وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ کا نیا یو ٹرن ۔ چین پر نرم ، روس کے ساتھ تعلقات کے لیے نئی شرائط !

پیر 16 جنوری 2017 ٹرمپ کا نیا یو ٹرن ۔ چین پر نرم ، روس کے ساتھ تعلقات کے لیے نئی شرائط !

امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جوں جوں عہدہ صدارت سنبھالنے کے قریب جارہے ہیں اور اُن کی تقریب حلف برداری کے ایام قریب آتے جارہے ہیں ۔ وہ اپنے ہی مختلف بیانات سے الگ اپنی پالیسیوں کی جھلک دکھانے پرمجبور دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ ماہرین اِسے ٹرمپ یوٹرن پالیسی بھی باور کرارہے ہیں۔ وہ ابتدا میں روس کی طرف واضح جھکاؤ رکھتے تھے مگر اب وہ اس حوالے سے امریکیوں پالیسیوں کو کچھ شرائط کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اُنہوں نے ابتدا میں چین کے ساتھ اپنا رویہ سخت رکھا تھا مگر اب وہ اس پر نرمی پید اکرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔
امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں چین کے خلاف اپنے معاندانہ بیانات کے برعکس چین اور روس کی ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کااظہار کرکے ایک دفعہ پھر اپنے حامیوں اور ناقدین کو حیران کردیا ہے ، گزشتہ دنوں صحافیوں کے سامنے اپنے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں بشرطیکہ دونوں ممالک تعاون کریں۔
ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس پر عائد حالیہ پابندیاں کچھ عرصے تک قائم رہیں گی لیکن پھر انھیں اٹھایا جا سکتا ہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ ڈونلڈٹرمپ روس اور چین دونوں ہی سے دوستی کے متمنی ہیں ان کاکہناہے کہ میری نجی زندگی کے بارے میں خبریں جعلی اور من گھڑت ہیں‘‘انھوں نے ون چائنا پالیسی کے متعلق کہا کہ اس بارے میں بات چیت ہو سکتی ہے۔ فی الحال اس پالیسی کے تحت امریکا تائیوان کو چین سے علیحدہ تسلیم نہیں کرتا۔
اپنے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ماسکو اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ اور دوسرے معاملوں میں واشنگٹن کی مدد کرتا ہے تو روس پر سے پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ’ ’اگر آپ ساتھ چلتے ہیں اور واقعتاً روس ہماری مدد کرتا ہے تو پھر کوئی کسی پر پابندی کیوں لگائے گا جب کوئی واقعی اچھا کام کررہا ہو۔‘‘انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن سے ان کی ملاقات طے کی جائے گی۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکا کے موجودہ صدر اوباما اور صدر پوتن کے درمیان تعلقات عام طور پر سرد مہری کاشکار رہے ہیں۔ بیجنگ کے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کاکہناہے کہ چین کو امریکی کمپنیوں کو کرنسی کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلے میں شریک ہونے کی اجازت دینی پڑے گی۔انھوں نے گزشتہ مہینے ون چائنا پالیسی پر سوال کیے تھے جس سے چین کے سرکاری میڈیا کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔
دوسری جانب اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی امریکا کے صدارتی انتخاب میں روس کی مداخلت کی کوششوں کے دعوئوں کی تفتیش کرے گی۔سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک رہنمائوں نے اس عزم کااظہار کیاہے کہ تفتیش کا نتیجہ کچھ بھی ہو وہ اپنی تفتیش جاری رکھیں گے۔وہ روس کی سائبر اور انٹیلی جنس کی سرگرمیوں کی بھی تفتیش کریں گے۔ اس سلسلے میں وہ موجودہ امریکی انتظامیہ اور نو منتخب صدر ٹرمپ کی ٹیم سے بات چیت بھی کریں گے تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچنا ممکن ہوسکے۔کمیٹی اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ کیا امریکی انتخاب کی مہم سے منسلک افراد کا روس سے کوئی رابطہ تھا۔انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں سمن جاری کیا جائے گا اور ضروری ہوا تو حلف نامہ بھی داخل کرایا جائے گا۔
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوارہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے کی ٹکر رہی لیکن روس پر انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔سینیٹرز کاکہناہے کہ تفتیش کازیادہ تر کام رازدارانہ طور پر انجام دیا جائے گا لیکن سینیٹروں کا کہنا ہے کہ جہاں ممکن ہوگا وہ کھلے عام سماعت کریں گے۔سینیٹروں نے کہا کہ وہ رازداری اور غیر رازداری دونوں قسم کی رپورٹس پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ ان کی ٹیم بھی ’’ ہیکنگ کے معاملے میں ایک رپورٹ 90 دنوں میں داخل کرے گی۔‘‘ٹرمپ نے انتخابات میں روسی مداخلت کے دعووں کو جھوٹی خبر اور من گھڑت قرار دیا تھا۔جبکہ دسمبر میں امریکا کے موجودہ صدر اوباما نے ہیکنگ کے الزامات کے جواب میں 35 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا تھا۔ جس کے بعد روسی سفارت کار امریکا چھوڑ کر چلے گئے تھے ،لیکن روس نے جوابی اقدام کے طورپر امریکا کے کسی سفارت کار کو ملک چھوڑنے کو نہیں کہا۔نومنتخب صدر نے اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے تھاکہ میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد نکالے گئے سفارتکاروںکو واپس بلالوں گا۔
ایک طرف امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کی حمایت میں اس قدر آگے جاتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف خود ان کے نامزد وزرا روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تحفظات کا شکار نظر آتے ہیں جس کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزدکیے گئے وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سربراہ نے سینیٹ میں اپنی نامزدگی کے حوالے سے ہونے والی سماعت کے دوران میں روس کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا ۔ نامزد وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس نے خبردار کیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد نیٹو کو پہلی بار روس سے شدید خطرات لاحق ہیں۔سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر نامزد مائیک پمپیو نے کہا کہ روس یورپی ممالک کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے اور وہ یوکرائن میں اپنی جارحانہ پالیسوں کا اظہار کر رہا ہے۔نامزد وزیر دفاع اور سی آئی کے سربراہ کے روس کے بارے میں خیالات نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات سے نہ صرف یہ کہ مطابقت نہیں رکھتے بلکہ یہ ٹرمپ کے ان خیالات سے متصادم اورمتضاد ہیں جس کا اظہار وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کرتے رہے ہیں اور گزشتہ روز بطور صدر اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بھی برملا جن کااظہار کرچکے ہیں۔
نومنتخب امریکی صدر کا موقف ہے کہ ان کے دورِ صدارت میں روس امریکا کی زیادہ عزت کرے گا اور اگر روسی صدر پوتن انھیں پسند کرتے ہیں تو یہ امریکا کے لیے ایک اثاثہ ہے۔جبکہ ان کے نامزد کردہ وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ روس نیٹو ممالک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جنرل میٹس نے کہا :’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ روس نیٹو کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہمیں اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہم روسی صدر ولادی میر پوتن سے کن معاملات پر نمٹ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان کی رائے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا خطرہ روس، دہشت گرد گروپوں اور چین کی جنوبی بحیرہ چین پالیسوں سے ہے۔جنرل میٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو کے بارے خیالات کے برعکس کہا کہ نیٹو اتحاد موجودہ زمانے کا سب سے کامیاب فوجی اتحاد ہے۔سی آئی اے کے سربراہ کے لیے نامزد مائیک پمپیو نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کو بتایا کہ انھیں امریکا کے خفیہ اداروں پر پورا بھروسا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے خفیہ اداروں کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مائیک پمپیو سے ملکی خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات کے حوالے سے بھی سوال پوچھے گئے۔سی آئی اے کے ممکنہ سربراہ سے جب پوچھا گیا کہ ان کی نظرمیں امریکا کو سب سے زیادہ خطرہ کس ہے تو انھوں نے دہشتگرد گروہوں کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کو دوسرا بڑا خطرہ شمالی کوریا سے ہے جبکہ روس سے خطرے کو انھوں نے تیسرے درجے پر رکھا۔
دوسری جانب نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نامزد وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے کہا ہے کہ امریکا کے لیے روس خطرے کا باعث ہے، ’’اور، اْس کی حالیہ سرگرمیاں امریکی مفادات کو نظرانداز کرنے کی مترادف ہیں‘‘۔ٹِلرسن نے یہ بات سینیٹ کی امورِ خارجہ کمیٹی کے روبرو اپنی نامزدگی کی توثیق کی سماعت کے دوران کہی۔ اْنھوں نے کہا کہ ’’اپنے اقدامات پر روس کا احتساب ہونا چاہیے‘‘، جیسا کہ، یوکرین پر چڑھائی کا معاملہ ہے۔
ٹِلرسن نے قانون سازوں کو بتایا کہ ’’نیٹو کے ہمارے اتحادی پھر سے سر اٹھانے والے روس سے خوفزدہ ہونے میں حق بجانب ہیں‘‘، اور کہا کہ ٹرمپ نے روس کے ساتھ قریبی تعلقات پر زور دیا ہے ، تاکہ ’’امریکی قیادت کی غیر موجودگی‘‘ کے نتیجے میں، بڑھتی ہوئی روسی سرگرمیوں کا جواب دیا جا سکے۔اْنھوں نے اِس بات کی ضرورت کی جانب توجہ دلائی کہ ’’روس کے عزائم کو دیکھتے ہوئے، اْس کے ساتھ کھلے اور برجستہ مکالمے کی ضرورت ہے‘‘، تاکہ امریکا اپنے راستے کا تعین کر سکے۔ٹِلرسن نے چین کی جانب سے بحیرہ جنوبی چین میں جزیرہ تعمیر کرنے کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ اْنھوں نے خطے میں چین کے اِس اقدام کے لیے کہا کہ یہ ’’بین الاقوامی ضابطوں کی پرواہ کیے بغیر، متنازع علاقوں پر قبضہ جمانے‘‘ کے مترادف ہے۔گذشتہ ماہ، ٹِلرسن کو نامزد کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’ایکسون موبیل کارپوریشن‘ کے سابق چیف اگزیکٹو افسر (سی اِی او) ہیں، جو ’’عالمی امور کا انتظام چلانا جانتے ہیں، جو محکمہ خارجہ کو کامیابی سے چلانے کے لیے بہت اہم ہے‘‘۔منتخب صدر نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’’ریکس ٹِلرسن کی جو بات مجھے اچھی لگتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ہر طرح کی غیر ملکی حکومتوں سے کامیابی کے ساتھ معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں‘‘۔
64 برس کے ٹِلرسن، ’ایکسون موبیل‘ سے مستعفی ہوچکے ہیں۔ سینیٹ میں اْن کی نامزدگی کی منظوری کے دوران، اْن کے روس کے ساتھ تیل کے شعبے میں ہونے والے سمجھوتے پیچیدگی پیدا کرسکتے ہیں، جہاں متعدد اہم قانون ساز پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ اْن کے قریبی تعلقات کے پیشِ نظر، وہ مشکل کا شکار ہیں۔ 2013 میں ٹِلرسن کو روس کا ’آرڈر آف فرینڈشپ‘ کا ایوارڈ عطا کیا گیا تھا، جو غیر ملکیوں کے لیے مخصوص اعزازی تمغہ ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر