وجود

... loading ...

وجود

چورکو پڑگئے مور اربوں روپے کرپشن کرنے والی سیاسی شخصیات کے ساتھ ہاتھ ہوگیا

هفته 06 مئی 2017 چورکو پڑگئے مور اربوں روپے کرپشن کرنے والی سیاسی شخصیات کے ساتھ ہاتھ ہوگیا

مسٹر ٹین پرسنٹ نے سابقہ دور حکومت میں لوٹ مار کرنے والوں کا مال ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے مالک کے ہاتھوں بیرون ملک بھجوانے کا لارا لپا دیااورمبینہ طور پر ہڑپ کرگئے لانچوں کے پکڑے جانے کے ڈر سے کرنسی جلانے کی کہانی گھڑی گئی،ڈیپارٹمنٹل اسٹور مالک کی وطن واپسی پر ’’متاثرین‘‘نے گھیر لیا،مسٹرٹین پرسنٹ نے بچالیا،ذرائع کا انکشاف

2008ء کے عام انتخابات میں جب ملک بھر میں مجموعی طور پر پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کی تو وفاق اور سندھ میں پی پی پی نے حکومت بناڈالی۔ یہ دور1988ء اور1993ء سے مختلف تھا کیونکہ پچھلے ادوار میں بینظیربھٹو وزیراعظم تھیں اور وہ کسی نہ کسی طرح وزراء کی کارکردگی چیک کرتی رہتی تھیں اور پھر جب کسی کے خلاف شکایات آتیں تو وہ اس کا ازالہ بھی کرتیں، غلط کام کرنے والوں کو سزائیں بھی دیتیں ۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بینظیربھٹو نے اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو جرم کرنے پر گرفتار بھی کرایا۔ مگر 2008ء میںسب کچھ بدل گیا ،اب آصف زرداری تھے اور اب سب کو یہ حکم تھا کہ ’’لُٹو۔۔تے پُھٹو‘‘ اور پھر دیکھتے دیکھتے پی پی پی کے وزراء اور ارکان پارلیمنٹ نے اس مقولے پر دل کھول کر عمل کیا اور جی بھر کر لوٹ مار کی اور جتنا مال وہ جمع کرنا چاہتے تھے انہوں نے جمع کیا اور مال میں سے حصہ بڑے صاحب کو بھی دیا۔ اس دور میں ’’عجب کرپشن کی غضب کہانیاں‘‘ منظر عام پر آئیں تو دنیا حیران رہ گئی۔ لاکھوں اور کروڑوں روپے کی کرپشن کو اب پیچھے دھکیل دیاگیا اور اربوں روپے کی بات کی گئی اور واقعی سب نے اپنی سوچ اور پہنچ کے مطابق اربوں کھربوں روپے لوٹنے کی بھرپور کوشش کی۔ پیرمظہرالحق نے16ہزار نئی نوکریاں دے کر آٹھ دس ارب روپے کمالیے۔ آغا سراج درانی نے بھی13ہزار نوکریاں دیں اور انہوں نے بھی آٹھ نو ارب روپے کمالیے۔ نادر مگسی نے گندم کی خالی بوریاں‘ گندم کی خریداری میں بھی دس ارب روپے سے زائد کمالیے۔ سید مراد علی شاہ ہر سال بجٹ کے 40سے50ارب روپے مسٹر ٹین پرسنٹ اور ان کے قریبی رشتہ دار جوماضی میں دودھ فروش رہے ہیں، اس کے حوالے کرتے رہے۔ اسی انعام کے نتیجہ میں جونیئر ہونے کے باوجود ان کو وزارت اعلیٰ کی کرسی دی گئی۔ ایک اسٹیٹ ایجنسی چلانے والے بروکر شرجیل میمن کو کئی محکمے دیئے گئے ،اس نے بھی 15ارب روپے سے زائد کمالیے۔ اویس مظفرٹپی کو ایک درجن محکمے دیے گئے ،اس نے بھی تیس چالیس ارب روپے کمالیے، بلاول ہاؤس کے اطراف میں تمام گھر اونے پونے داموں میں خرید لیے ، دبئی میں محل خریدے۔ اگرچہ وفاق میں بھی انسانی عقل کو دنگ کردینے والی کرپشن کہانیاں ہیں لیکن سندھ میں سرکاری خزانے کا وہ حشر کیاگیا کہ ناقابل بیان ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جب سب نے لوٹ مار کرلی تو مسٹر ٹین پرسنٹ نے کراچی کے ایک معروف ڈپارٹمنٹل اسٹور میں ایک آفس قائم کرایا اور سندھ کے اربوں کھربوں روپے کے مالک بننے والے صوبائی وزراء کو بلایا اور کہا کہ ڈپارٹمنٹل اسٹور کا مالک ایک تو ہمیں15فیصد منافع دیگا جبکہ بینک صرف سات فیصد منافع دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ شخص ہمارے پیسے پاکستان سے باہر لے جائے گا پھر آپ لوگوں کو یہ رقم دبئی‘ لندن اور نیویارک میں ملے گی ،وہاں جو کچھ خریدنا ہے خریدلو اور باقی زندگی عیش وعشرت سے گزاردو۔ مسٹرٹین پرسنٹ نے ان سب کو مرعوب کرنے کے لیے اپنے بھی رسید دکھائی کہ میں نے بھی دس ارب روپے اس ڈپارٹمنٹل اسٹور کے مالک کے پاس جمع کرائے ہیں پھر کیا تھا سب نے وہاں رقم جمع کرائی اور ایک اندازے کے مطابق60سے80ارب روپے اس ڈپارٹمنٹل اسٹور کے مالک کے پاس جمع ہوگئے۔پھر کیا ہوا۔۔؟ مسٹرٹین پرسنٹ نے ایک دن کراچی آکر پیسے جمع کرانے والوں کے ساتھ شاندار پارٹی منعقد کی اور خوشخبری سنائی کہ ان کے پیسے لانچوں کے ذریعہ دبئی روانہ کردیئے گئے ہیں اوراگلے دن ان کو پھر ایک پارٹی میں نئی خوشخبری سنائی جائے گی،سب خوش تھے۔ دوسرے دن انکے لیے منحوس خبر بھی ان لوگوں کو سنادی گئی کہ غضب ہوگیا۔ جن لانچوں میں رقم لے جائی جارہی تھی، اس پر کوسٹ گارڈ اور نیوی نے چھاپے مارے اور رقم تو ان کے ہاتھ لگنے نہیں دیاگیا اور یہ رقم جلادی گئی ہے، ثبوت کے طور پر کشتیاں دیکھی جاسکتی ہیں ۔اور نثارمورائی‘ نواب لغاری جیسے افراد بمشکل جان بچاکر کراچی واپس آتے ہیں ۔یہ کہانی سن کر ان افراد کے چہرے لٹک گئے۔ذرائع بتاتے ہیںکہ مسٹر ٹین پرسنٹ نے یہ رقم ماڈل ایان علی اور ان کی ساتھی ماڈلز کے ذریعہ دبئی بھیج چکے تھے اور مذکورہ ڈپارٹمنٹل اسٹور کے مالک کو بھی دبئی میں اپنے محل میں رکھ لیا۔ یوں اپنے عہدے اور اپنی طاقت کے زور پر ان بااثر افراد کو خاموش کرادیا گیااور پھر پانچ سال بعد اب ڈپارٹمنٹل اسٹور کا مالک واپس کراچی پہنچ گیا ہے تو یہ بااثر افراد اس کے پاس جا پہنچے اور تقاضا کیا کہ ان کو رقم واپس دی جائے ۔وہ جب روتا دھوتا مسٹر ٹین پرسنٹ کے پاس جا پہنچا اور کہا کہ حضور میں نے تو ایک روپیہ بھی نہیں کھایا، میں تو صرف رقم یا چیک لے لیتا تھا ،پوری رقم تو آپ کو ایمانداری سے دے دی تھی ،مجھے تو کمیشن بھی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر دی گئی تھی پھر بھی میں نے خاموشی اختیار کی لیکن اب یہ سارے بااثر افراد میرے پیچھے آئیں گے تو میں ان کے آگے کیاکہ سکوں گا؟ مفت میں ذلیل ہوجائوں گا۔ برائے مہربانی آپ ان کو کنٹرول کریں ،تب مسٹرٹین پرسنٹ آگ بگولہ ہوگئے اور ان تمام افراد کو بلایا اور غصے کے عالم میں کہا کہ آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ یہ بیچارہ مصیبت جھیل کر واپس آیا ہے ،اس کی رقم بھی گئی، ڈپارٹمنٹل اسٹور بھی گیا اور پھران کو طاقتور اداروں نے اٹھالیا اور مسلسل پوچھتے رہے کہ یہ کس کی رقم تھی؟ اس بیچارے نے زبان نہیں کھولی اور پانچ سال تک تشدد برداشت کرتا رہا لیکن آپ لوگوں کا نام نہیں لیا ،اگر یہ نام لے لیتا تو آپ لوگ کیا صفائی پیش کرتے کہ یہ رقم کہاں سے حاصل کی؟ بہتر یہی ہے کہ آپ لوگ خاموش ہوجائیں، ورنہ اس کو تنگ کیا جائے تو یہ جاکر طاقتور اداروں کو آپ کا نام بتادے گا اور پھر طاقتور ادارے آپ کے گرد گھیرا تنگ کریں گیب پھر آپ کو ایک نئی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے رقم گئی اب الٹا تحقیقات کا بھی منہ دیکھنا پڑے گا، بہتر یہی ہے کہ خاموش ہوجائو۔ اس کے بعد یہ بااثر افراد منہ لٹکائے گھر چلے گئے۔ مسٹرٹین پرسنٹ نے ڈپارٹمنٹل اسٹور کے مالک کو تھپکی دی کہ جاکر اپنا کام کرو ،اب تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اس کو کہتے ہیں کہ’’ چور کو پڑگئے مور‘‘، اور’’ چور کا مال جب چھن جاتا ہے تو اس کی ماں چھپ کر روتی ہے‘‘۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر