وجود

... loading ...

وجود

واٹربورڈکے سالانہ36کروڑ روپے ہائیڈرینٹس اور ٹینکر مافیا پینے لگی

پیر 13 فروری 2017 واٹربورڈکے سالانہ36کروڑ روپے ہائیڈرینٹس اور ٹینکر مافیا پینے لگی

کراچی میں پانی سے محروم علاقوں کو پانی کی فراہمی کے لئے قائم واٹر بورڈ کے 26ہائیڈرنٹس کو پیپلزپارٹی کی اعلیٰ شخصیات کے کارندوں پر مشتمل بااثر مافیا کو نوازنے کے لئے بند کیا گیاتھا۔ سرکاری خزانے کو 30کروڑ روپے کا چونا لگانے والی مافیا سرکاری طور پر بند ظاہر کیے گئے تمام ہائیڈرینٹس دن رات چلا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں سردی کے موسم میں تو پانی بیچنے والوں کا مندا ہوتا ہے لیکن گرمیوں میں پانی کی غیرمعمولی طلب کے باعث شہر کی واٹر اور ٹینکر مافیا کی چاندی ہوجاتی ہے۔ اب جبکہ موسم گرما سر پر آن کھڑا ہے تو شہر میں پانی فراہم کرنے والے ادارے واٹر بورڈ کی غیر منطقی پالیسی کی وجہ سے واٹر مافیا کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں دکھائی دیتا ہے۔
شہر میں گرمی شروع ہورہی ہے اور پانی سے محروم رکھے گئے علاقوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات یا منصوبہ بندی کی جاتی۔ لیکن ادارے کی جانب سے ڈیکلئیرڈ 26واٹر ہائیڈرنٹس بھی بند کر دیے، ان قانونی ہائیڈرنٹ سے کراچی کے ان علاقوں میں پانی کی فراہمی کی جاتی رہی جہاں ادارے کی جانب سے پانی کی فراہمی کا انتظام نہیں یا واٹر مافیا کی ملی بھگت سے ادارے کے کارندے لائنوں کے ذریعے پانی جانے نہیں دیتے۔ ماضی میں ان ہائیڈرینٹس سے ادارے کو ماہانہ تین کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی تھی جو سالانہ چھتیس کروڑ روپے سے بھی زائد بنتی تھی۔ اسے مزید بہتر کرکے ادارے کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا تھا مگر مافیا ز کی ملی بھگت سے اس آمدنی کو کم کرنے کے لئے مختلف علاقوں میں بااثر واٹر مافیا کے ہاتھوں غیرقانونی ہائیڈ رینٹس کھلوا دیئے۔ یوں غیرقانونی طور پر قائم ہائیڈرینٹس مالکان کی چاندی ہوگئی اور ادارے کو ہونے والی لگ بھگ 36کروڑ روپے کی سالانہ آمدنی بھی کم ہوکر صرف دس بارہ کروڑ تک محدود ہوگئی۔ باقی ریونیو سے ادارے کے کرپٹ افسران اور ان کی ملی بھگت سے واٹر مافیا کی جیبیں بھرنے لگا۔ یوں سونے کی مرغی نما سرکاری ادارے واٹر بورڈ کو کروڑوں روپے کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا گیا۔ اسی پر اکتفا نہیں یومیہ بنیادوں پر سونے کا انڈا کھانے والی مافیا نے پوری مرغی ہی ہڑپنے کی منصوبہ بندی کرلی۔ جس کی آڑ میں مختلف اوقات میں آپریشن بھی کیے گئے اور انہیں مک مکا کے بعد پھر فعال کردیا جاتا رہا۔ اس سے قانونی ہائیڈرینٹس کی آمدنی کم ہونے لگی جو ماضی قریب میں صرف بارہ کروڑ روپے تک ہوگئی تھی۔ اس صوتحال سے مقتدر حلقوں کو ان ہائیڈرینٹس کی ناکامی کا تاثر دیا گیا۔ تو زبانی احکامات کے تحت شہر میں تمام ہائیڈرنٹس کو بند کرادیا گیا۔ جس سے علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوگئی، ادھر واٹر ٹینکرز ایسوسی ایشن کو بھی اس سلسلے میں واٹر بورڈ مافیاز نے متحرک کرکے شارع فیصل بند کرادی جسے جواز بناکر من پسند افراد کے زیرکنٹرول 6ہائیڈ رینٹس دوبارہ کھول دیے گئے۔ جن میں گلشن اقبال میں نیپا چورنگی، لانڈھی میں فیوچر کالونی، گارڈن، نارتھ ناظم آباد میں سخی حسن، بلدیہ ٹاون اور لانڈھی نمبر 2میں واقع ہائیڈرنٹ شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلم آباد ہائیڈ رینٹ جسے شہریوں کے احتجاج پر سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر بند کیا گیا تھا کو پھر کھولنے کے لئے ساز باز کی گئی۔ اس وقت تک ہائیڈرنٹ کے علاوہ کراچی میں سرگرم قبضہ مافیا اور بااثر واٹر گروپ نے بظاہر بند ہائیڈرنٹس پر بھی ادارے کے افسران کی ملی بھگت سے کام شروع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ادارے کو لاکھوں روپے یومیہ کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلے میں تاحال پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے کارندے کھلے عام ان ہائیڈرنٹس سے پانی فروخت کررہے ہیں۔ ان کے زیر اثر ہائیڈرنٹس میں کورنگی چکرا گوٹھ، سائٹ، صفورا گوٹھ اور دیگر شامل ہیں جن کی نگرانی کلہوڑ اور شکیل نامی افراد کرتے ہیں جبکہ دیگر علاقوں نیو کراچی صبا سینما، لانڈھی بھینس کالونی، منگھوپیر، ملا حسین بروہی، اورنگی ٹاون، سائٹ نمبر 2، ہائی کورٹ لاجز اور چکرا گوٹھ کورنگی کے ہائیڈرنٹس شامل ہیں۔
ہائیڈرینٹس اور ٹینکر مافیا کے
بعدایک اور مافیا منظم ہوگئی
کراچی میں ہائیڈرنٹ اور ٹینکر مافیا تو موجود ہے ہی، اب پانی چوری کرنے والی ایک اور منظم واٹر مافیا کا انکشاف ہوا ہے۔ کراچی واٹربورڈ کا پانی چوری کرکے شہریوں کو فروخت کرنے والی واٹر ہائیڈرینٹس اور ٹینکرز مافیا تو شہریوں کولوٹ ہی رہی ہے لیکن اس سے کہیں بڑی دوسری واٹر مافیا شہر کے انڈسٹریل ایریاز میں واٹر بورڈ کے مساوی خفیہ اور منظم نیٹ ورک بنا چکی ہے۔ سائٹ میں اس مافیا کے دس بڑے گروہ سرگرم ہیں جن کا نیٹ ورک لگ بھگ گیارہ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سائٹ میں اس مافیا کے 20پمپنگ اسٹیشن ہیں، جہاں سے 3سے 8انچ کے پائپس کے ذریعے پانی فیکٹریوں کو کمرشل ریٹس پر دیا جاتا ہے۔ اس کام میں واٹر بورڈ کے عملے کی مافیاز سے ملی بھگت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ انڈسٹریل ایریاز میں واٹر بورڈ کا نیٹ ورک غیرفعال کیا جاچکا ہے اور اگر کہیں واٹر بورڈ کا نیٹ ورک ہے تو اسے استعمال نہیں ہونے دیا جارہا۔ ذرائع کے مطابق حب ڈیم سے فراہمی بند ہونے سے شہر کو پانی کی کمی کا سامنا تھا اور ناغہ سسٹم بنا دیا گیا تھالیکن مافیاز کے لیے کوئی ٹائم ٹیبل ہے نہ ہی پانی چوری کا ناغہ، بارہ مہینے، سات دن اور چوبیس گھنٹے پانی چوری ہوتا ہے۔ شہر میں لوڈشیڈنگ ہو یا بجلی کا بحران اس مافیا کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہیوی جنریٹرز لگاکر 30سے 100ہارس پاؤر کے پمپس پانی چوری اور سپلائی جاری رکھتے ہیں۔ تاجر کہتے ہیں مقامی سیاسی رہنما اور سائٹ ایسوسی ایشن کے بعض ذمے دار اس واٹر مافیا کاحصہ ہیں، اسی ملی بھگت سے واٹر مافیا سائٹ کی فیکٹریوں سے ماہانہ کئی کروڑ روپے وصول کرتی ہے۔ یہ وصولیاں بھی خفیہ نہیں بلکہ واٹر بلوں کی مد میں بینک اکاونٹس یا کراس چیکس سے وصولیاں ہوتی ہیں۔
پانی کی کمی ختم کرنے کے بجائے
شہریوں کو اعدادوشمار میں الجھا دیا گیا
کراچی کے مختلف علاقوں گلستان جوہر، نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی، ماڈل کالونی، ایف سی ایریا، ناظم آباد، بلدیہ ٹائون سائٹ، اورنگی ٹائون، لانڈھی ، کورنگی ، کھارادر، رنچھوڑ لائن، لائنزایریا، منگھوپیر روڈ کے علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی نے شہریوں کو آٹھ آٹھ آنسورلا دیا ہے ،دوسری جانب ٹینکر مافیا پانی کے کمی سے پریشان شہری کی مجبوری کا خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں،پانی کی کمی کا شکار پریشان شہری مہنگے داموں واٹرٹینکر خرید رہے ہیںدوکروڑ سے زائد آبادی کے شہر میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق پانی کی طلب ایک ہزارتین سو ملین گیلن یومیہ ہے جبکہ اس کوسات سو ملین گیلن پانی فراہم کیاجاتا ہے،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پاس صنعتوں کو پانی کی فراہمی بڑھانے کی گنجائش نہیں لیکن ٹینکر مافیا واٹر بورڈ کی لائنوں سے پانی نکال کر پورے شہر کو فراہم کررہی ہیں،ٹینکر مافیا شہر کے متوازی نظام کا حصہ بن چکی ہے، اس پریشان کن صورتحال پر کسی سیاسی جماعت نے نہ تو لاکھوں کا مجمع اکٹھاکیا اور نہ ہی کوئی سونامی آیا ۔ وزرا پانی کی کمی ختم کرنے کے بجائے شہریوں کو اعداد وشمار میں ہی اُلجھا کے رکھنا چاہتے ہیں،کراچی میں پانی کی کمی کا شکار شہری رمضان سے قبل اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ حکومت کواس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جلد سے جلد اقدامات کرنا ہوں گے۔شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اس شہر کے باسی سمندر کے قریب رہنے کے باوجود پانی کو ترس رہے ہیں۔ عوام کی جانب سے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف کئی بار احتجاج کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹنے والے بے حس حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ عوام پیاسے اور حکمران کے دسترخوان ٹھنڈے مشروبات سے سجے ہوتے ہیں ۔پانی کے مصنوعی بحران کی سبب اس وقت شہر کراچی کے عوام سراپا احتجاج ہیں لیکن حکمران مسئلہ کو شاید سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ میں پانی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے رقم تو مختص کی گئی تھی لیکن تاحال منصوبوں پر کام شروع نہیں کیا گیا۔واٹر ہائیڈرنٹس مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت کے غیرمنصفانہ رویے کی وجہ سے شہریوں کو پانی نہیں مل رہا۔
کراچی میں منشیات فروشی کے بعد بڑا کاروبار واٹرہائیڈرینٹس کا مانا جاتا ہے
کراچی میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں واٹر ٹینکر موجود ہیں جو پورے کراچی کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس وقت کراچی میں غیر قانونی کاروباروں میں منشیات کے بعد سب سے زیادہ منافع بخش بزنس غیر قانونی واٹر ہائیڈرنٹس کو سمجھا جاتا ہے جس میں دن دُگنی اور رات چوگنی ترقی ہوتی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے گلستان جوہر کے متعددبلاکس میں پانی کی فراہمی معمول کے مطابق تھی، اس کی وجہ چند ماہ قبل واٹر ٹینکر اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کیا گیا آپریشن تھا تاہم اب یہ مافیا دوبارہ سرگرم ہو چکی ہے اور بھر پور طریقے سے ایک مرتبہ پھر ان بلاکوں کے حصہ کا پانی چوری کر کے فروخت کیے جانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے ۔ اس چوری میں واٹر بورڈ کا عملہ ملوث ہے۔ چوری کے نتیجے میں گلستان جوہر کے متعدد بلاکوں کے مکینوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور انھیں اپنے ہی حصہ کا چوری شدہ پانی خرید کر استعمال کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہاں ایک مرتبہ پھر ٹینکر مافیا کی چاندی ہے اور بے چارے کراچی کے شہری ان طاقتور جنوں کے سامنے بالکل بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ نئے میئر کراچی وسیم اختر صاحب نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیاہے۔ اگرچہ واٹر بورڈ کو حکومت سندھ نے ایک الگ ادارہ بنا دیا ہے لیکن اس کے باوجود ان سے کراچی کے عوام کی اپیل ہے کہ وہ اس معاملے پر ایکشن لیں اور یہاں کے مکینوں کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح اس شہر کے بلدیاتی ادارے اور نئے میئر کراچی اپنی موجودگی کا کچھ تو ثبوت دیں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر