... loading ...
واٹر بورڈ کے حکام اور عملے کی مبینہ کرپشن ،فرائض کی ادائیگی سے گریز ، چشم پوشی اور بے اعتنائی کے سبب کراچی کے نواحی علاقے ابراہیم حیدری کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ، لیکن سڑکوں پر نکل کر ان کے احتجاج کے باوجود واٹر بورڈ کے حکام ان کامسئلہ حل کرنے اور انھیں ان کی ضرورت کے مطابق پانی کی فراہمی کا موثر انتظام کرنے پر تیار نظر نہیں آتے ،جبکہ علاقے میں پانی کی اس قلت کو دیکھتے ہوئے ٹینکر مافیا کی چاندی ہوگئی ہے اور انھوں نے نہ صرف یہ کہ ٹینکر کی قیمت میں اضافہ کردیاہے بلکہ علاقے کے لوگوں کے مطابق اب یہ ٹینکر مالکان پہلے سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے باوجود پورا ٹینکر پانی فراہم نہیں کرتے اور ایک ٹینکر کا پانی دو دو جگہ پر فروخت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اوراعتراض پر علاقے میں ٹینکر نہ لانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
ابراہیم حیدری کراچی کے نواح میں مچھیروں کی ایک قدیم بستی ہے اس بستی کے لوگوں کی اکثریت انتہائی کم آمدنی والے غریبوں پر مشتمل ہے جو بمشکل اپنے بچوں کے لیے روٹی کاانتظام کرپاتے ہیں اور بعض اوقات ان کو فاقہ کشی کا سامنا بھی کرنا پڑتاہے ، ایسے غریب لوگوں کو اگر پانی بھی جس کے بغیر کسی طرح بھی گزارا ممکن نہیں ہے خریدنا پڑے تو ان کی حالت زار کا اندازہ بخوبی لگایاجاسکتاہے۔علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ واٹر بورڈ کے حکام اور عملے کی ملی بھگت سے ابراہیم حیدری کو پانی کی فراہمی کے لیے ڈالی جانے والی لائن کو مختلف مقامات پر کاٹ کر ٹینکر مالکان اور بوتلوں میں پانی بھر کر فروخت کرنے والوں کو کنکشن فراہم کردئے گئے ہیں اور ان پانی فروشوں نے ان کنکشنز پر بھاری موٹریں لگالیں اس طرح وہ اس علاقے کی جانب آنے والے پانی کو علاقے تک پہنچنے سے پہلے ہی کھینچ لیتے ہیں اس طرح اس غریب بستی کے لوگ پانی سے محروم رہ جاتے ہیں ، علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ پانی کی عدم فراہمی کے خلاف وہ اس سے پہلے بھی احتجاج کرتے رہے ہیں جب وہ احتجاج کے لیے سڑکوں پر آکر ٹریفک جام کرتے ہیں تو حکومت کاکوئی افسر آکر انھیں پانی کی فراہمی کا وعدہ کرلیتاہے لیکن یہ وعدہ آج تک پورا نہیں کیاگیا۔علاقے میں مچھیروں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فشر فوک کے سربراہ محمد علی شاہ کاکہنا ہے کہ ابراہیم حیدری اس علاقے کی سب سے قدیم بستیوں میں سے ایک ہے ،علاقے میں مچھلیوں کی پروسیسنگ اور پیکنگ کی کئی کمپنیاں موجود ہیں جو چوری کے پانی کی سب سے بڑی خریدار ہیں اور ٹینکر مالکان کو منہ مانگی رقم ادا کرکے پانی خریدتی ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے مکین پریشانی اور مسائل کا شکار ہیں، انھوںنے بتایا کہ اس علاقے میں گزشتہ کئی ماہ سے واٹر بورڈ کی جانب سے پانی فراہم نہیںکیا جارہاہے،انھوں نے بتایا کہ اس علاقے سے ملحق غریب لوگوں کے کئی گوٹھ ہیں لیکن پورے علاقے میں کربلا کامنظر ہے اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔
علاقے میں پانی کی عدم فراہمی کی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ روز واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی عدم فراہمی پر علاقہ مکینوں کی احتجاجی ریلی کی قیادت پاکستان فشر فوک فورم کے چیئر مین محمد علی شاہ کے ساتھ علاقے کے یونین کونسل کے چیئرمین آصف شاہ نے کی۔ ابراہیم حیدری کے مکینوںنے پانی کی فراہمی کے خلاف ریلی نکال کر علاقے میں واقع واٹر پمپ کے سامنے دھرنا دے کر ٹریفک کی آمدورفت بند کردی ، مظاہرین 3 گھنٹے سے زیادہ دیر تک سڑک پر دھرنا دئے بیٹھے رہے بعد ازاںواٹر پمپ پر متعین عملے کی جانب سے پانی کی فراہمی کی یقین دہانی پر انھوں نے دھرنا ختم کیالیکن محمد علی شاہ نے واٹر بورڈ کے عملے کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر علاقے میں پانی کی فراہمی کامناسب انتظام نہ کیاگیا تو ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین کے دفتر پر دھرنا دیاجائے گا اوریہ دھرنا صرف یقین دہانیوں پر ختم نہیں کیاجائے گا بلکہ پانی کی فراہمی شروع کئے جانے تک جاری رہے گا۔اس موقع پر مظاہرین نعرے لگارہے تھے شرم کرو حیا کرو غریبوں کے پانی کی چوری بند کرو ، غریبوں کو ستانا بند کرو ، خدا سے ڈرو،علاقے میں سرگرم ایک خاتون سماجی کارکن مائی بہنن نے بتایا کہ واٹر بورڈ کے حکام کی کرپشن اور پانی کی مسلسل چوری کی وجہ سے یہ پورا علاقہ کربلا بن گیاہے اب ہمارے پاس کھانا پکانے کے لیے بھی پانی نہیں ہے۔سامنے سمندر ہے لیکن اس کاپانی نہ پی سکتے ہیں نہ کسی اور کام میں لاسکتے ہیں ،انھوںنے کہاکہ علاقے میں قائم فشریز کی کمپنیوں کو سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے چھوٹے پلانٹ لگانے چاہئیں تاکہ وہ خود بھی ٹینکر مافیا کو بھاری ادائیگیوں سے نجات پاسکیں اور علاقے کے مکینوں کو بھی ان کی ضرورت کے مطابق پانی حاصل ہوسکے، مائی بہنن نے کہا کہ حکومت کو فشریز کی فیکٹری مالکان کو سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے چھوٹے پلانٹ لگانے میں مدد دینی چاہئے اور اس مقصد کے لیے انھیںبلاسود قرض اور ڈیوٹی فری پلانٹ درآمد کرنے یا خریدنے کی سہولت فراہم کرنی چاہئے ، مائی بہنن کاکہنا تھا کہ اس طرح حکومت کی معمولی سی توجہ سے اس علاقے کا دیرینہ مسئلہ حل ہوسکتاہے۔
پانی کی قلت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تصور کیاجاتا ہے ، پانی کی اس قلت یا کمی کی وجہ سے دیہی اور نواحی علاقے تو کجا شہر کے معروف اور متوسط طبقے کے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی متعلقہ حکام کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے ، سندھ کے دارالحکومت کراچی کے شہری پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے باقاعدہ سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ،پاکستان میں پانی کی اس قلت کے دو بنیادی اسباب ہیں اول یہ کہ ہمیں بدقسمتی سے ایک ایسے بدنہاد پڑوسی کاسامنا ہے جو پانی کو بھی ہتھیار کے طورپر استعمال کرکے پاکستان کی وسیع وعریض اراضی کو صحرا میں تبدیل کرنے اورپاکستان کی 20 کروڑ آبادی کو پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترسانے کے درپے ہے اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے کبھی بھی پانی کی اس قلت پر قابو پانے اور بارشوں کے دوران ضائع ہوجانے والے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی قابل عمل حکمت عملی بنانے اور اس پر عمل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے ایک طرف پانی کی قلت کی یہ صورت حال ہے اور دوسری جانب چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کی رپورٹ کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے باعث پاکستان سالانہ 25 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع کر دیتا ہے۔ حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنی چاہئے لیکن ابتدائی طورپرابراہیم حیدری کی مائی بہنن کی تجویز کے مطابق حکومت سمندر کے قریب واقع صنعتوں خاص طورپر زیادہ پانی خرچ کرنے والی صنعتوں کو جن میں فشریز کے علاوہ ٹینریز اور ٹیکسٹائل انڈسٹریز شامل ہیں سمندری پانی صاف کرنے کے چھوٹے پلانٹ لگانے کی ترغیب دینے کے ساتھ ہی اس حوالے سے ان کی بھرپور معاونت کرنی چاہئے ،اس سے شہر میں پانی کی کمی پر قابو پانے میںنمایاں مدد مل سکتی ہے۔
امید کی جاتی ہے کہ ارباب اختیار خاص طورپر وزیر اعلیٰ سندھ اس شہر کی ایک پسماندہ بستی کی ایک ناخواندہ خاتون کی اس بظاہر قابل عمل تجویز کو عملی جامہ پہنانے پر غور کرے گی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کیلیے پانی کی فراہمی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے پر توجہ دیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...
اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...
آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...
ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...