وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خطبہ حجۃ الوداع ،ایک عالمی منشور

جمعرات 31 اگست 2017 خطبہ حجۃ الوداع ،ایک عالمی منشور

خطبہ حجۃ الوداع دنیا بھر کے خطبوں میں الگ شان رکھتا ہے ۔پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے اس ایک خطبے میں اسلام کا پورا منشور بیان فرما دیا ہے۔ یہ خطبہ عرفات کے میدان میں اس وقت دیا گیا جب ایک لاکھ چالیس ہزار جانثار آپ کے روبروموجود تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! میں جو کچھ کہوں اسے غور سے سنو، شاید آئندہ سال اور اس کے بعد پھر کبھی یہاں تم سے ملاقات نہ ہو سکے‘‘۔
پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے درج ذیل آٹھ عنوانات پربات فرمائی۔ حقیقی روشن خیالی، انسانی جان کی حرمت، ادائے امانت، سود کی حرمت، قتل و قتال کی ممانعت، عمل صالح، حقوق زوجین کا تحفظ اور گمراہی سے حفاظت۔دور حاضر میں روشن خیالی کا بڑا چرچا ہے۔ مسلمانوں کو رجعت پسند اور بنیاد پرست ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے جس روشن خیالی کا درس آج سے چودہ سو برس قبل دیا تھا،اس کے مطابق دور حاضر کی روشن خیالی، جہالت کا دوسرا نام ہے۔
مثلا آج کی روشن خیالی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس کی عمر تقریبا سوا دو سو سال ہے۔ اس کی ابتداء انقلاب فرانس سے ہوئی جب یورپ نے اپنی تمام فرسودہ باتوں سے جان چھڑا لی اور اپنی روایات، اپنی تہذیب حتی کہ اپنے مذہب تک سے پیچھا چھڑا لیا۔ انسانی خواہشات کو اپنا حکمران بنا لیا اور درج ذیل کام کیے۔
٭… مذہب ہر انسان کاذاتی معاملہ ٹھہرا۔
٭…قتل عام کو دہشت پسندی کے خلاف جنگ کا نام دے کر امن کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔
٭…گھر کی ملکہ عورت کو پاکیزگی کی دہلیز سے کھینچ کر کلبوں کے میدان میں کھڑا کر دیا گیا۔اور اسے حقوق نسواں کا حسین عنوان دیا گیا۔ نیز اسے پیسہ کمانے کی مشین بنا دیا۔
٭…عریانی و فحاشی کا نام کلچر رکھ دیا گیا۔
٭…سود کو منافع اور پرافٹ کا نام دے کربینکوں کا کاروبار بڑھایا گیا۔نیز سرمایہ دارانہ نظام کو ورلڈ آرڈر کا نام دے کر دنیا پر ٹھونسنے کی کوشش کی گئی۔
٭…انسانی اخلاق کی قدر وقیمت گرا دی گئی اور ہر مسئلے کا حل روپیہ کمانا ٹھہرا۔
٭…خیانت اور دھوکے بازی کو سیاست کی پیکنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
یہ تھا مغرب کی روشن خیالی کا تصور، جبکہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ان تمام اقدار کو اپنے قدموں تلے روندتے ہوئے فرمایا تھا۔’’میں نے جاہلیت کی تمام روایات اپنے قدموں تلے روند دی ہیں ‘‘ ۔ اس ایک جملے میں آپ نے شرک، زنا ، جوا، سود، بے حیائی ، قتل ، حق تلفی سب جاہلی معاملات کو یکسر ختم فرما دیا۔ مسلمانوں کے ہاں روشن خیالی ، اپنی خواہشات کو رب ذوالجلال کے حکم کے سامنے سرد کر دینے کا نام ہے۔ جبکہ اہل مغرب کے نزدیک معاشرے میں جنم لینے والے منتشر خیالات روشن خیالی ہیں ۔ چنانچہ وہ ایسی اشیاء کو قانون کا حصہ بنا لیتے ہیں اگرچہ اخلاقی اعتبار سے کتنی ہی گری ہوئی ہوں ۔ جیسے ہم جنس پرستی کے جواز کا قانون وغیرہ۔
دوسری چیز جسے اہل مغرب اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے ہیں وہ ہے دہشت گردی کے خلاف قتل عام۔ جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں بھی لائحہ عمل تجویز فرمادیا۔ فرمایا’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان و مال تا قیامت حرام ہیں جس طرح آج کے دن اور اس مہینہ ذوالحجہ میں ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کرتے‘‘۔
آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے مذاہب کے افراد ، خواتین ، بچے، بوڑھے حتی کہ زمینوں اور فصلوں تک کے حقوق متعین فرما دیے۔ اور انہیں بلا ضرورت کاٹنے، اور جلانے سے منع فرما دیا۔فتح مکہ کے عظیم موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو لا تثریب علیکم الیوم (آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا) کی خوشخبریوں سے نواز دیا۔ حتی کہ اپنے دشمن امیہ بن خلف کے بیٹے ربیعہ کو اسی خطبہ حجۃ الوداع کا مکبر بنا دیا۔ چنانچہ آپ کا یہ خطبہ بلند آواز سے لوگوں تک انہی ربیعہؓ نے پہنچایا۔
جبکہ تصویر کے دوسرے رخ کا جائزہ لیں تو دنیا کے بڑے بڑے انقلابات میں کروڑوں انسان ’’امن‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انقلاب فرانس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے، پہلی جنگ عظیم میں کم از کم ایک کروڑ انسان قتل ہوئے لیکن رسول اللہ ﷺ کے انقلاب میں طرفین کے صرف 1018؍ آدمی موت کی نیند سوئے۔پھر یہ انقلاب ایسا پُر اثر تھا کہ اس کی گونج آج بھی پوری قوت سے اطراف عالم میں سنائی دے رہی ہے۔
تیسری چیز جو آپ ﷺ نے بیان فرمائی وہ ادائے امانت ہے۔ اس بارے میں آپ ﷺکا فرمان ہے۔ ’’جس کسی کے پاس دوسرے کی امانت جمع ہو اس کے مالک کو لوٹا دی جائے‘‘۔
نیز فرمایا
’’اے لوگو! میری بات گوش ہوش سے سنو! دیکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اس رشتہ کی وجہ سے کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کی کسی شے پر اس کی اجازت کے بغیر تصرف روا نہیں ہے۔ ورنہ یہ ایک دوسرے پر ظلم ہو جائے گا۔‘‘
چوتھی چیز سود ہے جس کے خاتمے کا آپ نے حکم دیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے بارے میں یہ حکم فرمایا۔
’’آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے راس المال کے سوا۔ نہ تم ایک دوسرے پر ظلم کرو، نہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے ہی نے سود کو ممنوع فرما دیا ہے۔(میرے چچاحضرت) عباس کا جو سود دوسروں کے ذمہ واجب الادا ہے اسے موقوف کیا جاتا ہے‘‘۔
انگریزی کے مشہور مقولے Charity begins at the home کے تحت سود کے خاتمے کی ابتدا اپنے گھر سے کی۔ اور پھر اسلام میں سود کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
پانچویں چیز جس کا ذکر آپﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا، قتل و قتال کی حرمت ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے گھر سے اس کی ابتداء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
’’جاہلیت کے مقتولین کا قصاص و دیت دونوں کالعدم قرار دی جاتی ہیں ۔ سب سے پہلے میں ہی بنو ہاشم کے (ایک بچے) ابن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا بدلہ اور دیت معاف کرتا ہوں ‘‘۔
نیز یہ بھی فرمایا۔
’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان اور اسی طرح مال ہر ایک قیامت تک حرام ہے جیسا کہ آج کے دن اور اس مہینہ میں تم کسی قسم کی بے حرمتی نہیں کر سکتے‘‘۔
چھٹی چیز جس کا تذکرہ اپنے اس خطبہ میں فرمایا، اخلاق حسنہ ، تقوی اور اعمال صالح ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع دیتے ہوئے اسی بات کی طرف نشاندہی فرمائی کہ
’’غور سے سنیے کہ اب عرب میں شیطان کی پرستش نہ کی جائے گی لیکن اس کی پرستاری کی بجائے اگر شیطان کی صرف اطاعت ہی کی گئی تب بھی وہ بہت خوش ہوگا۔ اس لیے دینی امور میں شیطانی وساوس کو اپنے قریب نہ آنے دو‘‘۔
نیز فرمایا۔ ’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں ہے، کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں ہے، ہاں البتہ تقوی کی بنیاد پر (ان کو ایک دوسرے پر فضیلت ہو سکتی ہے)‘‘۔
اسلام کے اسی سنہری اصول کی وجہ سے حبشی بلال کو سیدنا بلال کہہ کر پکارا گیا اور عطا ء بن ابی رباح جیسے سادہ شکل والے کے سامنے امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک بھی زانوئے تلمذ تہہ کرنا فخر سمجھتے تھے۔ ایک عجمی النسل محمد بن اسماعیل بخاری کو امیر المومنین فی الحدیث کہا گیا اور ایک فارسی النسل امام غزالی کے فلسفے کی دھوم چہار دانگ عالم میں ہے اور ایک غیر عرب نعمان بن ثابت امام اعظم کہلاتا ہے۔جبکہ ایک عربی النسل ہاشمی خانوادے کے فرزند ابولہب ، اپنے زمانے کے ابوالحکم، عمرو بن ہشام (ابو جہل)کو انہی کی کیٹگری کے لوگ بھی اچھے الفاظ میں یاد کرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔
ساتویں چیز جس کا ذکر اپنے خطبہ میں فرمایا وہ خاندانی نظام کا تحفظ ہے۔ مغرب اپنے حقوق نسواں کے نعرے پر بہت زور دیتا ہے۔ مغرب کا دعو ی ہے کہ ہم نے عورت کو وہ حقوق دیے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے بھی اسے عطا نہیں کیے۔ لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو مغرب نے عورت کو بجائے حقوق دینے کے ، اسے انہی خطوط پر چلانے کی سعی کی ہے جنہیں اسلام نے چودہ سو سال قبل جہالت کہہ کر پاؤں تلے روند ڈالا تھا۔
ذرا غورفرمائیں ۔ مغرب، عورت کو گھر کی دہلیز سے کھینچ کر سر بازار لے آیا ہے۔ مغربی مفکرین نے عورت کو مرد کے ہم پلہ قرار دیا۔ نتیجۃ مغرب نے عورت سے اس پر دوگنا بوجھ لاد دیا ہے۔ ایک تو وہ بوجھ ہے جو اس پر فطرتا مسلط ہے۔ یعنی گھریلو امور کی نگرانی، بچے جننا، اور ان کی پرورش کرنا،وغیرہ۔ یہ کام مرد نہیں کر سکتا۔ اور دوسرا بوجھ ، کمائی کرنا، نوکریاں کرنا، ڈیوٹیاں سرانجام دینا، وغیرہ۔ جبکہ اسلام نے دونوں فریقوں کے حقوق متعین کر دیے۔ اسلام نے مرد و عورت کو گاڑی کے دو پہیے قرار دیا جس کی وجہ سے زندگی کی گاڑی کا چلنا نہایت آسان ہوگیا، جبکہ مغرب نے برابر کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ کر دونوں پہیے گاڑی کی ایک ہی سمت میں لگا دیے ، چنانچہ ان کا گھریلو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ جس کا اقرار اب خود مغربی مفکرین بھی کر رہے ہیں ۔
عورت، جسے یونانیوں نے سانپ، سقراط نے فتنہ، قدیس جرنا نے شیطانی آلہ اور یوحنا نے شر کی بیٹی اور امن وسلامتی کی دشمن لکھا ، جب گھر سے باہر نکلی تو اپنی حشر سامانیوں سمیت نکلی۔ مردوں کے سفلی جذبات کی تسکین ہوئی اور بے حیائی نے جڑ پکڑ لی۔ جب کہ اسلام نے اسی عورت کے قدموں تلے جنت بتلائی اور ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے حقوق وضع کر کے اس کی باقاعدہ حیثیت متعین کر دی۔
خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے آپﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا: ’’میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہیں ۔نیزکسی عورت کے لیے غیر مرد کو اپنے قریب کرنے کا حق نہیں ورنہ شوہر کے تن بدن میں آگ لگ جائے گی‘‘۔ اور یہ کہ ’’عورتوں کو بے حیائی کے ارتکاب سے مطلقا کنارہ کش رہنا چاہیے۔ اگر ان سے یہ قصور ہو جائے تو ان کے شوہر انہیں بدنی سزا دے سکتے ہیں مگر وہ سزا ضرب شدید کی حد کے قریب نہ پہنچ جائے۔ (یعنی بدن پر داغ نہیں پڑنا چاہیے)۔ اگر عورتیں ایسا لا ابالی پن چھوڑ دیں تو دستور عام کے مطابق ان کے خوردونوش اور ان کے لباس کا پورا لحاظ رکھو اور ان کے معاملہ میں حسن سلوک سے ہاتھ نہ کھینچو۔ وہ تمہارے نکاح میں آجانے سے تمہاری پابند ہو جاتی ہیں اور (ان معنوں میں ) اپنے نفس کی مالک نہیں رہتیں ، لیکن تم بھی خیال رکھو کہ آخر کلمہ ایجاب و قبول کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی اس امانت کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور انہی کلمات کے ساتھ انہیں خود پر حلال کیا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ کے آخر میں اپنی امت کو گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
’’اے لوگو! غور سے سنو! جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اس کی وضاحت کے لیے جو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو گے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے۔ وہ چیز بجائے خود نہایت واضح ہے اور وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے‘‘۔
کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ایک ایسی چیز ہے جس پر عمل کر کے کوئی بھی فتنوں و شرور سے بچ سکتا ہے اور راہ جنت کا راہی بن سکتا ہے۔سب سے آخر میں ارشاد فرمایا۔
’’اے اللہ ! تو سن رہا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ اور ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں اللھم اشہد، اللھم اشہد (یا اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرض ادا فرما دیا)۔اب ہمارے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اس پر کتنے عمل پیرا ہوتے ہیں ؟
عبد الصَّبُور شاکر


متعلقہ خبریں


مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت وجود - اتوار 31 مئی 2020

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ دو ماہ سے بند مسجد بنوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دیدی۔سعودی میڈیا کے مطابق مسجد نبوی میں 31 مئی سے عام نمازیوں کے داخلے کی اجازت ہوگی اور خادمین الحرمین الشریفین نے اس فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔سعودی حکام کے مطابق احتیاطی تدابیرکے ساتھ مسجد نبوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کے احکامات دئیے گئے ۔ مسجد نبوی میں 40 فیصد نمازیوں کو ابتدائی دنوں میں داخلے کی اجازت ہو گی اور حکام کی جانب س...

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین کا واپس جانے سے انکار وجود - اتوار 31 مئی 2020

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق لائن آف کنٹرول سے 8 کلو میٹر اندر تک چین نے اپنا کیمپ قائم کر دیا ہے۔ جبکہ چین نے واپس جانے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ جگہ بھارت کی نہیں ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت اور میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔بھارت کی فوج کے دو ٹینکر پہلے ہی پہنچ چکے ہیں تاہم چینی فوج کے قریب جانے کی بھی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث طے شدہ دوروں کے...

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین کا واپس جانے سے انکار

عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کیخلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ وجود - اتوار 31 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت اور 37 ممالک نے کورونا وائرس وبا سے لڑنے کے لیے ویکسین، ادویات اور تشخیصی آلات کی عام ملکیت کی اپیل کی اور کہا کہ پیٹنٹ قوانین اس اہم ترین اشیا کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے اس اقدام کو زیادہ زیادہ تر تنظیموں بشمول ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے پذیرائی ملی۔ترقی پذیر اور چند چھوٹے ممالک کو خدشہ ہے کہ امیر ممالک کو ویکسین کی تلاش میں وسائل صرف کر رہے ہیں، کامیابی کے بعد اس قطار میں سب سے آگے کھڑے ہوجائیں گے۔کوسٹا ر...

عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کیخلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ

لاک ڈائون بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور وجود - اتوار 31 مئی 2020

بھارت میں لاک ڈاؤن کے دوران بھوک و افلاس کا عالم دیکھ کر انسانیت شرما گئی، کوئی ننگے پیر سیکڑوں میل پیدل سفر کرکے گھر پہنچا تو کسی کو بھوک نے مردار کھانے پر مجبور کر دیا۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق چلچلاتی دھوپ، تپتی زمین اور ننگے پیر میلوں کا سفر، ایسے میں عورتوں اور بچوں کا بھی ساتھ ہو تو غربت کا کیا عالم ہوگا، لاک ڈاؤن میں مودی کی ناکام منصوبہ بندی نے غریبوں کو دربدر رلنے پر مجبور کر دیا۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود مودی سرکار غریبوں کی پروا کے بجائے ہندوتوا کے پرچار او...

لاک ڈائون بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور

مودی سرکار کا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کشمیر میں جعلی آپریشن کا منصوبہ وجود - اتوار 31 مئی 2020

بھارت نے لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد پاکستان کے خلاف مکروہ منصوبہ بنانا لیا، مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منصوبہ بندی کرلی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بارہا عالمی برادری کو بھارتی عزائم بارے کئی مرتبہ خبردار کر چکے۔ذرائع کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کرنے اور اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مکروہ منصوبہ بندی کر لی ہے، یہ سب ...

مودی سرکار کا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کشمیر میں جعلی آپریشن کا منصوبہ

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ،دوول کی غلط پالیسیوں نے بھارت کو بند گلی میں لا کھڑا کیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق چائنا پالیسی اور جھوٹ پر جھوٹ نے بھارت کی بْنیادیں ہلا دیں،بھارت اقوامِ عالم میں تنہا ہو گیا،پہلے پلوامہ ڈرامے میں اپنے 40سپاہی مروائے ۔رپورٹ کے مطابق بالاکوٹ میں ہزیمت اْٹھانا پڑی،بھارتی ائیر فورس کی ناکامی سے بھارتی خواب چکنا چور ہو گئے ،کشمیر پالیسی بْری طرح ناکام،چائنہ نے بھارتی ملٹری کو بے نقاب ک...

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین وجود - هفته 30 مئی 2020

چین نے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی بل کے معاملے میں امریکا پر اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے نیشنل سیکیورٹی بل پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کرسکیں گی۔چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون...

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی وجود - هفته 30 مئی 2020

لداخ میں غیر قانونی تعمیرات پربھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ، چین نے کشمیر کے علاقے اکسائے چن پر بھی فوجی قوت بڑھا دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے ، چین لداخ میں متنازع سڑک پر پل کی تعمیر روکنا چاہتا ہے ، چین نے ائیرپورٹ پر ملٹری قوت میں اضافہ کر لیا۔لداخ میں بھارتی فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا، گولوان وادی کے تین پوائنٹس اور پینگانگ جھیل پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے ہیں۔واضح رہے کہ لداخ کے علاقے میں بھارت اور چین تنازع شروع ہوئے ایک...

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 30 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو کمپنیاں بچوں کو تمباکو نوشی کی طرف راغب کرنے کے لیے خطرناک اور جان لیوا ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے بتایاکہ یہ حیرانی کی بات نہیں کہ سگریٹ نوشی شروع کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمر اٹھارہ برس سے بھی کم ہوتی ہے ۔ اس ادارے نے مزید بتایا کہ تیرہ سے پندرہ برس تک کی عمر کے درمیان چوالیس ملین بچے اس وقت سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اس بارے میں عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک رپورٹ اتوار اکتیس مئی کو منا...

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 30 مئی 2020

ذیابیطس کا ہر دس میں سے ایک مریض کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی صورت میں ہسپتال جانے کے سات دن بعد ہی اپنی زندگی کی بازی ہار سکتا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ انکشاف ایک تازہ سائنسی مطالعے کے نتائج میں کیا گیا ہے ، جو جمعے کے روز ایک جریدے میں شائع ہوئے ۔ اس مطالعے کے دوران ذیابیطس کے تیرہ سو مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ پچھتر برس سے زائد عمر کے مریضوں میں پچپن برس سے کم عمر کے مریضوں کے مقابلے میں شرح اموات چودہ فیصد زیادہ رہی۔ دل، بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے امراض میں مب...

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں نئے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چین میں اسی وائرس کے باعث اموات سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں مزید 175 افراد ہلاک ہو گئے اور یوں ایسی اموات کی مجموعی تعداد 4,706 ہو گئی۔ بھارت میں نئے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 165,799 ہو گئی ہے ۔ مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے ۔ دوسری جانب چین میں جمعے کو کووڈ انیس کا کوئی ایک بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس بیماری کے باعث کوئی موت ہوئی۔ چین میں متاثرین کی تعداد 82,995 ...

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

ملائیشیا کی سیاسی جماعت یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو انہی کی پارٹی سے نکال دیا گیا۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد نے اپنی ہی جماعت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی اور وہ 18 مئی کو ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے ۔ملائیشیا کی یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاتیر محمد کی پارٹی رکنیت کو فوری طور پر منسوخ کردیا گیا ہے ۔عرب میڈیا کا بتانا ہیکہ پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد کو ان کی اپن...

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا