وجود

... loading ...

وجود

شہر کی سڑکوں پر تجاوزات کی بھرمار ۔۔۔خاتمے کا خواب پورا ہوگا؟

پیر 13 مارچ 2017 شہر کی سڑکوں پر تجاوزات کی بھرمار ۔۔۔خاتمے کا خواب پورا ہوگا؟

پاکستان کے لئے 70 فیصد ریونیو اکٹھا کرنے والا میگا سٹی جس کی آبادی ڈھائی کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے یہاں کے مسائل میں مسلسل اضافے کی وجوہات ارباب اختیار کی عدم دلچسپی اور سیاسی مفادات کا حصول ہے جو مسائل کے سدباب میںبڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ انہی مسائل میں ایک بڑا مسئلہ اس شہر کی مرکزی سڑکوں‘ فٹ پاتھوں، مارکیٹوں اور بازاروں میں سیاست اور طاقت کی بنیاد پر قائم تجاوزات ہیں ۔
کچھ عرصہ قبل تک تجاوزات کے قیام میں لسانی سیاسی کارکنوں کے ملوث ہونے کے باعث متعلقہ انسداد تجاوزات کے ادارے اپنے امور کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں پھر اپنی ناکامی پر خاموش بیٹھنے ،یا فرائض ادا کرنے کے بجائے سرکاری اہلکار اور افسران نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کردیئے اور لسانی سیاسی رہنمائوں کی سرپرستی کرتے ہوئے خود ہی تجاوزات کے قیام میں کردار ادا کرنا شروع کردیا ۔اب جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ انسداد تجاوزات کہیں کارروائی کی کوشش کرتا ہے تو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے کسی رہنما کا سفارشی یا دھمکی آمیزفون آجاتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے بعض علاقائی رہنما یا کارکنان تجاوزات کے قیام میں ملوث ہیں تاہم وہ اسے کھیل کود سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں اور اپنے کارکنان کو کھلی شہہ دے کر آزاد چھوڑ دیتے ہیں ۔اس سے یہ ہوتا ہے کہ پھر شہر کی یہ مرکزی سڑک اور تجارتی مراکز میں ٹریفک کی روانی تو دور کی بات ہے پیدل چلنا بھی محال ہوجاتا ہے ۔یہ تجاوزات شہریوں کی جان کا بھی دشمن ہے کیونکہ اس سے اکثر ٹریفک جام رہتا ہے اور اس ٹریفک جام میں اکثر ایمبولینس میں سفر کرنے والے مریض بلاوجہ تاخیر سے اسپتال پہنچائے جاتے ہیں جس سے ان کی موت یا تو راستے میں یا پھر اسپتال پہنچ کر واقعہ ہوجاتی ہے۔ تجاوزات تعمیر وترقی کے دشمن بھی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ بدترین ٹریفک جام کے باعث لوگ اپنی منزل مقصود پر انتہائی تاخیر سے پہنچتے ہیں اور ضروری کام رک جاتے ہیں۔ شہر بھر کے مختلف علاقوں جن میں سب سے اہم صدر سمیت اولڈ سٹی ایریا‘ نیو ایم اے جناح روڈ‘ گولیمار‘ لیاقت آباد‘ حسین آباد‘ گلشن اقبال‘ گلستان جوہر‘ لانڈھی‘ کورنگی‘ شاہ فیصل کالونی‘ لیاری‘ اورنگی ٹائون‘ نیو کراچی‘ ناظم آباد‘ سرجانی سمیت مختلف علاقوں میں مرکزی و ذیلی سڑکوں اور مارکیٹوں میں اس قدر تجاوزات قائم ہیں کہ پیدل چلنا مشکل ہوگیا ہے بعض مقامات پر تو آر سی سی دکانیں ،مارکیٹیں بنادی گئی ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق متعلقہ محکمے کے اہلکار جن میں علاقہ پولیس کا سب سے زیادہ کردار ہوتا ہے پورے شہر سے ماہانہ 30 تا 50 کروڑ روپے ٹھیلے‘ پتھاروں‘ اسٹالوں‘ ہوٹلوں‘ ریستورانوں‘ باربی کیو سے متعلقہ محکموں کے اہلکار وصول کرتے ہیں یہی رقم جمع ہوکر اعلیٰ پولیس اور انتظامیہ کے ضلعی افسران تک پہنچتی ہے جبکہ یہ اعلیٰ افسران ہر ماہ ایک موٹی رقم اپنے سرپرست سیاسی شخصیات کو پہنچاتے ہیں جو ان کی تقرری کے لئے سفارشیں کرتے ہیں ۔تجاوزات کے قیام میں شامل لوگ تجاوزات مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں جن کے خاتمے کی ہر کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔ حکومتی سطح پر انسداد تجاوزات کے ایم سی کو مجسٹریسی اختیارات نہ دیئے جانے کے باعث وہ کوئی بھی سخت کارروائی کرنے سے قاصر ہیں کئی مقامات پر قبضہ اور تجاوزات مافیا کے کارندوں نے نہ صرف مسلح مزاحمت کی ہے بلکہ براہ راست فائرنگ کرکے کئی سرکاری ملازمین اور افسران کو قتل بھی کردیا ہے۔ حکومت اس حوالے سے مربوط قانون سازی بھی نہیں کرتی کہ جس میں متعلقہ محکموں کو نہ صرف مجسٹریسی اختیارات ملتے ہوں بلکہ سخت سزائیں اور جرمانے بھی نافذ کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف تجاوزات کی روک تھام ہوگی بلکہ سخت سزائوں اور جرمانوں سے تجاوزات مافیا کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا شہر کی خوبصورتی تجاوزات کے باعث ختم ہوکر رہ گئی ہے حکومت اگر سنجیدہ ہے تو سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس شہر کی ڈھائی کروڑ آبادی کو تجاوزات سے آزادی دلانا بہت ضروری ہوچکا ہے اگر اس کے لئے گرینڈ آپریشن اور رینجرز کی خصوصی طورپر خدمات بھی حاصل کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے تو تجاوزات ختم ہوسکتی ہیں۔

مافیا کے آگے ڈی آئی جی ٹریفک اور کمشنر کراچی بھی بے بس

ضلع جنوبی کا اہم تجارتی مرکز صدر عرصہ دراز سے تجاوزات میں گھرا ہوا ہے جس کی وجہ سیاسی ولسانی بنیاد پر قائم کی گئی تجاوزات ہیں اور ٹریفک جام کی صورتحال ہر وقت موجود رہتی ہے ڈی آئی جی ٹریفک نے اس حوالے سے کمشنر کراچی کو خط لکھا تھا اور کمشنر کراچی نے تجاوزات کے خاتمے کے لئے 28 فروری 2017 کو ضلع جنوبی خصوصاً صدر سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے آئینی ٹاسک فورس کوبااختیار بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا ،مختلف 6 متعلقہ محکموں کے سربراہان کو رکن بنایا گیا تھا جبکہ سربراہ ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی رفیق قریشی کو بنایا گیا تھا ۔تاہم رفیق قریشی مصلحت پسندی کے باعث اب تک ٹاسک فورس کا اجلاس طلب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سے قبل کئی اعلیٰ حکام جن میں سابق کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے بھی صدر کو ہاکر فری زون اور پبلک ٹرانسپورٹ فری زون بنانے کی کوشش کی تھی تاہم بات پھر وہی ہے کہ جن کے پاس مجسٹریسی پاور ہیں وہ شہر میں کسی بھی تجاوزات کے خاتمے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے اور جن کو تجاوزات کے خاتمے کا محکمہ دیا گیا ہے ان کے پاس مجسٹریسی اختیار نہیں ہے۔ اس عدم توازن کے باعث ہر طرف تجاوزات ہیں اور صدر سے تجاوزات کے خاتمے میں ڈی آئی جی ٹریفک اور کمشنر کراچی اعجاز احمد خان کی سنجیدہ کوشش کو بعض مفاد پرست افسران ناکام بنارہے ہیں۔

عمران علی شاہ


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر