وجود

... loading ...

وجود

ایران کا میزائل تجربہ

بدھ 08 فروری 2017 ایران کا میزائل تجربہ

نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی اسلحہ پروگرام پر عائد کردہ نئی پابندیوں کے بعد امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے ایران کو دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا کفیل ملک قرار دیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ٹوکیو میں پریس کانفرنس کے دوران جم میٹس کا کہنا تھا کہ ایران چاہے جو اقدامات کرے وہ دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی مددگار ہے تاہم امریکا کا فی الوقت مشرق وسطیٰ میں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے پاس ہمیشہ سے یہ صلاحیت رہی ہے کہ وہ ایسا کرسکیں تاہم وہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجیوں کی موجودگی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔امریکی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئی پابندیوں کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا اپنے وعدوں کو بھلارہا ہے جو اس نے سابقہ معاہدے میں پابندیاں ہٹانے کے حوالے سے کیے تھے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر بارک اوباما کی جانب سے جولائی 2015 میں منظور کیے گئے جوہری معاہدے پر اپنی ناپسندیدگی کا واضح اظہار کرچکے ہیں۔علاوہ ازیں امریکی حکام کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آچکا ہے کہ ایران کے خلاف عائد کردہ نئی پابندیاں آخری قدم نہیں ہوگا۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوںامریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ایران کی 13 شخصیات اور 12 کمپنیوں پر پابندی لگائی گئیں۔محکمہ خزانہ کا کہنا تھا کہ ایران اور چین میں مقیم یہ شخصیات اور کمپنیاں تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پاسداران انقلاب کے حامی ہیں۔ دوسری جانب ایران بیلسٹک میزائل تجربے کو عالمی معاہدوں کے مطابق قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ 2015 میں عالمی قوتوں سے کی گئی نیوکلیئر ڈیل کی خلاف ورزی نہیں۔
بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کے باعث امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں لگادیں۔ اورامریکانے ایران پر ان نئی پابندیوںکے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کو سبق سکھانے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران پر اقتصادی پابندیوں کا اعلان امریکی محکمہ خزانہ نے کیا، جن کے تحت ایران کی 13 شخصیات اور 12 کمپنیوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر لگائی گئی یہ پہلی پابندیاں ہیں۔پابندیوں کے حوالے سے امریکی ’ٹریژر آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول کے قائم مقام ڈائریکٹر جان اسمتھ نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت اور اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے خطے، دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں اور امریکا کو خطرہ ہے۔‘واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو ایران کی جانب سے درمیانے فاصلے کے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا، جسے وائٹ ہاؤس نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر قومی سلامتی مائیکل فلین نے ایران کو ’سرکاری طور پر نوٹس‘ دینے کا اعلان کیا تھا۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس تجربے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران آگ سے کھیل رہا ہے، بارک اوباما اس پر ضرور مہربان ہوں گے لیکن میں نہیں۔‘
ایران نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے اس تجربے کو عالمی معاہدوں کے مطابق قرار دیا تھا۔تجربے کے حوالے سے تہران کا موقف ہے کہ اس کا یہ اقدام 2015 میں عالمی قوتوں سے کی گئی نیوکلیئر ڈیل کی خلاف ورزی نہیں۔ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان کا یہ بیان اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں ایران کے حالیہ میزائل تجربے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔واضح رہے کہ امریکا نے اس تجربے کو بالکل ‘ناقابل قبول’ قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 ایران کو جوہری مواد کو لے جانے والے میزائل کی تیاری سے روکتی ہیں۔ایران کے وزیر دفاع کے مطابق یہ تجربہ ایران کے جاری پروگرام کا حصہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ دفاعی ساز و سامان کی تیاری کے لیے اپنے طے شدہ پروگرام پر عملدرآمد کریں گے، یہ پروگرام ایران کے قومی مفاد اور مقاصد کے لیے اہم ہیں، جبکہ دفاعی معاملات میں بیرونی عناصر کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام گزشتہ سال جنوری میں ہونے والی ڈیل کے بعد سے ہی مغرب کے لیے اعتراض کا باعث رہا ہے۔ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے میزائل تجربات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے کیونکہ یہ جوہری اسلحے کی ترسیل کے لیے نہیں بلکہ صرف دفاعی مقصد کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ایران کے پاس 2 ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل موجود ہیں، جو اسرائیل اور خطے میں موجود امریکا کے ہوائی اڈوں تک پہنچنے کے لیے کافی ہیں۔قبل ازیں31 جنوری کو ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی سفیر نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ اگر تہران اپنا میزائل پروگرام جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن خاموش نہیں رہے گا۔انہوں نے اسے نا قابل برداشت بھی گردانا تھا۔
دوسری جانب تہران نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال نہ کرے۔ایرانی فوج کے کمانڈر نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملکی سلامتی کو خطرہ ہوا تو ایران اپنے دشمنوں کے خلاف میزائلز استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران کی نجی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایرواسپیس یونٹ کے بریگیڈیئر جنرل عامر علی حاجی زادہ نے کہا کہ ’ہم ایران کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کررہے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے دیکھا کہ ہمارے دشمن کوئی چھوٹا سا بھی غلط قدم اٹھارہے ہیں تو ہمارے ہنگامہ خیز میزائلز ان کی سرزمین پر گریں گے‘۔امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے باوجود ایران نے ہفتے کو فوجی مشقوں کا آغاز کردیا جن میں مقامی سطح پر تیار کیے گئے میزائلز اور جدید ریڈار سسٹم کی آزمائش کی گئی۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ہفتے کو شمال مشرقی سمنان میں ہونے والی فوجی مشقوں میں جن میزائلز کو استعمال کیا گی ا ن کی رینج صرف 75 کلو میٹر تک تھی۔پاسداران انقلاب کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق ’فوجی مشقوں میں مقامی سطح پر تیار کیے گئے ریڈار اور میزائل نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور سائبر وارفیئر سسٹمز کو استعمال کیا گیا‘۔واضح رہے کہ امریکا نے ایران کی جانب سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے اور یمنی باغیوں کی حمایت کی پاداش میں ایران پر پابندی عائد کی تھی۔ایران نے امریکا کی جانب سے ایرانی کمپنیوں اور افراد پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ان امریکی شہریوں اور کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کرے گا جو دہشت گرد تنظیموں کو بنانے اور ان کی معاونت میں ملوث ہیں۔اس بات کا اظہارایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کیا گیا۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پابندی کی زد میں آنے والے شہریوں اور کمپنیوں کی فہرست بعد میں جاری کی جائے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے واضح کیا تھاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ نئی امریکی انتظامیہ ایران کے دفاعی پروگرام کو کشیدگی کا سبب نہیں بنائے گی۔ایرانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 220 ایرانی قانون سازوں نے ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی حمایت کرنے والی قرارداد پر دستخط کیے ہیں۔خیال رہے کہ ایران کے اس معاہدے میں مدد کرنے والے یورپی یونین نے بھی تہران سے درخواست کی ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمی سے باز رہے جو عدم اعتماد میں اضافے کی وجہ بنے۔تاہم شام میں تہرانی فورسز کے ساتھ جنگ میں مصروف ماسکو کی جانب سے ایران کی حمایت سامنے آئی ہے۔ماسکو کے نائب وزیر خارجہ کے مطابق ایران کا میزائل تجربہ قرارداد 2231 کی خلاف ورزی نہیں کرتا جب کہ انہوں نے اس معاملے میں واشنگٹن کی جانب سے صورتحال کو کشیدہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر