وجود

... loading ...

وجود

3 خواتین افسران کے گرد نیب کا گھیرا تنگ

هفته 11 فروری 2017 3 خواتین افسران کے گرد نیب کا گھیرا تنگ

وزیراعظم نواز شریف نے 1997ء میںجب حکومت سنبھالی تواس وقت احتساب بیوروبنایا، اس کا پہلا سربراہ سینیٹر سیف الرحمان کوبنایا۔ جب پرویز مشرف نے اقتدار حاصل کیاتوانہوںنے اس احتساب بیوروکوقومی ادارۂ احتساب (نیب)کا نام دیا۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ نیب کا ادارہ صرف ایگزیکٹو آرڈر کی بنیاد پر قائم کیاگیا تھا اوراس کوتاحال پارلیمنٹ سے منظور نہیں کرایاگیا۔ پہلے تونیب کے سربراہ فوجی افسران بنے اورپھرکئی ایسے اسکینڈل سامنے آئے کہ جس پر دنیاحیران ہوگئی، خاص طورپر جنرل (ر) شاہد عزیز نے نیب کواپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی جنرل (ر)پرویز مشرف کی کوششوں کا بھانڈاپھوڑدیا۔ ـ2008ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو اس وقت جسٹس(ر)دیدارحسین شاہ کو چیئرمین نیب بنایاگیا لیکن بعدازاں سپریم کورٹ نے ان کوہٹادیا۔موجودہ حکومت کے دورمیں نیب چیئرمین بننے والے وفاقی سیکریٹری داخلہ چوہدری قمرالزماں پہلے چیئرمین تھے جوسویلین تھے اوران کا تقرر متفقہ طورپرکیاگیاتھا۔ نیب نے سب سے زیادہ کارروائیاں وفاقی حکومت اورپھرحکومت سندھ میں کیں، شرجیل میمن، میر منورتالپر،علی مردان شاہ سمیت سینکڑوں افسران اورسیاسی رہنمائوں کے خلاف تحقیقات شروع کی۔ـ لیکن دلچسپ امریہ ہے کہ ان میں تین ایسی خواتین افسران بھی ہیں جن کے گردنیب نے شکنجا کس دیاہے اورتینوں خواتین افسران بری طرح پھنس گئی ہیں ۔
ان میں سے ایک سابق سیکریٹری بلدیات شازیہ رضوی ہیں جن پرالزام ہے کہ انہوں نے اس وقت کے وزیر بلدیات آغا سراج درانی کے ساتھ مل کر محکمہ بلدیات میں جعلی بھرتیاں کیں اور یہ کیس اس وقت نیب نے تیار کرلیاہے اوراب کسی بھی وقت ریفرنس احتساب عدالت میں پیش کردیا جائے گا۔ نیب نے شازیہ رضوی کومتعدد بار بلایااوران سے تحریری بیانات بھی لیے۔ اب اس ریفرنس میں شازیہ رضوی بھی بطور ملزم نامزد ہوں گی ۔اس کے علاوہ دوسری خاتون افسر لبنیٰ صلاح الدین ہیں جن کوسابق حکومت میں جب ایم ڈی سائٹ لگایا گیا توانہوں نے نہ صرف غیرقانونی بھرتیاں کیں بلکہ انہوں نے مالی وسائل کابھی غلط استعمال کیا۔ اس پران کے خلاف نیب میں باقاعدہ ریفرنس دائر کیاگیاہے جس میں ان کو بطور ملزم نامزد کیاگیاہے اس طرح وہ بھی نیب کی تحقیقات میں پھنس گئی ہیں ۔جبکہ تیسری خاتون افسرانیتا بلوچ ہیں جومحکمہ اطلاعات میں افسر تھیں اور شرجیل انعام میمن کے ساتھ مل کر7 ارب روپے کے اشتہارات میں بے قاعدگیاں کیں اورمحکمہ اطلاعات کو مالی طورپرنقصان پہنچایا۔نیب نے جوریفرنس تیار کیاہے اس میں انیتا بلوچ کوبھی شریک ملزمہ بنایا گیا ہے۔اب وہ اس ریفرنس کے بعدملازمت سے غائب ہوگئی ہیں۔ ان کے خلاف بھی نیب ریفرنس میں مضبوط ثبوت موجود ہیں، نیب کی ان تحقیقات میں 20 سے زائددیگر افسران وسیاستدان شریک ملزم ہیں لیکن خواتین افسران کے لیے یہ عمل مصیبت سے کم نہیں۔
اس سے پہلے شرمیلا فاروقی اوران کی والدہ انیسہ فاروقی کے خلاف بھی نیب ریفرنس دائر ہوچکا ہے جس میںان کوسزائیں بھی ہوئی تھیں اورانہیں14سال کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ بینظیربھٹو،بیگم نصرت بھٹو پربھی نیب ریفرنس زیر سماعت رہ چکے ہیں ،اکثر خواتین افسران کی شہرت اچھی ہوتی ہے اوروہ مالی بے قاعدگیوں اوراختیارات کے ناجائز استعمال سے گریز کرتی ہیں، کیونکہ ان کوپتہ ہوتاہے کہ ان کے خلاف نیب یا محکمہ اینٹی کرپشن میں تحقیقات ہوئی تو ا ن کے لیے مصیبت کھڑی ہوجائے گی لیکن یہ تینوں خواتین افسران نیب ریفرنس میں پھنس گئی ہیں اور اب احتساب عدالت کے فیصلے تک وہ عدالتوں کے چکر کاٹتی رہیں گی۔
لبنی صلاح الدین اورانیتا بلوچ نے توضمانت کروا رکھی ہے لیکن شازیہ رضوی نے تاحال ضمانت نہیں کروائی۔ سندھ پولیس کی ایک خاتون ایس ایس پی نسیم آراء پنہور پربھی ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگ چکا ہے کہ انہوں نے 700 سے زائد پولیس اہلکاروں کی بھرتیاں کیں اوراس میں انہوں نے رشوت وصول کی اوربھرتیوں میں قواعد وضوابط نظرانداز کردیئے لیکن تاحال ان کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر نہیں ہوسکا ہے۔
خواتین افسران کے خلاف اس طرح کے مقدمات سے دیگرخواتین افسران خوف زدہ ہوگئی ہیں اوروہ اب اہم عہدے لینے سے گریز کررہی ہیں کیونکہ وہ نیب یا محکمہ اینٹی کرپشن کی تحقیقات سے خود کوبچانا چاہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت صرف ایک خاتون ڈاکٹر شیریں مصطفی ہیں جومحکمہ سوشل و یلفیئر کی سیکریٹری ہیں جبکہ دیگرخواتین افسران اہم عہدے لینے میں دلچسپی نہیں لے رہیں بلکہ اب سائڈ پوسٹیں لے کرخاموشی سے نوکری کی خواہاںہیں یا پھر وہ گھربیٹھنے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔ خاص طورپر موجودہ حالات میں جب نیب اورمحکمہ اینٹی کرپشن متحرک ہے توایسے میں خواتین افسران خود کواس تنازع میں ڈالنے سے اجتناب کررہی ہیں کہ ایک طرف حکومت کے غیرقانونی احکامات پرعمل کریںتو مقدمات بنیں گے اور اگرانکارکریں توحکومتی عتاب کا شکار ہوجائیں اس لیے وہ ایک کونے میں خاموش ہوکربیٹھ گئی ہیں۔

 

 


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعه 08 مئی 2026

بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مضامین
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں! وجود اتوار 10 مئی 2026
میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے! وجود اتوار 10 مئی 2026
کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر وجود هفته 09 مئی 2026
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر

امریکی سلطنت رو بہ زوال وجود هفته 09 مئی 2026
امریکی سلطنت رو بہ زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر