وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خطبہ حجۃ الوداع ،ایک عالمی منشور

جمعرات 31 اگست 2017 خطبہ حجۃ الوداع ،ایک عالمی منشور

خطبہ حجۃ الوداع دنیا بھر کے خطبوں میں الگ شان رکھتا ہے ۔پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے اس ایک خطبے میں اسلام کا پورا منشور بیان فرما دیا ہے۔ یہ خطبہ عرفات کے میدان میں اس وقت دیا گیا جب ایک لاکھ چالیس ہزار جانثار آپ کے روبروموجود تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! میں جو کچھ کہوں اسے غور سے سنو، شاید آئندہ سال اور اس کے بعد پھر کبھی یہاں تم سے ملاقات نہ ہو سکے‘‘۔
پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے درج ذیل آٹھ عنوانات پربات فرمائی۔ حقیقی روشن خیالی، انسانی جان کی حرمت، ادائے امانت، سود کی حرمت، قتل و قتال کی ممانعت، عمل صالح، حقوق زوجین کا تحفظ اور گمراہی سے حفاظت۔دور حاضر میں روشن خیالی کا بڑا چرچا ہے۔ مسلمانوں کو رجعت پسند اور بنیاد پرست ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے جس روشن خیالی کا درس آج سے چودہ سو برس قبل دیا تھا،اس کے مطابق دور حاضر کی روشن خیالی، جہالت کا دوسرا نام ہے۔
مثلا آج کی روشن خیالی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس کی عمر تقریبا سوا دو سو سال ہے۔ اس کی ابتداء انقلاب فرانس سے ہوئی جب یورپ نے اپنی تمام فرسودہ باتوں سے جان چھڑا لی اور اپنی روایات، اپنی تہذیب حتی کہ اپنے مذہب تک سے پیچھا چھڑا لیا۔ انسانی خواہشات کو اپنا حکمران بنا لیا اور درج ذیل کام کیے۔
٭… مذہب ہر انسان کاذاتی معاملہ ٹھہرا۔
٭…قتل عام کو دہشت پسندی کے خلاف جنگ کا نام دے کر امن کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔
٭…گھر کی ملکہ عورت کو پاکیزگی کی دہلیز سے کھینچ کر کلبوں کے میدان میں کھڑا کر دیا گیا۔اور اسے حقوق نسواں کا حسین عنوان دیا گیا۔ نیز اسے پیسہ کمانے کی مشین بنا دیا۔
٭…عریانی و فحاشی کا نام کلچر رکھ دیا گیا۔
٭…سود کو منافع اور پرافٹ کا نام دے کربینکوں کا کاروبار بڑھایا گیا۔نیز سرمایہ دارانہ نظام کو ورلڈ آرڈر کا نام دے کر دنیا پر ٹھونسنے کی کوشش کی گئی۔
٭…انسانی اخلاق کی قدر وقیمت گرا دی گئی اور ہر مسئلے کا حل روپیہ کمانا ٹھہرا۔
٭…خیانت اور دھوکے بازی کو سیاست کی پیکنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
یہ تھا مغرب کی روشن خیالی کا تصور، جبکہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ان تمام اقدار کو اپنے قدموں تلے روندتے ہوئے فرمایا تھا۔’’میں نے جاہلیت کی تمام روایات اپنے قدموں تلے روند دی ہیں ‘‘ ۔ اس ایک جملے میں آپ نے شرک، زنا ، جوا، سود، بے حیائی ، قتل ، حق تلفی سب جاہلی معاملات کو یکسر ختم فرما دیا۔ مسلمانوں کے ہاں روشن خیالی ، اپنی خواہشات کو رب ذوالجلال کے حکم کے سامنے سرد کر دینے کا نام ہے۔ جبکہ اہل مغرب کے نزدیک معاشرے میں جنم لینے والے منتشر خیالات روشن خیالی ہیں ۔ چنانچہ وہ ایسی اشیاء کو قانون کا حصہ بنا لیتے ہیں اگرچہ اخلاقی اعتبار سے کتنی ہی گری ہوئی ہوں ۔ جیسے ہم جنس پرستی کے جواز کا قانون وغیرہ۔
دوسری چیز جسے اہل مغرب اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے ہیں وہ ہے دہشت گردی کے خلاف قتل عام۔ جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں بھی لائحہ عمل تجویز فرمادیا۔ فرمایا’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان و مال تا قیامت حرام ہیں جس طرح آج کے دن اور اس مہینہ ذوالحجہ میں ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کرتے‘‘۔
آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے مذاہب کے افراد ، خواتین ، بچے، بوڑھے حتی کہ زمینوں اور فصلوں تک کے حقوق متعین فرما دیے۔ اور انہیں بلا ضرورت کاٹنے، اور جلانے سے منع فرما دیا۔فتح مکہ کے عظیم موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو لا تثریب علیکم الیوم (آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا) کی خوشخبریوں سے نواز دیا۔ حتی کہ اپنے دشمن امیہ بن خلف کے بیٹے ربیعہ کو اسی خطبہ حجۃ الوداع کا مکبر بنا دیا۔ چنانچہ آپ کا یہ خطبہ بلند آواز سے لوگوں تک انہی ربیعہؓ نے پہنچایا۔
جبکہ تصویر کے دوسرے رخ کا جائزہ لیں تو دنیا کے بڑے بڑے انقلابات میں کروڑوں انسان ’’امن‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انقلاب فرانس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے، پہلی جنگ عظیم میں کم از کم ایک کروڑ انسان قتل ہوئے لیکن رسول اللہ ﷺ کے انقلاب میں طرفین کے صرف 1018؍ آدمی موت کی نیند سوئے۔پھر یہ انقلاب ایسا پُر اثر تھا کہ اس کی گونج آج بھی پوری قوت سے اطراف عالم میں سنائی دے رہی ہے۔
تیسری چیز جو آپ ﷺ نے بیان فرمائی وہ ادائے امانت ہے۔ اس بارے میں آپ ﷺکا فرمان ہے۔ ’’جس کسی کے پاس دوسرے کی امانت جمع ہو اس کے مالک کو لوٹا دی جائے‘‘۔
نیز فرمایا
’’اے لوگو! میری بات گوش ہوش سے سنو! دیکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اس رشتہ کی وجہ سے کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کی کسی شے پر اس کی اجازت کے بغیر تصرف روا نہیں ہے۔ ورنہ یہ ایک دوسرے پر ظلم ہو جائے گا۔‘‘
چوتھی چیز سود ہے جس کے خاتمے کا آپ نے حکم دیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے بارے میں یہ حکم فرمایا۔
’’آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے راس المال کے سوا۔ نہ تم ایک دوسرے پر ظلم کرو، نہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے ہی نے سود کو ممنوع فرما دیا ہے۔(میرے چچاحضرت) عباس کا جو سود دوسروں کے ذمہ واجب الادا ہے اسے موقوف کیا جاتا ہے‘‘۔
انگریزی کے مشہور مقولے Charity begins at the home کے تحت سود کے خاتمے کی ابتدا اپنے گھر سے کی۔ اور پھر اسلام میں سود کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
پانچویں چیز جس کا ذکر آپﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا، قتل و قتال کی حرمت ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے گھر سے اس کی ابتداء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
’’جاہلیت کے مقتولین کا قصاص و دیت دونوں کالعدم قرار دی جاتی ہیں ۔ سب سے پہلے میں ہی بنو ہاشم کے (ایک بچے) ابن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا بدلہ اور دیت معاف کرتا ہوں ‘‘۔
نیز یہ بھی فرمایا۔
’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان اور اسی طرح مال ہر ایک قیامت تک حرام ہے جیسا کہ آج کے دن اور اس مہینہ میں تم کسی قسم کی بے حرمتی نہیں کر سکتے‘‘۔
چھٹی چیز جس کا تذکرہ اپنے اس خطبہ میں فرمایا، اخلاق حسنہ ، تقوی اور اعمال صالح ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع دیتے ہوئے اسی بات کی طرف نشاندہی فرمائی کہ
’’غور سے سنیے کہ اب عرب میں شیطان کی پرستش نہ کی جائے گی لیکن اس کی پرستاری کی بجائے اگر شیطان کی صرف اطاعت ہی کی گئی تب بھی وہ بہت خوش ہوگا۔ اس لیے دینی امور میں شیطانی وساوس کو اپنے قریب نہ آنے دو‘‘۔
نیز فرمایا۔ ’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں ہے، کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں ہے، ہاں البتہ تقوی کی بنیاد پر (ان کو ایک دوسرے پر فضیلت ہو سکتی ہے)‘‘۔
اسلام کے اسی سنہری اصول کی وجہ سے حبشی بلال کو سیدنا بلال کہہ کر پکارا گیا اور عطا ء بن ابی رباح جیسے سادہ شکل والے کے سامنے امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک بھی زانوئے تلمذ تہہ کرنا فخر سمجھتے تھے۔ ایک عجمی النسل محمد بن اسماعیل بخاری کو امیر المومنین فی الحدیث کہا گیا اور ایک فارسی النسل امام غزالی کے فلسفے کی دھوم چہار دانگ عالم میں ہے اور ایک غیر عرب نعمان بن ثابت امام اعظم کہلاتا ہے۔جبکہ ایک عربی النسل ہاشمی خانوادے کے فرزند ابولہب ، اپنے زمانے کے ابوالحکم، عمرو بن ہشام (ابو جہل)کو انہی کی کیٹگری کے لوگ بھی اچھے الفاظ میں یاد کرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔
ساتویں چیز جس کا ذکر اپنے خطبہ میں فرمایا وہ خاندانی نظام کا تحفظ ہے۔ مغرب اپنے حقوق نسواں کے نعرے پر بہت زور دیتا ہے۔ مغرب کا دعو ی ہے کہ ہم نے عورت کو وہ حقوق دیے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے بھی اسے عطا نہیں کیے۔ لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو مغرب نے عورت کو بجائے حقوق دینے کے ، اسے انہی خطوط پر چلانے کی سعی کی ہے جنہیں اسلام نے چودہ سو سال قبل جہالت کہہ کر پاؤں تلے روند ڈالا تھا۔
ذرا غورفرمائیں ۔ مغرب، عورت کو گھر کی دہلیز سے کھینچ کر سر بازار لے آیا ہے۔ مغربی مفکرین نے عورت کو مرد کے ہم پلہ قرار دیا۔ نتیجۃ مغرب نے عورت سے اس پر دوگنا بوجھ لاد دیا ہے۔ ایک تو وہ بوجھ ہے جو اس پر فطرتا مسلط ہے۔ یعنی گھریلو امور کی نگرانی، بچے جننا، اور ان کی پرورش کرنا،وغیرہ۔ یہ کام مرد نہیں کر سکتا۔ اور دوسرا بوجھ ، کمائی کرنا، نوکریاں کرنا، ڈیوٹیاں سرانجام دینا، وغیرہ۔ جبکہ اسلام نے دونوں فریقوں کے حقوق متعین کر دیے۔ اسلام نے مرد و عورت کو گاڑی کے دو پہیے قرار دیا جس کی وجہ سے زندگی کی گاڑی کا چلنا نہایت آسان ہوگیا، جبکہ مغرب نے برابر کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ کر دونوں پہیے گاڑی کی ایک ہی سمت میں لگا دیے ، چنانچہ ان کا گھریلو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ جس کا اقرار اب خود مغربی مفکرین بھی کر رہے ہیں ۔
عورت، جسے یونانیوں نے سانپ، سقراط نے فتنہ، قدیس جرنا نے شیطانی آلہ اور یوحنا نے شر کی بیٹی اور امن وسلامتی کی دشمن لکھا ، جب گھر سے باہر نکلی تو اپنی حشر سامانیوں سمیت نکلی۔ مردوں کے سفلی جذبات کی تسکین ہوئی اور بے حیائی نے جڑ پکڑ لی۔ جب کہ اسلام نے اسی عورت کے قدموں تلے جنت بتلائی اور ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے حقوق وضع کر کے اس کی باقاعدہ حیثیت متعین کر دی۔
خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے آپﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا: ’’میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہیں ۔نیزکسی عورت کے لیے غیر مرد کو اپنے قریب کرنے کا حق نہیں ورنہ شوہر کے تن بدن میں آگ لگ جائے گی‘‘۔ اور یہ کہ ’’عورتوں کو بے حیائی کے ارتکاب سے مطلقا کنارہ کش رہنا چاہیے۔ اگر ان سے یہ قصور ہو جائے تو ان کے شوہر انہیں بدنی سزا دے سکتے ہیں مگر وہ سزا ضرب شدید کی حد کے قریب نہ پہنچ جائے۔ (یعنی بدن پر داغ نہیں پڑنا چاہیے)۔ اگر عورتیں ایسا لا ابالی پن چھوڑ دیں تو دستور عام کے مطابق ان کے خوردونوش اور ان کے لباس کا پورا لحاظ رکھو اور ان کے معاملہ میں حسن سلوک سے ہاتھ نہ کھینچو۔ وہ تمہارے نکاح میں آجانے سے تمہاری پابند ہو جاتی ہیں اور (ان معنوں میں ) اپنے نفس کی مالک نہیں رہتیں ، لیکن تم بھی خیال رکھو کہ آخر کلمہ ایجاب و قبول کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی اس امانت کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور انہی کلمات کے ساتھ انہیں خود پر حلال کیا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ کے آخر میں اپنی امت کو گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
’’اے لوگو! غور سے سنو! جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اس کی وضاحت کے لیے جو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو گے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے۔ وہ چیز بجائے خود نہایت واضح ہے اور وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے‘‘۔
کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ایک ایسی چیز ہے جس پر عمل کر کے کوئی بھی فتنوں و شرور سے بچ سکتا ہے اور راہ جنت کا راہی بن سکتا ہے۔سب سے آخر میں ارشاد فرمایا۔
’’اے اللہ ! تو سن رہا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ اور ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں اللھم اشہد، اللھم اشہد (یا اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرض ادا فرما دیا)۔اب ہمارے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اس پر کتنے عمل پیرا ہوتے ہیں ؟
عبد الصَّبُور شاکر


متعلقہ خبریں


ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا وجود - پیر 23 نومبر 2020

ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مبینہ کرپشن پر سندھ حکومت کو لکھا گیا ایک خط سامنے آ گیا ہے ، جس میں چیف سیکریٹری سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ ادارے میں جاری کرپشن پر نوٹس لیا جائے ۔ذرائع کے مطابق کراچی میں امراض قلب کے لیے قائم اہم ادارے این آئی سی وی ڈی میں مبینہ کرپشن کے سلسلے میں 5 ماہ قبل چیف سیکریٹری سندھ کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں کی شکایت کی گئی تھی تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ان شکایات پر ایکشن نہیں لیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ چی...

ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ وجود - پیر 23 نومبر 2020

پاکستان میں بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ ہوہیا۔ این جی او ساحل کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 1489 بچوں کو نشانہ بنایاگیا،جن میں 785 بچیاں اور 704 بچے شامل ہیں ۔ 38 واقعات میں زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا۔331 بچے اغوا، 233 سے بدفعلی،104 سے اجتماعی زیادتی،168 لاپتہ، 160 بچیوں سے زیادتی، 134 سے دست درازی، 69 سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔ 51 بچوں کی شادی کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔ 490 متاثرین کی عمر 11 سے 15 سال اور 331 کی 6 سے 10 سال بتائی گئی۔پنجاب میں سب سے زیادہ 57 ف...

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم وجود - پیر 23 نومبر 2020

مقامی عدالت نے مزار قائد بے حرمتی کیس میں مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ہفتہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں قائد اعظم کے مزار کی مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی پر مقدمے کے لیئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد ندیم خان اور ایڈووکیٹ محمد احمد پیش ہوئے ۔ عدالت نے گواہوں کو بیان کیلئے 10 دسمبر کو طلب کرلیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ موقع پر موجود مزار قائد کے ملازمین...

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی وجود - پیر 23 نومبر 2020

شہرقائد کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی ہے ۔ذرائع کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی جس کے بعد شہری نجی اسپتالوں میں جانے پرمجبورہوگئے جہاں داخلے سے قبل لاکھوں روپے وصول کئے جارہے ہیں۔انڈس اسپتال میں 16 بیڈزپرمشتمل وارڈ میں تمام بیڈزمریضوں سے بھرگئے ہیں۔ جناح اسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے 90 بیڈز مختص ہیں، جناح میں 24 ایچ ڈی یوبیڈذ اور12 وینٹلیٹرزبھی موجود ہیں، سول اسپتال میں 141 بیڈزبشم...

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار وجود - پیر 23 نومبر 2020

اسلام قبول کر کے پسند کی شادی کرنے والی13سالہ آرزو فاطمہ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہے ۔پولیس نے آرزو کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا، چالان کے مطابق آرزو کی کورونا رپورٹ 16 نومبر کو موصول ہوئی تھی، پولیس نے کورونا کا شکار آرزو کو عدالت میں پیش کردیا۔پولیس نے بتایا کہ ملزم اظہر علی کا بھی کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو کہ منفی آیا ہے ۔چالان میں کہا گیا ہے کہ آرزونے اپنے بیان میں بتایاکہ اس کی اظہرعلی سے طویل عرصہ سے دوستی ہے ، وہ اظہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر وکیل ...

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار

برطانیہ میں10برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی وجود - پیر 23 نومبر 2020

برطانیہ کے شمالی علاقوں میں طوفانی ہوائیں چلنے اور بارش کا امکان ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق محکمہ موسمیات نے دس برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی کردی جبکہ اسکاٹ لینڈ میں موسم زیادہ سرد رہے گا۔کرسمس کے موقع پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کا امکان ہے ۔محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے کے آخر میں شمالی انگلینڈ میں برفانی طوفان آسکتے ہیں۔

برطانیہ میں10برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی

بھارت میں گائے کی پر اسرار ہلاکتیں،مزید 14ہلاکتوں کے بعد تعداد94ہوگئی وجود - پیر 23 نومبر 2020

بھارتی ریاست راجستھان میں ایسی پراسرار وبا پھیلنا شروع ہوگئی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں گائے تیزی سے موت کے منہ میں جارہی ہیں۔پراسرار بیماری کی وجہ سے مزید 14 گائے ہلاک ہوئیں جس کے بعد مرنے والی گائے کی تعداد 94 تک پہنچ گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مویشی پالنے والے مالکان کا ماننا ہے کہ گائے کی اموات زہریلا پانی پینے یا مضر صحت کھانے کی وجہ سے ہو رہی ہیں مگر ویٹنری ڈاکٹرز نے اس بات کو مسترد کردیا ہے ۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ مرنے والی گائے بالکل تندرست تھیں اور انہیں کوئی تکلیف یا ب...

بھارت میں گائے کی پر اسرار ہلاکتیں،مزید 14ہلاکتوں کے بعد تعداد94ہوگئی

ایران سے ڈیل میں تخریبی کردارسمیت تمام پہلووں کااحاطہ کیا جائے ،سعودی عرب وجود - پیر 23 نومبر 2020

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مستقبل میں کوئی ڈیل صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس میں اس کی خطے میں تخریبی سرگرمیوں کا بھی توڑ کیا جانا چاہیے ۔انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ہمارا یہ یقین ہے کہ مسئلہ صرف جوہری پروگرام کا نہیں بلکہ ایران کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس نے خطے پر اپنی مرضی مسلط کرنے اور اپنے ہمسایوں اور ان سے آگے کے ممالک میں انقلاب کو برآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔انھوں ...

ایران سے ڈیل میں تخریبی کردارسمیت تمام پہلووں کااحاطہ کیا جائے ،سعودی عرب

موٹروے زیادتی کیس سے متاثر فلم ''شینوگئی''دسمبر میں ریلیز ہو گی وجود - پیر 23 نومبر 2020

چند ماہ قبل موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے متاثر ہو کر ہدایت کار ابو علیحہ نے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ہدایت کار ابو علیحہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد پوسٹس شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ موٹر وے زیادتی حادثہ ہوا، اس حادثے سے متعلق سوشل میڈیا پر الباکستانی مجاہدین کے خیالات پڑھے تو جی میں آیا کہ اس پر کچھ نہ کچھ لکھا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ جب کہانی لکھ لی تو زیمیز پروڈکشنز کی بہن عابدہ احمد اور میٹرو لائیو موویز کے عمر خطاب بھائی سے بات ہوئی، دونوں نے کہا...

موٹروے زیادتی کیس سے متاثر فلم ''شینوگئی''دسمبر میں ریلیز ہو گی

برطانیا سزا یافتہ شخص کو ڈ ی پورٹ کرسکتا ہے ،شہزاد اکبر وجود - اتوار 22 نومبر 2020

مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نوازشریف ایک سزا یافتہ مجرم ہے ۔ برطانوی قوانین کے مطابق سزا یافتہ شخص کو ڈیپورٹ کر سکتا ہے ۔مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا میاں صاحب ایک خاص اجازت سے برطانیہ گئے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے تین افراد برطانیہ کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہم ایکسٹرا ڈیشن ٹریٹی کے تحت بھی نوازشریف کو لاسکتے ہیں۔ عدالتیں بھی سمجھتی ہیں کہ نوازشریف کو واپس آنا چاہیے ۔مشیر داخلہ نے کہا ہے کہ برطانیہ ق...

برطانیا سزا یافتہ شخص کو ڈ ی پورٹ کرسکتا ہے ،شہزاد اکبر

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کا نئی کابینہ کے لیے ناموں پر غور وجود - اتوار 22 نومبر 2020

امریکی نو منتخب صدر جو بائیڈن آئندہ ہفتے تک اپنی کابینہ کے اہم ارکان کا اعلان کر سکتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈیموکریٹ جو بائیڈن نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے وزارت خزانہ کی سربراہی کے لیے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بائیڈن وزیر خارجہ سمیت دیگر اہم عہدوں کے لیے بہت جلد نام تجویز کرنے والے ہیں۔ جو بائیڈن آئندہ برس 20 جنوری کو امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے ۔ تاہم صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں ابھی شکست تسلیم نہیں کی ہے اور انہوں ...

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کا نئی کابینہ کے لیے ناموں پر غور

کورونا ویکسینز بارے سازشی تھیوریز کیخلاف ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا اتحاد وجود - اتوار 22 نومبر 2020

فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل نے آن لائن کورونا وائرس کی ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن تفصیلات کے پھیلا ئوکے لیے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔تینوں کمپنیاں دنیا بھر میں حقائق جانچنے والے اداروں اور حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ ملکر جلد متعارف ہونے والی کورونا ویکسینز کے بارے میں غلط اور گمراہ کن رپورٹس کی روک تھام کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقصد کے لیے تینوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ایک نئی شراکت داری کی ہے جس کے تحت محققین اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر اینٹی ویکسین...

کورونا ویکسینز بارے سازشی تھیوریز کیخلاف ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا اتحاد