وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حکومت کی جانب سے عوامی بہبود کا بجٹ پیش کرنے کی یقین دہانی

منگل 02 مئی 2017 حکومت کی جانب سے عوامی بہبود کا بجٹ پیش کرنے کی یقین دہانی

قبل از وقت انتخابات کے خدشات کے پیش نظر حکومت اس سال بجٹ میں ملک کے غریب عوام کو بھی کچھ ریلیف دینے کی کوشش کرسکتی ہے،ماہرین کا تجزیہ ‘ معاشی ترقی کے لیے ملک کے تمام شعبوں کو ساتھ لے کر چلنا بہت ضروری ہے لیکن حکومت کے بھاری قرضوں کی وجہ سے عوام زیادہ توقعات وابستہ نہ کریں

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روزایک بیان میں یقین دلایاہے کہ نئے مالی سال کابجٹ عوامی بہبود اورپائیدار ترقی کا بجٹ ہوگا۔وزیر خزانہ کی اس یقین دہانی کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب حکومت کو انتخابات سامنے نظر آرہے ہیں اور اگرچہ حکومت کااصرار ہے کہ انتخابات 2018ء ہی میں کرائے جائیں گے لیکن ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر محسوس یہی ہوتاہے کہ حکومت کو کسی بھی وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کرنے پر مجبورہونا پڑسکتاہے ۔ ایسی صورت میں اگر حکومت نے گزشتہ روایات کے مطابق بجٹ میں عام آدمی کو نظر انداز کرکے محض دولت مندوں کو خوش کرنے پر ہی توجہ مرکوز رکھی تو عام انتخابات میں عوام کی جانب سے انہیں نظر انداز کیے جانے کے خدشات موجود ہوں گے اور حکومت یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کو بھی اسی صورت حال کاسامنا کرنا پڑے ،گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی جس صورت حال کاسامنا کرچکی ہے۔
تاریخی ریکارڈ یہی ہے کہ مستحکم پالیسیوں کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں ہوتی اور معاشی ترقی کے لیے کفایت شعاری کی راہ اختیار کرنا ضروری ہوتاہے۔اب یہ بات زیادہ واضح ہوکر سامنے آچکی ہے کہ معاشی ترقی کے لیے ملک کے تمام شعبوں اور حلقوں کو ساتھ لے کر چلنا بہت ضروری اور اہم ہے۔اس کے علاوہ پائیدار ترقی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دولت کو صرف چند ہاتھوں تک مرتکز رکھنے کی کوشش کرنے کی پالیسیوں میں تبدیلی لائی جائے اور غربت کے خاتمے کے لیے حقیقی معنوں میں بھرپور کوششیں کی جائیں کیونکہ غربت کے خاتمے کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور ناممکن ہے۔
اس وقت حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ملک کی بیرونی تجارت کی رفتار عالمی سطح پر معاشی پھیلائو کی شرح کے مقابلے میں بہت کم ہے اور ہماری مقامی تجارت بڑی حد تک ملکی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہوتی جارہی ہے۔یہ صحیح ہے کہ نت نئی اشیا مارکیٹ میں آجانے ،بینکوں کی جانب سے صارفین کی اشیا کی خریداری کے لیے قرضوں کی فراخدلانہ فراہمی اور سی پیک منصوبوں کی وجہ سے ملک میں روزگار کی صورتحال میں معمولی سی بہتری آجانے کی وجہ سے ملکی طلب میں اضافہ ہورہاہے جس کی وجہ سے ملکی سطح پر تجارت پھل پھول رہی ہے۔اس صورت حال میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے یہ بیان کہ 2017-18 ء کا مالی بجٹ عوامی بہبود کا بجٹ ہوگا، اس بات کااشارہ ہے کہ حکومت اس سال بجٹ میں اس ملک کے غریب عوام کو بھی کچھ ریلیف دینے کی کوشش کرسکتی ہے، اگرچہ ہر سال بجٹ سے قبل ہمارے وزیر خزانہ اسی طرح کے بیانات دے کر عوام کو بہلانے کے بعد ان پر بجٹ کابم گراتے رہے ہیںجس کی وجہ سے عوام اب ان کے اس طرح کے بیانات پر یقین کرنے کو مشکل ہی سے تیار ہوں گے، لیکن مذکورہ بالا صورت حال اور جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ قبل ازوقت عام انتخابات کے قوی امکانات کی وجہ سے ظاہرہوتاہے کہ اگر وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم چاہے تو نئے مالی سال کے بجٹ میں عوام کو کسی حد تک ریلیف دے سکتی ہے لیکن مذکورہ بالا عوامل کے باوجود عوام کو نئے مالی سال کے بجٹ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ حکومت کی جانب سے لیے جانے والے بڑے پیمانے پر ملکی اور غیرملکی قرضوں پر سود یا منافع اور سروسز کی ادائیگی اوردفاعی تیاریوں کے لیے بھی حکومت کو بھاری رقوم کی ضرورت ہوگی اور ان کی ادائیگی کے لیے وسائل مختص کیے جانے کے بعد حکومت کے پاس عوام کودینے کے لیے بہت کم کچھ باقی بچے گا۔
اس پوری صورت حال کے باوجود حکومت اور خاص طورپر ہمارے وزیر خزانہ کو بجٹ تجاویز کو آخری یا حتمی شکل دیتے ہوئے یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ انتخابات کے موقع پر اس دفعہ لوڈ شیڈنگ اورمہنگائی سے پریشان پاکستان کے عوام بھی امریکی اور برطانوی عوام کی طرح ووٹ دیتے وقت حکومت کی اقتصادی کارکردگی اور حکومت کی جانب سے عوام کو فراہم کی جانے والی حقیقی سہولتوں کو ضرور مد نظر رکھیں گے اور اب ان کو بھاری منصوبوں کی تصاویر دکھا کر فریب دینا ممکن نہیں ہوسکے گا۔اس صورت حال میں حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ قرض دینے والے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اپنے وعدوں کی تکمیل کے ساتھ ہی ملک کے پریشان حال عوام کی دادرسی کا بھی مناسب انتظام کرے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے شروع کیے گئے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد پر اپنا ووٹ بینک برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی اور اگر پنجاب کے عوام مسلم لیگ ن کے امیدواروں کوووٹ دیں گے تو اس کا کریڈٹ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو جائے گا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اگر یہ سوچ کر کہ پنجاب سے توشہباز شریف کی کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان مسلم لیگ ن کو ووٹ مل ہی جائیں گے اور چونکہ پنجاب اکثریتی صوبہ ہے اس لیے پنجاب سے ملنے والی نشستوں کی بنیادپر پاکستان مسلم لیگ ن ایک دفعہ پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی تو یہ ان کی بھول ہوگی ،کیونکہ اگر انہوںنے نئے مالی سال کے بجٹ میں غریب عوام کی مشکلات ومصائب میں کمی کرنے پر توجہ دینے کے بجائے ان پر مزید ٹیکس لاد کر زیر بار کرنے کی کوشش کی تو پنجا ب میں شہباز شریف کی جانب سے کرائے گئے ترقیاتی کاموں پر بھی پانی پھر جائے گا اور حکومت کو ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ اسحاق ڈار کو اس بات کا یقیناً اچھی طرح احساس ہوگا کہ اب صرف خواجہ سعد رفیق اور عابد شیر علی جیسے مولاجٹ قسم کے رہنمائوں کی لفاظیوں اور لن ترانیوں کے بل پر انتخابات جیتنا ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے دعووں کی ثبوتوں کے ساتھ تردید کرنے کے لیے مضبوط اپوزیشن ان کے سامنے ہوگی۔
اسحاق ڈار اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہوں گے اور انہوںنے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کامطالعہ کرلیا ہوگا جس میں یہ واضح کیاگیاہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں غربت کے خاتمے یا غریبوں کی امداد کے لیے سرکاری طورپر خرچ یا فراہم کی جانے والی رقم کی
شرح گزشتہ پانچ سال کی کمترین شرح پر آچکی ہے، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2012-13 ء کے دوران غربت کے خاتمے کے لیے مختص کی جانے والی رقم مجموعی ملکی پیداوار 9.7 فیصد کے مساوی تھی جو کہ 2015 ء کے دوران کم ہوکر 7.9 فیصد رہ گئی تھی اور 2016 ء کے دوران مزید کم ہوکر3.8 فیصد رہ گئی تھی۔
اسحاق ڈار اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہوں گے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے بے گھر اور کم وسیلہ لوگوں کو سر چھپانے کے لیے کم لاگت کے مکانوں کی فراہمی کے اعلانات اور وعدوں کے باوجود ملک میں کم لاگت کے مکانوں کی تعمیر کے لیے سرکاری سطح پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیاگیا۔اسی طرح 2016ء تک کے اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ حکومت کی جانب سے دیہی عوام کی حالت بہتر بنانے کے بلند بانگ دعووں کے باوجود دیہی ترقی پر بھی کوئی توجہ دینا ضروری تصور نہیں کیا گیا۔ ایسی صورت میں وزیر اعظم اور ان کی ٹیم دیہی علاقوں کے عوام سے کس بنیاد پر ووٹ مانگنے ان کے پاس جائے گی ۔
یہ وہ حقائق ہیں بجٹ کو حتمی شکل دیتے وقت وزیر خزانہ کو جن کو مد نظر رکھنا چاہیے اور بجٹ اس طرح تیار کرنا چاہیے کہ اس میں معاشرے کے تمام طبقوں کی اشک شوئی کاسامان ہوسکے اورحکومت کو خالی ہاتھ عوام کے سامنے جانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔


متعلقہ خبریں


کورونا وائرس ، دنیا بھر میں مزید 44افراد ہلاک،تعداد 2858ہو گئی وجود - جمعه 28 فروری 2020

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اموات کا سلسلہ رک نہ سکا اور پچھلے 24 گھنٹوں میں 44 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 2858 ہوگئی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 52 ممالک میں متاثرین کی تعداد 83 ہزار 105ہوگئی جبکہ 36 ہزار 525 بیمار صحت یاب ہوگئے ۔کورونا وائرس سے چین میں مزید 43 افراد ہلاک جبکہ اٹلی میں اموات کی تعداد 14 سے بڑھ کر 17ہو گئی، اسی طرح جنوبی کوریا میں تعداد 12 سے 13 ہو گئی۔چین میں اموات اور بیماروں کی تعداد کم ہو نے لگی مگر دنیا بھر میں کورونا وا...

کورونا وائرس ، دنیا بھر میں مزید 44افراد ہلاک،تعداد 2858ہو گئی

کورونا وائرس عالمی وبا قراردیے جانے کا امکان وجود - جمعه 28 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس عالمی و با بن سکتی ہے ،چین کے بعد اٹلی اور ایران میں یہ انفیکشن سب سے زیادہ پھیلا ہے وہاں لوگ سفر کر کے یہ وائرس مزید پھیلانے کا باعث بن رہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادار صحت کے سربراہ ٹیڈروس گیبرییسس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا فیصلہ کن نقطے پر پہنچ چکی ہے اور عالمی وبا بن سکتی ہے ۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک اس وائرس کے پھیلا ئو سے بچنے کی کوشش کر رہے ۔جمعرات کو دوسرے دن ب...

کورونا وائرس عالمی وبا قراردیے جانے کا امکان

کورونا وائرس کے باعث تاجر، مزدور تفتان چھوڑنے لگے ، ماسک بلیک میں فروخت وجود - جمعه 28 فروری 2020

کورونا وائرس کے باعث پاک ایران سرحد پر تجارتی بندش کی وجہ سے تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ختم ہو گئیں، جس کے بعد تاجر برادری اور مزدور شہر چھوڑ کر جانے لگے جبکہ کورونا سے بچائوکے لیے ملک بھر میں ماسک مہنگے داموں فروخت ہونے لگے یا مارکیٹ سے غائب ہی ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے تفتان میں اس کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے حکام نے بارڈر ٹریڈ بند کر دی جس سے تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئیں ،کام کی بندش کی وجہ سے مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں اور...

کورونا وائرس کے باعث تاجر، مزدور تفتان چھوڑنے لگے ، ماسک بلیک میں فروخت

کرونا وائرس، روس کا ایرانیوں کے لیے ویزے بند کرنے کا اعلان وجود - جمعرات 27 فروری 2020

روس نے ایران میں مہلک وائرس کرونا پھیلنے کے بعد اس کے شہریوں کو آج(جمعہ 28 فروری) سے ویزے جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روسی حکام نے اب تک ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ صرف دو مریضوں کی اطلاع دی ہے۔روس نے یکم اپریل تک کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بعض پابندیاں بھی عاید کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یکم مارچ سے روس اور جنوبی کوریا کے درمیان بعض پروازیں معطل کی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ چین کے وسطی شہر ووہان میں یہ مہلک وائرس دسمبر کے آخر میں نمودار ہوا...

کرونا وائرس، روس کا ایرانیوں کے لیے ویزے بند کرنے کا اعلان

امریکا کا اپنے شہریوں کو ایران، اٹلی اور منگولیا کا سفر اختیار نہ کرنے کا مشورہ وجود - جمعرات 27 فروری 2020

امریکا نے دنیا کے مختلف ملکوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ایران ، اٹلی اور منگولیا کے لیے سفری انتباہ جاری کیے ہیں اور امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان ممالک کے سفر کے وقت احتیاط کا مظاہرہ کریں۔میڈیارپورٹس کے مطابق محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی شہریوں پر زوردیا کہ وہ اٹلی کے سفر کے وقت زیادہ محتاط رہیں۔ جو لوگ ایران میں ہیں، انھیں بھی مکمل احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ان دونوں ملکوں میں روزانہ کرونا وائرس کے نئے کیس سامنے آرہے ہیں...

امریکا کا اپنے شہریوں کو ایران، اٹلی اور منگولیا کا سفر اختیار نہ کرنے کا مشورہ

جرمن خاتون چانسلر کا جانشین بننے کے لیے مردوں کا مقابلہ وجود - جمعرات 27 فروری 2020

لاشیٹ، میرس، روئٹگن اب تین امیدوار سی ڈی یو کی صدارتی کرسی کے لیے انتخاب لڑیں گے اور اس طرح چانسلر کے امیدوار کے لیے بھی انہی کے مابین مقابلہ ہو گا۔ امریکا اور برطانیہ کے برعکس جرمنی کی سیاست میں کسی ڈرامائی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔ اس بات کا ثبوت اگلے جرمن چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے بعد ایک بار پھر سامنے آ گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 54 سالہ نوربرٹ روئٹگن، 59 سالہ آرمین لاشیٹ اور 64 سالہ فریڈرش میرس کے نام...

جرمن خاتون چانسلر کا جانشین بننے کے لیے مردوں کا مقابلہ

کرونا کا خطرہ، سعودی شہریوں کو ترکی کے سفر سے گریز کی ہدایت وجود - جمعرات 27 فروری 2020

ترکی میں سعودی سفارت خانے نے حال ہی میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سعودی شہریوں کو ترکی کے لیے غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔دوسری طرف ترکی نے کرونا سے متاثرہ ملکوں سے لوگوں کی آمد وفت کے حوالے سے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی میں قائم سعودی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ سعودی شہری کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ترکی کے سفر سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ترکی میں موجود سعودی باشندوں ...

کرونا کا خطرہ، سعودی شہریوں کو ترکی کے سفر سے گریز کی ہدایت

سعودی عرب کرونا وائرس سے محفوظ ہے، وزارت صحت وجود - جمعرات 27 فروری 2020

سعودی وزارت صحت کے ترجمان نے مملکت میں کرونا وائرس کے معاملے کی تشخیص کے بارے میں افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دمام میں کرونا وائرس کی موجودگی کے بارے میں سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔محکمہ صحت کے ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹویٹر پر کسی بھی کسی قسم کی افواہ سے بچنے کے لیے سرکاری اکائونٹ @SaudiMOH937 کو فالو کریں۔ مملکت میں کرونا کے حوالے سے غیر مصدقہ باتوں اور افواہوں پر کان نہ...

سعودی عرب کرونا وائرس سے محفوظ ہے، وزارت صحت

سعودی عرب نے عارضی طور عمرہ زائرین اور مسجد نبوی کی زیارت روک دی وجود - جمعرات 27 فروری 2020

دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ پھیلنے والے کرونا وائرس(کویڈ-19)کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر سعودی عرب کی حکومت نے کرونا سے متاثرہ ممالک سے عمرہ زائرین کی آمد عارضی طور پر روکنے کے ساتھ مسجد نبوی کی زیارت پر بھی پابندی لگا دی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے کرونا سے متاثرہ ملکوں سے سیاحتی ویزوں پر آنے والے شہریوں کو بھی مملکت میں دخلے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاحتی اور عمرہ ویزے جاری کرنے کا عمل روک دیا ہے۔وزارت خارجہ نے ایک یک بیان ...

سعودی عرب نے عارضی طور عمرہ زائرین اور مسجد نبوی کی زیارت روک دی

کرونا وائرس کے باوجود ایرانی علماء مذہبی اجتماعات پر پابندی کے مخالف وجود - جمعرات 27 فروری 2020

ایران میں تیزی کے ساتھ پھیلنے والے کرونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے باوجود ایران کی مذہبی شخصیات نے ملک میں مذہبی اجتماعات پرپابندی کی مخالفت کر دی ۔عرب ٹی وی کے مطابق ایران میں کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر سوشل میڈیا پر ایک مہم جاری ہے جس میں شہریوں سے کہا گیا کہ وہ وائرس کے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے مذہبی اجتماعات میں شرکت سے گریز کریں۔ایک طرف سوشل میڈیا پر شہریوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مذہبی اور سیاسی نوعیت کے اجتماعات میں شرکت نہ کریں اور دوسری طرف ملک کی مذہبی شخصیات نے ب...

کرونا وائرس کے باوجود ایرانی علماء مذہبی اجتماعات پر پابندی کے مخالف

سعودی عرب، سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی وجود - جمعرات 27 فروری 2020

سعودی عرب میں سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب نے ریاض میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزارت سیاحت کے قیام کافرمان جاری کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کی قومی حکمت عملی کا مقصد سیاحوں کو جامع خدمات اور پرکشش سیاحتی پیشکشیں فراہم کرنا ہے ۔ وزارت سیاحت موجودہ اور نئے سرمایہ کاروں کو سیاحتی پروگراموں کے حوالے سے پرکشش ماحول فراہم کرے گی جس کی بد...

سعودی عرب، سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی

بی جے پی غنڈوں کے مسلمانوں پر حملے، 20 افراد جاں بحق ،150 زخمی وجود - بدھ 26 فروری 2020

نئی دہلی میں بھارتی انتہاپسندوں اور مودی سرکار کے گٹھ جوڑ نے مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی، بلوائیوں کے حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 20ہو گئی، 150افراد زخمی ہیں،نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ نے فوج طلب کرنے کیلئے وزارت داخلہ کودرخواست کر دی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نئی دہلی کے مسلمانوں پر قیامت کی گھڑی، بلوائیوں اور سرکاری اہلکاروں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ، مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ، حملوں میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 20جبکہ 150 زخمی ہیں، انتہاپ...

بی جے پی غنڈوں کے مسلمانوں پر حملے، 20 افراد جاں بحق ،150 زخمی