وجود

... loading ...

وجود

وفاقی وزیر خزانہ اپنے خاندان کی دولت وطن واپس لاکر ابتدا کیوں نہیں کرتے؟

هفته 11 مارچ 2017 وفاقی وزیر خزانہ اپنے خاندان کی دولت وطن واپس لاکر ابتدا کیوں نہیں کرتے؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ سوئٹزرلینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کے بارے میں معلومات دینے پر تیار ہو گیا ہے اور اس حوالے سے معاہدے پر دستخط کے لیے ایک وفد 21 مارچ کو سوئٹزرلینڈ جائے گا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان 2005ء سے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کررہا ہے، سوئٹزرلینڈ نے معاہدے کے عوض ٹیکسوں میں مراعات اور خود کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ مانگاتھا، تاہم پاکستان نے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیااوراب سوئٹزرلینڈ نے ہماری شرائط پر دوبارہ معاہدے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ وزیر خزانہ نے اجلاس کویہ بھی بتایا کہ پاکستان 14 ستمبر 2016ء کو آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) کے ساتھ ٹیکس معاملات کے حوالے سے ایک کنونشن (Multilateral Convention on Tax Matters) پر بھی دستخط کرچکا ہے، جو اگلے برس فعال ہوگا۔پاکستان او ای سی ڈی کا 104 واں رکن ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کنونشن کے فعال ہونے کے بعد رکن ممالک میں ٹیکس چوری کے پیسے رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔واضح رہے کہ سوئٹرز لینڈ کو دنیا بھر کے لوگ اپنے اپنے ممالک سے کرپشن ، ٹیکس چوری اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن چھپانے کے لیے پسند کرتے ہیں اور وہاں کے بینک اس حوالے سے عالمگیر شہرت رکھتے ہیں۔2015ء میں جرمنی کے ایک اخبار کے تفتیشی رپورٹر کو کسی نامعلوم ذریعے نے، جس نے اب تک سامنے آنے کی جرأت نہیں کی ہے، سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں موجود کالے دھن اور اس کی مدد سے پانامہ میں قائم کی گئی آف شور کمپنیوں کے بارے میں خفیہ ڈیٹا فراہم کردیا یہ ڈیٹا اتنا زیادہ تھا کہ اس رپورٹر کو اس کی چھان بین اور اس کے قابل اشاعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹ نامی ایک امریکی صحافتی گروپ کی مدد حاصل کی، جس کے بعد مختلف بین الاقوامی شہرت کے اخبارات کے ساتھ مل کر پانامہ یپرز کا انکشاف کیاتھا ،سوئٹزرلینڈ کے بینک کے افشا ہونے والے راز وں سے ظاہر ہوتاہے کہ اس میں اپنی دولت رکھنے کے حوالے سے پاکستان 48 واں بڑا ملک ہے۔دوسری جانب گزشتہ برس سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک (سوئس نیشنل بینک) کی جانب سے جارہ کردہ سوئس بینکوں کے سالانہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہریوں کے تقریباً 1.5 ارب سوئس فرانکس سوئس بینکوں میں موجود ہیں اور اس اعتبار سے پاکستان کا 69 واں نمبر ہے۔
پانامہ پیپرز کے انکشاف کے بعد پوری دنیا میںہلچل مچ گئی تھی، یہاں تک کہ اس وقت کے برطانیہ کے وزیر اعظم کو بھی اپنے حسابات کے گوشوارے عوام کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہونا پڑاتھا ، پانامہ پیپرز میں وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں اور چہیتی بیٹی کانام بھی آیاتھا ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اس حوالے سے اطمینان بخش وضاحت پیش کرتے لیکن وزیر اعظم نے ایسا کرنے کے بجائے خود کو اس تمام معاملے سے بری الذمہ اور پارسا ثابت کرنے کے لیے پہلے قومی اسمبلی کے فلور پر غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے عوام کے غم وغصے کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن اپوزیشن اس پر مطمئن نہیں ہوئی۔ نتیجتاً یہ تمام معاملہ سپریم کورٹ لے جایاگیا جہاں فریقین کے بیانات اور دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیاجاچکا ہے۔ اس لیے اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا نہ صرف قبل از وقت ہوگا بلکہ عدالتی معاملات پر قیاس آرائی صحافتی اقدار کے بھی منافی ہوگی ۔ اس لیے اس معاملے کو عدالتی فیصلے تک مؤخر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سے یہ سوال تو کیاجاسکتاہے کہ اگرچہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سوئٹزرلینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کے حوالے سے تفصیلات اور معلومات فراہم کرنے پر تیار ہوگیاہے اور اس طرح اب ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جمع کرنے اور اس کے ذریعے عیاشیاںکرنے والے سفید پوش لٹیروں کو قانون کے دائرے میں لانا آسان ہوجائے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام تر معلومات حاصل ہونے کے بعد بھی کیا حکومت اپنے من پسند ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں اور وزرا کے خلاف کارروائی کرنے پرتیا ر ہوگی، اگر حکومت اس طرح کی کارروائی میں سنجیدہ ہوتی تو اب تک جن لوگوں کے بیرون ملک اکائونٹس کی تصدیق ہوچکی ہے حکومت نے ان کو اپنی یہ رقم واپس لانے پر مجبور کرنے کے لیے کیا کارروائی کی ۔ وزیر خزانہ نے اسمبلی میں سوئس حکومت کی رضامندی کی خبر بتاکر شاید یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت بیرون ملک جمع غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ دولت واپس لانے میں سنجیدہ ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے، اگر حکومت اس معاملے میں ذرا بھی سنجیدہ ہوتی تو وہ کم از کم اپنے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کی بیرون ملک جمع دولت تو واپس لاہی سکتی تھی، اگر ہمارے وزیر خزانہ بیرون ملک جمع دولت واپس پاکستان لانے میں سنجیدہ ہیں تو وہ ابتدا اپنی ذات سے کریں اور اپنی اور پنے بچوں کی بیرون ملک جمع تمام دولت پاکستان واپس لائیں اور اپنے بچوں کو بیرون ملک کاروبار سمیٹ کر پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کی ہدایت دیں اب جبکہ خود وزیر خزانہ کے قول کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہورہے ہیںاور غیر ملکی کمپنیاں اپنے سرمائے پر بھاری اور پرکشش منافع کمارہی ہیں تو وزیر خزانہ اور ہمارے وزیر اعظم اپنے بچوں کے بیرون ملک کاروبار کو تحفظ دینے کی سعی کیوں کررہے ہیں۔
اگر ہمارے وزیر خزانہ ، اور وزیر اعظم اپنی بیرون ملک جمع تمام دولت اور اثاثے پاکستان منتقل کردیں تو یہ ایک ایسی مثال ہوگی جس کی بنیاد پر بیرون ملک اثاثے رکھنے والے دیگر متمول افراد کو بھی اپنی دولت اور اثاثے پاکستان منتقل کرنے پر مجبور کیاجاسکے گا، لیکن چونکہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اثاثوں کی پاکستان واپسی کی ابتداخود اپنی ذات اور اپنے خاندان سے کرنے سے گریزاں ہیں اس لیے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اس حوالے سے ان کے تمام بیانات عوام کو بیوقوف بنانے اوران کی توجہ اصل مسائل اوراپوزیشن کی جانب سے حکومت اور ارباب حکومت پر لگائے جانے والے الزامات سے ہٹانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
جہاں تک پانامہ لیکس کا معاملہ ہے چونکہ یہ معاملہ ابھی تک عدلیہ کے ہاتھ میں ہے اس بارے میں کوئی رائے زنی مناسب نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اس میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ملوث تمام ارکان کا محاسبہ نہیں ہوگا عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ تمام پارٹیاں پانامہ پیپرز کے معاملے پر سیاست کررہی ہیں اور عوام کو بیوقوف بنارہی ہیں، کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ہر قدم پر لاکھوں پانامہ موجود ہیں۔
جہاں تک ناجائز طریقے سے کمائی گئی دولت بیرون ملک چھپائے جانے کا معاملہ ہے تو ماہرین معاشیات اور اقتصادیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں قومی خزنے سے لوٹی گئی دولت کا 70فیصد حصہ اب بھی پاکستان میں موجود ہے جبکہ اس کا صرف30فیصد حصہ پاکستان سے باہر ہے۔ایک اندازے کے مطابق،پاکستان سے لوٹ کر اور ٹیکس چوری کرکے تقریباً 50 ارب ڈالر بیرونی ملکوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں،جبکہ کالے دھن کو سفید بنانے کے قانونی اور غیر قانونی دونوں راستے موجود ہیں،ملک میںکالے دھن کا حجم20ہزار ارب روپے بتایاجات ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق ہنڈی اورحوالہ کے ذریعے ایک سال میں 30 ارب ڈالر بیرون ملک جاتے ہیں،جس کے کوئی شواہد نہیں ملتے ہیں۔
ایک ایسے ملک میںجو 90 ارب ڈالر کا مقروض ہو،اتنی بھاری رقم کی چوری کوئی ایسی بات نہیں جسے نظر انداز کردیاجائے کیونکہ ملک پر موجود قرضوں کے بوجھ کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتاہے اور وہ اسے بھگت رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے سفید پوشی برقرار رکھنا اور اپنے اہل خانہ کے لیے دووقت کی روٹی کاانتظام کرنا مشکل تر ہوتا جارہاہے ۔
ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہورہا ہے،پبلک مقامات میں عوام حکمرانوں کو چور ڈاکو کے خطاب سے پکارتے ہیں،1948ء سے2007ء تک ملک پر6 ہزار748روپے کا قرضہ تھا لیکن 2008ء سے 2013ء کے دوران 14ہزار ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا ہے جبکہ موجودہ دور حکومت کے دورانیے میں سوا6 ارب ڈالر کا قرضہ لیا جاچکا ہے،ان اعدادو شمار کے مطابق دور جمہوریت میں قرضہ کی شرح میں مزید اضافہ ہوا اور اس کاخمیازہ بھی ا س ملک کے غریب عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
ماہر معاشیات شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوٹی ہوئی 70فیصدملکی دولت کے اثاثوں کا تعین کیا جاسکتاہے۔ اگر حکومت کالے دھن کے خاتمے اور قومی دولت لوٹنے والوں کی سرکوبی پر واقع تیار ہو توٹیکس چوری کے ذریعے اثاثے بنانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاسکتی ہے ان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر ان کے ان غیر قانونی اثاثوں اورملکی اور غیر ملکی بینکوں میں موجود ان کی دولت ان پر مروجہ قوانین کے تحت ٹیکس وصول کیا جاسکتا ہے اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے تو اگلے مالی سال میں تقریباً 2 ہزار ارب روپے کی وصولی ممکن ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے خود حکومت کو یہ ثابت کرناہوگا کہ اس کے ہاتھ صاف ہیں۔
ارباب حکومت کو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ عوام لاشعور نہیں ہیں بلکہ باشعور ہوچکے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ حکمراں اقتدار میں پیسہ بنانے آتے ہیں،جس کی وجہ سے انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آئوٹ کم ہوتاجارہا ہے اورعوام حقیقی جمہوریت سے محروم ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر