وجود

... loading ...

وجود

حکومت کی جانب سے عوامی بہبود کا بجٹ پیش کرنے کی یقین دہانی

منگل 02 مئی 2017 حکومت کی جانب سے عوامی بہبود کا بجٹ پیش کرنے کی یقین دہانی

قبل از وقت انتخابات کے خدشات کے پیش نظر حکومت اس سال بجٹ میں ملک کے غریب عوام کو بھی کچھ ریلیف دینے کی کوشش کرسکتی ہے،ماہرین کا تجزیہ ‘ معاشی ترقی کے لیے ملک کے تمام شعبوں کو ساتھ لے کر چلنا بہت ضروری ہے لیکن حکومت کے بھاری قرضوں کی وجہ سے عوام زیادہ توقعات وابستہ نہ کریں

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روزایک بیان میں یقین دلایاہے کہ نئے مالی سال کابجٹ عوامی بہبود اورپائیدار ترقی کا بجٹ ہوگا۔وزیر خزانہ کی اس یقین دہانی کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب حکومت کو انتخابات سامنے نظر آرہے ہیں اور اگرچہ حکومت کااصرار ہے کہ انتخابات 2018ء ہی میں کرائے جائیں گے لیکن ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر محسوس یہی ہوتاہے کہ حکومت کو کسی بھی وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کرنے پر مجبورہونا پڑسکتاہے ۔ ایسی صورت میں اگر حکومت نے گزشتہ روایات کے مطابق بجٹ میں عام آدمی کو نظر انداز کرکے محض دولت مندوں کو خوش کرنے پر ہی توجہ مرکوز رکھی تو عام انتخابات میں عوام کی جانب سے انہیں نظر انداز کیے جانے کے خدشات موجود ہوں گے اور حکومت یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کو بھی اسی صورت حال کاسامنا کرنا پڑے ،گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی جس صورت حال کاسامنا کرچکی ہے۔
تاریخی ریکارڈ یہی ہے کہ مستحکم پالیسیوں کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں ہوتی اور معاشی ترقی کے لیے کفایت شعاری کی راہ اختیار کرنا ضروری ہوتاہے۔اب یہ بات زیادہ واضح ہوکر سامنے آچکی ہے کہ معاشی ترقی کے لیے ملک کے تمام شعبوں اور حلقوں کو ساتھ لے کر چلنا بہت ضروری اور اہم ہے۔اس کے علاوہ پائیدار ترقی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دولت کو صرف چند ہاتھوں تک مرتکز رکھنے کی کوشش کرنے کی پالیسیوں میں تبدیلی لائی جائے اور غربت کے خاتمے کے لیے حقیقی معنوں میں بھرپور کوششیں کی جائیں کیونکہ غربت کے خاتمے کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور ناممکن ہے۔
اس وقت حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ملک کی بیرونی تجارت کی رفتار عالمی سطح پر معاشی پھیلائو کی شرح کے مقابلے میں بہت کم ہے اور ہماری مقامی تجارت بڑی حد تک ملکی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہوتی جارہی ہے۔یہ صحیح ہے کہ نت نئی اشیا مارکیٹ میں آجانے ،بینکوں کی جانب سے صارفین کی اشیا کی خریداری کے لیے قرضوں کی فراخدلانہ فراہمی اور سی پیک منصوبوں کی وجہ سے ملک میں روزگار کی صورتحال میں معمولی سی بہتری آجانے کی وجہ سے ملکی طلب میں اضافہ ہورہاہے جس کی وجہ سے ملکی سطح پر تجارت پھل پھول رہی ہے۔اس صورت حال میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے یہ بیان کہ 2017-18 ء کا مالی بجٹ عوامی بہبود کا بجٹ ہوگا، اس بات کااشارہ ہے کہ حکومت اس سال بجٹ میں اس ملک کے غریب عوام کو بھی کچھ ریلیف دینے کی کوشش کرسکتی ہے، اگرچہ ہر سال بجٹ سے قبل ہمارے وزیر خزانہ اسی طرح کے بیانات دے کر عوام کو بہلانے کے بعد ان پر بجٹ کابم گراتے رہے ہیںجس کی وجہ سے عوام اب ان کے اس طرح کے بیانات پر یقین کرنے کو مشکل ہی سے تیار ہوں گے، لیکن مذکورہ بالا صورت حال اور جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ قبل ازوقت عام انتخابات کے قوی امکانات کی وجہ سے ظاہرہوتاہے کہ اگر وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم چاہے تو نئے مالی سال کے بجٹ میں عوام کو کسی حد تک ریلیف دے سکتی ہے لیکن مذکورہ بالا عوامل کے باوجود عوام کو نئے مالی سال کے بجٹ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ حکومت کی جانب سے لیے جانے والے بڑے پیمانے پر ملکی اور غیرملکی قرضوں پر سود یا منافع اور سروسز کی ادائیگی اوردفاعی تیاریوں کے لیے بھی حکومت کو بھاری رقوم کی ضرورت ہوگی اور ان کی ادائیگی کے لیے وسائل مختص کیے جانے کے بعد حکومت کے پاس عوام کودینے کے لیے بہت کم کچھ باقی بچے گا۔
اس پوری صورت حال کے باوجود حکومت اور خاص طورپر ہمارے وزیر خزانہ کو بجٹ تجاویز کو آخری یا حتمی شکل دیتے ہوئے یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ انتخابات کے موقع پر اس دفعہ لوڈ شیڈنگ اورمہنگائی سے پریشان پاکستان کے عوام بھی امریکی اور برطانوی عوام کی طرح ووٹ دیتے وقت حکومت کی اقتصادی کارکردگی اور حکومت کی جانب سے عوام کو فراہم کی جانے والی حقیقی سہولتوں کو ضرور مد نظر رکھیں گے اور اب ان کو بھاری منصوبوں کی تصاویر دکھا کر فریب دینا ممکن نہیں ہوسکے گا۔اس صورت حال میں حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ قرض دینے والے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اپنے وعدوں کی تکمیل کے ساتھ ہی ملک کے پریشان حال عوام کی دادرسی کا بھی مناسب انتظام کرے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے شروع کیے گئے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد پر اپنا ووٹ بینک برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی اور اگر پنجاب کے عوام مسلم لیگ ن کے امیدواروں کوووٹ دیں گے تو اس کا کریڈٹ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو جائے گا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اگر یہ سوچ کر کہ پنجاب سے توشہباز شریف کی کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان مسلم لیگ ن کو ووٹ مل ہی جائیں گے اور چونکہ پنجاب اکثریتی صوبہ ہے اس لیے پنجاب سے ملنے والی نشستوں کی بنیادپر پاکستان مسلم لیگ ن ایک دفعہ پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی تو یہ ان کی بھول ہوگی ،کیونکہ اگر انہوںنے نئے مالی سال کے بجٹ میں غریب عوام کی مشکلات ومصائب میں کمی کرنے پر توجہ دینے کے بجائے ان پر مزید ٹیکس لاد کر زیر بار کرنے کی کوشش کی تو پنجا ب میں شہباز شریف کی جانب سے کرائے گئے ترقیاتی کاموں پر بھی پانی پھر جائے گا اور حکومت کو ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ اسحاق ڈار کو اس بات کا یقیناً اچھی طرح احساس ہوگا کہ اب صرف خواجہ سعد رفیق اور عابد شیر علی جیسے مولاجٹ قسم کے رہنمائوں کی لفاظیوں اور لن ترانیوں کے بل پر انتخابات جیتنا ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کے دعووں کی ثبوتوں کے ساتھ تردید کرنے کے لیے مضبوط اپوزیشن ان کے سامنے ہوگی۔
اسحاق ڈار اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہوں گے اور انہوںنے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کامطالعہ کرلیا ہوگا جس میں یہ واضح کیاگیاہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں غربت کے خاتمے یا غریبوں کی امداد کے لیے سرکاری طورپر خرچ یا فراہم کی جانے والی رقم کی
شرح گزشتہ پانچ سال کی کمترین شرح پر آچکی ہے، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2012-13 ء کے دوران غربت کے خاتمے کے لیے مختص کی جانے والی رقم مجموعی ملکی پیداوار 9.7 فیصد کے مساوی تھی جو کہ 2015 ء کے دوران کم ہوکر 7.9 فیصد رہ گئی تھی اور 2016 ء کے دوران مزید کم ہوکر3.8 فیصد رہ گئی تھی۔
اسحاق ڈار اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہوں گے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے بے گھر اور کم وسیلہ لوگوں کو سر چھپانے کے لیے کم لاگت کے مکانوں کی فراہمی کے اعلانات اور وعدوں کے باوجود ملک میں کم لاگت کے مکانوں کی تعمیر کے لیے سرکاری سطح پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیاگیا۔اسی طرح 2016ء تک کے اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ حکومت کی جانب سے دیہی عوام کی حالت بہتر بنانے کے بلند بانگ دعووں کے باوجود دیہی ترقی پر بھی کوئی توجہ دینا ضروری تصور نہیں کیا گیا۔ ایسی صورت میں وزیر اعظم اور ان کی ٹیم دیہی علاقوں کے عوام سے کس بنیاد پر ووٹ مانگنے ان کے پاس جائے گی ۔
یہ وہ حقائق ہیں بجٹ کو حتمی شکل دیتے وقت وزیر خزانہ کو جن کو مد نظر رکھنا چاہیے اور بجٹ اس طرح تیار کرنا چاہیے کہ اس میں معاشرے کے تمام طبقوں کی اشک شوئی کاسامان ہوسکے اورحکومت کو خالی ہاتھ عوام کے سامنے جانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر