وجود

... loading ...

وجود

مسلمان لڑکیوں کوجبری ہندوبنایاجانے لگا

جمعرات 26 جنوری 2017 مسلمان لڑکیوں کوجبری ہندوبنایاجانے لگا

بھارت سے ملنے والی میڈیا رپورٹس سے انکشاف ہواہے کہ بھارت میں مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے ان کو زبردستی ہندو بنانے کی باقاعدہ ایک مہم شروع کردی گئی ہے اور بھارت کے صوبہ اترپردیش سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ایک رکن اسمبلی اس مہم کی نگرانی کررہے ہیں اور مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے ان کو زبردستی مذہب تبدیل کرکے ہندومت اختیار کرنے پر مجبور کرنے والے مہاسبھائی ہندو غنڈوں کی سرپرستی کررہے ہیں، پولیس کو ان واقعات کی رپورٹ درج نہ کرنے اور رپورٹ درج کرانے پر اصرار کرنے والے لڑکیوں کے والدین اور رشتہ داروں پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے ان کو بھی حوالات میں بند کردینے کی غیر تحریری ہدایت دے دی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مسلمان لڑکیوںکو اغوا کرکے زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے سب سے زیادہ واقعات اترپردیش یعنی یوپی میں ہورہے ہیں جہاں بی جے پی کے رکن اسمبلی یوگی ادیاناتھ جو ہندو یووا باہنی کی بھی سرپرستی کرتے ہیں، اس کی باقاعدہ نگرانی اور سرپرستی کررہے ہیں۔
بھارتی اخبارات نے یوپی کے ایک گائوں خوشی نگرسے ایک ایسی ہی زبردستی اغوا کرکے ہندو بنائی جانے والی لڑکی زبیدہ جس کی ایکہندو نوجوان سے زبردستی شادی کردی گئی،اس کی دکھ بھری داستان شائع کی ہے ،زبیدہ تک رسائی حاصل کرنے والی ہندو صحافی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے اس نے بتایا کہ اسے 3سال قبل جب اغوا کیاگیا تو اس کی عمر صرف 13 سال تھی ، اسے اغو اکرنے والے غنڈے نے اسے اپنے منہ بولے دادا دادی کے گھر میں چھپادیا،اور جب اس کے والدین اسے تلاش کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچے تو گھر والوں نے اس کی وہاں موجودگی سے صاف انکار کردیا ،بعد میں اسے زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیاگیا اور اس کانام امیشہ رکھ دیا گیا ،بعد ازاں اس کی شادی اسی ہندو غنڈے سے کردی گئی جس نے اسے اغوا کیاتھا ، زبیدہ نے بتایا کہ اغوا کے بعد سے میں اپنے ماں، باپ اور بھائی بہنوں کا چہرہ تک دیکھنے سے محروم ہوگئی ہوںاور تنہائی میں روتی رہتی ہوں۔
صحافی نے جب زبیدہ کے چچا عبداللہ سے رابطہ کیا تو انھوںنے بتایا کہ ہندوئوں نے پنچایت میں اعلان کیا کہ ہم نے اسے ہندو بنالیاہے اور اب وہ ہمارے ساتھ ہندو بن کر رہ رہی ہے،زبیدہ کے چچا نے کہا کہ وہ لوگ طاقتور ہیں ،ان کے ساتھ ارکان اسمبلی ہیں جن کی وجہ سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم کمزور اور بے بس لوگ ہیں ایسی صورت میں ہم خون کے گھونٹ پینے اور اللہ سے ان کی تباہی وبربادی کی دعا مانگنے کے سوا کیاکرسکتے ہیں؟
اخبار لکھتاہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اترپردیش کے جس گائوں میں یہ واقعہ ہواہے وہاں مسلمانوں کے گنے چنے ہی گھر ہیں اور ان کی لڑکی کو اغوا کرکے اس کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے والے لوگ گائوں کی بااثر ٹھاکر فیملی کے لوگ ہیں۔زبیدہ کے گھر والوں نے اس کے اغوا کے بعد اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس کے اغوا کا مقدمہ درج کرادیاتھا ، زبیدہ کے والدین کی جانب سے اس کے اغوا کے واقعے کی رپورٹ2013 میں درج کرائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق رامیش ور ٹھاکر اور اس کے بیٹوں اروند اور ناگن ٹھاکر نے مل کر کمسن زبیدہ کو اغوا کیا اور پھر اسے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرکے اس سے شادی کی ہے ،زبیدہ کے والدین نے رپورٹ میں یہ بھی درج کرایا ہے کہ زبیدہ کو اغوا کرنے والے رامیشور سنگھ کے ہندو یووا باہنی کے دوستوں نے اسے کمسن زبیدہ کو اغواکرنے کی ترغیب دی اور اغوا کے لیے مدد بھی بہم پہنچائی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2014 سے اکتوبر2016 کے دوران یوپی کے صرف ایک ضلع میں 389 لڑکیوں کے غائب ہوجانے یا اغوا کئے جانے کی رپورٹیں درج کرائی گئیں ،لیکن پولیس نے ان میں سے کسی بھی واقعے میں کسی لڑکی کو بازیاب کرانے میں کوئی مدد نہیں کی، اس کے برعکس ضلع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس ان واقعات کو اغوا کا واقعہ تسلیم کرنے ہی کو تیار نہیں ہیں ۔ان کا موقف یہ ہے کہ لڑکیاں اپنی مرضی سے اپنے دوست لڑکوں کے ساتھ گھروں سے بھاگتی ہیں، کیونکہ ان کے والدین کسی بھی صورت میں انھیں اس طرح ہندو لڑکوں سے شادیاں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے،ایس پی پولیس بھرت کمار یادیو کاکہناہے کہ جب لڑکیوں کے والدین ان کو پسند کی شادی کی اجازت نہیں دیتے اور معاملہ ہمارے پاس آتاہے تو عام طورپر لڑکیوں کی عمر کم ہوتی ہے یا ان کے پاس اپنی عمر ثابت کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہوتا، ایسی صورت میں ہم انھیں ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے ان کا بیان قلمبند کرکے انھیں اپنی مرضی کے لڑکے والوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ایس پی پولیس بھرت کمار یادیو کے اس بیان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے انھیں ہندو بنانے کے اس مکروہ کام میں بھارت کی پولیس بھی ہندو غنڈوں کی بھرپور پشت پناہی کرتے ہوئے ہندو یووا باہنی اور بی جے پی کے منصوبوں کی تکمیل میں مدد دے رہی ہے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت خوشی نگر نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صرف خوشی نگر سے درجنوں مسلمان لڑکیوں کو زبردستی اغوا کرکے زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیاجاچکاہے۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت خوشی نگر نے اپنی تحقیقی رپورٹ یوپی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادیو کو جنوری 2016 میں پیش کی تھی جس میں باقاعدہ طورپر اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرکے انھیں ہندو بنانے کا یہ قابل نفرت جرم ہندویووا باہنی کے غنڈے کررہے ہیں اور کوئی انھیں لگام دینے کو تیار نہیں ہے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر محمد سلیمان کاکہناہے کہ مسلمان لڑکیوں کو اغوا کرنے اور انھیں ہندو بنانے کے تمام واقعات میں ہندو یووا باہنی کے غنڈے ملوث ہیں ، ان کاکہناہے کہ ان واقعات میں اضافے کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہندویووا باہنی کی پہنچ بہت ہی بااثراور حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں تک ہے بلکہ تھانے سے عدالتوں تک ہر جگہ ان کے اپنے آدمی اور ہمدرد بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب مسلمان بہت ہی پسماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں اس لیے ان کی آواز سننے والا اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی موثر انتظام اب تک نہیں ہوسکاہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارت کی کم وبیش25 فیصد مسلم آبادی اترپردیش میں رہتی ہے ،مسلم اقلیت کی36 فیصد تعداد صوبے کے مشرقی علاقے میں آباد ہے، جبکہ خوشی نگر میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی 16 فیصد سے بھی کم ہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر