وجود

... loading ...

وجود

خلیج تنازع پاک سعودی تعلقات میں نوازشریف بوجھ بننے لگے!

بدھ 26 جولائی 2017 خلیج تنازع پاک سعودی تعلقات میں نوازشریف بوجھ بننے لگے!

سعودی عرب اورخلیج کی بعض دیگر ریاستوں کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے بعد پاکستان کیلئے اس خطے میں اپنی حیثیت خاص طورپر خطے میں توازن پیداکرنے والی قوت کے طورپر اپنی حیثیت برقرار رکھنا بہت مشکل ہوگیاہے۔اب سے پہلے شاید کبھی بھی اس طرح کی مشکل صورت حال کاتصور بھی نہ کیاگیاہوگا۔
نواز شریف جب 2013 میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے اس وقت یہ خیال کیاجارہاتھا کہ آصف علی زرداری کے دور میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جو دوری نظر آرہی تھی وہ ختم ہوجائے گی اور پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے کے زیادہ قریب آجائیں گے۔کیونکہ نواز شریف کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی روابط تھے اور نہ صرف نواز شریف کے سعودی عرب کے ساتھ کاروباری روابط تھے بلکہ سعودی عرب نے انتہائی مشکل وقت میں سامنے آکر ان کی جان بھی بچائی تھی ۔سعودی عرب نے 2000 میں پاکستان سے لے جاکر انھیں سعودی عرب میں پناہ دی تھی۔لیکن لوگوں کی یہ توقعات پوری نہیں ہوسکیں اور نواز شریف بوجودہ سعودی عرب اور خلیج کی دوسری ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات معمول پر لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
2013 کے دوران خلیج کے ممالک مختلف طرح کے پرتشدد واقعات کا محور بنے رہے،اس دوران 2011 میں خلیج کی بعض ریاستوں میں پیدا ہونے والی سیاسی بے چینی جسے عرب اسپرنگ کانام دیا گیا تھا ایران اور سعودی عرب کے درمیان شروع ہونے والی سرد جنگ کی وجہ سے عرب ونٹر میں تبدیل ہوگئی۔
جولائی 2013 میں مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السییسی نے صدر مورسی کاتختہ الٹ کر اس ملک میں لولی لنگڑی جمہوریت کا تجربہ بھی ناکام بنادیا۔ دوسری جانب شام میںحکومت کے خلاف پرامن مظاہروں کی شکل میں شروع ہونے والی سیاسی تحریک عالمی جہاد کا مرکز اور محور بن گئی ،اس جنگ میں سعودی عرب ،قطر ،ترکی ،ایران اور امریکہ کے حمایت یافتہ باغی یاجنگجو گروپ شامل ہوگئے بعد میں ایران کی القدس فورس بھی اس لڑائی میں شریک ہوگئی۔لڑائی کے طول پکڑنے کے بعد داعش بھی اس میں شامل ہوگئی، دوسری جانب یمن میں ایک دفعہ پھر اقتدار کی کشمکش زور پکڑ گئی۔ یمن کے حوثی باغیوں نے 2014 میں صنعا پر قبضہ کرلیا اس طرح سعودی عرب یمن سے ملنے والی اس سرحد کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا، اس دوران سعودی عرب نے پاکستان کو اپنے کئی ملکی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی ، سعودی عرب نے پہلے پاکستان کو شام کے خلاف جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی اس کے بعدیمن میں حوثی باغیوں کی سرکوبی کیلئے پاکستان کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے بعد اب دہشت گردی کے خلاف بنائے جانے والے وسیع تر اسلامی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی،اور اب پاکستان کو سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کی جانب سے قطر کے خلاف اتحاد میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اس صورتحال کی وجہ سے خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پیچیدہ شکل اختیار کرگئے ہیں، پاکستان اور خاص طورپر شریف فیملی کے سعودی عرب کے ساتھ بہت قریبی اور مضبوط تعلقات ہیں اور جیسا کہ میں نے اوپر لکھاہے کہ سعودی عرب دراصل وہ ملک ہے جو نواز شریف کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے نکال کر لے گیاتھا اور اس طرح ان کی جان بچاکر انھیں شہزادوں کی طرح زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیاتھا اگر سعودی عرب اس وقت نواز شریف کی جان بخشی نہ کراتا تو شاید شریف فیملی کانام پا کستان کی سیاست سے خارج ہوچکاہوتا اورکسی کو شریف خاندان کا نام بھی یاد نہ ہوتا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور سعودی عرب نے ہر آڑے وقت پاکستان کی مدد کی ہے،ا ور شریف خاندان پر اس کی مہربانیوں کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے، دوسری جانب قطر کے ساتھ بھی پاکستان کے قریبی تعلقات قائم ہیں ہزاروں پاکستانی قطر میں ملازمت کررہے ہیں اور پاکستان اور قطر کے درمیان قریبی تجارتی تعلقات بھی موجود ہیں اسی طرح ترکی بھی پاکستان کا آزمودہ ساتھی اور ہمدر د ہے اور انتہائی کڑی آزمائشوں کے دور میں بھی ترکی نے آگے بڑھ کر پاکستان کاساتھ دیا ہے، اس لئے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے کہنے پر پاکستان ترکی جیسے دوست کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ۔اس صورت حال میں پاکستان کو ایک مضبوط سفارت کاری اور ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جس کے ذریعے پاکستان اس معاملے میں خود کو غیر جانبدار رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھ سکے۔ بدقسمتی سے یہ ناز ک صورت حال ایک ایسے موقع پر پیداہوئی ہے جب ہمارے ملک میں کوئی مستقل وزیر خارجہ نہیں ہے ، وزارت خارجہ کاقلمدان خود وزیر اعظم کے پاس ہے اور وزیر اعظم کا جانا ٹہر گیاہے صبح گیا یاشام گیا۔
یہاں یہ ذکر کرنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں دراڑ اسی وقت پڑ گئی تھی جب پاکستان نے یمن کے ساتھ لڑائی میں سعودی عرب کاساتھ دینے اور اس لڑائی میں شرکت کیلئے پاک فوج کے دستے بھیجنے سے انکار کردیاتھا ۔ہوسکتاہے کہ نواز شریف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے یمن کی لڑائی میں سعودی عرب کاساتھ دینے پر تیار ہوجاتے لیکن پاکستان کے معروف سیاستدانوں کے ساتھ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کی ملاقاتوں کے بعد ارکان پارلیمنٹ نے اس کی کھل کر مخالفت کی جس کی وجہ سے نواز شریف سعودی عرب کی خواہش کے مطابق پاک فوج کو یمن کی جنگ میں سعودی عرب کاساتھ دینے کیلئے سعودی عرب روانہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔تاہم نواز شریف نے پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کیلئے تیار کردہ مشترکہ فوج کی کمان سنبھالنے کی اجازت دے کر سعودی عرب کی ناراضگی میں کمی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اب جنرل راحیل شریف کے بحیثیت مشترکہ فوجی سربراہ کے کردار کو محدود کرنے کے حوالے سے پاکستان میں جاری بحث کی وجہ سے اس ناراضگی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوجانے کے خدشات پیداہوگئے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور وزارت خارجہ کے حکام اس مسئلے پرکس طرح قابو پاتے ہیں اور سعودی عرب کو مزید ناراض کئے بغیر اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کیلئے کیاطریقہ کار اختیار کیاجاتاہے۔


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر