وجود

... loading ...

وجود

حقوق ِ ملکیت ِ دانش :مستقل قومی حکمت عملی کی ضرورت

منگل 31 جنوری 2017 حقوق ِ ملکیت ِ دانش :مستقل قومی حکمت عملی کی ضرورت

حقوق ملکیت کا تصور تو بہت بعد میں سنا اور پڑھا ،اس سے پہلے نانی اور دادی کے ذریعے یہ کہاوت سنی کہ’’ ہاتھی پھرے گائوں گائوں ،جس کا ہاتھی اس کا نائوں (نام) ‘‘یعنی ہاتھی( برانڈ) کہیں بھی جائے گا لیکن مالک (کمپنی) کا ہی کہلائے گا۔
اب اس کہاوت کو کہیں استعمال کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ برصغیر میں حقوق ملکیت کا تصور بہت واضح تھا جو اب تک چلا آرہا ہے لیکن جب انگریز کے ذریعے برصغیر کو ترقی کا سبق سکھایاگیا ، یا یوں کہا جائے کہ یہ خطہ جدید سرمایہ داری یا کمپنی کی حکومت سے آشنا ہوا تو اس نے ترقی کے ان معیارات کو جانا جو اس وقت کا عالمی نظام طے کرچکا تھا، حقوق ملکیت میں جعلسازی کا تصور بھی تب ہی سے چلا آرہا ہے ۔اس سے ذرا آگے چلے جائیں تو اسلام نے بطور دین حقوق ملکیت ِدانش پہلے ہی دنیا پر واضح کردیے تھے ،اس کی سب سے بڑی مثال قرآن مجید ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اس کے حقوقِ دانش کی ملکیت کے تحفظ کا ذمہ لیا۔ اہل زمین کے لیے اس نے اپنی کتاب قرآن کریم کے متعلق بہت یقین سے یہ فرمایا کہ اس کتاب میں کوئی شک نہیں بلا شبہ یہ اللہ کی اپنی تصنیف ہے۔ جب کفار نے کہا کہ یہ اللہ کاکلام نہیں تو فرمایاگیا کہ کوئی ایسی بات نہیں‘ کوئی ایسا کلام تم بھی تخلیق کرکے دکھادو‘ ایک سورۃ بنالائو۔ جب اس میں انہوں نے پس و پیش سے کام لیا تو فرمایا گیا کہ ایک آیت ہی بنا لائو ،اس میں بھی وہ ناکا م رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو ایک لوح محفوظ پر لکھا ہوا ہے، اس میں ایک حرف کی تبدیلی بھی کوئی نہیں کرسکتا، قیامت کے دن تک کوئی تحریف یا ترمیم نہیں ہوسکتی۔ گویا ’’کاپی رائٹ،، کے تحت اس کا چربہ تیار نہیں ہوسکتا۔ چونکہ طویل عرصہ گزرچکا ہے اس لیے اس کی نقول تو بن سکتی ہے مگر متن میں تبدیلی ممکن نہیں۔ اسلام میں کاپی رائٹ کا اتنا راسخ تصور ہے کہ 1984ء میں وفاقی شرعی عدالت نے کاپی رائٹ کی چوری کو ’’حرام‘‘ قرار دیا۔ فیصلے کی رو سے حقوق دانش کو ’’مال‘‘ قرار دیاگیا ہے اور کسی کا ’’مال‘‘ چوری نہیں کیا جاسکتا ہے، یہ چوری حرام ہے۔
کسی حد تک یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ ’’ملکیت دانش‘‘یعنی ’’انٹیلیکچوئل پراپرٹی‘‘ کا تصور پاکستان یا اس سے پہلے برصغیر میں کیا تھا؟ اور اسلام میں اس کی کتنی اہمیت ہے؟ سوال یہ ہے کہ حقوق ِملکیت ِدانش کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس پر اگر نظر ڈالیں تو کافی ’’خلا‘‘ نظر آتا ہے، کہیں قانون موجود بھی ہے تو عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ اس لیے عام اشیاء تو دور کی بات خاص قسم کے فن پارے بھی نقل ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر کتب کے معاملے میں یہ مرض بہت عام ہے، قیمتی ترین کتابوں کی نقل شائع کردی جاتی ہے۔
عام طور پر نصابی کتب کی پائیریسی پر اعتراض کیے جانے پر اس عمل کے دفاع میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ علم پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔ مہنگی کتابیں علم کو طلباء کی دسترس سے دور کررہی ہیں اس لیے ضروری ہے کہ سستی کتب شائع کرکے علم تک آسان رسائی ممکن بنائی جائے۔ بیرون ملک ڈالرز میں بکنے والی کتب چند روپوں میں دستیاب ہوجاتی ہیں ،ان میں تدریسی کتب خاص طور پر فوٹو کاپی بھی کرلی جاتی ہیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے جہاں ملے وہ اسے حاصل کرلے۔ یہاں’’ گمشدہ‘‘ کالفظ استعمال ہوا ہے۔ کھوئی ہوئی وراثت کے لیے میراث کا مطلب ہے آپ کا وہ جائز حق جو کسی رشتے کی طرف سے آپ کو ملنا ہو۔ یہ درسی کتب جو کسی نے لکھی ہوں یہ اس کا ’’مال‘‘ ہیں آپ کی میراث نہیں ۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ سب کچھ تو ہے مگر اس کا حل کیا ہے؟ ظاہر ہے قانون اور اس کی عمل داری۔
انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن پاکستان اس حوالے سے سفارشات مرتب کرتی رہی ہے کہ پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور حسب ضرورت نئی قانون سازی کی جائے۔ ان دنوں اس سلسلے میں حقوق ملکیت دانش کا ایک نیا ڈرافٹ زیرغور ہے ،اس میں ترامیم وتجاویز آرہی ہیں ، ان پر اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت ہورہی ہے۔ اس میں ہماری تجویز یہ ہے کہ ایک مرتبہ کی قانون سازی معاملے کا حل نہیں، کیونکہ میوزک سننے کے لیے سیروں وزنی گراموفون سے پائو بھر آڈیوٹیپ اور اب ایک چھٹانک بھر یو ایس پی اور ماشہ بھر میموری کارڈ تک ‘ جس میں لاکھوں گانے محفوظ کیے جاسکتے ہیں ،اتنی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ رائج قانون کے دائرے میں خلاف ورزی کو روکنے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اس لیے قوانین کابنیادی خاکہ بناکر ایک مستقل قومی حکمت ِعملی تشکیل دی جانی چاہئے جس کے ذریعے پاکستان میں حقوق ملکیت دانش کی ترویج وترتیب کے ساتھ تحفظ بھی ہوسکے۔
سستی درسی کتب کی پائریسی کا بھی حل نکل سکتا ہے ،اس کے لیے بھی تجویز ہے کہ قومی سطح پر درسی کتب کا بک بینک نیشنل بک فائونڈیشن کی مدد سے غیر ملکی مصنفین کی کتب کے حقوق خریدے،پھر انہیں کم قیمت پرطلباء کوفراہم کیا جاسکتا ہے۔ اس سے کم از کم ایک علمی سرقہ کرنے والی قوم کا داغ تو اپنی پیشانی سے دھوسکیں گے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ماحول بھی سازگار ہوسکے گا کیونکہ علمی سر قہ سے یہ تاثر بھی گہرا ہوتا ہے کہ جب ہم علم پر خرچ نہیں کرسکتے تو کہاں خرچ کریں گے؟
پاکستان میں قانون سازی کرنے سے پہلے یہ شعور بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں حقوق ملکیت دانش یا انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے حوالے سے کیامعیار طے کیے گئے ہیں، اس کے لیے انہی کالموں میں اس کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا جارہا ہے۔


متعلقہ خبریں


خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

مضامین
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر