وجود

... loading ...

وجود

امریکا اور میکسیکو سرحد پرمجوزہ دیوار کا دیگر دیواروں سے موازنہ

هفته 28 جنوری 2017 امریکا اور میکسیکو سرحد پرمجوزہ دیوار کا دیگر دیواروں سے موازنہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ ملک کی جنوبی سرحد پر میکسیکو کے ساتھ ’’مہینوں کے اندر اندر‘‘ دیوار تعمیر کی جائے گی،5ہزار خصوصی محافظ تعینات کیے جائیں گے جو سرحد پر گشت کا کریں گے، جب کہ ملک میں غیر قانونی طور پر موجود تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا جائیگا۔صدر ٹرمپ نے اِن حکم ناموں کا اعلان محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے دورے کے دوران کیا، جس سے قبل اْنھوں نے ’اِمیگریشن‘ کے دو انتظامی حکم ناموں پر باضابطہ دستخط کیے۔صدر ٹرمپ کی طرف سے دیوار تعمیر کرنے کے بار ے میں حکم اس وقت سامنے آیا جب میکسیکو کے خارجہ اور اقتصادی امور کے سیکرٹری، ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت کرنے کے لیے واشنگٹن پہنچے تھے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم لوگوں کی ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران میکسیکو سے غیر قانونی طور پر امریکا آنے والے تارکین وطن کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ان میں بعض اچھے لوگ ہیں تاہم ان کے بیانات میکسیکو کے کئی شہریوں کی ناراضی کا باعث بنے۔
دیوار کی تعمیر کے احکامات کا مقصد غیر قانونی ’امیگریشن‘ کو روکنا ہے، تاکہ امریکا میں ناجائز طور پر داخل ہونے کے معاملے کو بند کیا جا سکے، جب کہ اْن امریکی شہروں پر کڑی نظر رکھی جائے جہاں غیر رجسٹرڈ تارکینِ وطن کو تحفظ فراہم ہوتا ہے۔یہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا عمل ہے۔اس سے قبل ’اے بی سی نیوز‘پر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ دیوار کی تعمیر ’’چند ہی ماہ کے اندر اندر ہوگی‘‘، اور اس موقف پر زور دیا کہ میکسیکو کو پیسے دینے ہوں گے۔ جب کہ میکسیکو بارہا کہتا آیا ہے کہ وہ ایسی کوئی ادائیگی نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ادائیگی کا معاملہ ’’پیچیدہ نوعیت کا‘‘ ہوسکتا ہے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ میکسیکو کی جانب سے یہ ادائیگی شاید براہِ راست عمل میں نہ آئے۔
میکسیکو کے صدر انریک نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا ہے کہ میکسیکو اس دیوار کی تعمیر کے لیے اخراجات ادا نہیں کرے گا اگرچہ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ میکسیکو کو ایسا کرنا پڑے گا۔ میکسیکو کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے حکم کے بعد میکسیکو کے صدر آئندہ ہفتے واشنگٹن کے مجوزہ دورے کو منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔’ٹی وی‘ پر براہ راست نشر ہونے والے خطاب میں میکسیکو کے صدر انریک پینا نیٹو نے کہا کہ انہیں اس بات کا افسوس ہے اور وہ امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔اْنھوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ میکسیکو اس دیوار کی تعمیر کے لیے اخراجات ادا نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ میکسیکو دیواروں پر یقین نہیں رکھتا ہے۔میں نے بار بار کہا ہے کہ میکسیکو کسی بھی دیوار کے لیے رقم فراہم نہیں کرے گا۔
اپنے واشنگٹن کے دورے کے بارے میں صدر انریک نے براہ راست کوئی بات نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ وہ میکسیکو کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی رپورٹ کا انتظار کریں گے جو اس وقت واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں سے مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ “میکسیکو کے عہدیداروں کی حتمی رپورٹ کی بنیاد پر جو اس وقت واشنگٹن میں ہیں۔ میں اس بات کا فیصلہ کروں گا کہ آئندہ کیا کرنا ہے۔”
دیوار کی تعمیر کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے، انہوں نے خیر سگالی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ “میکسیکو، امریکا کی عوام کے ساتھ اپنی دوستی اور اس کی حکومت کے ساتھ سمجھوتے طے کرنے سے متعلق اپنی آمادگی کا اعادہ کرتا ہے۔میکسیکو کے صدر کی طرف سے اپنے دورہ امریکا کے بارے میں نظر ثانی کرنے کا ممکنہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب میکسیکو میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ صدر پینانیٹو کا موقف امریکی صدر ٹرمپ کی سخت پالیسی کے سامنے بہت کمزور ہے۔میکسیکو کے ایک عہدیدار جو حکومت کی پالیسی کے بارے میں کھلے عام بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں، نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 31 جنوری کو ہونے والے دورے کو منسوخ کرنے کے بارے میں غور ہو رہاہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق میکسیکو کی سرحد کے ساتھ 3ہزارکلومیٹر لمبی دیوار بنائیں گے۔ان کے مطابق کنکریٹ سے بنی یہ دیوار9 سے 16 میٹر اونچی ہوگی۔ری پبلکن پارٹی اور ان کے حامیوں کے مطابق یہ دیوار میکسیکو کے باشندوں کو غیر قانونی طور پر امریکا داخل ہونے سے روکنے میں مدد دے گی۔اس وقت امریکا اور میکسیکو کی طویل سرحد پر جہاں باڑ ھ لگی ہوئی ہے، وہیں سرحد کے دفاع کے لیے دونوں طرف سیکورٹی کے بھی انتظامات ہیں۔تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں دو ملکوں کو علیحدہ کرنے کے لیے بیچ میں دیوار کھڑی کی گئی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اور میکسیکو کے درمیان یہ دیوار ان تاریخی دیواروں کے سامنے کیسی ہوگی؟
حْجم اور ناپ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے بات کرتے ہیں دیوار برلن کی جو کہ 27 برس پہلے توڑ دی گئی تھی۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب 1950 اور 1960 کی دہائی میں جب جرمنی دو حصوں میں تقسیم تھا تو اس وقت مغربی جرمنی میں شہریوں کو اگست 1961 کی ایک صبح یہ دھچکا پہنچا جب انھوں نے دیکھا کہ سوویت زیر کنٹرول مشرقی حصے کی طرف ایک خاردار باڑ ھ لگی ہوئی ہے۔بعد میں یہ باڑھ کنکریٹ سے بنی ساڑھے تین میٹر اونچی دیوار میں تبدیل ہو گئی۔ اس دیوار کی لمبائی 100 کلومیٹر تھی اور اس کے علاوہ مزید 66 کلومیٹر لمبی باڑ ھ نے جرمنی کے دو حصوں کو الگ کیا ہوا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی دیوار اس سے تو لمبی ہوگی لیکن تاریخ کی سب سے لمبی دیوار نہیں ہو سکے گی۔امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحد کی لمبائی 3000 کلو میٹر ہے اور اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ جتنی بھی کوشش کر لیں ان کی دیوار دیوارِچین سے لمبی نہیں ہو سکتی۔دیوارِچین کی اصل لمبائی کا تو کسی کو علم نہیں ہے لیکن عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 20 ہزار کلومیٹر لمبی دیوار تھی جبکہ کچھ جگہوں پر اس کی اونچائی سات میٹر سے بھی زیادہ تھی۔
ان سب کے علاوہ ماضی بعید میں 122 عیسوی میں تعمیر کی جانے والی ہیڈرائن دیوار انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ ایمپائرر ہیڈرائن نے بنوائی تھی اور اس کی لمبائی 117 کلومیٹر جبکہ اونچائی ایک ڈبل ڈیکر بس کے جتنی تھی۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر