... loading ...

ایپکس کمیٹی کے پچھلے سال کے اجلاسوں میں جب شکار پور اور جیکب آباد میں خودکش حملوں پر بات ہوئی تھی تب تحقیقاتی اداروں کی رپورٹوں میں حملہ آوروں کا کہیں نہ کہیں کسی مدرسے سے تعلق ضرور نکل آیا۔ تب ایپکس کمیٹی نے ایک مشترکہ سروے کرانے کا حکم دیا ،پھر پولیس‘ رینجرز اور حساس اداروں نے ملکر ملک بھر کا سروے کرایا اور 95 مدارس کو مشکوک قرار دیا۔ اس میں 81 مدارس کا تعلق سندھ سے اور 14 مدارس کا تعلق دیگر تین صوبوں سے تھا۔ یہ فہرست مرتب کرکے ایپکس کمیٹی میں پیش کی گئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو لکھا جائے گا ۔پھر حکومت سندھ نے اس فیصلے کی روشنی میں وفاقی وزارت داخلہ کو لیٹر لکھ کر ایپکس کمیٹی کے فیصلے کے تحت سفارش کی کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔لیٹر اسلام آباد پہنچنا تھا کہ آگ لگ گئی ،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی کہ حکومت سندھ اپنے صوبے کے مدارس کے خلاف کارروائی کر بھی سکتی ہے اور وفاقی حکومت سے سفارش بھی کرسکتی ہے مگر دوسرے صوبوں کے مدارس کے لیے کارروائی کی سفارش کرنا اس کا دائرہ اختیار نہیں ۔ اس طرح وفاقی وزارت داخلہ نے حکومت سندھ کو ساتھ ہی لیٹر بھی لکھ دیا کہ دوسرے صوبوں کے لیے وہ سفارشیں نہیں کرسکتی۔ اس پر حکومت سندھ نے ایپکس کمیٹی اور دیگر تین صوبوں کی سفارشات سے بھی آگاہ کیا اور اس لیٹر کا جواب الجواب لکھ کر وفاقی وزارت داخلہ کو بھیج دیا مگر تاحال وفاقی وزارت داخلہ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ حکومت سندھ کا واضح موقف تھا کہ افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار صوبوں کو ہے جبکہ اداروں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے جیسے پرویز مشرف کے دورمیں 26 سے زائد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرکے ان پر پابندی عائد کی گئی تھی ، اب بھی وہی طریقہ کار اختیار کیا جائے مگر وفاقی حکومت نے چپ سادھ لی۔ اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جب حکومت سندھ نے بار بار رابطے کیے تو وفاقی وزارت داخلہ نے زبانی جواب دیا کہ حکومت سندھ کی درخواست کو داخل دفتر کردیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار قطعی طورپر مشکوک مدارس پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں ہیں اور اب انہوں نے حکومت سندھ کو پیغام بھیجا ہے کہ وفاقی حکومت صرف تشدد میں ملوث تنظیموں پر پابندی عائد کرسکتی ہے، وفاقی حکومت کسی ادارے یا مدرسہ کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی اور ایسا کوئی قانون بھی نہیں ہے۔ دوسری جانب فروری 2017 میں کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے ایک رپورٹ صوبائی محکمہ داخلہ اور وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کی ہے جس میں ایک مرتبہ پھر آگاہ کیا گیا ہے کہ 95 مدارس مشکوک ہیں، خودکش حملہ آوروں کا ان سے کہیں نہ کہیں ضرور تعلق نکلتا ہے اس لئے ان پر پابندی عائد کی جائے۔ لیکن وفاقی وزارت داخلہ قطعاً اس موڈ میں نہیں ہے کہ ان مدارس کے خلاف کارروائی کرسکے کیونکہ وفاقی حکومت کی پالیسی مدارس کے حوالے سے کچھ نرم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چار ماہ سے وفاقی حکومت اور حکومت سندھ کے درمیان تنازع برقرار ہے ۔حکومت سندھ اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے قطعی تیار نہیں ہے اور وفاقی وزارت داخلہ بھی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔ تاہم یہ امر بھی قابل غور ہے کہ وزیراعظم نے ابھی تک مداخلت نہیں کی۔اگروہ حکومت سندھ اور وفاقی وزارت داخلہ کے حکام کو طلب کرکے ان کا موقف سنتے اور ایک فیصلہ کرلیتے تو اس سے کم از کم تنائو والی صورتحال ختم ہوجاتی۔ اب حکومت سندھ نے قانونی مشیروں سے صلاح مشورے شروع کیے ہیں کہ کیا اس ایشو کو اب مشترکہ مفادات کی کونسل میں اٹھایا جائے یا نہیں؟ یا پھر وزیراعظم کو براہ راست خط لکھ کر درخواست کی جائے کہ وہ مداخلت کرکے اس ایشو پر اپنا کردار ادا کریں لیکن حکومت سندھ نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ پر کیا اقدام اٹھانا چاہئے؟
وفاقی وزارت داخلہ اور حکومت سندھ کے سخت موقف کے باعث صورتحال پیچیدہ بن گئی ہے، حال ہی میں سیہون میں خودکش حملہ کے بعد جو تحقیقات کی گئی ہے اس میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ شکار پور اور ضلع نوشہرو فیروز کے دو مدارس میں اس حملہ کی منصوبہ بندی کی گئی ،اس طرح حکومت سندھ کا موقف مضبوط ہو گیا ہے، اب حکومت سندھ کی منطق ہے کہ اس کے باجود اگر وفاقی وزارت داخلہ اپنی ضد پر قائم رہی تو پھر حکومت سندھ کے لیے باقی جو آپشنز بچتے ہیںاس پر عمل کیا جائے گا۔تاہم اس میں ٹکرائو بڑھنے کاخدشہ ہے اور پھر کسی کی جیت یا ہار کا فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ امن وامان تہہ وبالا ہوجائے گا جو ملک کے لیے اچھاثابت نہیں ہوگا۔
وزیر اعلیٰ کی گزشتہ ایک ہفتے میںگورنر خیبر پختونخوا کیساتھ مسلسل تین اہم ملاقاتیں،مولانا فضل الرحمان سے تبادلہ خیال،اپوزیشن کا ممکنہ اتحاد آئینی ترمیم کی راہ میںبڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان یکساں موقف اختیار کرنے کی کوشش ، دونوں جماعتیںکافی حد تک قریب آچکی ہ...
3 جوان زخمی ،سیکیورٹی فورسز کا میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پولیس اور دہشتگردوںمیں فائرنگ کا تبادلہ،متعدد خوارج کے زخمی ہونے کی اطلاعات بنوں کے علاقے میریان میں خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں 15 دہشت گرد مارے گئے، 2 پولی...
دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی کا مختلف شہروں میں آپریشن لاہور سے فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد مختار گرفتار،دھماکہ خیز موادبرآمد دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 58 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13 دہشت گرد گرفتار کر لئے ۔سی ...
جنگ دوبارہ کرنی یا نہیں، اتوار تک فیصلہ کرینگے،دو چیزیں ہوسکتی ہیں اچھی ڈیل یا شدید بمباری صرف ایسا معاہدہ قبول کروں گا جس میں یورینیم افزودگی اور ذخیرے کا معاملہ حل ہو، صدر کی گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل کا ففٹی ففٹی چانس ہے، جنگ دوبارہ کرنی یا...
سابق وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا، عدالت میں پٹیشن دائر کی جا رہی ہے، بانی کو سائفر کیس میں بیرونی سازش کا نشانہ بنایا گیا ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان کی رہائی ،موجودہ حکمرانوں نے ملک کو مہنگائی، بدامنی،بے یقینی کی ...
ایران امریکا تنازع پرپاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی؟ ایران امریکا معاہدے کا 9 نکاتی مسودہ سامنے آگیا،جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں میں نرمی اور یورینیم تنازع پر تجاویز شامل دونوں فریقین فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے، ابتدائی م...
سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مختلف عدالتوں میں پیش عدالت نے تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ سنایا،وکیل ملزمہ پنکی منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو قتل اور منشیات کے مجموعی طور پر 18 مقدمات میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرکے مخ...
امریکا کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ موصول نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر سمجھوتہ نہیں کرے گا،ہفتہ وار بریفنگ پاکستان نے ایران پر ممکنہ حملے کیلئے امریکا کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا ہے۔اسلام ا...
ایران کا افزودہ یورینیم امریکا کیساتھ کسی بھی امن معاہدے میں سب سے اہم مسئلہ ہے ایران کے پاس موجود 441 کلوگرام یورینیم 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے،جوئی ہڈ امریکا کے محکمہ خارجہ میں ایرانی امور کے سابق قائم مقام سربراہ جوئی ہڈ نے کہا ہے کہ ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم ا...
کسی شرپسند کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشتگردوں کیخلاف جنگ پوری قومی قوت اور بھرپور عزم کیساتھ جاری رہے گی شہداء اور غازی اس قوم کا دائمی فخر ہیں،سید عاصم منیرکاجی ایچ کیو میں فوجی اعزازات کی تقریب سے خطاب،50 اف...
اسپن وام میں سکیورٹی فورسزکا آپریشن،زیر زمین بنکر، سرنگیں، بارودی جال بچھا رکھا تھا خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت پ...
چینی بھائیوں کیلئے اعلیٰ ترین پیمانے کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے شہبازشریف کا پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام ، مبارکباد پیش وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون ...