... loading ...

3سہ ماہی میں بجٹ خسارہ سوا ارب روپے تک پہنچ گیا،1017 بلین روپے بیرونی جبکہ 220 بلین روپے ملکی قرضے حاصل کیے گئے ملک پر واجب الادا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی مدمیں 1,094 ارب روپے یعنی کم وبیش 11 کھرب روپے کی ادائیگی کرنا ہوگی
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران بجٹ خسارہ 1238 ارب روپے تک پہنچ چکاہے جوکہ ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کے 3.7 فیصد کے مساوی ہے ،جبکہ حکومت کی جانب سے بے تحاشہ قرض لینے کی پالیسی کے سبب ملک پر واجب الادا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کا بوجھ بھی بڑھتاچلاجارہاہے اور یہ بوجھ بجٹ کو متوازن رکھنے کی کوششوں میں آڑے آرہا ہے، وزارت خزانہ کے باوثوق ذرائع کے مطابق ملک پر واجب الادا قرضوں پر سود اور سروس چارجز کی مدمیں 1,094 ارب روپے یعنی کم وبیش 11 کھرب روپے کی ادائیگی کرنا ہوگی اور اس ادائیگی کے لیے وزارت خزانہ کو بہت سے ترقیاتی کاموں میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے گزشتہ 9 ماہ کے دوران مالی لین دین کے حوالے سے جو اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں ان کے مطابق 1238 ارب روپے کابجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سطح پرقرض حاصل کرکے پورا کیاگیاہے اس میں سے1017 بلین روپے بیرونی ذرائع سے قرض حاصل کیا گیا جبکہ 220 بلین روپے ملکی ذرائع سے قرض حاصل کیاگیا۔اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی ہر سہ ماہی کے دوران بجٹ خسارہ کم وبیش 400 بلین روپے رہاہے،رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران بجٹ خسارہ 437 بلین روپے تھا جبکہ دوسری سہ ماہی کے دوران بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا اور یہ خسارہ 799 بلین روپے تک پہنچ گیا اور یہ9 ویں سہ ماہی پوری ہونے تک یہ خسارہ 1238 بلین روپے تک پہنچ گیااب اگراس سہہ ماہی یعنی رواں مالی سال کے چوتھی اور آخری سہ ماہی کے دوران بھی یہی رجحان اور رفتار برقرار رہی تو رواں سال بجٹ خسارہ 1650 سے1700 ارب روپے تک پہنچ جانے کاخدشہ ہے۔
رواں مالی سال کے آخر میں وزارت خزانہ پر سرکاری اخراجات کے لیے رقم کے لیے سیاسی سطح پر دبائو میں اضافہ ہوگا لیکن اب وزارت خزانہ کو غیر ضروری اخراجات کے لیے رقم جاری کرنے سے سختی سے منع کرنے اور غیر ضروری اخراجات کے لیے قطعی رقم جاری نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا ہوگا بصورت دیگر بجٹ خسارہ ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کے مقررہ 4.1 فیصد کے ہدف سے بھی تجاوز کرجائے گا۔
اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مجموعی طورپر 3145.5 بلین روپے کے مساوی ریونیو وصول کیاگیا جس میں سے 2694.3 بلین روپے ٹیکسوں کی مد میں وصول کیے گئے جبکہ451.176 بلین روپے دیگر مدات میں وصول کیے گئے۔اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران مجموعی طورپرٹیکسوں کی مد میں 2694.3 بلین روپے وصول کیے گئے جبکہ اس مدت کے دوران ایف بی آر نے مجموعی طورپر2463.8 بلین روپے وصول کیے۔جبکہ صوبوں نے صرف 230.546 بلین روپے جمع کیے۔
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران ٹیکسوں کے علاوہ دیگر مدات میں آمدنی کے اعتبار سے وفاقی حکومت نے391.8 بلین روپے جمع کیے جبکہ صوبوں نے 59.298 بلین روپے جمع کیے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران4383.5 بلین روپے کے اخراجات ریکارڈ کیے گئے جن میں 3605.121 بلین روپے کے رواں اخراجات شامل ہیں۔رواں اخراجات میں سب سے زیادہ رقم ملکی اور غیرملکی سطح پر حاصل کیے جانے والے قرضوں پر سود اور سروسز چارجز کی ادائیگی پر خرچ کی گئی ،اعدادوشمار کے مطابق اس مد میں حکومت کو 1094.453 بلین روپے کی ادائیگیاں کرنا پڑیں۔اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران دفاعی شعبے پر 535.662 بلین روپے کے اخراجات ریکارڈ کیے گئے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے گزشتہ 9 ماہ کے دوران مالی لین دین کے حوالے سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق اس دوران ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کی مد میں 769.621 بلین روپے جاری کیے گئے جبکہ وفاق کی جانب سے سرکاری ترقیاتی منصوبوں پر صرف 323.965 بلین روپے خرچ کیے گئے۔جبکہ اس مدت کے دوران صوبوں نے مجموعی طورپر اس میں 422.681 بلین روپے خرچ کیے ۔
18 ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت جاری کی گئی رقوم کی وجہ سے اب صوبوں کے ترقیاتی اخراجات وفاق کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔اب جبکہ صوبوں کو فنڈ کی فراہمی میں اضافہ ہوا اس لیے سوشل سروسز یعنی سماجی خدمات کادائرہ بھی وسیع اور مؤثر ہونا چاہیے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوسکاہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ صوبوں کوترقیاتی کاموں کی مد میں منتقل کیے جانے والے اربوں روپے کے فنڈ مناسب طورپر استعمال نہیں ہورہے ہیں یا صوبوں کی ضروریات میں اتنا زیادہ اضافہ ہوچکاہے کہ وفاق کی جانب سے صوبوں کو متنقل کی جانے والی رقوم بھی ان کے لیے ناکافی ثابت ہورہی ہیں۔ صورت حال کچھ بھی ہو لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ وفاق کی جانب سے صوبوں کو منتقل کی جانے والی رقوم صوبوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیاد ی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے صوبوں میں موجود انفرااسٹرکچر کے بوسیدہ ہوجانے کے سبب انتہائی ناکافی ثابت ہورہی ہیں ،جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتا ہے کہ 10-15 سال قبل ابلتے ہوئے گٹر معمولی سی صفائی کے بعد کھل جاتے تھے اور گٹر ابلنے کی شکایت رفع ہوجاتی تھی لیکن گزشتہ 2 عشروں کے دوران سیوریج لائنیں تبدیل نہ کیے جانے کے سبب اب وہ اندرونی طورپر ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں اوران کی تبدیلی کے بغیر ابلتے ہوئے گٹر صاف کرنا ممکن نہیں رہا ہے ،وفاق کو اس صورت حال پر توجہ دینی چاہیے اور صوبوں کو اتنی رقوم فراہم کرنی چاہئیں کہ وہ کم از کم اپنے شہریوں کو پینے کے صاف ،پانی گندے پانی کی نکاسی ، کچرہ ٹھکانے لگانے اور تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرسکے ،جب تک وفاقی حکومت صوبوں کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے حصے کی رقم میں اضافہ نہیں کرے گی، صوبے محض اپنے وسائل سے ان مسائل پر قابو نہیں پاسکتے ۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومت غیر ترقیاتی اخراجات خاص طورپر ایوان صدر اور وزیر اعظم کے غیر ضروری شاہانہ اخراجات میں کمی کرکے اس طرح بچ جانے والی رقوم عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے صوبوں کو منتقل کرنے پر غور کرے گی۔
پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی پیشرفت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، عوام کی ثابت قدم حمایت سے مسلح افواج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ و...
انکوائری کے دوران عدالت میںپیشی کے وقت پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف سیکیورٹی میں کئی خامیاں سامنے آئیں ، ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں،رپورٹ کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پ...
نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ تربیت کی درخشاں روایات کا امین ہے،شہباز شریف ایران، امریکا جنگ نے خطے کو غیریقینی صورتحال، معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، جو ہماری خودمختاری کے نگہبان ہیں۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئ...
سکیورٹی فورسز کا خورج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع شیوا میں کامیاب کارروائی انڈین ا سپانسرڈشرپسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ، اسلحہ ، گولہ بارود برآمد،آئی ایس پی آر سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 22 خوارج جہنم واصل ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئ...
امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...
عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...
تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...
فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...
پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، آئین کے تحت خوراک کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی گیس پیدا کرنیوالا صوبہ خود گیس سے محروم ہے، وزیراعلیٰ برس پڑے،سہیل آفریدی ،فیصل کریم کنڈی کی پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت صوبائی حقوق کے معاملے پ...
معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...
آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...
منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...