وجود

... loading ...

وجود

ہم اپنے بچوں کو پولیو کے قطروں کی شکل میں زہرتو نہیں پلارہے ؟

بدھ 26 اپریل 2017 ہم اپنے بچوں کو پولیو کے قطروں کی شکل میں زہرتو نہیں پلارہے ؟

پاکستان میں ڈرگ ایکٹ تو بنا ہوا ہے لیکن اس کے لیے ملک بھر میں کوئی ایک بھی اپ گریڈڈ لیبارٹری موجود نہیںجہاں انکا معیار ٹیسٹ کیا جاسکے جس طرح ماتا(چکن پوکس) اور دیگر بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ ہوا اسی طرح پولیو کا خاتمہ بھی ضروری ہے،لیکن کسی کو بھی نہیں پتہ کہ ان قطروں میں کیا ہے

پوری دنیا کا ایک اصول ہوتا ہے کہ کوئی بھی دوائی اگر بنتی ہے تو اس کو دنیا بھر میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور پھر اس کے فائدوں اور مضمرات پر بحث ہوتی ہے اور آخر میں ایک متفقہ فیصلہ کیاجاتا ہے، ایسا بھی ہوا کہ اگر کسی دوائی پر کسی نے تجربہ کیا اور قابل استعمال ہونے کاسرٹیفکیٹ دیا لیکن دس سال بعد کسی تجربہ کی روشنی میں اس دوائی میں تبدیلی کی گئی تو اس کو خوش دلی سے قبول کیاگیا کیونکہ یہ انسانی صحت کا معاملہ ہے۔ پاکستان میں بھی ڈرگ ایکٹ 1967ء میں بنا ہوا ہے لیکن آج تک اس ڈرگ ایکٹ پر عمل نہیں کیا جاتا۔شاید اس ایکٹ کے تحت اب تک کسی ایک بھی دوائی کو ٹیسٹ نہیں کیاگیا۔
پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ ڈرگ ایکٹ تو بنا ہوا ہے لیکن اس کے لیے ملک بھر میں کوئی ایک بھی اپ گریڈڈ لیبارٹری موجود نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا بھلا کیا جاتا ہے ان کو نزلہ بھی ہو تو وہ امریکا یا برطانیہ میں علاج کرانے چلے جاتے ہیں، ان کے بچے بیرون ملک سے نہ صرف تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ وہ بیرون ملک میں اپنا علاج بھی کراتے ہیں ۔پاکستان میں پولیو کی مہم کو اس وقت مشکوک سمجھاگیا جب خیبرپختونخوا کے ایک سرکاری ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جعلی پولیو مہم چلائی اور ایبٹ آباد کے ایک گھر کے بچوں کا پولیو ٹیسٹ کرایا اور ان بچوں کا ٹیسٹ اساما بن لادن سے میچ کرگیا اور پھر یکم مئی کی شب امریکی طیاروں نے رات کی تاریکی میں ایبٹ آباد کے اس گھر پر حملہ کرکے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کو ماردیا لیکن آج تک اس آپریشن کی ویڈیو بھی منظر عام پر نہیں لائی گئی اور ان کے جسدخاکی کی تدفین کو بھی منظر عام پر نہیں لایاگیا۔اس آپریشن کے بعد وفاقی حکومت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتارکیا جو تاحال پشاور جیل میں بند ہے۔
ڈاکٹرشکیل آفریدی کے اس اقدام کے بعد ملک بھر میں پولیو ورکرز پر230حملے ہوئے اور اب تک اس میں280افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام سے اپیل کررہی ہیں کہ وہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں، محترمہ بینظیربھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری پولیومہم کی نگراں چیئرپرسن اور سفیر ہیں۔ سیاسی پارٹیاں بھی عوام سے اپیل کررہی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں اور ان کو معذور ہونے سے بچائیں۔ یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی ہے کیونکہ جس طرح ماتا(چکن پوکس) اور دیگر بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ ہوا ہے اسی طرح پولیو کا بھی خاتمہ ضروری ہے۔ پولیس‘ رینجرز‘ پاک فوج نے اس پر سیکورٹی پلان بنائے ہیں اور اب ان کی سیکورٹی ایس او پی میں پولیو بھی شامل ہے لیکن کسی کو بھی پتہ نہیں ہے کہ پولیو کے قطروں میں کیا ہے؟ پانی ہے‘ زہر ہے‘ کیمیکل ہے‘ خطرناک اجزا ہیں‘ دیگر خطرناک بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہیں؟ پاکستان میں کسی کو بھی اس کا کوئی تسلی بخش علم نہیں ہے۔ یہ اس ملک کے18کروڑ عوام کے ساتھ عجب تماشا ہے۔ پولیو کے قطروں کی آج تک اس ملک میں کوئی تحقیقات نہیں ہوئی ہے۔پاکستان کو90فیصد پولیو کی ویکسین اور قطرے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن فراہم کرتی ہے اور10فیصد ویکسین اور قطرے حکومت پاکستان خریدتی ہے لیکن آج تک کسی حکومتی ادارے نے عالمی ادارہ صحت کے فراہم کردہ قطروں اور ویکسین کا لیبارٹری سے ٹیسٹ کرایا ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت نے جو دس فیصد ویکسین اور قطرے خریدتی ہے اس کی کسی لیبارٹری سے ٹیسٹ تصدیق کرائی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان ہمارے لاکھوںبچوں کی زندگیوں کے ساتھ یا تو کھیل رہی ہے یا پھروہ اس کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل ناکام ہے۔
ہم یہاں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بیماری کوئی بھی ہو اس کا علاج کرانا ضروری ہے اور پولیو ایک مہلک بیماری ہے جس کا علاج کرانا لازم ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ادویات بچوں کو دی جارہی ہیں اس کے بارے میں کسی حکومتی ادارے کو پتہ نہیں ہے ہم یہاں حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ کر پوچھ رہے ہیں کہ کہ اگر ہم کوئی دوائی تیار کریں اور یورپ کو فروخت کریں، کیا یورپ کے لوگ اس دوائی کو بغیر ٹیسٹ کیے استعمال کرسکیں گے؟ پہلی جنگ عظیم سے پہلے ہی یورپ نے یہ فیصلہ کرلیا تھاکہ غریب اور پسماندہ ممالک میں وہ ادویات فراہم کی جائیں گی جو وہاں بیماریاں کم کرنے کے بجائے بیماریوں میں اضافہ کریں گی اور آج سائنسی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اکثر ادویات جن بیماریوں کے خاتمہ کے لیے فروخت کی جاتی ہیں اصل میں وہی ادویات ان بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ ملک کے نونہالوں پر رحم کرے اور فوری طور پرملک کے اندر عالمی معیار کی جدید لیبارٹری قائم کرے اور اس لیبارٹری میں ایسی تمام ادویات کو ٹیسٹ کرے تاکہ پتہ چل سکے کہ ہم جو ادویات بیماریوں کے خاتمہ کے لیے استعمال کررہے ہیں وہ واقعی ان بیماریوں کے خاتمہ کے لیے ہیں یاان بیماریوں میںاضافہ کا سبب بن رہی ہیں؟ پولیو جیسی بیماری کے خاتمہ کی ادویات کو بھی ٹیسٹ کرایاجائے ،کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ دوائی بیماریوں کی محرک بن جائے!


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں وجود اتوار 15 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں

اگلے ہدف کی بازگشت وجود اتوار 15 مارچ 2026
اگلے ہدف کی بازگشت

بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر