وجود

... loading ...

وجود

تعلیم نگری مافیاراج سندھ ایجوکیشن ریفارم پروگرام کے نام پر لوٹ ما ر

هفته 01 جولائی 2017 تعلیم نگری مافیاراج سندھ ایجوکیشن ریفارم پروگرام کے نام پر لوٹ ما ر

تعلیم انسان میں شعور پیدا کر تی ہے مگر پیارے پاکستان میں اس کا اُلٹا ہی اثر ہوا ہے یہاں جو جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے وہ اتنا ہی کرپٹ اور جاہل بن جاتا ہے۔ پاکستان میں پہلے تو کرپشن تھی لیکن فوجی آمر پرویز مشرف نے کرپشن کو جائز قرار دیا کہ 10 کروڑ روپے کی کرپشن کریں 2 کروڑ روپے پلی بارگین میں واپس کریں اور 8 کروڑ روپے لے کر حاجی قاضی بن جائیں اور پھر دوبارہ جاکر موج مستی کریں۔
تعلیم کے شعبہ میں بھی پہلے تو کرپشن تھی لیکن پرویز مشرف دور کے بعد تعلیم کا بیڑا ہی غرق ہوگیا۔ اور اب تویہ حال ہے کہ محکمہ تعلیم عملی طور پر ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی بن چکا ہے اور اس میں ایسے نرالے کھیل نظر آرہے ہیں جن کو سن کر آدمی انگشت بدانداں رہ جائے۔ ہم اپنے ان ہی صفحات میں سابق سیکریٹری اسکول ایجوکیشن فضل اللہ پیچوہو کی کارستانیاں تحریر کرچکے ہیں۔ ان کے بعد جمال مصطفی شاہ آئے لیکن وہ دو تین ماہ بعد توبہ کرکے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری بن گئے اور پھر عبدالعزیز عقیلی آگئے جنہوں نے پہلے حالات و واقعات کا جائزہ لیا پھر وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہیر کو شیشے میں اتارا اور پھر فضل اللہ پیچوہو سے دس ہاتھ آگے نکل گئے۔ یوں تو محکمہ اسکول ایجوکیشن میں درجنوں پروگرام چل رہے ہیں۔ مگر ایک پروگرام ’’سندھ ایجوکیشن ریفارم پروگرام (سرپ) کے 10 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ یہ پروگرام کیا ہے جس پر70 کروڑ (700 ملین) ڈالر یعنی 80؍ ارب روپے کا قرض لے لیا گیا ہے اور اس رقم کو اس طرح ہڑپ کیا گیا ہے کہ ڈکار تک نہ لی گئی۔
سرپ پروگرام کیوں شروع کیا گیا اور اس کا مقصد کیا تھا؟ ’’جرأت ‘‘ کی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سرپ کے تین مقاصد تھے ایک یہ کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو زیادہ سے زیادہ داخل کرایا جائے اور غریبوں کے بچے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں دوسرا یہ کہ تعلیم کا معیار بہتر بنایا جائے گا اور جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر جدید ترین تعلیم دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آنے والی نسلیں بدلتے حالات کے پیش نظر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کریں۔ تیسرا یہ کہ اسکولوں کی حالت ِ زار درست کی جائے۔ بائونڈری وال تعمیر کرائی جائیں واش روم بنائے جائیں۔ گنجائش سے زیادہ بچوں کی صورت میں اضافی کلاس روم تعمیر کرائے جائیں ۔پینے کے پانی کے لیے واٹر کولر لگائے جائیں اس پروگرام کے تینوں مقاصد حاصل کرنے کے لیے 70 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا قرض لیا گیا جو پاکستان کے 80 ارب روپے سے بھی زیادہ رقم بنتی ہے۔ دس سال کے اس پروگرام میں افسران لکھ پتی سے کروڑ پتی بنے اور کروڑ پتی سے ارب پتی بنے لیکن صوبہ کے کسی بھی اسکول کی حالت نہیں سدھری، کیونکہ اوپر جناب آصف علی زرداری، فریال تالپر بیٹھے ہوئے ہیں جن کا سادہ سا اصول ہے اورجو عام آدمی کی سمجھ میں بھی آتا ہے کہ خود کھائو، ہمیں کھلائو اور ساتھی اداروں کو بھی کھلائو، سب کے پیٹ بھریں گے تو کوئی چیخ پکار نہیں کرے گا۔ اور ان کے فارمولے پر فرماں بردارافسران مکمل عمل کر رہے ہیں اور جو سرپھرے ہیں تو پھر ان افسران کو آرام کرانے کے لیے گھر بٹھا دیا گیا ہے تاکہ ان کو مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔
سرپ کے اس پروگرام کے دو حصے تھے پہلے حصے میں 5 سال کے لیے 30 کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دوسرا پروگرام شروع کرنے سے قبل آڈٹ اور انسپیکشن کرائی جاتی اور جہاں کمی بیشی رہ جاتی اس کو دوسرے پروگرام میں دور کیا جاتا لیکن جب پہلے پروگرام میں کہیں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا تو پھر آڈٹ اور انسپیکشن کیسے کرائی جاتی؟ پہلے پروگرام کی کاغذی کارروائی کرکے دوسرا پروگرام شروع کیا گیا اور اس پروگرام کے لیے 40 کروڑ ڈالر قرض لے لیا گیا۔ یوں دوسرے پروگرام میں بھی پہلے پروگرام کے کاغذ کے پیٹ بھرے گئے، فائلیں بنالی گئیں لیکن مجال ہو کہ ایک بھی اسکول کی حالت زار ٹھیک ہوئی ہو۔ تینوں مقاصد میں سے کسی ایک مقصد میں بھی کامیابی حاصل نہیں کی گئی۔ لیکن اب تیسرے پروگرام کے لیے مزید40یا50 کروڑ ڈالر قرض لینے کی تیاری کی گئی۔ جب اس پر گلوبل اپرچونٹی فارایجوکیشن کے کمیونکیشن اسپیشلسٹ اصغر سومرو نے معروف انگریزی اخبار میں کالم لکھا تو سیکریٹری اسکول ایجوکیشن عزیز عقیلی سیخ پا ہوگئے اور فوری طور پر اصغر سومرو کا کنٹریکٹ ختم کرکے ان کو نوکری سے فارغ کر دیا۔ اور پھر اپنی پھرتیاں دکھاتے ہوئے وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر کو ساتھ لے جاکر آسٹریلیا چلے گئے ۔شنید یہ ہے کہ جس طرح عزیز عقیلی اپنی فیملی آسٹریلیا میں شفٹ کرکے وہاں اب آسودہ ہوچکے ہیں اسی طرح وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر کو بھی آسٹریلیا میں سیٹ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اس جال میں اب وزیر تعلیم بھی آچکے ہیں جب وزیر تعلیم کو راضی کرلیا جائے گا تو پھر باقی کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ۔عزیز عقیلی ایک دوسرے پروگرام آر ایس یو میں اپنے بھائی فیصل عقیلی کو اہم عہدے پر تعینات کرچکے ہیں اب وہ صوبائی وزیر تعلیم کو قائل کرچکے ہیں کہ پہلے 70 کروڑ ڈالر تو فضل اللہ پیچوہو کے دور میں لیے گئے تھے جس میں وزیر تعلیم کو کچھ نہیں ملا مگر اب 50 کروڑ ڈالر تو وزیر اور سیکریٹری کے ہاتھ میں آجائیں گے۔یوں جیبیں بھرنے کے ایک نئے منصوبے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

مضامین
افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود جمعرات 29 جنوری 2026
انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر