وجود

... loading ...

وجود

تیل کمپنیوں کی لوٹ مار،غیر معیاری تیل کی مہنگے داموں فروخت

اتوار 14 مئی 2017 تیل کمپنیوں کی لوٹ مار،غیر معیاری تیل کی مہنگے داموں فروخت

اوگرا نے پاکستان اسٹیٹ آئل، شیل پاکستان لمیٹڈ، ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈسمیت تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی 7 بڑی کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز جاری کردیے‘ ہم صرف تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں ،پیٹرول پمپس جو تیل کے خوردہ فروش کہلاتے ہیں، اوگرا کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں،حکام

تیل اور گیس کے ریگولیٹری ادارے اوگرا کی جانب سے غیر معیاری تیل فروخت کرنے اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے الزام میں پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی جن 7 بڑی کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں ان میں پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) شیل پاکستان لمیٹڈ(ایس پی ایل) ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈ(ٹی پی ایم ایل) اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ (اے پی ایل) اسکر ، ایڈمور اور اوورسیز آئل ٹریڈنگ کمپنی لمیٹڈ (او او ٹی سی ایل ) شامل ہیں۔
اوگرا نے آزاد کشمیر میں تیل وگیس کمپنیوں کی لوٹ مار اور غیرمعیاری تیل مہنگے داموں فروخت کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے گزشتہ روز تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی پاکستان کی 7بڑی کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔باخبر ذرائع نے یہ خبر دیتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اوگرا نے آزاد کشمیر کی حکومت کو بھی لکھاہے کہ وہ اپنی ضلعی انتظامیہ کو فعال کرے اور غیر معیاری پیٹرولیم فروخت کرنے اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت وصول کرنے والے ریٹیلرزکے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایاجائے۔
اوگرا کے ایک افسر کا کہناہے کہ تیل اور گیس کا ریگولیٹری ادارہ اوگرا صرف تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف اوگرا کے قوانین اور متعلقہ قوانین کے تحت ہی کارروائی کرسکتا ہے کیونکہ اوگرا ان کو لائسنس جاری کرتاہے لیکن عوام کو تیل فروخت کرنے والے پیٹرول پمپس جو تیل کے خوردہ فروش کہلاتے ہیں، اوگرا کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں اور اوگرا ان کے خلاف براہ راست کوئی کارروائی نہیں کرسکتا ،پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا اختیار مقامی انتظامیہ اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہے جو تیل میں کسی طرح کی ملاوٹ، زیادہ قیمت کی وصولی یا پیمانے سے کم پیٹرول وڈیزل کی فراہمی کی صورت میں ان پیٹرول پمپس کے مالکان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہیں،ان پر جرمانے کرسکتی ہیں اور وارننگ کے باوجود اپنی روش تبدیل نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کو پیٹرول کی فراہمی بند کرسکتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق اوگرا نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے اور ان کے ریٹیلرز کے معاملات مزید کارروائی کے لیے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو بھیج دیے ہیں۔اوگرا کی شکایت پر ضلع انتظامیہ غلط کاریوںمیں ملوث پائے جانے والے پیٹرول پمپس پر جرمانے بھی عاید کرسکتی ہے اور ان کے پیٹرول پمپس کو بند بھی کرسکتی ہے۔
اوگرا کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اوگرا نے از خود شروع نہیں کی ہے بلکہ آزاد کشمیر کے ضلع راولا کوٹ اور پونچھ کے ڈپٹی کمشنر نے اوگرا سے باقاعدہ شکایت کی تھی کہ ان کے ضلع میں پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے پیٹرول پمپس لوگوں کو غیر معیاری تیل فراہم کررہے ہیں اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت بھی وصول کررہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر پونچھ نے اوگرا کے نام اپنی درخواست میں اوگرا سے درخواست کی تھی کہ وہ غیر معیاری تیل فراہم کرنے اور زیادہ قیمت کی وصولی میں ملوث پیٹرول پمپس کی چیکنگ اور معائنے میں معاونت کرنے اور غلط کاریوں میں ملوث پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف کارروائی میں مدد دینے کے لیے اپنی انسپکشن ٹیم کی خدمات فراہم کرے تاکہ ایسے پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے، اس شکایت پر اوگرا کے حکام حرکت میں آئے اور انہوں نے اس شکایت کی تفتیش کے بعد شکایت درست ثابت ہونے پر پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے۔
اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ یہ شکایت ملنے کے بعد اوگرا کی ٹیم بھیجی گئی جس نے آزاد جموں کشمیر کے علاقے راولا کوٹ، کھیگلہ، ہجیرہ، عباس پور اور باغ میں مختلف پیٹرول پمپس پر فراہم کیے جانے والے تیل کے معیار، مقدار اور قیمتوں کی چیکنگ میں متعلقہ انتظامیہ کی معاونت شروع کی تو ا س حوالے سے بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کاانکشاف ہوا جس پرپاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اوگرا حکام کے مطابق اوگرا کی معائنہ ٹیم نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی7 کمپنیوں کے کم از کم 16 پیٹرول پمپس پر مقررہ قیمت سے کم از کم 3 روپے فی لیٹر زیادہ وصول کرتے جبکہ بعض دوسرے پیٹرول پمپس پر مقررہ قیمت سے 1.56 روپے سے 2.8 روپے فی لیٹر زیادہ قیمت پر تیل فروخت کیے جانے کاسراغ لگایا ۔
معائنہ ٹیم نے جن پیٹرول پمپس کوگراں فروشی یعنی مقررہ قیمت سے زیادہ قیمتیں وصول کرتے ہوئے پکڑا ان میں اوگرا کے مطابق عظیم پیٹرولیم، شاہ زیب اور واصف، الحسین اورشاہد پیٹرولیم کا تعلق پی ایس او سے اور گلف فلنگ اسٹیشن، ہجیرہ فلنگ اسٹیشن اور باغ فلنگ اسٹیشن کا تعلق ایس پی ایل یعنی شیل پاکستان لمیٹڈ سے، الٹرا فیول اسٹیشن اور کشمیر پیٹرولیم کا تعلق ٹی پی ایم ایل یعنی ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈاور الحسین پیٹرولیم ،طاہر فلنگ اسٹیشن اور اختر پیٹرولیم کا تعلق اے پی ایل یعنی اٹک پیٹرولیم سے، الفاروق پیٹرولیم اور علی پیٹرولیم سروس کا تعلق عسکر سے ،چنار پیٹرولیم کا تعلق ایڈمور سے اور ہم ویو فلنگ اسٹیشن کا تعلق او او ٹی سی ایل یعنی اوورسیز آئل ٹریڈنگ کمپنی لمیٹیڈ سے ہے۔
اوگرا کا کہناہے کہ زیادہ قیمتوں کی وصولی کاتو موقع پر پتہ چل جاتاہے اس لیے اس پر متعلقہ کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں لیکن جہاں تک تیل کے معیار کا تعلق ہے تو اس حوالے سے کارروائی ہائیڈروکاربن ڈیولمپنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی ) کی جانب لیباریٹری میں معیار کی جانچ پڑتال کے بعد موصول ہونے والی رپورٹ کی بنیا د پر کی جاسکے گی۔
اوگرا حکام نے آزاد جموں وکشمیر کی حکومت کو لکھاہے کہ اگرچہ اوگرا نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے لیکن اب آزاد جموں وکشمیر کی حکومت اپنے ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے پیٹرول پمپس کو عوام سے مقررہ قیمت ہی وصول کرنے کاپابند بنانے اور قیمتوں پر سختی سے کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کرے اور زیادہ قیمت وصول کرنے والے پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ زیادہ قیمت وصول کرنے اور عوام کو لوٹنے کایہ سلسلہ بند ہوسکے۔
پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے عوام سے تیل کی مقررہ قیمتوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے کا تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںسے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ پورے آزاد کشمیر میں تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکا اپنا کوئی پیٹرول پمپ نہیں ہے، زیادہ تر پیٹرول پمپ ان سے حاصل کردہ پیٹرول ایک لائسنس اور ٹریڈ مارک کے تحت اپنے طورپر فروخت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اوگرا کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں اس حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کمپنیاں تیل کے معیار اور قیمت کی خلاف ورزی کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کے حوالے سے متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہیں گی اور اس حوالے سے ہرممکن تعاون کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں غلط کاریوں میں ملوث ہوکر کمپنیوں کی بدنامی کا سبب بننے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرسکتی ہیں،ان پر جرمانے کرسکتی ہیں اور انہیں وارننگ جاری کرسکتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اوگرا کی تفتیش اور انکوائری کے نتیجے میں عوام سے کی جانے والی اس لوٹ مار کاذمہ دار کسے قرار دیاجاتاہے، آیا تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکو اس کاذمہ دار قرار دے کر کوئی کارروائی کی جاتی ہے یا تمام ملبہ پیٹرول پمپ مالکان پر ڈال کر ان کمپنیوں کو بری الذمہ قرار دے کلین چٹ دے دی جاتی ہے ، جبکہ یہ ایک واضح امر ہے کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکی قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان پیٹرول پمپس اورفلنگ اسٹیشنز کو جو ان کی مصنوعات فروخت کررہے ہیں معیار و مقدار کی پابندی کرنے اور حکومت کے مقررہ کردہ نرخ پر پیٹرولیم مصنوعات عوام کو فراہم کرنے کاپابند بنائیں اور معیار ومقداراور قیمتوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً اچانک چھاپے مارکر چیکنگ کریں اور قانون کی پابندی نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف موقع پر کارروائی کریں ۔لیکن آج ان پیٹرول پمپس پر پکڑی جانے والی چوریوں سے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے والی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںنے اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے پر شاید کوئی توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اس طرح اس لوٹ مار میں بالواسطہ طورپر سہولت کار کاکردار ادا کیا اور ان کی اس چشم پوشی کی سزا انہیں بہرطورپر ملنی چاہیے۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر