... loading ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ ملک کی جنوبی سرحد پر میکسیکو کے ساتھ ’’مہینوں کے اندر اندر‘‘ دیوار تعمیر کی جائے گی،5ہزار خصوصی محافظ تعینات کیے جائیں گے جو سرحد پر گشت کا کریں گے، جب کہ ملک میں غیر قانونی طور پر موجود تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا جائیگا۔صدر ٹرمپ نے اِن حکم ناموں کا اعلان محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے دورے کے دوران کیا، جس سے قبل اْنھوں نے ’اِمیگریشن‘ کے دو انتظامی حکم ناموں پر باضابطہ دستخط کیے۔صدر ٹرمپ کی طرف سے دیوار تعمیر کرنے کے بار ے میں حکم اس وقت سامنے آیا جب میکسیکو کے خارجہ اور اقتصادی امور کے سیکرٹری، ٹرمپ انتظامیہ سے بات چیت کرنے کے لیے واشنگٹن پہنچے تھے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم لوگوں کی ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔انہوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران میکسیکو سے غیر قانونی طور پر امریکا آنے والے تارکین وطن کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ان میں بعض اچھے لوگ ہیں تاہم ان کے بیانات میکسیکو کے کئی شہریوں کی ناراضی کا باعث بنے۔
دیوار کی تعمیر کے احکامات کا مقصد غیر قانونی ’امیگریشن‘ کو روکنا ہے، تاکہ امریکا میں ناجائز طور پر داخل ہونے کے معاملے کو بند کیا جا سکے، جب کہ اْن امریکی شہروں پر کڑی نظر رکھی جائے جہاں غیر رجسٹرڈ تارکینِ وطن کو تحفظ فراہم ہوتا ہے۔یہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا عمل ہے۔اس سے قبل ’اے بی سی نیوز‘پر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ دیوار کی تعمیر ’’چند ہی ماہ کے اندر اندر ہوگی‘‘، اور اس موقف پر زور دیا کہ میکسیکو کو پیسے دینے ہوں گے۔ جب کہ میکسیکو بارہا کہتا آیا ہے کہ وہ ایسی کوئی ادائیگی نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ادائیگی کا معاملہ ’’پیچیدہ نوعیت کا‘‘ ہوسکتا ہے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ میکسیکو کی جانب سے یہ ادائیگی شاید براہِ راست عمل میں نہ آئے۔
میکسیکو کے صدر انریک نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا ہے کہ میکسیکو اس دیوار کی تعمیر کے لیے اخراجات ادا نہیں کرے گا اگرچہ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ میکسیکو کو ایسا کرنا پڑے گا۔ میکسیکو کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے حکم کے بعد میکسیکو کے صدر آئندہ ہفتے واشنگٹن کے مجوزہ دورے کو منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔’ٹی وی‘ پر براہ راست نشر ہونے والے خطاب میں میکسیکو کے صدر انریک پینا نیٹو نے کہا کہ انہیں اس بات کا افسوس ہے اور وہ امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔اْنھوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ میکسیکو اس دیوار کی تعمیر کے لیے اخراجات ادا نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ میکسیکو دیواروں پر یقین نہیں رکھتا ہے۔میں نے بار بار کہا ہے کہ میکسیکو کسی بھی دیوار کے لیے رقم فراہم نہیں کرے گا۔
اپنے واشنگٹن کے دورے کے بارے میں صدر انریک نے براہ راست کوئی بات نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ وہ میکسیکو کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی رپورٹ کا انتظار کریں گے جو اس وقت واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں سے مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ “میکسیکو کے عہدیداروں کی حتمی رپورٹ کی بنیاد پر جو اس وقت واشنگٹن میں ہیں۔ میں اس بات کا فیصلہ کروں گا کہ آئندہ کیا کرنا ہے۔”
دیوار کی تعمیر کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے، انہوں نے خیر سگالی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ “میکسیکو، امریکا کی عوام کے ساتھ اپنی دوستی اور اس کی حکومت کے ساتھ سمجھوتے طے کرنے سے متعلق اپنی آمادگی کا اعادہ کرتا ہے۔میکسیکو کے صدر کی طرف سے اپنے دورہ امریکا کے بارے میں نظر ثانی کرنے کا ممکنہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب میکسیکو میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ صدر پینانیٹو کا موقف امریکی صدر ٹرمپ کی سخت پالیسی کے سامنے بہت کمزور ہے۔میکسیکو کے ایک عہدیدار جو حکومت کی پالیسی کے بارے میں کھلے عام بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں، نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 31 جنوری کو ہونے والے دورے کو منسوخ کرنے کے بارے میں غور ہو رہاہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق میکسیکو کی سرحد کے ساتھ 3ہزارکلومیٹر لمبی دیوار بنائیں گے۔ان کے مطابق کنکریٹ سے بنی یہ دیوار9 سے 16 میٹر اونچی ہوگی۔ری پبلکن پارٹی اور ان کے حامیوں کے مطابق یہ دیوار میکسیکو کے باشندوں کو غیر قانونی طور پر امریکا داخل ہونے سے روکنے میں مدد دے گی۔اس وقت امریکا اور میکسیکو کی طویل سرحد پر جہاں باڑ ھ لگی ہوئی ہے، وہیں سرحد کے دفاع کے لیے دونوں طرف سیکورٹی کے بھی انتظامات ہیں۔تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں دو ملکوں کو علیحدہ کرنے کے لیے بیچ میں دیوار کھڑی کی گئی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اور میکسیکو کے درمیان یہ دیوار ان تاریخی دیواروں کے سامنے کیسی ہوگی؟
حْجم اور ناپ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے بات کرتے ہیں دیوار برلن کی جو کہ 27 برس پہلے توڑ دی گئی تھی۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب 1950 اور 1960 کی دہائی میں جب جرمنی دو حصوں میں تقسیم تھا تو اس وقت مغربی جرمنی میں شہریوں کو اگست 1961 کی ایک صبح یہ دھچکا پہنچا جب انھوں نے دیکھا کہ سوویت زیر کنٹرول مشرقی حصے کی طرف ایک خاردار باڑ ھ لگی ہوئی ہے۔بعد میں یہ باڑھ کنکریٹ سے بنی ساڑھے تین میٹر اونچی دیوار میں تبدیل ہو گئی۔ اس دیوار کی لمبائی 100 کلومیٹر تھی اور اس کے علاوہ مزید 66 کلومیٹر لمبی باڑ ھ نے جرمنی کے دو حصوں کو الگ کیا ہوا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی دیوار اس سے تو لمبی ہوگی لیکن تاریخ کی سب سے لمبی دیوار نہیں ہو سکے گی۔امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحد کی لمبائی 3000 کلو میٹر ہے اور اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ جتنی بھی کوشش کر لیں ان کی دیوار دیوارِچین سے لمبی نہیں ہو سکتی۔دیوارِچین کی اصل لمبائی کا تو کسی کو علم نہیں ہے لیکن عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 20 ہزار کلومیٹر لمبی دیوار تھی جبکہ کچھ جگہوں پر اس کی اونچائی سات میٹر سے بھی زیادہ تھی۔
ان سب کے علاوہ ماضی بعید میں 122 عیسوی میں تعمیر کی جانے والی ہیڈرائن دیوار انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ ایمپائرر ہیڈرائن نے بنوائی تھی اور اس کی لمبائی 117 کلومیٹر جبکہ اونچائی ایک ڈبل ڈیکر بس کے جتنی تھی۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...