وجود

... loading ...

وجود

تیل کمپنیوں کی لوٹ مار،غیر معیاری تیل کی مہنگے داموں فروخت

اتوار 14 مئی 2017 تیل کمپنیوں کی لوٹ مار،غیر معیاری تیل کی مہنگے داموں فروخت

اوگرا نے پاکستان اسٹیٹ آئل، شیل پاکستان لمیٹڈ، ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈسمیت تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی 7 بڑی کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز جاری کردیے‘ ہم صرف تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں ،پیٹرول پمپس جو تیل کے خوردہ فروش کہلاتے ہیں، اوگرا کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں،حکام

تیل اور گیس کے ریگولیٹری ادارے اوگرا کی جانب سے غیر معیاری تیل فروخت کرنے اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے الزام میں پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی جن 7 بڑی کمپنیوں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں ان میں پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) شیل پاکستان لمیٹڈ(ایس پی ایل) ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈ(ٹی پی ایم ایل) اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ (اے پی ایل) اسکر ، ایڈمور اور اوورسیز آئل ٹریڈنگ کمپنی لمیٹڈ (او او ٹی سی ایل ) شامل ہیں۔
اوگرا نے آزاد کشمیر میں تیل وگیس کمپنیوں کی لوٹ مار اور غیرمعیاری تیل مہنگے داموں فروخت کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے گزشتہ روز تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی پاکستان کی 7بڑی کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے ہیں۔باخبر ذرائع نے یہ خبر دیتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اوگرا نے آزاد کشمیر کی حکومت کو بھی لکھاہے کہ وہ اپنی ضلعی انتظامیہ کو فعال کرے اور غیر معیاری پیٹرولیم فروخت کرنے اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت وصول کرنے والے ریٹیلرزکے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایاجائے۔
اوگرا کے ایک افسر کا کہناہے کہ تیل اور گیس کا ریگولیٹری ادارہ اوگرا صرف تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف اوگرا کے قوانین اور متعلقہ قوانین کے تحت ہی کارروائی کرسکتا ہے کیونکہ اوگرا ان کو لائسنس جاری کرتاہے لیکن عوام کو تیل فروخت کرنے والے پیٹرول پمپس جو تیل کے خوردہ فروش کہلاتے ہیں، اوگرا کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں اور اوگرا ان کے خلاف براہ راست کوئی کارروائی نہیں کرسکتا ،پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کا اختیار مقامی انتظامیہ اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہے جو تیل میں کسی طرح کی ملاوٹ، زیادہ قیمت کی وصولی یا پیمانے سے کم پیٹرول وڈیزل کی فراہمی کی صورت میں ان پیٹرول پمپس کے مالکان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہیں،ان پر جرمانے کرسکتی ہیں اور وارننگ کے باوجود اپنی روش تبدیل نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کو پیٹرول کی فراہمی بند کرسکتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق اوگرا نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے اور ان کے ریٹیلرز کے معاملات مزید کارروائی کے لیے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو بھیج دیے ہیں۔اوگرا کی شکایت پر ضلع انتظامیہ غلط کاریوںمیں ملوث پائے جانے والے پیٹرول پمپس پر جرمانے بھی عاید کرسکتی ہے اور ان کے پیٹرول پمپس کو بند بھی کرسکتی ہے۔
اوگرا کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اوگرا نے از خود شروع نہیں کی ہے بلکہ آزاد کشمیر کے ضلع راولا کوٹ اور پونچھ کے ڈپٹی کمشنر نے اوگرا سے باقاعدہ شکایت کی تھی کہ ان کے ضلع میں پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے پیٹرول پمپس لوگوں کو غیر معیاری تیل فراہم کررہے ہیں اور مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت بھی وصول کررہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر پونچھ نے اوگرا کے نام اپنی درخواست میں اوگرا سے درخواست کی تھی کہ وہ غیر معیاری تیل فراہم کرنے اور زیادہ قیمت کی وصولی میں ملوث پیٹرول پمپس کی چیکنگ اور معائنے میں معاونت کرنے اور غلط کاریوں میں ملوث پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف کارروائی میں مدد دینے کے لیے اپنی انسپکشن ٹیم کی خدمات فراہم کرے تاکہ ایسے پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے، اس شکایت پر اوگرا کے حکام حرکت میں آئے اور انہوں نے اس شکایت کی تفتیش کے بعد شکایت درست ثابت ہونے پر پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے۔
اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ یہ شکایت ملنے کے بعد اوگرا کی ٹیم بھیجی گئی جس نے آزاد جموں کشمیر کے علاقے راولا کوٹ، کھیگلہ، ہجیرہ، عباس پور اور باغ میں مختلف پیٹرول پمپس پر فراہم کیے جانے والے تیل کے معیار، مقدار اور قیمتوں کی چیکنگ میں متعلقہ انتظامیہ کی معاونت شروع کی تو ا س حوالے سے بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کاانکشاف ہوا جس پرپاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اوگرا حکام کے مطابق اوگرا کی معائنہ ٹیم نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی7 کمپنیوں کے کم از کم 16 پیٹرول پمپس پر مقررہ قیمت سے کم از کم 3 روپے فی لیٹر زیادہ وصول کرتے جبکہ بعض دوسرے پیٹرول پمپس پر مقررہ قیمت سے 1.56 روپے سے 2.8 روپے فی لیٹر زیادہ قیمت پر تیل فروخت کیے جانے کاسراغ لگایا ۔
معائنہ ٹیم نے جن پیٹرول پمپس کوگراں فروشی یعنی مقررہ قیمت سے زیادہ قیمتیں وصول کرتے ہوئے پکڑا ان میں اوگرا کے مطابق عظیم پیٹرولیم، شاہ زیب اور واصف، الحسین اورشاہد پیٹرولیم کا تعلق پی ایس او سے اور گلف فلنگ اسٹیشن، ہجیرہ فلنگ اسٹیشن اور باغ فلنگ اسٹیشن کا تعلق ایس پی ایل یعنی شیل پاکستان لمیٹڈ سے، الٹرا فیول اسٹیشن اور کشمیر پیٹرولیم کا تعلق ٹی پی ایم ایل یعنی ٹوٹل پارکو مارکیٹنگ لمیٹڈاور الحسین پیٹرولیم ،طاہر فلنگ اسٹیشن اور اختر پیٹرولیم کا تعلق اے پی ایل یعنی اٹک پیٹرولیم سے، الفاروق پیٹرولیم اور علی پیٹرولیم سروس کا تعلق عسکر سے ،چنار پیٹرولیم کا تعلق ایڈمور سے اور ہم ویو فلنگ اسٹیشن کا تعلق او او ٹی سی ایل یعنی اوورسیز آئل ٹریڈنگ کمپنی لمیٹیڈ سے ہے۔
اوگرا کا کہناہے کہ زیادہ قیمتوں کی وصولی کاتو موقع پر پتہ چل جاتاہے اس لیے اس پر متعلقہ کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں لیکن جہاں تک تیل کے معیار کا تعلق ہے تو اس حوالے سے کارروائی ہائیڈروکاربن ڈیولمپنٹ انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی ) کی جانب لیباریٹری میں معیار کی جانچ پڑتال کے بعد موصول ہونے والی رپورٹ کی بنیا د پر کی جاسکے گی۔
اوگرا حکام نے آزاد جموں وکشمیر کی حکومت کو لکھاہے کہ اگرچہ اوگرا نے پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی ہے لیکن اب آزاد جموں وکشمیر کی حکومت اپنے ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے پیٹرول پمپس کو عوام سے مقررہ قیمت ہی وصول کرنے کاپابند بنانے اور قیمتوں پر سختی سے کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کرے اور زیادہ قیمت وصول کرنے والے پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ زیادہ قیمت وصول کرنے اور عوام کو لوٹنے کایہ سلسلہ بند ہوسکے۔
پاکستان کی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے عوام سے تیل کی مقررہ قیمتوں سے زیادہ قیمت وصول کرنے کا تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںسے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ پورے آزاد کشمیر میں تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکا اپنا کوئی پیٹرول پمپ نہیں ہے، زیادہ تر پیٹرول پمپ ان سے حاصل کردہ پیٹرول ایک لائسنس اور ٹریڈ مارک کے تحت اپنے طورپر فروخت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اوگرا کی جانب سے نوٹس ملنے کے بعد تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں اس حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کمپنیاں تیل کے معیار اور قیمت کی خلاف ورزی کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کے حوالے سے متعلقہ انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہیں گی اور اس حوالے سے ہرممکن تعاون کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیاں غلط کاریوں میں ملوث ہوکر کمپنیوں کی بدنامی کا سبب بننے والے پیٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرسکتی ہیں،ان پر جرمانے کرسکتی ہیں اور انہیں وارننگ جاری کرسکتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اوگرا کی تفتیش اور انکوائری کے نتیجے میں عوام سے کی جانے والی اس لوٹ مار کاذمہ دار کسے قرار دیاجاتاہے، آیا تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکو اس کاذمہ دار قرار دے کر کوئی کارروائی کی جاتی ہے یا تمام ملبہ پیٹرول پمپ مالکان پر ڈال کر ان کمپنیوں کو بری الذمہ قرار دے کلین چٹ دے دی جاتی ہے ، جبکہ یہ ایک واضح امر ہے کہ تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںکی قانونی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان پیٹرول پمپس اورفلنگ اسٹیشنز کو جو ان کی مصنوعات فروخت کررہے ہیں معیار و مقدار کی پابندی کرنے اور حکومت کے مقررہ کردہ نرخ پر پیٹرولیم مصنوعات عوام کو فراہم کرنے کاپابند بنائیں اور معیار ومقداراور قیمتوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً اچانک چھاپے مارکر چیکنگ کریں اور قانون کی پابندی نہ کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف موقع پر کارروائی کریں ۔لیکن آج ان پیٹرول پمپس پر پکڑی جانے والی چوریوں سے خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے والی تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوںنے اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے پر شاید کوئی توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اس طرح اس لوٹ مار میں بالواسطہ طورپر سہولت کار کاکردار ادا کیا اور ان کی اس چشم پوشی کی سزا انہیں بہرطورپر ملنی چاہیے۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے وجود - اتوار 04 جنوری 2026

کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

پاک فضائیہ کاجدید تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - اتوار 04 جنوری 2026

فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران،سائنسدانوں نے کیا، آئی ایس پی آر پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ،سائنسدانوںاور انجینئرز کو مبارکباد پاک فضائیہ نے قومی ایرو سپیس اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئ...

پاک فضائیہ کاجدید تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی وجود - اتوار 04 جنوری 2026

ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہ...

عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی

ظہران ممدانی نے سابق میئرکے فیصلے منسوخ کر دیے، اسرائیل شدید برہم وجود - اتوار 04 جنوری 2026

  26 ستمبر 2024 کے بعد جب ایڈمز پر رشوت اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہوئی تھی نیویارک منتخب میئر نے یہود دشمنی کی بھڑکتی آگ پر پیٹرول ڈال دیا ہے،اسرائیلی وزارتِ خارجہ نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے اقتدار سنبھالتے ہی سابق میٔر ایرک ایڈمز کے تمام وہ ایگز...

ظہران ممدانی نے سابق میئرکے فیصلے منسوخ کر دیے، اسرائیل شدید برہم

9 مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس، عادل راجا، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر و دیگر کو عمر قید کی سزا وجود - هفته 03 جنوری 2026

معید پیرزادہ ، سید اکبر حسین، شاہین صہبائی شامل، بھاری جرمانے عائد، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں ، ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ جرمانے کی سزا دوران سماعت پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا ،پراسیکیوشن کی استدعا پر...

9 مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس، عادل راجا، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر و دیگر کو عمر قید کی سزا

خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، وزیر اعظم وجود - هفته 03 جنوری 2026

ریاستی اداروں کی نجکاری حکومتی معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے، شہباز شریف وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔اعلامیہ ...

خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، وزیر اعظم

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 82ہزار ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے وجود - هفته 03 جنوری 2026

82فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5فیصد کرایہ دار ہیں، گھریلو اخراجات 79ہزار ہوگئے ملک میں 7فیصد آبادی بیت الخلا (لیٹرین)جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے،ہائوس ہولڈ سروے حکومت کے ہائوس ہولڈ سروے کے مطابق پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ماہانہ اوسطا آمدن...

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 82ہزار ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے

تجاوزات کیخلاف مہم، صدر میں 32 دکانیں و ہوٹل سر بمہر وجود - هفته 03 جنوری 2026

سربمہر املاک میں 19 ہوٹل اور الیکٹرانکس کی 13 دکانیں شامل ہیں،ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی فٹ پاتھ پر کرسیاں رکھنے والے ہوٹل سیل کیے ،تجاوزات کے خلاف مہم ساؤتھ میں جاری ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کراچی جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں 32 دکانیں اور ہوٹل سربمہر کر دیے گئے ہیں...

تجاوزات کیخلاف مہم، صدر میں 32 دکانیں و ہوٹل سر بمہر

کراچی ،مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے 4لاشیں ملیں وجود - هفته 03 جنوری 2026

لاشیں دو خواتین ، ایک مرد اور ایک لڑکے کی ہیں،پولیس نے تفتیش شروع کردی ملزمان نے لاشیں مین ہول میں پھینکنے کے بعد اس پر پتھر ڈال دیے تھے،پولیس شہر قائد کے مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے چار لاشیں ملی ہیں، پولیس نے تفتیش شروع کردی۔تفصیلات کے مطابق مائی کلاچی روڈ پھاٹک کے قریب می...

کراچی ،مائی کلاچی روڈ پر مین ہول سے 4لاشیں ملیں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی وجود - جمعه 02 جنوری 2026

اسٹریٹ موومنٹ کیلئے 9 جنوری کو کراچی اور سندھ والو تیاری پکڑو، تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی، لوگو! یاد رکھو اب ہمارے لیے کوئی طارق بن زیاد یا محمد بن قاسم نہیں آئے گا ظالم کیخلاف کھڑا ہونا ہے،اب پوری قوم کو نکلنا ہوگا ان کی گولیاں ختم ہو جائیں ہمارے سینے ختم ن...

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے وجود - جمعه 02 جنوری 2026

ظہران ممدانی نے حلف برداری کے دوران اپنا ہاتھ قرآن پاک پر رکھا،غیر ملکی میڈیا نیویارک کے شہریوں کی خدمت ان کیلئے زندگی کا سب سے بڑا اعتمار ہے،خطاب امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب میٔرظہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور وہ نیویارک کی تا...

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک وجود - جمعه 02 جنوری 2026

علی الصبح تقریباً ڈیڑھ بجے ایک مشہوربار میں آگ لگنے سے تقریبا 100 افراد زخمی ہوئے نئے سال کی تقریبات جاری تھیں اور بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے،ترجمان سوئس پولیس سوئٹزرلینڈ کے معروف اور لگژری اسکی ریزورٹ شہر کرانس مونٹانا میں ایک بار میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں...

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک

مضامین
جے شنکرمصافحہ یا بھارتی نئی چال وجود اتوار 04 جنوری 2026
جے شنکرمصافحہ یا بھارتی نئی چال

ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا وجود اتوار 04 جنوری 2026
ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا

نیا سال 2026 اورمشرق وسطیٰ کی اگلی دہائی کی صورت؟ وجود اتوار 04 جنوری 2026
نیا سال 2026 اورمشرق وسطیٰ کی اگلی دہائی کی صورت؟

صومالی لینڈ کی بطورایک آزاد ملک شناخت وجود هفته 03 جنوری 2026
صومالی لینڈ کی بطورایک آزاد ملک شناخت

دانشوری کی نامعقولیت وجود هفته 03 جنوری 2026
دانشوری کی نامعقولیت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر