وجود

... loading ...

وجود

سیارہ پلوٹو پر گلیشیرز، اور برف پوش پہاڑیوں کے سلسلے

هفته 14 جنوری 2017 سیارہ پلوٹو پر گلیشیرز، اور برف پوش پہاڑیوں کے سلسلے

امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے پلوٹو کے چاند کی نئی تصاویر جاری کردی گئی ہیں ،ماہرین کے مطابق رواں ہفتے جاری ہونے والی تصاویر اب تک حاصل ہونے والی سب سے معیاری اور بہترین تصاویر ہیں۔ ناسا کے خلائی جہاز نیو ہورائزنز سے لی جانے والی تازہ تصاویر پلوٹو کے سب سے بڑے چاند کیرن کی ہیں۔ناسا کے مطابق یہ تصاویر پلوٹو کی 80 لاکھ کلومیٹر دور سے لی گئی ہیں،ماہرین نے ناسا کی بھیجی ہوئی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد رائے ظاہر کی ہے کہ رواں ہفتے جاری ہونے والی تصاویر اب تک حاصل ہونے والی سب سے معیاری اور بہترین تصاویر ہیں۔
ناسا کے مطابق ’پلوٹو کا حجم ماضی کے اندازوں سے زیادہ ہے‘ اور اس کی سطح دھند میں لپٹی ہوئی ہے۔امریکی خلائی ادارہ وہ تمام مواد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو خلائی جہاز نیو ہورائزنز نے گزشتہ سال پلوٹو کے پاس سے گزرتے ہوئے اکٹھا کیا تھا۔یہ خلائی جہاز ہمارے نظام شمسی کے دور دراز حصوں میں سفر کر رہا ہے اور پلوٹو سے10 کروڑ کلومیٹر آگے سفر کر چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کازمین سے فاصلہ تقریبا 5 ارب کلومیٹر ہے۔ جوں جوں سست روی سے معلوماتی مواد حاصل ہورہا ہے سائنسدانوں کے لیے یہ خاصا حیران کن ہے۔تاہم یہ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ رواں سال کے دوران اب تک حاصل کی گئی تمام معلومات اکٹھی کر لی جائیں گی۔
پلوٹو کے چاند کی تازہ ترین تصاویر کے ساتھ جاری کردہ تفصیلات سے ظاہر ہوتاہے کہ پلوٹو کے چاند کی چوڑائی 1,214 کلومیٹر ہے اور یہ پلوٹو کے قطر کے تقریباً نصف حصے پر مشتمل ہے۔ محققین کوخدشہ تھا کہ اس کی تصاویر پلوٹو سے بھی بری ہوں گی لیکن اس کے برعکس انھیں متنوع سطح دکھائی دی جہاں پہاڑ، آتش فشانی کٹائو اور میدان دکھائی دیے۔سائنسدانوں کے لیے حیران کن امر کیرن چاندکی درمیانی سطح پر دکھائی دینے والے کھائیوں کے سلسلے ہیں۔جن کے بارے میںنیو ہورائزنز ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ ماضی میں چاند پر ہونے والی بھاری بھرکم جغرافیائی تبدیلیوں کا ثبوت ہیں۔کولوراڈو میں ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جان اسپنسر کے سینئر سائنسدان جان اسپینسر کہتے ہیں: ’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کیرن کی تمام سطح کھلی ہوئی ہے۔‘’کیرن کے حجم سے مطابقت رکھتے ہوئے یہ وضع مریخ پر ویلس میرنیرس سے مماثلت رکھتی ہے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ پلوٹو کی سطح کے ‘دل کہلانے والے ایک نمایاں خطے کے نیچے ایک سمندر کروٹیں لے رہا ہے۔اس سے یہ وضاحت بھی ہو جاتی ہے کہ اس دل نما خطے کا ایک حصہ، جسے اسپوتنک پلانیشیا کہا جاتا ہے، پلوٹو کے سب سے بڑے چاند کیرن کے ساتھ کششِ ثقل کے ذریعے منسلک ہے۔پلوٹو کی برفیلی،یخ بستہ سطح کے نیچے ایک گاڑھا، پلپلا سمندر ایک ایسے بے ترتیب مادے کا کردار ادا کر رہا ہے جو پلوٹو کو ایسے زاویے پر لڑھکا دیتا ہے کہ اسپوتنک پلانیشیا کا رخ کیرن کی جانب رہے۔یہ دریافت ناسا کے نیو ہورائزنز نامی خلائی جہاز سے ملنے والے ڈیٹا کی بنیاد پر کی گئی ہے۔یہ خلائی جہاز جولائی 2015 میں بونے سیارے کے قریب سے گزرا تھا اور اب وہ کائپر پٹی کی جانب رواں دواں ہے۔ یہ نظامِ شمسی کا برفانی خطہ ہے جہاں لاتعداد چھوٹے بڑے سیارچے پائے جاتے ہیں۔
اسپوتنک پلانیشیا ‘پلوٹو کے دل کے دائیں جانب ایک گول علاقہ ہے جس کا رخ براہِ راست کیرن کی جانب ہے۔ پلوٹو اور کیرن مدوجزر کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث دونوں اجرامِ فلکی کا ہمیشہ ایک ہی رخ ہمیشہ ایک دوسرے کی طرف رہتا ہے۔یونیورسٹی آف ایریزونا سے وابستہ سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مصنف جیمز کین نے کہا: ‘اگر آپ پلوٹو کے چاند کیرن کے مرکز سے ایک خط کھینچ کر اسے پلوٹو کے اندر سے گزاریں تو یہ سیدھا سپوتنک پلانیشیا سے نکل آئے گا۔
ماہرین اس خط کو موجوی محور (tidal axis) کہتے ہیں۔یہ امر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پلوٹو ایک خاص ارتقائی عمل سے گزرا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اسپوتنک پلانیشیا پلوٹو میں کسی اور جگہ بنا اور پھر تمام بونے سیارے کو محور پر 60 درجے کے قریب ساتھ گھسیٹتا ہوا لے گیا۔جیمز کین وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘اگر کوئی سیارہ بالکل گول ہو اور آپ اس کے ایک حصے پر فالتو وزن لگا کر اسے گھمانا شروع کریں تو سیارہ اس فالتو وزن کو اپنے خطِ استوا کے قریب لانے کی کوشش کرے گا۔ پلوٹو کی مانند اجسام، جو موجوی طور پر جامد ہو، تو یہ فالتو وزن اس کے موجوی محور کی جانب حرکت کرے گا۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر فرانسس نیمو نے بی بی سی کو بتایا کہ اسپوتنک پلانیشیا آس پاس کے علاقوں کے مقابلے پر زیادہ بھاری ہے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ خطہ ماضی میں پلوٹو سے کسی سیارچے کے ٹکراؤ کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔پروفیسر نیمو نے بتایا: ‘اسپوتنک پلانیشیا زمین میں ایک گڑھے کی مانند ہے۔ اس کا وزن کم ہونا چاہیے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر کوئی ایسا طریقہ ہونا چاہیے کہ یہ فالتو وزن اسپوتنک پلانیشیا کی سطح کے نیچے ذخیرہ کیا جا سکے۔اگر آپ اسپوتنک پلانیشیا کی برف ہٹا کر اس کے نیچے پانی رکھ دیں، پانی جو برف سے زیادہ کثیف ہوتا ہے، تو آپ کو زیادہ وزن مل جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سپوتنک پلانیشیا کا وزن زیادہ ہو جائے گا۔اگر ٹکرائو کے نتیجے میں گڑھا بنا ہے تو اس کی وجہ سے سطح کے نیچے موجود گاڑھے سمندر نے پلوٹو کی پتلی اوپری تہہ کو باہر کی جانب دھکیلنا شروع کر دے گا۔ اس سے بونا سیارہ ایک جانب لڑھکنا شروع کر دے گا۔
امپیریل کالج آف لندن کے پروفیسر مارٹن سائگرٹ اس دریافت کو ‘مسحور کن قرار دیتے ہیں۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ‘یہ سمندر انتہائی یخ ہو گا اور بیحد نمکین۔ اس لیے یہ پانی زمین یا یوروپا سے بالکل مختلف ہو گا۔یہ انتہائی شدید ماحول ہو گا، شاید نظامِ شمسی میں سب سے زیادہ شدید۔نیو ہورائزنز خلائی جہاز کی جانب سے بھیجی جانے والی تازہ تصاویر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیارہ پلوٹو پر بظاہر نائٹروجن برف کے گلیشیئر ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھیں پلوٹو کی سطح پر ایسے مادوں کے شواہد نظر آئے ہیں جو پہاڑوں سے گزرے ہیں اور شگافوں میں داخل ہوئے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ یہ یقیناً حالیہ واقعہ ہے اور ایسا امکان بھی ہے کہ یہ ابھی بھی جاری ہو۔تاہم نیو ہورائزنز کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انھیں اس بونے سیارے سے جو اعداد و شمار ملے ہیں وہ صرف چار سے پانچ فی صد ہیں اور یہ اس سیارے کے قریب سے 14 جولائی کو گزرنے کے دوران حاصل ہوئے ہیں۔ انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جانے والی کسی بھی تشریح میں احتیاط ضروری ہے۔نیو ہورائزنز کے سربراہ جانچ کرنے والے ایلن سٹرن نے بتایا: ’پلوٹو کی کہانی بہت پیچیدہ ہے۔ پلوٹو کی کہانی بہت دلچسپ ہے اور ہمیں اس پیچیدہ جگہ کو جاننے اور سمجھنے کے لیے بہت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘اطلاعات کے مطابق آئندہ سال کے اخیر سے قبل پلوٹو اور اس کے پانچوں چاند کے مشاہدے کا پورا عمل مکمل نہیں ہو سکے گا۔انھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ امریکی خلائی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر واشنگٹن ڈی سی میں محدود اعدادوشمار کی بنیاد پر کئی باتیں بتائیں۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے کی پیش گوئی کے مقابلے میںپلوٹو پر بہت ہی لطیف فضا ہے۔’جب نیو ہورائزنز پلوٹو کے انتہائی قریب سے گزر رہا تھا تو پتاچلا کہ وہاں ہوا سے سورج کی روشنی اور ریڈیائی شعاؤں کے گزرنے کا دباؤ صرف 10 مائکرو بار تھا (جبکہ ایک مائکروبار زمین پر ہوا کے دبائو کا دس لاکھواں حصہ ہوتا ہے)۔’اس میں یہ بھی پتہ چلا کہ وہاں کی فضا میں دھندھلا پن ہے۔ اس کی وجہ عین ممکن ہے کہ سورج کی روشنی سے اونچائی میں میتھین کا سادہ ہائیڈروکاربن، ایتھلین اور ایسٹائلین میں ٹوٹنا اور پھر گرنا ہو جو بعد میں ٹھنڈا اور کثیف ہوکر برفیلے ذرات کا دھند بناتا ہے۔’ان کے بعض مادوں کی پیچیدہ کیمائی ترکیبات پر مزید روشنی سے یہ بات سامنے آ سکتی ہے کہ پلوٹو کی سطح پر جو ذرات کی بارش ہوتی ہے وہ اس سیارے کو سرخ رنگ کس طرح عطا کرتی ہے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ پلوٹو کی سطح پر گلیشیئر کے شواہد ملے ہیںلیکن پلوٹو کی سطح پر ہونے والے گلیشیریائی عمل کی جانب لوگوں کی توجہ زیادہ ہوگی۔یہ عمل اسپتنک پلانیشنیا کے کناروں پر ہوا ہوگاجو کہ خط استوا کے شمال میں پلوٹو کے چمکدار مغربی نصف حصے میں دل کی شکل کا ایک خطہ ہے۔نیوہورائزن کے لوری کیمرے سے لی جانے والی ہائی ریزولیوشن والی تصاویر میں لہروں کی ترتیب کو ریکارڈ کیا گیا جو کہ زمین کے سیٹیلائٹ سے دیکھے جانے پر بہتے ہوئے برفیلے گلیشیئر جیسا نظر آتا ہے۔اس تحقیق کے معاون تفتیش کار بل میکینن نے کہا کہ ’اگر پلوٹو کے اندرونی حصے سے ابھی بھی گرمی نکل رہی ہے تو اس سے برف کو پگھلنے اور ڈھلان کی جانب جانے میں مدد ملے گی۔‘انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’پلوٹو کے درجہ حرارت میں برفیلا پانی کسی جانب حرکت نہیں کرتا۔ یہ غیر حرکت پذیر اور سخت لیکن نازک ہے۔خلائی جہاز نیو ہورائزنز گزشتہ سال 14 جولائی کو پلوٹو سیارے سے قریب ترین فاصلے سے گزرا تھا۔’ماہرین نے خیال ظاہر کیاہے کہ پلوٹو پر جو برف پلینم بناتے ہیں وہ نرم اور ورق پذیر ہوتے ہیں اور وہ اسی طرح بہتے ہیں جس طرح زمین پر گلیشیئر بہتے ہیں۔ ان کے مطابق ’حالیہ‘ کا مطلب چند کروڑ سال ہیں اور ’نائٹروجن برف کے بارے میں ہم جو جانتے ہیں اور پلوٹو کے اندر سے نکلنے والی گرمی کے تخمینے کے تحت یہ عین ممکن ہے کہ یہ عمل اب بھی جاری ہو۔‘نیو ہورائزنز اب بھی پلوٹو پر نظر رکھے ہوئے ہے حالانکہ وہ ایک کروڑ 20 لاکھ کلو میٹر دور جا چکا ہے۔یہ جانچ پلوٹو کی دنیا پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پلوٹو کی گردش کی رفتار سست ہے اور اسی سبب زمین پر چھ اعشاریہ چار دن کا وہاں ایک دن ہوتا ہے۔کیمیائی مرکبات پر مزید تحقیقات سے پلوٹو کے سرخ رنگ کا سبب سامنے آسکتا ہے۔ایک ہفتے میں یہ مشاہدہ بند ہو جائے گا اور نیو ہورائزنز خلائی طیارہ وہاں سے چلا جائے گا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہاز نیوہوریزونز سے حاصل ہونے والی پلوٹو کی تازہ ترین تصاویر میں ایک اور برفیلے پہاڑی سلسلے کابھی انکشاف ہوا ہے۔ان برفیلی چوٹیوں کی بلندی ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر ہے۔یہ چوٹیاں برفیلی اور ہموار سطح کے درمیان واقع ہیں جسے سپٹنک پلنم کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان کی عمر ایک کروڑ سال سے کم ہے، جبکہ تصاویر میں دکھائی دینے والے سیاہ حصے اربوں سال پرانے ہیں۔ارضیات، ارضی طبیعات اور تصاویرکشی کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے جیف مور کا کہنا ہے: ’مشرق کی جانب اور سیاہ دکھائی دینے والے برفیلے میدانوں اور مغرب میں پہاڑی سطح کی بناوٹ میں نمایاں فرق ہے۔‘’روشن اور سیاہ کے عناصر کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق ہے اور ہم ابھی تک اسے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘نئے ظاہر ہونے والے پہاڑ ایک اور پہاڑی سلسلے سے 110 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں جنھیں نورگے مونٹس کا نام دیا گیا ہے۔یہ چوٹیاں زیادہ بلند ہیں اور ان کی بلندی تین اعشاریہ تین کلومیٹر ہے، اس کا موازنہ روکی مائونٹینز سے کیا جاسکتا ہے۔سائنسدانوں کی ٹیم نے اس کی سطح پر ایک سرخ نشان دیکھا ہے جو آتش فشاں ہوسکتا ہے۔نیوہوریزنز نے پلوٹو کے پانچ میں سے دو چاند کی تصاویر بھی لی ہیں۔ ایک ہائی ریزولوشن کیمرے لوری سے ایک چاند ہائڈرا کی تصویر لی گئی ہے جو 55 کلومیٹر لمبا اور 40 کلومیٹر چوڑا ہے۔دوسرے چاند نکس کی رنگین تصویر رالف کے ذریعے بنائی گئی ہے، جس میں اس کے رنگوں کو گہرا کیا گیا ہے، یہ ایک ایسی تکنیک ہے جس سے سائنسدانوں کو سطح کی ساخت سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو دوسری صورت میں ممکن نہیں ہوتی۔ ستمبر میں انجینئرز نیو ہورائزنز کو باقی تمام اعدادوشمار بھیجنے کا حکم دیں گے جو اس نے پلوٹو سے قریب ترین ہونے کے درمیان حاصل کیے تھے۔پہلے ان اعدادوشمار کو کمپریسڈ شکل میں حاصل کیا جائے گا پھر غیر کمپریسڈ شکل میں۔اطلاعات کے مطابق آئندہ سال کے اخیر سے قبل پلوٹو اور اس کے پانچوں چاند کے مشاہدے کا پورا عمل مکمل نہیں ہو سکے گا۔بہر حال اس ٹیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ اس مدت میں دریافت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر