... loading ...
خطبہ حجۃ الوداع دنیا بھر کے خطبوں میں الگ شان رکھتا ہے ۔پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے اس ایک خطبے میں اسلام کا پورا منشور بیان فرما دیا ہے۔ یہ خطبہ عرفات کے میدان میں اس وقت دیا گیا جب ایک لاکھ چالیس ہزار جانثار آپ کے روبروموجود تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! میں جو کچھ کہوں اسے غور سے سنو، شاید آئندہ سال اور اس کے بعد پھر کبھی یہاں تم سے ملاقات نہ ہو سکے‘‘۔
پھر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے درج ذیل آٹھ عنوانات پربات فرمائی۔ حقیقی روشن خیالی، انسانی جان کی حرمت، ادائے امانت، سود کی حرمت، قتل و قتال کی ممانعت، عمل صالح، حقوق زوجین کا تحفظ اور گمراہی سے حفاظت۔دور حاضر میں روشن خیالی کا بڑا چرچا ہے۔ مسلمانوں کو رجعت پسند اور بنیاد پرست ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے جس روشن خیالی کا درس آج سے چودہ سو برس قبل دیا تھا،اس کے مطابق دور حاضر کی روشن خیالی، جہالت کا دوسرا نام ہے۔
مثلا آج کی روشن خیالی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس کی عمر تقریبا سوا دو سو سال ہے۔ اس کی ابتداء انقلاب فرانس سے ہوئی جب یورپ نے اپنی تمام فرسودہ باتوں سے جان چھڑا لی اور اپنی روایات، اپنی تہذیب حتی کہ اپنے مذہب تک سے پیچھا چھڑا لیا۔ انسانی خواہشات کو اپنا حکمران بنا لیا اور درج ذیل کام کیے۔
٭… مذہب ہر انسان کاذاتی معاملہ ٹھہرا۔
٭…قتل عام کو دہشت پسندی کے خلاف جنگ کا نام دے کر امن کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔
٭…گھر کی ملکہ عورت کو پاکیزگی کی دہلیز سے کھینچ کر کلبوں کے میدان میں کھڑا کر دیا گیا۔اور اسے حقوق نسواں کا حسین عنوان دیا گیا۔ نیز اسے پیسہ کمانے کی مشین بنا دیا۔
٭…عریانی و فحاشی کا نام کلچر رکھ دیا گیا۔
٭…سود کو منافع اور پرافٹ کا نام دے کربینکوں کا کاروبار بڑھایا گیا۔نیز سرمایہ دارانہ نظام کو ورلڈ آرڈر کا نام دے کر دنیا پر ٹھونسنے کی کوشش کی گئی۔
٭…انسانی اخلاق کی قدر وقیمت گرا دی گئی اور ہر مسئلے کا حل روپیہ کمانا ٹھہرا۔
٭…خیانت اور دھوکے بازی کو سیاست کی پیکنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔
یہ تھا مغرب کی روشن خیالی کا تصور، جبکہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ان تمام اقدار کو اپنے قدموں تلے روندتے ہوئے فرمایا تھا۔’’میں نے جاہلیت کی تمام روایات اپنے قدموں تلے روند دی ہیں ‘‘ ۔ اس ایک جملے میں آپ نے شرک، زنا ، جوا، سود، بے حیائی ، قتل ، حق تلفی سب جاہلی معاملات کو یکسر ختم فرما دیا۔ مسلمانوں کے ہاں روشن خیالی ، اپنی خواہشات کو رب ذوالجلال کے حکم کے سامنے سرد کر دینے کا نام ہے۔ جبکہ اہل مغرب کے نزدیک معاشرے میں جنم لینے والے منتشر خیالات روشن خیالی ہیں ۔ چنانچہ وہ ایسی اشیاء کو قانون کا حصہ بنا لیتے ہیں اگرچہ اخلاقی اعتبار سے کتنی ہی گری ہوئی ہوں ۔ جیسے ہم جنس پرستی کے جواز کا قانون وغیرہ۔
دوسری چیز جسے اہل مغرب اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے ہیں وہ ہے دہشت گردی کے خلاف قتل عام۔ جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں بھی لائحہ عمل تجویز فرمادیا۔ فرمایا’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان و مال تا قیامت حرام ہیں جس طرح آج کے دن اور اس مہینہ ذوالحجہ میں ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کرتے‘‘۔
آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے دوسرے مذاہب کے افراد ، خواتین ، بچے، بوڑھے حتی کہ زمینوں اور فصلوں تک کے حقوق متعین فرما دیے۔ اور انہیں بلا ضرورت کاٹنے، اور جلانے سے منع فرما دیا۔فتح مکہ کے عظیم موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو لا تثریب علیکم الیوم (آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا) کی خوشخبریوں سے نواز دیا۔ حتی کہ اپنے دشمن امیہ بن خلف کے بیٹے ربیعہ کو اسی خطبہ حجۃ الوداع کا مکبر بنا دیا۔ چنانچہ آپ کا یہ خطبہ بلند آواز سے لوگوں تک انہی ربیعہؓ نے پہنچایا۔
جبکہ تصویر کے دوسرے رخ کا جائزہ لیں تو دنیا کے بڑے بڑے انقلابات میں کروڑوں انسان ’’امن‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انقلاب فرانس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے، پہلی جنگ عظیم میں کم از کم ایک کروڑ انسان قتل ہوئے لیکن رسول اللہ ﷺ کے انقلاب میں طرفین کے صرف 1018؍ آدمی موت کی نیند سوئے۔پھر یہ انقلاب ایسا پُر اثر تھا کہ اس کی گونج آج بھی پوری قوت سے اطراف عالم میں سنائی دے رہی ہے۔
تیسری چیز جو آپ ﷺ نے بیان فرمائی وہ ادائے امانت ہے۔ اس بارے میں آپ ﷺکا فرمان ہے۔ ’’جس کسی کے پاس دوسرے کی امانت جمع ہو اس کے مالک کو لوٹا دی جائے‘‘۔
نیز فرمایا
’’اے لوگو! میری بات گوش ہوش سے سنو! دیکھو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور اس رشتہ کی وجہ سے کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کی کسی شے پر اس کی اجازت کے بغیر تصرف روا نہیں ہے۔ ورنہ یہ ایک دوسرے پر ظلم ہو جائے گا۔‘‘
چوتھی چیز سود ہے جس کے خاتمے کا آپ نے حکم دیا۔ چنانچہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے بارے میں یہ حکم فرمایا۔
’’آج سے ہر قسم کا سود ختم کیا جاتا ہے راس المال کے سوا۔ نہ تم ایک دوسرے پر ظلم کرو، نہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے ہی نے سود کو ممنوع فرما دیا ہے۔(میرے چچاحضرت) عباس کا جو سود دوسروں کے ذمہ واجب الادا ہے اسے موقوف کیا جاتا ہے‘‘۔
انگریزی کے مشہور مقولے Charity begins at the home کے تحت سود کے خاتمے کی ابتدا اپنے گھر سے کی۔ اور پھر اسلام میں سود کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
پانچویں چیز جس کا ذکر آپﷺ نے اپنے خطبہ میں فرمایا، قتل و قتال کی حرمت ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے گھر سے اس کی ابتداء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
’’جاہلیت کے مقتولین کا قصاص و دیت دونوں کالعدم قرار دی جاتی ہیں ۔ سب سے پہلے میں ہی بنو ہاشم کے (ایک بچے) ابن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا بدلہ اور دیت معاف کرتا ہوں ‘‘۔
نیز یہ بھی فرمایا۔
’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان اور اسی طرح مال ہر ایک قیامت تک حرام ہے جیسا کہ آج کے دن اور اس مہینہ میں تم کسی قسم کی بے حرمتی نہیں کر سکتے‘‘۔
چھٹی چیز جس کا تذکرہ اپنے اس خطبہ میں فرمایا، اخلاق حسنہ ، تقوی اور اعمال صالح ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع دیتے ہوئے اسی بات کی طرف نشاندہی فرمائی کہ
’’غور سے سنیے کہ اب عرب میں شیطان کی پرستش نہ کی جائے گی لیکن اس کی پرستاری کی بجائے اگر شیطان کی صرف اطاعت ہی کی گئی تب بھی وہ بہت خوش ہوگا۔ اس لیے دینی امور میں شیطانی وساوس کو اپنے قریب نہ آنے دو‘‘۔
نیز فرمایا۔ ’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں ہے، کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں ہے، ہاں البتہ تقوی کی بنیاد پر (ان کو ایک دوسرے پر فضیلت ہو سکتی ہے)‘‘۔
اسلام کے اسی سنہری اصول کی وجہ سے حبشی بلال کو سیدنا بلال کہہ کر پکارا گیا اور عطا ء بن ابی رباح جیسے سادہ شکل والے کے سامنے امیرالمومنین سلیمان بن عبدالملک بھی زانوئے تلمذ تہہ کرنا فخر سمجھتے تھے۔ ایک عجمی النسل محمد بن اسماعیل بخاری کو امیر المومنین فی الحدیث کہا گیا اور ایک فارسی النسل امام غزالی کے فلسفے کی دھوم چہار دانگ عالم میں ہے اور ایک غیر عرب نعمان بن ثابت امام اعظم کہلاتا ہے۔جبکہ ایک عربی النسل ہاشمی خانوادے کے فرزند ابولہب ، اپنے زمانے کے ابوالحکم، عمرو بن ہشام (ابو جہل)کو انہی کی کیٹگری کے لوگ بھی اچھے الفاظ میں یاد کرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔
ساتویں چیز جس کا ذکر اپنے خطبہ میں فرمایا وہ خاندانی نظام کا تحفظ ہے۔ مغرب اپنے حقوق نسواں کے نعرے پر بہت زور دیتا ہے۔ مغرب کا دعو ی ہے کہ ہم نے عورت کو وہ حقوق دیے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے بھی اسے عطا نہیں کیے۔ لیکن اگر ذرا غور کیا جائے تو مغرب نے عورت کو بجائے حقوق دینے کے ، اسے انہی خطوط پر چلانے کی سعی کی ہے جنہیں اسلام نے چودہ سو سال قبل جہالت کہہ کر پاؤں تلے روند ڈالا تھا۔
ذرا غورفرمائیں ۔ مغرب، عورت کو گھر کی دہلیز سے کھینچ کر سر بازار لے آیا ہے۔ مغربی مفکرین نے عورت کو مرد کے ہم پلہ قرار دیا۔ نتیجۃ مغرب نے عورت سے اس پر دوگنا بوجھ لاد دیا ہے۔ ایک تو وہ بوجھ ہے جو اس پر فطرتا مسلط ہے۔ یعنی گھریلو امور کی نگرانی، بچے جننا، اور ان کی پرورش کرنا،وغیرہ۔ یہ کام مرد نہیں کر سکتا۔ اور دوسرا بوجھ ، کمائی کرنا، نوکریاں کرنا، ڈیوٹیاں سرانجام دینا، وغیرہ۔ جبکہ اسلام نے دونوں فریقوں کے حقوق متعین کر دیے۔ اسلام نے مرد و عورت کو گاڑی کے دو پہیے قرار دیا جس کی وجہ سے زندگی کی گاڑی کا چلنا نہایت آسان ہوگیا، جبکہ مغرب نے برابر کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ کر دونوں پہیے گاڑی کی ایک ہی سمت میں لگا دیے ، چنانچہ ان کا گھریلو نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ جس کا اقرار اب خود مغربی مفکرین بھی کر رہے ہیں ۔
عورت، جسے یونانیوں نے سانپ، سقراط نے فتنہ، قدیس جرنا نے شیطانی آلہ اور یوحنا نے شر کی بیٹی اور امن وسلامتی کی دشمن لکھا ، جب گھر سے باہر نکلی تو اپنی حشر سامانیوں سمیت نکلی۔ مردوں کے سفلی جذبات کی تسکین ہوئی اور بے حیائی نے جڑ پکڑ لی۔ جب کہ اسلام نے اسی عورت کے قدموں تلے جنت بتلائی اور ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے حقوق وضع کر کے اس کی باقاعدہ حیثیت متعین کر دی۔
خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے آپﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ ارشاد فرمایا: ’’میاں بیوی ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہیں ۔نیزکسی عورت کے لیے غیر مرد کو اپنے قریب کرنے کا حق نہیں ورنہ شوہر کے تن بدن میں آگ لگ جائے گی‘‘۔ اور یہ کہ ’’عورتوں کو بے حیائی کے ارتکاب سے مطلقا کنارہ کش رہنا چاہیے۔ اگر ان سے یہ قصور ہو جائے تو ان کے شوہر انہیں بدنی سزا دے سکتے ہیں مگر وہ سزا ضرب شدید کی حد کے قریب نہ پہنچ جائے۔ (یعنی بدن پر داغ نہیں پڑنا چاہیے)۔ اگر عورتیں ایسا لا ابالی پن چھوڑ دیں تو دستور عام کے مطابق ان کے خوردونوش اور ان کے لباس کا پورا لحاظ رکھو اور ان کے معاملہ میں حسن سلوک سے ہاتھ نہ کھینچو۔ وہ تمہارے نکاح میں آجانے سے تمہاری پابند ہو جاتی ہیں اور (ان معنوں میں ) اپنے نفس کی مالک نہیں رہتیں ، لیکن تم بھی خیال رکھو کہ آخر کلمہ ایجاب و قبول کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی اس امانت کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور انہی کلمات کے ساتھ انہیں خود پر حلال کیا ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ کے آخر میں اپنی امت کو گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
’’اے لوگو! غور سے سنو! جو کچھ تم سے کہہ رہا ہوں اس کی وضاحت کے لیے جو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو گے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے۔ وہ چیز بجائے خود نہایت واضح ہے اور وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے‘‘۔
کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ایک ایسی چیز ہے جس پر عمل کر کے کوئی بھی فتنوں و شرور سے بچ سکتا ہے اور راہ جنت کا راہی بن سکتا ہے۔سب سے آخر میں ارشاد فرمایا۔
’’اے اللہ ! تو سن رہا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ اور ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں اللھم اشہد، اللھم اشہد (یا اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرض ادا فرما دیا)۔اب ہمارے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اس پر کتنے عمل پیرا ہوتے ہیں ؟
عبد الصَّبُور شاکر
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...
ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...
ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...
فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...