وجود

... loading ...

وجود

ہم بتاتے ہیں آپ کا قصور کیا ہے، تحریک انصاف کے پمفلٹ

منگل 15 اگست 2017 ہم بتاتے ہیں آپ کا قصور کیا ہے، تحریک انصاف کے پمفلٹ

سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف اپنے نئے سیاسی سفر اور پاور شو کے دوران ہر جگہ عوام کو یہ کہہ کر اُکسانے کی کوشش کرتے رہے کہ ان پر کرپشن کاکوئی الزام نہیں ہے ، وہ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ انھیں غلط طورپر نااہل قراردیا گیا ہے، وہ ہر جگہ ریلیوں کے شرکا ء سے یہ سوال کرتے نظر آئے کہ انہیں بتایا جائے کہ آخر انہیں کس جرم میں نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ نواز شریف کی جانب سے مجھے میرا جرم بتایا جائے کی اس تکرار پر تحریک انصاف کی جانب سے راولپنڈی میں پمفلٹس گرائے گئے۔ پمفلٹس کا عنوان تھا ’ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ کو نا اہل کیوں قرار دیا گیا‘۔ یہ پمفلٹس لیاقت باغ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ایک پرائیوٹ ہیلی کاپٹر کے ذریعے لیاقت باغ میں عوامی لیگ کی جانب سے ** منعقدہ جلسے کے دوران ** گرائے گئے جس میں پاکستان تحریک انصاف نے بھی بھرپور شرکت کی۔
اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور جاتے ہوئے جن جن مقامات پر نواز شریف نے تقاریر کیں ان میں ہر مرتبہ انہوں نے الفاظ دہرائے کہ ’کوئی مجھے یہ بتائے کہ مجھے کیوں نا اہل قرار دیا گیا‘۔ نواز شریف کے سوال پر تحریک انصاف نے جو 10 نکاتی پمفلٹ تقسیم کیے ان میں لکھا تھا کہ:
میاں صاحب آپ کو اس لیے نکالا گیا کہ۔۔۔۔
٭آپ نے کرپشن اور اپنے منصب کے غلط استعمال کے ذریعے قومی خزانے سے مال لوٹا۔
٭آپ نے چوری شدہ مال کو بچانے کے لیے اپنے بچوں کے نام پر جائیدادیں اور آف شور کمپنیاں بنائیں۔
٭آپ نے الیکشن کمیشن، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور دیگر اداروں کے ساتھ قوم کو اپنے حقیقی ذرائع آمدنی اور اثاثوں کی تفصیلات سے مکمل طور پر گمراہ رکھا اور اپنے گوشواروں میں غلط معلومات درج کر کے اپنی سیاہ دولت چھپانے کی کوشش کی۔
٭آپ نے اپنے سمدھی اسحٰق ڈار اور دیگر بد دیانت سرکاری ملازمین کی معاونت سے منی لانڈرنگ کی۔
٭آپ نے گزشتہ30 برس کے دوران ٹیکس اکٹھا کرنے والے ریاستی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔
٭آپ نے پاناما لیکس منظر عام پر آنے کے بعد پارلیمان اور قوم سے اپنے خطاب میں صریحاً جھوٹ بولا اور عدالت کے روبرو سچ بولنے کی بجائے اسے گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
٭آپ اورآپ کے بچوں نے عدالت کی کارروائی اور جے آئی ٹی کی تحقیقات میں ہر ممکن طریقے سے رکاوٹ ڈالی اور پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں جعلی طور پر تیار شدہ دستاویزجمع کرا کے سچ کو چھپانے اور انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی۔
٭آپ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی رو سے کسی بھی طرح صداقت اور امانت کے پیمانے پر پورا نہیں اترتے۔
٭آپ سے پندرہ ماہ عوام اور سپریم کورٹ جواب طلب کرتے رہے لیکن آپ کے پاس جھوٹ کے سوا کچھ نہیں تھا۔
٭آپ کے بارے میں پانچ لوگوں نے نہیں‘سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے کہا کہ آپ صادق اور امین نہیں۔
اب نواز شریف ان کے ہمنوا اور ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے اس جواب کا کیا جواب دیتے ہیں ،اس پر قبل از وقت کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا لیکن نواز شریف کے گرد جس قماش کے لوگوں نے گھیرا ڈالا ہوا ہے اور ان لوگوں سے قربت کی وجہ سے ان ہی کا لب ولہجہ اختیار کرنے والے نواز شریف سے اس حوالے سے کسی مدلل جواب کی توقع بہت کم ہے۔
قطع نظر اس کے کہ نواز شریف اور ان کے رفقا ء پاکستان تحریک انصاف کے اس پمفلٹ کا کیا جواب دیتے ہیں ،ایک بار پھر اقتدار سے علیحدگی کے بعد نواز شریف واپس اپنے گھر لاہور تشریف لا چکے ہیں اور رائے ونڈ پہنچ چکے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے اپنے سیاسی مرکز اورلاہور کی پہلی جدید اور منظم بستی ماڈل ٹاؤن سے اپنی رہائش ترک کردی تھی ،یہ وہی مقام تھا جہاں سے انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار سے علیحدگی کے بعدوہ اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کہاں سے کرنا چاہیں گے اوراپنا سیاسی ڈیرہ کہاں لگائیں گے۔ اس کاانحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے من پسند خول میں ہی بند رہنا پسند کرتے ہیں یا اپنے اس خول سے جو انھوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اوپر چڑھا لیاتھا باہر نکل کر کچھ دیکھنا اور کرنا پسندکریں گے، بہرحال یہ فیصلہ تو وقت کریگا اور بہت جلد یہ سامنے بھی آ جائے گا۔
نواز شریف کے فارغ ہونے کے بعد اب ان کے سامنے سب سے پہلا اور بڑا معرکہ خود ان کی نااہلی سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر نئے انتخاب کی صورت میں ہونے جا رہا ہے جہاں پر حکومت اور اپوزیشن کی تمام پارٹیاں اپنی تما م تر سیاسی توانائیاں خرچ کرنے کو تیار بیٹھی ہیں اور یہ نشست جیتنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے کلثوم نواز اور تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے کیونکہ میاں صاحب کی فیملی کی طرح ڈاکٹر یاسمین راشد کا سسرال بھی پرانے لاہور کا ہی رہائشی ہے ان کے سسر ملک غلام نبی کا شمار اندرون لاہور کی متحرک سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ اسمبلی کے ممبر اور وزیر بھی رہے ہیں۔ اس لاہوری معرکہ میں کون فتح یاب ہو گا اس بارے میں ابھی کوئی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہو گا۔ اس معرکے میں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کو اس طرح سبقت حاصل ہے کہ پنجاب میں حکومت ان کے دیور کی اور وفاق میں حکومت ان کے شوہر نامدار کے مطیع وفرمانبردار شاہد خاقان عباسی کی ہے،اس طرح یہ بات بآسانی سمجھ میں آتی ہے کہ کلثوم نواز کو
اس ضمنی انتخابات میں پوری سرکاری مشینری کی بھرپور معاونت حاصل ہوگی جبکہ ان کی مد مقابل یاسمین راشد کو سب کچھ اپنے اور اپنی پارٹی کے بل بوتے پر کرنا پڑے گا یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے عام طورپر ضمنی انتخابات میں حکومتی پارٹی کا پلڑا ہی بھاری ہوتا ہے۔
نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد لاہور میں خطاب کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ اب خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کریں گے، اپنی پارٹی کی سیاست کو مزید فعال کریں گے۔ جس سے ظاہر ہوتاہے کہ اب وہ جارحانہ سیاست کا آغاز کرنے کی کوشش کریں گے ، انھوں نے لاہور کے جلسہ عام میں اعلان کیا کہ وہ اب انقلاب کی جانب قدم بڑھائیں۔ ایک سرمایہ دارانہ ذہنیت کے حامل اور آمر کی گود میں پل کر سیاست میں قدم جمانے والے ایک شخص کے منہ سے انقلاب کا لفظ عجیب سا معلوم ہوتا ہے غالباً نواز شریف نے دنیا میں آنے والے بڑے انقلابات کی تاریخ نہیں پڑھی ورنہ وہ کم از کم انقلاب کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرتے، نواز شریف اسلام آباد سے لاہور کے طویل سفر کے دوران جارحانہ انداز اور لب و لہجہ میں عوام سے مخاطب ہوکر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ اب زیادہ جارحانہ انداز میں مقتدر قوتوں کو للکارنا اور اپنی نااہلی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام حدود وقیود پار کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ اس حقیقت کو فراموش کررہے ہیں کہ ابھی انھیں اپنے خلاف کرپشن کے متعدد مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے ان ہی عدالتوں کے سامنے بار بار پیش ہونا ہے جن کے فیصلوں کو وہ ردی کا ٹکڑا ثابت کرکے عوام کو جن کے خلاف محاذ آرائی کے لیے کھڑا ہونے پر اکسا رہے ہیں۔ تا کہ وہ عوام میں خود کو ہیرو کے طورپر پیش کرسکیں اور عوامی رائے کو اپنے حق میں ہموارکرسکیں۔ ان کے لہجے کی تلخی یہ بتا رہی ہے کہ پارٹی رہبر کے طور پر آئندہ انتخابی مہم کو گرمائیں گے۔ ان پر بطور وزیر اعظم جو پابندیاں تھیں وہ ان سے آزاد ہو چکے ہیں۔
اس آزادی کا استعمال انھوں نے بھر پور انداز میں شروع بھی کر دیا ہے۔ ان کی ریلی کے دوران تقریریں اس بات کی جانب واضح اشارے بھی کر رہی ہیں کہ وہ جن قوتوں کے ساتھ مل کر اپنی سیاست کرتے رہے ہیں وہ اب مزید ان پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس بار ان کو حکومت سے الگ کرنے میں ان ہی قوتوں کا کردار ہے۔ نواز شریف نے جوشِ خطابت میں جس طرح عدلیہ کو مخاطب کیا اس کی بھی مثال ملنی مشکل ہے وہ واشگاف انداز میں اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ کروڑوں عوام کے ووٹ کی پرچی 5 معزز ججوں نے پھاڑ کر پھینک دی۔ ان کی تقریروں سے ریاست کے اداروں کے میں ٹکراؤ اور واضح تقسیم کا خطرہ نظر آ رہا ہے جو نیک شگون نہیں ہے۔ میاں نواز شریف یہ صورتحال کیوں پیدا کرنا چاہ رہے ہیں جب کہ وہ خود اس نظام کا حصہ ہیں اور ان کی پارٹی ہی ملک کی باگ دوڑ سنبھال رہی ہے۔ وہ نا اہلی کے بعد اپنی تمام تر شائستگی کو بالائے طاق رکھ کر صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے ہیں اور تسلسل کے ساتھ عوام کو اس بات پر اْکسا رہے ہیں کہ انھیں عدلیہ کے فیصلے کوقبول نہیں کرنا چاہئے، وہ بالفاظ دیگر وہ عوام کوعدلیہ کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ پر حملے کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ نواز شریف جیسے لیڈر کی جانب سے اپنی سیاست کو دوام دینے کے لیے اس طرح کی باتوں سے یہ ثابت ہوتاہے کہ طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے کے باوجود وہ ابھی تک سیاسی طورپر بالغ نہیں ہوسکے ہیں ،انھیں اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں ہے اور اقتدار سے بے دخلی کے فیصلے نے ان کو ذہنی طور پر متاثر کردیاہے، ان کو اب یہ سوچنا چاہئے کہ اب بہت جلد پنجاب اوروفاقی حکومت کی بیساکھیاں استعمال کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا اوران کو اپنی سیاست اب اپنے زور بازو پر ہی کرنی پڑے گی اور ایسا کرنے کے لیے انھیں زیادہ سنجیدگی اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اورمظلوم اور معصوم عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے ریاست کے اداروں کے خلاف بھڑکانے سے گریز کرتے ہوئے ان کی طاقت کو مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا کیونکہ ان اداروں کی وجہ سے ہی ریاست چل رہی ہے اور اگر سیاستدانوں کو سیاست کرنی ہے تو اس کے لیے مستحکم ریاست کا وجود ضروری ہے۔ اگر نواز شریف نے اب بھی نوشتۂ دیوار پڑھنے سے گریز کا رویہ اختیار کیے رکھا تو بہت جلد مسلم لیگ کی قیادت بھی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

 


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

مضامین
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اسے کہتے ہیں پاکستان !! وجود پیر 20 اپریل 2026
اسے کہتے ہیں پاکستان !!

پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر