وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خطبہ حجۃ الوداع ،ایک عالمی منشور

جمعرات 31 اگست 2017 خطبہ حجۃ الوداع ،ایک عالمی منشور

خطبہ حجۃ الوداع دنیا بھر کے خطبوں میں الگ شان رکھتا ہے ۔پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے اس ایک خطبے میں اسلام کا پورا منشور بیان فرما دیا ہے۔ یہ خطبہ عرفات کے میدان میں اس وقت دیا گیا جب ایک لاکھ چالیس ہزار جانثار آپ کے روبروموجود تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! میں جو کچھ کہوں اسے غور سے سنو، شاید آئندہ سال اور اس کے بعد پھر کبھی یہاں تم سے ملاقات نہ ہو سکے‘‘۔
پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے درج ذیل آٹھ عنوانات پربات فرمائی۔ حقیقی روشن خیالی، انسانی جان کی حرمت، ادائے امانت، سود کی حرمت، قتل و قتال کی ممانعت، عمل صالح، حقوق زوجین کا تحفظ اور گمراہی سے حفاظت۔دور حاضر میں روشن خیالی کا بڑا چرچا ہے۔ مسلمانوں کو رجعت پسند اور بنیاد پرست ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے جس روشن خیالی کا درس آج سے چودہ سو برس قبل دیا تھا،اس کے مطابق دور حاضر کی روشن خیالی، جہالت کا دوسرا نام ہے۔
مثلا آج کی روشن خیالی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس کی عمر تقریبا سوا دو سو سال ہے۔ اس کی ابتداء انقلاب فرانس سے ہوئی جب یورپ نے اپنی تمام فرسودہ باتوں سے جان چھڑا لی اور اپنی روایات، اپنی تہذیب حتی کہ اپنے مذہب تک سے پیچھا چھڑا لیا۔ انسانی خواہشات کو اپنا حکمران بنا لیا اور درج ذیل کام کیے۔
٭… مذہب ہر انسان کاذاتی معاملہ ٹھہرا۔
٭…قتل عام کو دہشت پسندی کے خلاف جنگ کا نام دے کر امن کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔
٭…گھر کی ملکہ عورت کو پاکیزگی کی دہلیز سے کھینچ کر کلبوں کے میدان میں کھڑا کر دیا گیا۔اور اسے حقوق نسواں کا حسین عنوان دیا گیا۔ نیز اسے پیسہ کمانے کی مشین بنا دیا۔
٭…عریانی و فحاشی کا نام کلچر رکھ دیا گیا۔
٭…سود کو منافع اور پرافٹ کا نام دے کربینکوں کا کاروبار بڑھایا گیا۔نیز سرمایہ دارانہ نظام کو ورلڈ آرڈر کا نام دے کر دنیا پر ٹھونسنے کی کوشش کی گئی۔
٭…انسانی اخلاق کی قدر وقیمت گرا دی گئی اور ہر مسئلے کا حل روپیہ کمانا ٹھہرا۔
٭…خیانت اور دھوکے بازی کو سیاست کی پیکنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
یہ تھا مغرب کی روشن خیالی کا تصور، جبکہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ان تمام اقدار کو اپنے قدموں تلے روندتے ہوئے فرمایا تھا۔’’میں نے جاہلیت کی تمام روایات اپنے قدموں تلے روند دی ہیں ‘‘ ۔ اس ایک جملے میں آپ نے شرک، زنا ، جوا، سود، بے حیائی ، قتل ، حق تلفی سب جاہلی معاملات کو یکسر ختم فرما دیا۔ مسلمانوں کے ہاں روشن خیالی ، اپنی خواہشات کو رب ذوالجلال کے حکم کے سامنے سرد کر دینے کا نام ہے۔ جبکہ اہل مغرب کے نزدیک معاشرے میں جنم لینے والے منتشر خیالات روشن خیالی ہیں ۔ چنانچہ وہ ایسی اشیاء کو قانون کا حصہ بنا لیتے ہیں اگرچہ اخلاقی اعتبار سے کتنی ہی گری ہوئی ہوں ۔ جیسے ہم جنس پرستی کے جواز کا قانون وغیرہ۔
دوسری چیز جسے اہل مغرب اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے ہیں وہ ہے دہشت گردی کے خلاف قتل عام۔ جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں بھی لائحہ عمل تجویز فرمادیا۔ فرمایا’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان و مال تا قیامت حرام ہیں جس طرح آج کے دن اور اس مہینہ ذوالحجہ میں ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کرتے‘‘۔
آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے مذاہب کے افراد ، خواتین ، بچے، بوڑھے حتی کہ زمینوں اور فصلوں تک کے حقوق متعین فرما دیے۔ اور انہیں بلا ضرورت کاٹنے، اور جلانے سے منع فرما دیا۔فتح مکہ کے عظیم موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو لا تثریب علیکم الیوم (آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا) کی خوشخبریوں سے نواز دیا۔ حتی کہ اپنے دشمن امیہ بن خلف کے بیٹے ربیعہ کو اسی خطبہ حجۃ الوداع کا مکبر بنا دیا۔ چنانچہ آپ کا یہ خطبہ بلند آواز سے لوگوں تک انہی ربیعہؓ نے پہنچایا۔
جبکہ تصویر کے دوسرے رخ کا جائزہ لیں تو دنیا کے بڑے بڑے انقلابات میں کروڑوں انسان ’’امن‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انقلاب فرانس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے، پہلی جنگ عظیم میں کم از کم ایک کروڑ انسان قتل ہوئے لیکن رسول اللہ ﷺ کے انقلاب میں طرفین کے صرف 1018؍ آدمی موت کی نیند سوئے۔پھر یہ انقلاب ایسا پُر اثر تھا کہ اس کی گونج آج بھی پوری قوت سے اطراف عالم میں سنائی دے رہی ہے۔
تیسری چیز جو آپ ﷺ نے بیان فرمائی وہ ادائے امانت ہے۔ اس بارے میں آپ ﷺکا فرمان ہے۔ ’’جس کسی کے پاس دوسرے کی امانت جمع ہو اس کے مالک کو لوٹا دی جائے‘‘۔
نیز فرمایا
’’اے لوگو! میری بات گوش ہوش سے سنو! دیکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اس رشتہ کی وجہ سے کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کی کسی شے پر اس کی اجازت کے بغیر تصرف روا نہیں ہے۔ ورنہ یہ ایک دوسرے پر ظلم ہو جائے گا۔‘‘
چوتھی چیز سود ہے جس کے خاتمے کا آپ نے حکم دیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے بارے میں یہ حکم فرمایا۔
’’آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے راس المال کے سوا۔ نہ تم ایک دوسرے پر ظلم کرو، نہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے ہی نے سود کو ممنوع فرما دیا ہے۔(میرے چچاحضرت) عباس کا جو سود دوسروں کے ذمہ واجب الادا ہے اسے موقوف کیا جاتا ہے‘‘۔
انگریزی کے مشہور مقولے Charity begins at the home کے تحت سود کے خاتمے کی ابتدا اپنے گھر سے کی۔ اور پھر اسلام میں سود کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
پانچویں چیز جس کا ذکر آپﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا، قتل و قتال کی حرمت ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے گھر سے اس کی ابتداء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
’’جاہلیت کے مقتولین کا قصاص و دیت دونوں کالعدم قرار دی جاتی ہیں ۔ سب سے پہلے میں ہی بنو ہاشم کے (ایک بچے) ابن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا بدلہ اور دیت معاف کرتا ہوں ‘‘۔
نیز یہ بھی فرمایا۔
’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان اور اسی طرح مال ہر ایک قیامت تک حرام ہے جیسا کہ آج کے دن اور اس مہینہ میں تم کسی قسم کی بے حرمتی نہیں کر سکتے‘‘۔
چھٹی چیز جس کا تذکرہ اپنے اس خطبہ میں فرمایا، اخلاق حسنہ ، تقوی اور اعمال صالح ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع دیتے ہوئے اسی بات کی طرف نشاندہی فرمائی کہ
’’غور سے سنیے کہ اب عرب میں شیطان کی پرستش نہ کی جائے گی لیکن اس کی پرستاری کی بجائے اگر شیطان کی صرف اطاعت ہی کی گئی تب بھی وہ بہت خوش ہوگا۔ اس لیے دینی امور میں شیطانی وساوس کو اپنے قریب نہ آنے دو‘‘۔
نیز فرمایا۔ ’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں ہے، کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں ہے، ہاں البتہ تقوی کی بنیاد پر (ان کو ایک دوسرے پر فضیلت ہو سکتی ہے)‘‘۔
اسلام کے اسی سنہری اصول کی وجہ سے حبشی بلال کو سیدنا بلال کہہ کر پکارا گیا اور عطا ء بن ابی رباح جیسے سادہ شکل والے کے سامنے امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک بھی زانوئے تلمذ تہہ کرنا فخر سمجھتے تھے۔ ایک عجمی النسل محمد بن اسماعیل بخاری کو امیر المومنین فی الحدیث کہا گیا اور ایک فارسی النسل امام غزالی کے فلسفے کی دھوم چہار دانگ عالم میں ہے اور ایک غیر عرب نعمان بن ثابت امام اعظم کہلاتا ہے۔جبکہ ایک عربی النسل ہاشمی خانوادے کے فرزند ابولہب ، اپنے زمانے کے ابوالحکم، عمرو بن ہشام (ابو جہل)کو انہی کی کیٹگری کے لوگ بھی اچھے الفاظ میں یاد کرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔
ساتویں چیز جس کا ذکر اپنے خطبہ میں فرمایا وہ خاندانی نظام کا تحفظ ہے۔ مغرب اپنے حقوق نسواں کے نعرے پر بہت زور دیتا ہے۔ مغرب کا دعو ی ہے کہ ہم نے عورت کو وہ حقوق دیے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے بھی اسے عطا نہیں کیے۔ لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو مغرب نے عورت کو بجائے حقوق دینے کے ، اسے انہی خطوط پر چلانے کی سعی کی ہے جنہیں اسلام نے چودہ سو سال قبل جہالت کہہ کر پاؤں تلے روند ڈالا تھا۔
ذرا غورفرمائیں ۔ مغرب، عورت کو گھر کی دہلیز سے کھینچ کر سر بازار لے آیا ہے۔ مغربی مفکرین نے عورت کو مرد کے ہم پلہ قرار دیا۔ نتیجۃ مغرب نے عورت سے اس پر دوگنا بوجھ لاد دیا ہے۔ ایک تو وہ بوجھ ہے جو اس پر فطرتا مسلط ہے۔ یعنی گھریلو امور کی نگرانی، بچے جننا، اور ان کی پرورش کرنا،وغیرہ۔ یہ کام مرد نہیں کر سکتا۔ اور دوسرا بوجھ ، کمائی کرنا، نوکریاں کرنا، ڈیوٹیاں سرانجام دینا، وغیرہ۔ جبکہ اسلام نے دونوں فریقوں کے حقوق متعین کر دیے۔ اسلام نے مرد و عورت کو گاڑی کے دو پہیے قرار دیا جس کی وجہ سے زندگی کی گاڑی کا چلنا نہایت آسان ہوگیا، جبکہ مغرب نے برابر کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ کر دونوں پہیے گاڑی کی ایک ہی سمت میں لگا دیے ، چنانچہ ان کا گھریلو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ جس کا اقرار اب خود مغربی مفکرین بھی کر رہے ہیں ۔
عورت، جسے یونانیوں نے سانپ، سقراط نے فتنہ، قدیس جرنا نے شیطانی آلہ اور یوحنا نے شر کی بیٹی اور امن وسلامتی کی دشمن لکھا ، جب گھر سے باہر نکلی تو اپنی حشر سامانیوں سمیت نکلی۔ مردوں کے سفلی جذبات کی تسکین ہوئی اور بے حیائی نے جڑ پکڑ لی۔ جب کہ اسلام نے اسی عورت کے قدموں تلے جنت بتلائی اور ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے حقوق وضع کر کے اس کی باقاعدہ حیثیت متعین کر دی۔
خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے آپﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا: ’’میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہیں ۔نیزکسی عورت کے لیے غیر مرد کو اپنے قریب کرنے کا حق نہیں ورنہ شوہر کے تن بدن میں آگ لگ جائے گی‘‘۔ اور یہ کہ ’’عورتوں کو بے حیائی کے ارتکاب سے مطلقا کنارہ کش رہنا چاہیے۔ اگر ان سے یہ قصور ہو جائے تو ان کے شوہر انہیں بدنی سزا دے سکتے ہیں مگر وہ سزا ضرب شدید کی حد کے قریب نہ پہنچ جائے۔ (یعنی بدن پر داغ نہیں پڑنا چاہیے)۔ اگر عورتیں ایسا لا ابالی پن چھوڑ دیں تو دستور عام کے مطابق ان کے خوردونوش اور ان کے لباس کا پورا لحاظ رکھو اور ان کے معاملہ میں حسن سلوک سے ہاتھ نہ کھینچو۔ وہ تمہارے نکاح میں آجانے سے تمہاری پابند ہو جاتی ہیں اور (ان معنوں میں ) اپنے نفس کی مالک نہیں رہتیں ، لیکن تم بھی خیال رکھو کہ آخر کلمہ ایجاب و قبول کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی اس امانت کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور انہی کلمات کے ساتھ انہیں خود پر حلال کیا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ کے آخر میں اپنی امت کو گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
’’اے لوگو! غور سے سنو! جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اس کی وضاحت کے لیے جو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو گے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے۔ وہ چیز بجائے خود نہایت واضح ہے اور وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے‘‘۔
کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ایک ایسی چیز ہے جس پر عمل کر کے کوئی بھی فتنوں و شرور سے بچ سکتا ہے اور راہ جنت کا راہی بن سکتا ہے۔سب سے آخر میں ارشاد فرمایا۔
’’اے اللہ ! تو سن رہا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ اور ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں اللھم اشہد، اللھم اشہد (یا اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرض ادا فرما دیا)۔اب ہمارے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اس پر کتنے عمل پیرا ہوتے ہیں ؟
عبد الصَّبُور شاکر


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی وزیرخارجہ نے ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ’’دھوکا دہی اور ابہام‘‘ سے کام لینے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو اپنی حساس جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تاخیری حربے استعمال کررہا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے ایران پر زور دیا کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے اور اس کے معائنہ کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کے دمام میں ایک دو شیزہ کا اپنے والد کے نام مکتوب سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد اس پر تحائف کی بارش کردی۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے شہردمام سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اپنے والد کو شادی سے چند دن قبل ایک مکتوب لکھا جس میں ان سے کہا کہ اس کی شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں۔ اس کا حق مہر25 ہزار ریال سے زیادہ نہ ہو اور اس کی شادی پراٹھنے والے اخراجات بھی اس رقم سے زیادہ نہ ہوں۔سعودی دو شیزہ کا والد کو پیغام سوشل میڈیا پروائرل ہوتے ہی صارفین کی طرف سے ...

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن وجود - بدھ 13 نومبر 2019

لیبیا سے تعلق رکھنے والے دو شیرخوار بچے جن کے دھڑ ایک دوسرے کے ساتھ جْڑے ہوئے ہیں کوآپریشن کے ذریعے الگ کرنے کے لیے سعودی عرب لایا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے ماہر سرجن ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ اور ان کی ٹیم نے بچوں کے معائنے کی تکمیل کے بعد ان کی سرجری کا فیصلہ کیا ہے۔ آپس میں جڑے بچوں کے نام احمد اور محمد رکھے گئے ہیں۔ ان کی سرجری کا عمل کل جمعرات کو شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے شاہ عبداللہ اسپتال میں کیا جائے گا۔سرجری ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربی...

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹویٹر نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے بیٹے جواد نصراللہ کا اکائونٹ بھی بلاک کردیاہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹویٹر کی طرف سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ منگل کوامریکا نے جواد نصراللہ کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ٹویٹر کا دعویٰء ہے کہ جواد نصراللہ اپنے سخت موقف اور متنازع فتووں کی تشہیر کے لیے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتا تھا جو کہ ٹویٹر کی پالیسی کے خلاف ہے۔ کمپنی کا کہناتھا کہ جواد نصراللہ کے خلاف بار بار شکایات ا...

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی ایک خصوصی فوجداری عدالت نے دہشت گردی اور متعدد الزامات میں قصوروار ثابت ہونے کے بعد کل 41 ملزمان میں سے 38 کو قید اور ملک بدری کی سزائیں سنادیں۔میڈیارپورٹس کیے مطابق ان ملزمان پر منہج کتاب و سنت کے برخلاف انتہا پسندانہ نظریات اختیار کرنے ،دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے ، دہشت گرد تنظیم قائم کرنے، لوگوں کو اس میں بھرتی کرنے، کچھ کو ایک انتہا پسند تنظیم کے ہاتھ پر بیعت کرنے، ملک میں بد امنی پھیلانے اور ملک کے نظم ونسق میں خلل پیدا کرنے کے لیے ...

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت وجود - منگل 12 نومبر 2019

گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ آٹومیٹڈ وئیرایبل مصنوعی گردے سے کڈنی فیلیئر کے مریضوں کے خون میں سے زہریلے مواد کو موثر طریقے سے نکالنے میں مدد مل سکے گی۔سائنسدانوں کی جانب سے اس مصنوعی گردے والی ڈیوائس کی ڈائیلاسز کے لیے آزمائش کی جارہی ہے جس سے تھراپی کے کئی گھنٹوں اور بڑی مشینوں کے استعمال سے نجات مل جائے گی۔اس ٹیکنالوجی میں ڈائیلاس...

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین وجود - منگل 12 نومبر 2019

چین نے تبت کے دلائی لامہ کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے واشنگٹن کی مبینہ سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، تبت میں مداخلت کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کر رہا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے سفیر برائے مذہبی آزادی سیم براون بیک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تبت کے روحانی رہنما کی جانشینی کے معاملے کو اقوام متحدہ دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ دلائی لامہ کے جانشین کا انتخاب تبت کے بدھ مذہب کے ماننے والوں سے متعلق ہے اور اس پر چینی حکومت کا کوئی ت...

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس وجود - منگل 12 نومبر 2019

مغربی افریقی ملک گیمبیا کی حکومت نے جنوبی ایشیائی ملک میانمار کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی عدالت میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست دائر کردی۔ یہ مقدمہ 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی جانب سے میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں لایا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں دارے کے مطابق قانونی درخواست میں کہا گیا کہ میانمار نے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست رخائن میں مسلم اقلیت روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی کی۔گیمبیا کے وزیر انصاف...

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ وجود - منگل 12 نومبر 2019

امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ شامی کْردوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی جرائم یا نسلی تطہیر سے باز رہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن کے دورے کی تیاری میں مصروف ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اوبرائن کا کہنا تھا کہ وہ شمال مشرقی شام میں ترکی کے حملے کے بعد وہاں ممکنہ جنگی جرائم ...

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل وجود - منگل 12 نومبر 2019

آئندہ اتوار کو مصر کی مشہور زمانہ نہر سویزکی کھدائی کے افتتاح کو 150 سال ہوجائیں گے۔ نہر سویز کی کھدائی کے بارے میں بہت سی زبانوں میں کافی مواد موجود ہے۔مصری میڈیا نے بتایاکہ مستند معلومات کے مطابق اس نہر کی کھدائی میں ایک ملین مصریوں نے حصہ لیا جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مزدورمختلف حادثات میں کھدائی کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ اس نہر کی کھدائی کا سلسلہ 10 سال تک دن رات جاری رہا۔ طویل اور مشقت سے بھرپور کھدائی کے بعد 1993 کلو میٹر طویل نہر کھودی گئی۔ اس کی کم سے کم چوڑائی 280 میٹر...

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق وجود - پیر 11 نومبر 2019

آسٹریلیا کی مشہور وکٹوریہ یونیورسٹی نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ 50 منٹ کی دوڑ انسان کو قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رنرز ورلڈ کے مطابق ملبورن کی وکٹوریا یونیورسٹی کی تحقیق میں 14 تحقیق کی معلومات کو اکٹھا کیا گیا جس میں 23 لاکھ سے زائد لوگ شامل تھے۔ ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ دوڑ صحت کیلئے بے حد مفید ہے اور یہ انسان کے قبل از وقت مرنے کے امکانات یا خطرات کو 27 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ ...

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما وجود - پیر 11 نومبر 2019

اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینی مزاحمت کے حامی سوشل صحافت کی بندش پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹویٹرکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے بیرون ملک امور کے انچار محمد نزال نے ایک بیان میں کہا کہ فیس بک اورٹویٹرصہیونی ریاست کی مسلسل طرف داری کرکے اپنی غیر جانب ادارانہ ساکھ کھو چکے ہیں۔ ان دونوں ویب سائٹس کی طرف سے صہیونی ریاست کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اوردونوں سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم غاصب ...

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما

مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار