وجود

... loading ...

وجود

رواں سال بجٹ خسارہ 1700 ارب روپے تک پہنچ جانے کاخدشہ

منگل 09 مئی 2017 رواں سال بجٹ خسارہ 1700 ارب روپے تک پہنچ جانے کاخدشہ

3سہ ماہی میں بجٹ خسارہ سوا ارب روپے تک پہنچ گیا،1017 بلین روپے بیرونی جبکہ 220 بلین روپے ملکی قرضے حاصل کیے گئے ملک پر واجب الادا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی مدمیں 1,094 ارب روپے یعنی کم وبیش 11 کھرب روپے کی ادائیگی کرنا ہوگی

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 1238 ارب روپے تک پہنچ چکاہے جوکہ ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کے 3.7 فیصد کے مساوی ہے ،جبکہ حکومت کی جانب سے بے تحاشہ قرض لینے کی پالیسی کے سبب ملک پر واجب الادا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کا بوجھ بھی بڑھتاچلاجارہاہے اور یہ بوجھ بجٹ کو متوازن رکھنے کی کوششوں میں آڑے آرہا ہے، وزارت خزانہ کے باوثوق ذرائع کے مطابق ملک پر واجب الادا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی مدمیں 1,094 ارب روپے یعنی کم وبیش 11 کھرب روپے کی ادائیگی کرنا ہوگی اور اس ادائیگی کے لیے وزارت خزانہ کو بہت سے ترقیاتی کاموں میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے گزشتہ 9 ماہ کے دوران مالی لین دین کے حوالے سے جو اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں ان کے مطابق 1238 ارب روپے کابجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سطح پرقرض حاصل کرکے پورا کیاگیاہے اس میں سے1017 بلین روپے بیرونی ذرائع سے قرض حاصل کیا گیا جبکہ 220 بلین روپے ملکی ذرائع سے قرض حاصل کیاگیا۔اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی ہر سہ ماہی کے دوران بجٹ خسارہ کم وبیش 400 بلین روپے رہاہے،رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران بجٹ خسارہ 437 بلین روپے تھا جبکہ دوسری سہ ماہی کے دوران بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا اور یہ خسارہ 799 بلین روپے تک پہنچ گیا اور یہ9 ویں سہ ماہی پوری ہونے تک یہ خسارہ 1238 بلین روپے تک پہنچ گیااب اگراس سہہ ماہی یعنی رواں مالی سال کے چوتھی اور آخری سہ ماہی کے دوران بھی یہی رجحان اور رفتار برقرار رہی تو رواں سال بجٹ خسارہ 1650 سے1700 ارب روپے تک پہنچ جانے کاخدشہ ہے۔
رواں مالی سال کے آخر میں وزارت خزانہ پر سرکاری اخراجات کے لیے رقم کے لیے سیاسی سطح پر دبائو میں اضافہ ہوگا لیکن اب وزارت خزانہ کو غیر ضروری اخراجات کے لیے رقم جاری کرنے سے سختی سے منع کرنے اور غیر ضروری اخراجات کے لیے قطعی رقم جاری نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا ہوگا بصورت دیگر بجٹ خسارہ ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کے مقررہ 4.1 فیصد کے ہدف سے بھی تجاوز کرجائے گا۔
اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مجموعی طورپر 3145.5 بلین روپے کے مساوی ریونیو وصول کیاگیا جس میں سے 2694.3 بلین روپے ٹیکسوں کی مد میں وصول کیے گئے جبکہ451.176 بلین روپے دیگر مدات میں وصول کیے گئے۔اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مجموعی طورپرٹیکسوں کی مد میں 2694.3 بلین روپے وصول کیے گئے جبکہ اس مدت کے دوران ایف بی آر نے مجموعی طورپر2463.8 بلین روپے وصول کیے۔جبکہ صوبوں نے صرف 230.546 بلین روپے جمع کیے۔
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران ٹیکسوں کے علاوہ دیگر مدات میں آمدنی کے اعتبار سے وفاقی حکومت نے391.8 بلین روپے جمع کیے جبکہ صوبوں نے 59.298 بلین روپے جمع کیے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران4383.5 بلین روپے کے اخراجات ریکارڈ کیے گئے جن میں 3605.121 بلین روپے کے رواں اخراجات شامل ہیں۔رواں اخراجات میں سب سے زیادہ رقم ملکی اور غیرملکی سطح پر حاصل کیے جانے والے قرضوں پر سود اور سروسز چارجز کی ادائیگی پر خرچ کی گئی ،اعدادوشمار کے مطابق اس مد میں حکومت کو 1094.453 بلین روپے کی ادائیگیاں کرنا پڑیں۔اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران دفاعی شعبے پر 535.662 بلین روپے کے اخراجات ریکارڈ کیے گئے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے گزشتہ 9 ماہ کے دوران مالی لین دین کے حوالے سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق اس دوران ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کی مد میں 769.621 بلین روپے جاری کیے گئے جبکہ وفاق کی جانب سے سرکاری ترقیاتی منصوبوں پر صرف 323.965 بلین روپے خرچ کیے گئے۔جبکہ اس مدت کے دوران صوبوں نے مجموعی طورپر اس میں 422.681 بلین روپے خرچ کیے ۔
18 ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت جاری کی گئی رقوم کی وجہ سے اب صوبوں کے ترقیاتی اخراجات وفاق کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔اب جبکہ صوبوں کو فنڈ کی فراہمی میں اضافہ ہوا اس لیے سوشل سروسز یعنی سماجی خدمات کادائرہ بھی وسیع اور مؤثر ہونا چاہیے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوسکاہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ صوبوں کوترقیاتی کاموں کی مد میں منتقل کیے جانے والے اربوں روپے کے فنڈ مناسب طورپر استعمال نہیں ہورہے ہیں یا صوبوں کی ضروریات میں اتنا زیادہ اضافہ ہوچکاہے کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کو متنقل کی جانے والی رقوم بھی ان کے لیے ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔ صورت حال کچھ بھی ہو لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ وفاق کی جانب سے صوبوں کو منتقل کی جانے والی رقوم صوبوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیاد ی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے صوبوں میں موجود انفرااسٹرکچر کے بوسیدہ ہوجانے کے سبب انتہائی ناکافی ثابت ہورہی ہیں ،جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتا ہے کہ 10-15 سال قبل ابلتے ہوئے گٹر معمولی سی صفائی کے بعد کھل جاتے تھے اور گٹر ابلنے کی شکایت رفع ہوجاتی تھی لیکن گزشتہ 2 عشروں کے دوران سیوریج لائنیں تبدیل نہ کیے جانے کے سبب اب وہ اندرونی طورپر ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں اوران کی تبدیلی کے بغیر ابلتے ہوئے گٹر صاف کرنا ممکن نہیں رہا ہے ،وفاق کو اس صورت حال پر توجہ دینی چاہیے اور صوبوں کو اتنی رقوم فراہم کرنی چاہئیں کہ وہ کم از کم اپنے شہریوں کو پینے کے صاف ،پانی گندے پانی کی نکاسی ، کچرہ ٹھکانے لگانے اور تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرسکے ،جب تک وفاقی حکومت صوبوں کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے حصے کی رقم میں اضافہ نہیں کرے گی، صوبے محض اپنے وسائل سے ان مسائل پر قابو نہیں پاسکتے ۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومت غیر ترقیاتی اخراجات خاص طورپر ایوان صدر اور وزیر اعظم کے غیر ضروری شاہانہ اخراجات میں کمی کرکے اس طرح بچ جانے والی رقوم عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے صوبوں کو منتقل کرنے پر غور کرے گی۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر