وجود

... loading ...

وجود

جنگ زدہ عراق خواتین کے لیے یورپی ملک سوئیڈن سے زیادہ محفوظ

جمعه 10 مارچ 2017 جنگ زدہ عراق خواتین کے لیے یورپی ملک سوئیڈن سے زیادہ محفوظ

عراق کے شہر موصل سے جنگ کی رپورٹنگ کرنے والی خاتون رپورٹر میگڈا گیڈ نے اعتراف کیاہے کہ جنگ زدہ عراق میں خواتین سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم سے زیادہ محفوظ ہیں۔ایوارڈ یافتہ جنگی رپورٹر کا کہناہے کہ موصل جیسے شہر میں جہاں داعش کا اثر ورسوخ بہت زیادہ ہے، خواتین پر تشدد کی شرح سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
میگڈا گیڈ نے عراق سے اپنی ایک ٹویٹ میںدعویٰ کیا ہے کہ میں موصل میں ہوں اوریہاں حجاب نہ پہننے پر خواتین کو کسی تعزیر کاسامنانہیں کرنا پڑتاہے اورگھر سے باہرنکلنے والی خواتین اسٹاک ہوم کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہیں۔
بریٹ بارٹ ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق میگڈا کی ٹویٹ کے بعد موصل میں ایک دوسری رپورٹرسے یہ سوال کیاگیا کہ کیا آپ میگڈا کے اس خیال سے متفق ہیں اور خود کو عراق میں اسٹاک ہوم سے زیادہ محفوظ تصور کرتی ہیں تو انہوںنے جواب دیا کہ بالکل ایسا ہی ہے۔
میگڈا گیڈ کا کہناہے کہ اسٹاک ہوم میں اختتام ہفتہ عراق میں کسی بھی رات کے مقابلے میں خواتین کے لیے بہت زیادہ بھیانک ہے ، انہوں نے ایک فیس بک صارف آندریس انگلیونڈ کے جواب میں کہا کہ سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں کسی بھی خوبصورت خاتون کو بھرے بازار میں دبوچ لیے جانے کے خدشات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ایک دوسری ٹویٹ میں ایوارڈ یافتہ خاتون صحافی نے کہا کہ عراق جنگ کے باوجود بہت زیادہ پرسکون ملک ہے۔
میگڈا گیڈ نے لکھاہے کہ عراق میں جو علاقے جنگ سے متاثرہ نہیں ہیں وہ بہت ہی زیادہ پرسکون ہیں اور جب آپ سڑک پر چل رہی ہوں تو کوئی آپ کو نہیں گھورتا۔
عراق میں جنگ سے متعلق رپورٹنگ اورسوشل میڈیا کٹیگری کے بہترین استعمال پر میگڈا گیڈ کو آئی این ایم اے گلوبل میڈیا ایوارڈ کے لیے نامزدکیاگیاہے۔جہاں ان کا مقابلہ امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے صحافی سے بھی ہے۔
میگڈا گیڈ ایک نیوز سائٹ بلینک اسپاٹ پراجیکٹ کی بانیوں سے بھی ہیں۔ یہ نیوز سائٹ ایسی جگہوں سے رپورٹنگ کرتی ہے جن کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں اور جہاں کی رپورٹیں بہت کم منظر عام پر آتی ہیں۔
جہاں تک سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میںلاقانونیت کی صورتحال کا تعلق ہے تو اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں سوئیڈن کے وزیراعظم نے امریکا کے نئے صدر کے اس بیان پر کہ بڑے پیمانے پر تارکین کی آمد سے تشدد ، فسادات وغیرہ جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے شدید تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی جانب سے ان واقعات کو تارکین سے جوڑنے کو غلط اور تصوراتی قرار دیا تھا لیکن ابھی وہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کے تیر برسانا ختم بھی نہیں کرپائے تھے کہ اسٹاک ہوم کے نواحی علاقے میں بڑے پیمانے پر فسادات اور تشدد پھوٹ پڑنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ فسادات ایک ایسے علاقے میں پھوٹ پڑے تھے جہاں تارکین کی اکثریت رہتی ہے۔فساد زدہ علاقے میں موقع پر موجود ایک صحافی کے مطابق ان فسادات کے نتیجے میں متعدد کاریں نذر آتش کردی گئیں،دکانیں لوٹ لی گئیں، اور اسٹاک ہوم کایہ نواحی علاقہ جنگ زدہ علاقے کی تصویر پیش کرنے لگا۔

عراق کے شہر موصل سے انعام یافتہ جنگی رپورٹر کی یہ رپورٹ دو اعتبار سے اہمیت رکھتی ہے اول یہ کہ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ عراق میں حالات اتنے زیادہ دگرگوں نہیں ہیں جتنے امریکی اور برطانوی خبر رساں ادارے اور فوجی قائدین اسے پیش کررہے ہیں، اور جس کی بنیاد پر وہ اپنی حکومتوں سے مزید فوجی اورجنگی سازوسامان اور وسائل کی فراہمی کامطالبہ کرتے رہتے ہیں ، اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ سوئیڈن کا دارالحکومت اسٹاک ہوم جسے یورپی ممالک میں نسبتاً زیادہ پرسکون شہر تصور کیاجاتاہے، اتنا زیادہ پرسکون نہیں ہے جتنا اسے ظاہر کیاجاتاہے، اور اسٹاک ہوم جیسے پرسکون ظاہر کیے جانے والے شہر میں بھی خواتین شام ڈھلے گھر سے باہر نکلتے ہوئے خوف کاشکار رہتی ہیں اور اسٹاک ہوم جیسے شہر میں بھی خواتین مردوں کے تشدد کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔
میگڈا گیڈ کی عراق کے جنگ زدہ شہر موصل سے بھیجی گئی یہ رپورٹ امریکی برطانوی اور دیگر یورپی ممالک کے منہ پرایک طمانچہ کی حیثیت رکھتی ہے ، اور اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اب انہیں دیگر اسلامی ممالک پر خواتین سے امتیازی سلوک برتنے کاالزام لگانے اور ان سے خواتین سے منصفانہ اور مساوی سلوک کرنے کے مطالبات کرنے کے بجائے خود اپنے معاملات درست کرنے اور خواتین کے تحفظ کے انتظامات کو زیادہ بہتر بنانے پرتوجہ دینی چاہیے۔


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعه 08 مئی 2026

بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مضامین
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں! وجود اتوار 10 مئی 2026
میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے! وجود اتوار 10 مئی 2026
کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر وجود هفته 09 مئی 2026
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر

امریکی سلطنت رو بہ زوال وجود هفته 09 مئی 2026
امریکی سلطنت رو بہ زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر