ جس کا اقرار اب خود مغربی مفکرین بھی کر رہے ہیں ۔
عورت، جسے یونانیوں نے سانپ، سقراط نے فتنہ، قدیس جرنا نے شیطانی آلہ اور یوحنا نے شر کی بیٹی اور امن وسلامتی کی دشمن لکھا ، جب گھر سے باہر نکلی تو اپنی حشر سامانیوں سمیت نکلی۔ مردوں کے سفلی جذبات کی تسکین ہوئی اور بے حیائی نے جڑ پکڑ لی۔ جب کہ اسلام نے اسی عورت کے قدموں تلے جنت بتلائی اور ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے حقوق وضع کر کے اس کی باقاعدہ حیثیت متعین کر دی۔
خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے آپﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا: ’’میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہیں ۔نیزکسی عورت کے لیے غیر مرد کو اپنے قریب کرنے کا حق نہیں ورنہ شوہر کے تن بدن میں آگ لگ جائے گی‘‘۔ اور یہ کہ ’’عورتوں کو بے حیائی کے ارتکاب سے مطلقا کنارہ کش رہنا چاہیے۔ اگر ان سے یہ قصور ہو جائے تو ان کے شوہر انہیں بدنی سزا دے سکتے ہیں مگر وہ سزا ضرب شدید کی حد کے قریب نہ پہنچ جائے۔ (یعنی بدن پر داغ نہیں پڑنا چاہیے)۔ اگر عورتیں ایسا لا ابالی پن چھوڑ دیں تو دستور عام کے مطابق ان کے خوردونوش اور ان کے لباس کا پورا لحاظ رکھو اور ان کے معاملہ میں حسن سلوک سے ہاتھ نہ کھینچو۔ وہ تمہارے نکاح میں آجانے سے تمہاری پابند ہو جاتی ہیں اور (ان معنوں میں ) اپنے نفس کی مالک نہیں رہتیں ، لیکن تم بھی خیال رکھو کہ آخر کلمہ ایجاب و قبول کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی اس امانت کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور انہی کلمات کے ساتھ انہیں خود پر حلال کیا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ کے آخر میں اپنی امت کو گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
’’اے لوگو! غور سے سنو! جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اس کی وضاحت کے لیے جو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو گے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے۔ وہ چیز بجائے خود نہایت واضح ہے اور وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے‘‘۔
کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ایک ایسی چیز ہے جس پر عمل کر کے کوئی بھی فتنوں و شرور سے بچ سکتا ہے اور راہ جنت کا راہی بن سکتا ہے۔سب سے آخر میں ارشاد فرمایا۔
’’اے اللہ ! تو سن رہا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ اور ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں اللھم اشہد، اللھم اشہد (یا اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرض ادا فرما دیا)۔اب ہمارے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اس پر کتنے عمل پیرا ہوتے ہیں ؟
عبد الصَّبُور شاکر


متعلقہ خبریں


ہیٹی ، صدر کے استعفے کیلئے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے وجود - پیر 14 اکتوبر 2019

ہیٹی میں صدر کے استعفے کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ، لوگوں نے صدر اور ان کے ساتھیوں کی مبینہ کرپشن کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا، ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر نظام زندگی مفلوج کر دیا، صدر کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کے ساتھی بدعنوان ہیں، انہیں فوری مستعفی ہونا پڑے گا۔ملک کے غریب افراد خوراک اور پیٹرول...

ہیٹی ، صدر کے استعفے کیلئے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے

فرانس ،جرمنی کا شام میں کردوں کیخلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ وجود - پیر 14 اکتوبر 2019

فرانسیسی صدر اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے ترکی سے شمالی شام میں کردوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس حملے کے سنگین انسانی اثرات مرتب ہوں گے اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش کو پھر سے سر اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے ۔فرانسیسی صدر نے ایلزے محل پیرس میں جرمن چانسلر سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ہماری مشترکہ خواہش یہ ہے کہ اس حملے کو روک دیا جائے ۔جرمن چانسلر نے اس موقع پر بتایا کہ انھوں نے ترک صدر رجب طیب ار...

فرانس ،جرمنی کا شام میں کردوں کیخلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ

شمالی شام سے اپنے 1 ہزار فوجی واپس بلا رہے ہیں ، امریکی وزیردفاع وجود - پیر 14 اکتوبر 2019

امریکا نے شام سے ایک ہزارفوجی واپس بلانے کا اعلان کیاہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا اعلان امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے کیا ہے ۔ایک انٹرویو میں مارک ایسپر نے کہا ہے کہ ہم شام کے شمال سے اپنے ایک ہزار فوجیوں کو پیچھے ہٹا رہے ہیں۔ایسپر نے کہا ہے کہ یہ انخلا جلد کیا جائے گا۔قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے بعد ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی یاد دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں صدر ٹرمپ نے مجھے شام کے شمال سے منظم طریقے سے فوجی انخلا کے آغاز کا حکم دیا ہے ۔

شمالی شام سے اپنے 1 ہزار فوجی واپس بلا رہے ہیں ، امریکی وزیردفاع

ٹرمپ نے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پر پانی پھیر دیا وجود - اتوار 13 اکتوبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کردوں کی حمایت سے دست برداری کا اعلان کرکے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پرپانی پھیر دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے موجودہ آرمی چیف نے کثیر سالہ منصوبہ تیارکیا تھا جس کی نگرانی آرمی چیف اویو کوحاوی خود کررہے تھے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کرد آبادی کی حمایت سے دست برداری کا اعلان کرکے اسرائیل کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے لیے امریکی صدر کا ترکوں کی حمایت ترک کرنا حیران کن ہے ۔ اسرا...

ٹرمپ نے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پر پانی پھیر دیا

سوڈان کی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مقرر وجود - هفته 12 اکتوبر 2019

سوڈان میں جسٹس نعمات عبداللہ محمد خیر کو چیف جسٹس اور تاج السر علی الحبر کو ملک کا اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے ۔نعمات خیر سوڈان کی نئی تاریخ میں چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔عمر البشیر کی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک کو سپورٹ کرنے والی خواتین میں جسٹس نعمات بھی شریک تھیں۔وہ رواں سال اپریل میں خرطوم میں سوڈانی فوج کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے منعقد ہونے والے دھرنے میں نظر آئی تھیں۔نعمات خیر 1957 میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے خرطوم میں قاہرہ یونیورسٹی کے کیمپس سے قانون...

سوڈان کی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مقرر

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک بن گیا وجود - هفته 12 اکتوبر 2019

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے ۔بین الاقوامی کنسلٹنگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی ارنسٹ اینڈ ینگ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق چین 2014 سے 2018 کے درمیان 72.2 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ بر اعظم افریقہ کے لئے سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کرنے والا ملک ہے ۔چین کے بعد فرانسیسی زبان بولنے والے ممالک کے لئے 34.1ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ فرانس دوسرے ، 30.8 ارب ڈالر کے ساتھ امریکہ تیسرے اور 25.2 ارب ڈالر کے ساتھ متحدہ عرب امارات چوتھے نمبر پر ہے ۔...

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک بن گیا

بھارت ،دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

بھارت میںدُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیا پردیش کی حکومت نے شادی کیلئے یہ اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے لیے درخواست صرف اسی صورت دی جاسکتی ہے جب دُلہن یہ ثابت کردے کہ اس کے ہونے والے شوہر کے گھر میں باتھ روم بھی موجود ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیاکہ سرکاری افسران ہر جگہ باتھ روم چیک نہیں کرسکتے لہٰذا وہ دُلہا سے باتھ روم میں کھڑے ہوکر سیلفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔باتھ روم میں کھڑے ہوکر سیلفی لینے کی شرط صرف دیہاتی علاقوں میں ہ...

بھارت ،دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا

ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی،امریکی وزیر خارجہ وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکا نے ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹی وی چینل پی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاعات بالکل غلط ہیں کہ امریکا نے ترکی کو اس آپریشن کی اجازت دی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ترکی کو کوئی گرین سگنل نہیں دیا۔اگر امریکا نے ترکی کو اجازت نہیں دی تو شام سے فوج کیوں نکالی، اس سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے شام سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ترکی کے حفاظتی خدشات...

ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی،امریکی وزیر خارجہ

بھارتی طلبا واساتذہ کا کشمیرمیں کرفیو ختم کرنے کیلئے مودی سرکارکوخط وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

بھارت بھر سے طلبا اور اساتذہ نے کشمیریوں پر تشدد کے خلاف مودی سرکار کو خط لکھ دیا۔مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد لاک ڈاؤن کو تقریباً دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے اور مظلوم کشمیریوں کا مسلسل دو ماہ سے دنیا سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے تاہم مودی سرکار ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ اب تو غیر انسانی کرفیو کے خلاف بھارت سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔بھارت کی مختلف ریاستوں اور ٹیکنالوجی تعلیمی اداروں سے وابستہ تقریباً 132 طلبا اور اساتذہ نے مودی ...

بھارتی طلبا واساتذہ کا کشمیرمیں کرفیو ختم کرنے کیلئے مودی سرکارکوخط

شام کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کیا جائے، چین وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

ترکی کی جانب سے شام کے کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیے جانے کے بعد چین نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کردیا۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر اور گھروں سے بھاگنے پر مجبور کرنے والوں کے خلاف بدھ کو بمباری کا اعلان کیا تھا۔کارروائی کے اعلان کے بعد امریکا نے ترکی اور شام کی سرحد سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا تھا جس امریکی سینیٹرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی افواج کو واپس بلانے سے داعش کے دہشت...

شام کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کیا جائے، چین

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا دیا وجود - جمعرات 10 اکتوبر 2019

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میکسیکو کے جنوبی علاقے کے میئر جارج لوئسکو وعدوں کے مطابق کام نہ کرنے پر شہریوں نے دفتر سے زبردستی باہر نکالا اور گاڑی میں باندھ کر شہر میں گھمایا۔ جس کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے ۔ پولیس نے واقعہ میں ملوث 11افراد کو گرفتارکرلیا ۔میئر جارج لوئس کو بظاہر کوئی زخم نہیں آئے تاہم انہیں بری طرح گھسیٹا گیا۔میکسیکو کے شہریوں کی جانب سے میئر پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے جو انتخابی مہم کے دو...

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا دیا

اسرائیل کا القدس میں ترکی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ وجود - جمعرات 10 اکتوبر 2019

اسرائیلی وزارت خارجہ نے وزیر خارجہ یسرایل کاٹز کے ایما پر''مقبوضہ بیت المقدس''میں ترک حکومت کی سرگرمیوں اور ترکی کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ تیار کر لیا۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں ترکی کی سماجی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزارت خارجہ نے القدس میں ترک حکومت کے تعاون سے شروع کی گئی کسی بھی قسم کی سرگرمی پرپابندی لگانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا ...

اسرائیل کا القدس میں ترکی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار