وجود

... loading ...

وجود

اسرائیلی کابینہ نے اذان پرپابندی کی توثیق کردی

منگل 14 فروری 2017 اسرائیلی کابینہ نے اذان پرپابندی کی توثیق کردی

اسرائیل کی قانون سازکمیٹی نے اذان دینے پر پابندی کے متنازع بل کی توثیق کر دی ہے جب کہ صیہونی ریاست کے سربراہ مملکت نے اس بل کی شدید مخالفت کی تھی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کی وزارت انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزرا کی قانون ساز کمیٹی نے اس بل کی توثیق کر دی ہے جس میں مسلمانوں پر مساجد کے اسپیکر سے اذان دینے پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ کتنے وزار نے اس بل کی مخالفت اور کتنے نے حمایت کی۔ اسرائیلی حکام نے مساجد کے اسپیکر سے آنے والی اذان کی آواز کو صوتی آلودگی کا نام دے کر بل کو ’’موذن لا‘‘ کا نام دیا ہے۔
یوں تو گزشتہ سات آٹھ عشروں سے ارضِ فلسطین اور اہلِ فلسطین پر قابض اسرائیلی یہودیوں کے مظالم مسلسل جاری ہیں لیکن اسرائیلی حکومت کا یہ تازہ ظلم سب سے سِواہے۔اسرائیلی کابینہ نے مقبوضہ فلسطین اور تمام اسرائیلی علاقوں کی تمام مساجد میں لائوڈ اسپیکرپر اذان دینے پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اِس بِل کو قانون بنانے کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسٹ، میں جَلد ہی پیش کیا جانے والا ہے۔منظوری کی صورت میں اس پابندی کا اطلاق بیت المقدس کی تمام مساجد پر بھی ہوگا۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کے عرب رکن ایمن ادے نے نئے پیش کردہ مسودے کو مسلمانوں سے نسلی تعصب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسودے کا شور شرابے اور انسانی زندگی میں خلل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے تعصب پرست وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے قبل بھی مساجد میں موذن اذان دیتے تھے اور اس کے بعد بھی دیتے رہیں گے۔ دوسری جانب اسرائیل کے صدر ریوون ریولن نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ صوتی آلودگی کے حوالے سے موجودہ قوانین کافی ہیں ہمیں اس حوالے سے نئے قوانین کی ضرورت نہیں ہے۔
اس سے قبل پیش کئے گئے بل کو اس وجہ سے مسترد کر دیا گیا تھا کیونکہ اس کی منظوری کی صورت میں جمعے کو غروب آفتاب سے شروع ہونے والی یہودیوں کی عبادات کے لیے بجنے والے سائرن بھی خاموش ہو جاتے جب کہ ترمیم شدہ مسودے میں رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے یعنی اگر بل پارلیمنٹ سے منظور ہو جاتا ہے تو مساجد میں فجر کی اذان دینے پر پابندی عائد ہو جائے گی۔
اسرائیل کے معروف اخبا ر ’’ ہارٹز ‘‘ نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی مشہور شدت پسند( مسلم دشمن )پارٹی habayit hayehudiکے ایک رکنِ پارلیمنٹ moti yogevنے یہ بِل پیش کیا تھا۔حکمراں ’’لیکوڈ ‘‘ پارٹی کے کئی لوگ بھی اس کی حمایت میں کھڑے ہو گئے اوردلیل دی گئی کہ اذانوں کے ’’شور ‘‘سے یہودی زندگیاں ’’منفی ‘‘ طور پر متاثر ہو رہی ہیں۔اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہوبھی اذان مخالف اِس ’’دلیل ‘‘کی حمایت کرتے ہوئے سامنے آئے ہیں۔
تمام اسرائیلی مسلمان تنظیموں نے بجا طور پر اس اقدام کے خلاف ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فلسطین کے صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینا نے کہا ہے کہ غیر قانونی یہودی بستیوں کو قانونی شکل دینے اور اذان پر پابندی لگانے جیسے اسرائیلی منصوبوں سے علاقے میں مزید تباہی پھیلے گی۔اْنہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اسرائیل کے اس ظالمانہ منصوبے کے انسداد کے لیے فلسطین عالمی برادری کی مدد بھی حاصل کریگا۔
ناقدین کا استفسار یہ ہے کہ عالمی برادری نے پہلے فلسطین کی کب مدد کی ہے جو اب اس سے کسی طرح کی امید وابستہ کی جاسکتی ہے، عالمی برادری نے مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کی دست درازیوں کو کب اور کتنا روکا ہے ؟ اسرائیل میں بروئے کار فلسطینی مسلمانوں کے ایک تھنک ٹینک کی رکن نسرین حداد یحییٰ نے سْود و زیاں کی پروا نہ کرتے ہوئے اذان پر پابندیاں عائد کرنے کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اصل مقصد شور کم کرنا نہیں بلکہ شور پیدا کرنا ہے جس سے تمام یہودیوں اور عربوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کی کوششیں بھی منفی طور پر متاثر ہوں گی۔‘‘
اسرائیل کے انگریزی اخبار’’یروشلم پوسٹ ‘‘ نے پیشگوئی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ فلسطین اتھارٹی میں وقف اور مذہبی امور کے وزیر یوسف ایدیس کا یہ بیان نظر انداز کرنا حماقت ہوگی کہ اذان پر پابندی عائد کرنے سے اسرائیل کے اندر ایک نئی جنگ کا آغاز ہوگا۔‘‘ ایک معروف اسرائیلی تھنک ٹینک، ازرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ نے بھی اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے اور کہاہے کہ اسرائیل نے یہ فیصلہ کرکے دراصل مذہبی آزاد ی سلب کرنے کی جسارت کی ہے۔ اسرائیل کی اٹھارہ فیصد مسلمان آبادی اس پابندی کو کبھی برداشت نہیں کرے گی۔
بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں بسنے والی قدیمی مسلمان بستیوں اور محلّوں نے اس کے خلاف بغاوت کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اِسے بے حسی اور غیرتِ ایمانی کے منافی اقدام ہی کہا جائے گا کہ اسرائیل کے اس غاصبانہ فیصلے کے بعد بھی اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی طرف سے تاحال کوئی احتجاج کیا گیا ہے نہ اس کے خلاف کوئی اجتماعی آواز ہی بلند کی گئی ہے۔ جس روز ( 15نومبر 2016) اسرائیل میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ اپنے( قابض) علاقوں میں قائم تمام مساجد میں لائوڈ سپیکرز پر اذان دینے پر پابندیاں عاید کر رہا ہے، اْسی روز ماریطانیہ میں ’’القدس سے وفاداری کا عہد ‘‘نامی سہ روزہ کانفرنس کا اختتام ہوا تھالیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیل کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف کوئی آواز بلند ہوئی نہ واضح الفاظ میں اس کی مذمت کی گئی۔
اسرائیل کی ہمیشہ یہ کوشش اور خواہش رہی ہے کہ لائوڈ سپیکر پر اذان کو ممنوع قرار دیا جائے لیکن اس خواہش کوکھل کر قانون بنانے کی کبھی جرات نہ ہو سکی تھی۔ اس سلسلے کی پہلی باقاعدہ کوشش 5سال قبل 2011میں سامنے آئی تھی لیکن اسے زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی تھی۔ برطانوی اخبار ’’ٹیلی گراف ‘‘ نے لکھا ہے کہ 5 سال پہلے حالات قطعی مختلف تھے۔2سال قبل اکتوبر 2014میں بھی ایسی ہی مذموم کوشش دوبارہ کی گئی تھی۔اْس وقت بھی اسرائیلی پارلیمنٹ میں موجود ایک کٹر اور شدت پسند یہودی اور قوم پرستوں کی پارٹی
(yisrael beiteinu)کے رکن ، رابرٹ ایلا توف، نے اس پابندی کا بِل پیش کیا تھا۔ رابرٹ ایلا توف کو اس شیطانی اور مفسدانہ کام میں اسرائیلی وزیرِ خارجہ لبرمین کی زبردست حمایت حاصل تھی لیکن وہ اس جنونی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
اس کا صاف مطلب ہے کہ اسرائیلی یہودیوں کے قلب و ذہن میں اذان کے خلاف خبثِ باطن کی کھچڑی برسوں سے پکتی چلی آ رہی ہے جسے اب باقاعدہ ظہور میں لایا گیا ہے۔ حیرانی کی بات کہ یہودیوں نے مذہبی آزادیوں کے نام پر ہی فلسطین پر قبضہ جما کر اسرائیل بنایا تھا اور اب وہی مقتدر اسرائیلی یہودی مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ نہایت ڈھٹائی سے ان اسرائیلی یہودیوںنے کہا ہے : ’’ مذہبی آزادی کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ کسی کو ( اشارہ مسلمانوں کی طرف ہے) یہ اجازت بھی مل گئی ہے کہ بِلا وجہ کان پھاڑنے والا شور مچا کر لوگوںکی نیندیں حرام کی جائیں۔‘‘ تف ہے ان ملعونوں پر۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اذان پر پابندی لگانے کے حوالے سے کہا ہے ’’ ٹھیک ہے مذہبی آزادیاں بھی بہت اہم ہیں لیکن اسرائیلی عوام کے انسانی حقوق کو فوقیت حاصل ہے۔‘‘ اسرائیل کے اندر کہیں کہیں یہودی با ضمیروں کی طرف سے ایسی آوازیں بھی اْٹھی ہیں جو اذان پر پابندی عائد کرنے کے اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ayaman odeh پارٹی کے تمام وابستگان نے بھی کہا ہے: ’’اذان کی آواز کو خاموش کرانے کا اسرائیلی کابینہ کا فیصلہ مسلمانوں کے بنیادی انسانی اور مذہبی حقوق پر ڈاکا ہے۔مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مساجد اسرائیلی عوام کے لیے مسائل کا مرکز ومحور بن گئی ہیں۔ یہ انتہائی نا مناسب ہے۔‘‘معروف اسرائیلی کالم نگار اور ایڈیٹرشلومی ایلڈار بھی اس ریاستی فیصلے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام اس فیصلے کے خلاف احتجاجوں کو یہ کہہ کر مدہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اذان دینے پر ہر گز پابندی عائد نہیں کی جا رہی ہے ، صرف لائوڈ سپیکر پر اذان دینے کے خلاف قانون سازی کی جا رہی ہے، آخری فیصلہ ابھی اسرائیلی پارلیمنٹ کو کرنا ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعه 08 مئی 2026

بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مضامین
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں! وجود اتوار 10 مئی 2026
میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے! وجود اتوار 10 مئی 2026
کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر وجود هفته 09 مئی 2026
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر

امریکی سلطنت رو بہ زوال وجود هفته 09 مئی 2026
امریکی سلطنت رو بہ زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر