وجود

... loading ...

وجود

تیل کمپنیوں کی لوٹ مار،غیر معیاری تیل کی مہنگے داموں فروخت

اتوار 14 مئی 2017 تیل کمپنیوں کی لوٹ مار،غیر معیاری تیل کی مہنگے داموں فروخت

اوگرا نے پاکستان اسٹیٹ آئل، شیل پاکستان لمیٹڈ، ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈسمیت تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی 7 بڑی کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز جاری کردیے‘ ہم صرف تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں ،پیٹرول پمپس جو تیل کے خوردہ فروش کہلاتے ہیں، اوگرا کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں،حکام

تیل اور گیس کے ریگولیٹری ادارے اوگرا کی جانب سے غیر معیاری تیل فروخت کرنے اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے الزام میں پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی جن 7 بڑی کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں ان میں پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) شیل پاکستان لمیٹڈ(ایس پی ایل) ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈ(ٹی پی ایم ایل) اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ (اے پی ایل) اسکر ، ایڈمور اور اوورسیز آئل ٹریڈنگ کمپنی لمیٹڈ (او او ٹی سی ایل ) شامل ہیں۔
اوگرا نے آزاد کشمیر میں تیل وگیس کمپنیوں کی لوٹ مار اور غیرمعیاری تیل مہنگے داموں فروخت کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے گزشتہ روز تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی پاکستان کی 7بڑی کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔باخبر ذرائع نے یہ خبر دیتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اوگرا نے آزاد کشمیر کی حکومت کو بھی لکھاہے کہ وہ اپنی ضلعی انتظامیہ کو فعال کرے اور غیر معیاری پیٹرولیم فروخت کرنے اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت وصول کرنے والے ریٹیلرزکے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایاجائے۔
اوگرا کے ایک افسر کا کہناہے کہ تیل اور گیس کا ریگولیٹری ادارہ اوگرا صرف تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف اوگرا کے قوانین اور متعلقہ قوانین کے تحت ہی کارروائی کرسکتا ہے کیونکہ اوگرا ان کو لائسنس جاری کرتاہے لیکن عوام کو تیل فروخت کرنے والے پیٹرول پمپس جو تیل کے خوردہ فروش کہلاتے ہیں، اوگرا کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں اور اوگرا ان کے خلاف براہ راست کوئی کارروائی نہیں کرسکتا ،پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا اختیار مقامی انتظامیہ اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہے جو تیل میں کسی طرح کی ملاوٹ، زیادہ قیمت کی وصولی یا پیمانے سے کم پیٹرول وڈیزل کی فراہمی کی صورت میں ان پیٹرول پمپس کے مالکان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہیں،ان پر جرمانے کرسکتی ہیں اور وارننگ کے باوجود اپنی روش تبدیل نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کو پیٹرول کی فراہمی بند کرسکتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق اوگرا نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے اور ان کے ریٹیلرز کے معاملات مزید کارروائی کے لیے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو بھیج دیے ہیں۔اوگرا کی شکایت پر ضلع انتظامیہ غلط کاریوںمیں ملوث پائے جانے والے پیٹرول پمپس پر جرمانے بھی عاید کرسکتی ہے اور ان کے پیٹرول پمپس کو بند بھی کرسکتی ہے۔
اوگرا کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اوگرا نے از خود شروع نہیں کی ہے بلکہ آزاد کشمیر کے ضلع راولا کوٹ اور پونچھ کے ڈپٹی کمشنر نے اوگرا سے باقاعدہ شکایت کی تھی کہ ان کے ضلع میں پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے پیٹرول پمپس لوگوں کو غیر معیاری تیل فراہم کررہے ہیں اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت بھی وصول کررہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر پونچھ نے اوگرا کے نام اپنی درخواست میں اوگرا سے درخواست کی تھی کہ وہ غیر معیاری تیل فراہم کرنے اور زیادہ قیمت کی وصولی میں ملوث پیٹرول پمپس کی چیکنگ اور معائنے میں معاونت کرنے اور غلط کاریوں میں ملوث پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف کارروائی میں مدد دینے کے لیے اپنی انسپکشن ٹیم کی خدمات فراہم کرے تاکہ ایسے پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے، اس شکایت پر اوگرا کے حکام حرکت میں آئے اور انہوں نے اس شکایت کی تفتیش کے بعد شکایت درست ثابت ہونے پر پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے۔
اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ یہ شکایت ملنے کے بعد اوگرا کی ٹیم بھیجی گئی جس نے آزاد جموں کشمیر کے علاقے راولا کوٹ، کھیگلہ، ہجیرہ، عباس پور اور باغ میں مختلف پیٹرول پمپس پر فراہم کیے جانے والے تیل کے معیار، مقدار اور قیمتوں کی چیکنگ میں متعلقہ انتظامیہ کی معاونت شروع کی تو ا س حوالے سے بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کاانکشاف ہوا جس پرپاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اوگرا حکام کے مطابق اوگرا کی معائنہ ٹیم نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی7 کمپنیوں کے کم از کم 16 پیٹرول پمپس پر مقررہ قیمت سے کم از کم 3 روپے فی لیٹر زیادہ وصول کرتے جبکہ بعض دوسرے پیٹرول پمپس پر مقررہ قیمت سے 1.56 روپے سے 2.8 روپے فی لیٹر زیادہ قیمت پر تیل فروخت کیے جانے کاسراغ لگایا ۔
معائنہ ٹیم نے جن پیٹرول پمپس کوگراں فروشی یعنی مقررہ قیمت سے زیادہ قیمتیں وصول کرتے ہوئے پکڑا ان میں اوگرا کے مطابق عظیم پیٹرولیم، شاہ زیب اور واصف، الحسین اورشاہد پیٹرولیم کا تعلق پی ایس او سے اور گلف فلنگ اسٹیشن، ہجیرہ فلنگ اسٹیشن اور باغ فلنگ اسٹیشن کا تعلق ایس پی ایل یعنی شیل پاکستان لمیٹڈ سے، الٹرا فیول اسٹیشن اور کشمیر پیٹرولیم کا تعلق ٹی پی ایم ایل یعنی ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈاور الحسین پیٹرولیم ،طاہر فلنگ اسٹیشن اور اختر پیٹرولیم کا تعلق اے پی ایل یعنی اٹک پیٹرولیم سے، الفاروق پیٹرولیم اور علی پیٹرولیم سروس کا تعلق عسکر سے ،چنار پیٹرولیم کا تعلق ایڈمور سے اور ہم ویو فلنگ اسٹیشن کا تعلق او او ٹی سی ایل یعنی اوورسیز آئل ٹریڈنگ کمپنی لمیٹیڈ سے ہے۔
اوگرا کا کہناہے کہ زیادہ قیمتوں کی وصولی کاتو موقع پر پتہ چل جاتاہے اس لیے اس پر متعلقہ کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں لیکن جہاں تک تیل کے معیار کا تعلق ہے تو اس حوالے سے کارروائی ہائیڈروکاربن ڈیولمپنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی ) کی جانب لیباریٹری میں معیار کی جانچ پڑتال کے بعد موصول ہونے والی رپورٹ کی بنیا د پر کی جاسکے گی۔
اوگرا حکام نے آزاد جموں وکشمیر کی حکومت کو لکھاہے کہ اگرچہ اوگرا نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے لیکن اب آزاد جموں وکشمیر کی حکومت اپنے ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے پیٹرول پمپس کو عوام سے مقررہ قیمت ہی وصول کرنے کاپابند بنانے اور قیمتوں پر سختی سے کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کرے اور زیادہ قیمت وصول کرنے والے پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ زیادہ قیمت وصول کرنے اور عوام کو لوٹنے کایہ سلسلہ بند ہوسکے۔
پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے عوام سے تیل کی مقررہ قیمتوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے کا تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںسے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ پورے آزاد کشمیر میں تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکا اپنا کوئی پیٹرول پمپ نہیں ہے، زیادہ تر پیٹرول پمپ ان سے حاصل کردہ پیٹرول ایک لائسنس اور ٹریڈ مارک کے تحت اپنے طورپر فروخت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اوگرا کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں اس حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کمپنیاں تیل کے معیار اور قیمت کی خلاف ورزی کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کے حوالے سے متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہیں گی اور اس حوالے سے ہرممکن تعاون کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں غلط کاریوں میں ملوث ہوکر کمپنیوں کی بدنامی کا سبب بننے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرسکتی ہیں،ان پر جرمانے کرسکتی ہیں اور انہیں وارننگ جاری کرسکتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اوگرا کی تفتیش اور انکوائری کے نتیجے میں عوام سے کی جانے والی اس لوٹ مار کاذمہ دار کسے قرار دیاجاتاہے، آیا تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکو اس کاذمہ دار قرار دے کر کوئی کارروائی کی جاتی ہے یا تمام ملبہ پیٹرول پمپ مالکان پر ڈال کر ان کمپنیوں کو بری الذمہ قرار دے کلین چٹ دے دی جاتی ہے ، جبکہ یہ ایک واضح امر ہے کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکی قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان پیٹرول پمپس اورفلنگ اسٹیشنز کو جو ان کی مصنوعات فروخت کررہے ہیں معیار و مقدار کی پابندی کرنے اور حکومت کے مقررہ کردہ نرخ پر پیٹرولیم مصنوعات عوام کو فراہم کرنے کاپابند بنائیں اور معیار ومقداراور قیمتوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً اچانک چھاپے مارکر چیکنگ کریں اور قانون کی پابندی نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف موقع پر کارروائی کریں ۔لیکن آج ان پیٹرول پمپس پر پکڑی جانے والی چوریوں سے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے والی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںنے اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے پر شاید کوئی توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اس طرح اس لوٹ مار میں بالواسطہ طورپر سہولت کار کاکردار ادا کیا اور ان کی اس چشم پوشی کی سزا انہیں بہرطورپر ملنی چاہیے۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر