... loading ...
امریکا میں اعلیٰ اور مقتدر شخصیات کے جنسی جرائم کی تفتیش کرنے والے ادارے میں ایک اعلیٰ فوجی جنرل کو کمسن بچوں سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیاہے۔امریکی ذرائع کے مطابق ڈائین کارپورریشن کے سابق نائب صدر میجر جنرل جیمز گریزیوپلین کو 1983 سے1989 کے دوران متعدد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیاگیاہے۔جنرل گریزیوپلین کی گرفتاری کوامریکا میں جنسی زیادتی میں ملوث اعلیٰ اور مقتدر شخصیات کے خلاف جاری تازہ ترین مہم کے دوران میں سب سے زیادہ بااثر شخص کی گرفتاری تصور کیاجارہاہے۔
امریکی فوج کی جانب سے جنرل گریزیوپلن پر لگائے گئے الزامات کی تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئی ہیں کہ انھیں ان کے جنسی جرائم کے اتنے طویل عرصے کے بعد کس طرح گرفتار کیااور وہ کس انداز اور کس حیثیت میں ان جنسی جرائم میں ملوث ہوئے تھے۔ نیویارک کے اخبار ڈیلی نیوز نے امریکی جنرل گریزیوپلن کی گرفتاری کی خبر دیتے ہوئے لکھاہے کہ گریزیوپلن کاتعلق ریاست ورجینیا سے ہے انھوںنے امریکی فوجی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ نیویارک سے گریجویشن کیا اور 1972 میں آرمر افسر کی حیثیت سے فوج میں شامل ہوئے اور2005 میں فوج سے ریٹائر ہوگئے ،ریٹائرمنٹ کے وقت وہ پنٹا گون کے’’ جوائنٹ وار فائٹنگ کیپے بلیٹیز اسیسمنٹ ‘‘ یعنی مشترکہ جنگ کی صلاحیتوں کا تجزیہ کرنے اور اندازہ لگانے والے شعبے میں فورس ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔
گریز یوپلن کے لنک پیچ سے ظاہرہوتاہے کہ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے فوجی ٹھیکیدار اداروں ڈائین کارپوریشن انٹرنیشنل اور مشن ریڈی نس ایل ایل سی میں بھی خدمات انجام دیں ۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ جب گریزیوپلن نے ڈائین کارپوریشن میں ملازمت اختیار کی تو اس وقت ان کے اس فیصلے پر بہت انگلیاں اٹھی تھیں کیونکہ اس دورمیں ڈائین کارپوریشن مختلف طرح کے اسکینڈلز کی لپیٹ میں تھا جس میں بچوں کے جنسی استحصال، جنسی زیادتی کے لئے بچوں کو دوسروں کے حوالے کرنا اورامریکا کے سابق صدر بل کلنٹن کے دورمیں جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی خاطر بوسنیا سے بچوں کی اسمگلنگ کے الزامات شامل تھے۔
ڈائن کارپوریشن میں بچوں سے زیادتی اور ان کی اسمگلنگ کے حوالے سے سرگرمیوں کاانکشاف کارپوریشن کے ایک سابق ملازم بین جانسٹن نے بوسنیا کے تنازع کے دوران کارپوریشن کے ملازمین کی جانب سے کارپوریشن میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات باہر پہنچانے کے الزام میں برطرف کیے جانے کے بعد کارپوریشن کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے دوران کیاتھا۔
2002 میں جانسٹن نے اپنی رپورٹ بعنوان ‘‘ڈائین کارپوریشن کی بدعملیاں‘‘ میں لکھاتھا کہ ڈائین کارپوریشن اور سربیا مافیاکی جانب سے لائی جانے والی کوئی لڑکی جنسی زیادتی سے محفوظ نہیں رہی تھی۔اس دور میں ڈائین کارپوریشن کی قیادت مکمل طورپر مافیا کے زیر اثر تھی اور کارپوریشن کے ملازم کہتے تھے کہ اس اختتام ہفتہ ہم سربیا سے مزید تین لڑکیاں لے کر آئیں گے۔
سالون کی ایک رپورٹ میں جانسٹن کے چشم دید واقعات کی مزید تفصیلات دی گئی ہیں، ان میں بتایاگیا ہے کہ جانسٹن نے بتایا کہ یہ سن 2000 کے اوائل کی بات ہے کہ ایک دن میں بوسنیا میں تزلہ کے قریب واقع امریکی فوجی اڈے پر تعینات اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میکنک کی باتیں سن کر پریشان ہوگیا ۔وہ کہہ رہاتھا کہ میں جو لڑکی لایاہوں اس کی عمر 12 سال سے ایک دن بھی زیادہ نہیں ہے، یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ اس نے 12 سالہ بچی کو جنسی غلام بنالیاہے یہ سننے کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا کہ اس کے خلاف مجھے کچھ کرنا چاہئے ،کیونکہ اب اس کاروبار میں کمسن بچوں کو گھسیٹا جارہاتھا ۔جانسٹن کا کہنا ہے کہ میری چلائی ہوئی مہم کے نتیجے میں بوسنیا میں تعینات ڈائین کارپوریشن کے کم از کم 13ملازمین کو لڑکیوں اور خواتین کی خریدوفروخت عصمت دری اوراس سے متعلق دوسرے غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے کے الزام میں بوسنیا سے واپس امریکا بھیجاگیالیکن وافر ثبوت موجود ہونے کے باوجود ڈائین کارپوریشن کی جانب سے امریکا واپس بھیجے گئے کسی بھی ملازم کے خلاف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کوئی مقدمہ نہیں چلایاگیا۔
ڈائین کارپوریشن کے ملازمین کی جانب سے سرکاری سرپرستی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے الزامات کی گونج ایوان بالا تک پہنچ چکی تھی جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2006 میں محکمہ کے دفاعی بجٹ کی سماعت کے دوران جارجیا سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن کانگریس سنتھیا مک کین نے اس کے وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ سے اس بارے میں سولات کیے تھے ۔
وزیردفاع سے ان کاپہلا سوال یہ تھا کہ جناب اعلیٰ کیا خواتین اور کمسن لڑکیوں کی اسمگلنگ اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث کمپنیوں کو انعامات سے نوازنا امریکی حکومت کی پالیسی ہے ۔ان سخت سوالات کے بعد ڈائین کارپوریشن کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آیا لیکن حکومت متعدد ای میلز بھیجے جانے کے باوجود جو وکی لیکس اور چیرل ملز کے درمیان ای میلز کے تبادلے کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات اور پھر وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو بھیجی گئی ای میلز کے سامنے آنے کے باوجود اپنے ملازمین کی جانب سے جنسی زیادتیوںکی روک تھام کے لیے مناسب قانون سازی نہیں کرسکی جس کی وجہ سے ڈائین کارپوریشن بھی امریکی حکومت کے ساتھ پہلے کی طرح کاروبار میں مصروف ہے اور خوب منافع کمارہی ہے۔
ان میں سے ایک ای میل میں واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کاحوالہ دیاگیاتھا جس میں انکشاف کیاگیاتھا کہ ڈائین کارپوریشن نے کس طرح ’’ لیپ ڈانس‘‘ کیلئے ایک 15 سالہ لڑکے کی خدمات حاصل کیں اور لڑکے کو اپنے کپڑے مکمل طورپر اتارنے پر مجبور کرنے کے لیے ڈائین کارپوریشن کے ملازمین نے کس طرح اس پر ڈالر نچھاور کیے۔وکی لیکس نے جو انکشافات کیے ہیں اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کس طرح صحافیوں کو یہ خبریں شائع کرنے سے روکنے کے لیے ایک بچے کی خدمات حاصل کی گئیں اور یہ تاثر دیاگیا کہ اس طرح کی خبروں کی اشاعت سے بہت سے جانوں کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔
اگرچہ ہلیری کلنٹن اور ملز کے درمیان ای میلز کے تبادلے کے دوران کسی طرح کی جنسی زیادتی کاذکر نہیں ہے لیکن افغانستان میں روایتی ہم جنس پرستی کی اطلاعات میں عصمت دری، کمسن لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور کمسن لڑکوں اور لڑکیوں کی باقاعدہ نیلامی کی خبروں پر بھی امریکی حکومت نے کوئی توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔اس حوالے سے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ پارٹیوں اور تقریبات کے بعد لڑکوں اور کمسن لڑکیوں کو ہوٹل لے جایاجاتاتھا اور وہاں ان کوجنسی زیادتیوںکا نشانابنایاجاتاتھا۔بی بی سی نے بھی افغانستان سے اس طرح کے واقعات کی رپورٹیں دی تھیں اور ان رپورٹوں میں کہاگیاتھا کہ اس قبیہہ فعل میں امریکا اور افغانستان کے انتہائی بااثر افراد اور افسران ملوث رہے ہیں۔
ان تمام قابل نفرت اور مذمت سرگرمیوں کے باوجود ڈائین کارپوریشن کو بدستور امریکی ٹھیکے دئے جاتے رہے اور دسمبر 2016 میں امریکی بحریہ نے ڈائین کارپوریشن کوانسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ، بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی ،ہنگامی ضرورت کیلئے فوج کیلئے چھوٹی موٹی تعمیرات اور امریکی فوجی مشقوں میں مدد کی فراہمی جیسے خدمات کی انجام دہی کیلئے94 ملین ڈالر مالیت کا ایک ٹھیکہ دینے کے ڈاکومنٹس پر دستخط کئے تھے۔ اس صورت حال پر ہمیں امریکی خاتون رکن کانگریس سنتھیا مک کن نے کی جانب سے امریکی وزیر دفاع رمسفیلڈسے کیا گیا وہ سوال یاد آتاہے کہ کیا جنسی جرائم میں ملوث کمپنیوں کو نوازنا امریکی حکومت کی پالیسی کاحصہ ہے ۔ اگر ایسانہیں ہے تو بھی ان کمپنیوں کو مسلسل ایسے ٹھیکے کیوں دیے جارہے ہیں۔
سین عدل طباطباعی
عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...
بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...
عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...
شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...
صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...
عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...
مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...
کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...
جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...
پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...
اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...
پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...