وجود

... loading ...

وجود

امریکا کی تمام 50ریاستوں میں داعش کے نیٹ ورک کا انکشاف

جمعه 13 جنوری 2017 امریکا کی تمام 50ریاستوں میں داعش کے نیٹ ورک کا انکشاف

امریکا کی تمام50ریاستوں میں داعش کے نیٹ ورک کے موجود اور فعال ہونے کے شواہد سامنے آگئے ہیں ،ان شواہد سے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے کی ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے جس میں کہاگیاتھا کہ داعش نے امریکا میںاپنے پیر مضبوطی سے جمالیے ہیں۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے اپنی رپورٹ میں لکھاتھا کہ میرے دوستوں کے جمع کردہ اور ان کی جانب سے’’ ڈس اوبیڈینس میڈیا ڈاٹ کام ‘‘ میں شائع کرائے جانے والے شواہد سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ امریکا کی تمام 50ریاستوں میں داعش کافعال نیٹ ورک موجود ہے۔ انھوں نے اپنی رپورٹ میں لکھاتھا کہ اس بات کے شواہدموجود ہیں کہ نہ صرف یہ کہ داعش کانیٹ ورک پورے امریکا میں خطرناک حد تک فعال ہے بلکہ وہ امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کرنے اور تاریخ کی بدترین تباہی پھیلا نے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ داعش نے امریکا کی مختلف ریاستوں میں اپنے تربیتی مراکز قائم کررکھے ہیں جو کہ امریکا میں ان کی فوجی قوت کی موجودگی کا ایک ثبوت ہے، رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ داعش مختلف ریاستوں میں قائم ان تربیتی کیمپوں کو جو کہ آپریشنز سینٹر/ سیلز کو فرنچائز کررہی ہے، رپورٹ میں یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیاگیا ہے کہ داعش کے قائم کردہ ان تربیتی مراکز سے عام آدمی بھی واقف ہیں لیکن میڈیا بوجوہ ان کو عوام سے چھپائے رکھنے کی کوشش کررہاہے، رپورٹ کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک تربیتی مرکز سے لوگ 1980سے واقف ہیں۔
دوسری جانب سین ہینی ٹی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ داعش نے امریکا میں جماعت الفقرا کے نام سے اپنا نیٹ ورک پھیلایاہے،اور اس جماعت کے دفاتر اور اڈے امریکا میں 35مقامات پر قائم ہیں، رپورٹ میںامریکا میں اسلامی جہادیوں جیسی فوجی تربیت کی ویڈیو فلمیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ ’’نیوز سائٹ ڈبلیو این ڈی‘‘ کی رپورٹ میں ان کیمپوں کی تعداد کم از کم 22بتائی گئی ہے۔ کلیرین پراجیکٹ نے ایف بی آئی کے ڈاکومنٹس کے حوالے سے ایک رپورٹ دی ہے جس میں کہاگیاہے کہ 2014 میں ایف بی آئی نے بعض ایسی رپورٹوں اورحقائق کی بنیاد پر جن سے اس تنظیم کے بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث ہونے یا اس کی تیاری کے حوالے سے سرگرمیوں کی بنیاد پر اس تنظیم کے خلاف تفتیش کی تھی۔یہ تفتیش ان کے کمپائونڈ میں فائرنگ کے تبادلے کے ایک اتفاقی واقعے کے بعد کی گئی تھی۔
رپورٹ میںانکشاف کیاگیا ہے کہ ٹیکساس میں جماعت الفقرا کا ایک کیمپ محمود برگ میں قائم ہے ۔ جماعت الفقرانے یہ جگہ خریدنے کے بعد یہاں اپنا کیمپ قائم کیاتھا۔رپورٹ کے مطابق جماعت الفقرا پاکستان میں قائم کی گئی ایک تنظیم ہے اور اس کا سربراہ مبارک علی گیلانی امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اورقتل میںمبینہ طورپر براہ راست ملوث تھا۔اس حوالے سے اس سے پوچھ گچھ کی گئی لیکن اسے گرفتار نہیںکیاگیاتھا۔یاد رہے کہ ڈینیل پرل کو قتل کرنے والے گروہ کا تعلق عراق میں قائم القاعدہ سے تھا،جو کہ داعش کی اولین شکل تھی۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے2002سے داعش کااس نیٹ ورک سے رابطہ تھا۔
ہینیٹی کی رپورٹ اور ڈبلیو این ڈی کی ویڈیو ز دونوں سے اس حقیقت کی تائید ہوتی ہے کہ جماعت الفقرا نے اللہ کے سپاہی کے نام سے ایک ویڈیوتیار کی تھی جس میں مبارک علی گیلانی کو یہ کہتے سنا جاسکتاہے کہ دشمن کو نیست نابود کرنے کے لیے جنگ کررہے ہیں۔ ہم شیطان اور اس کی جڑوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور شیطان کی جڑ امریکا ہے۔ان تمام حقائق کے باوجود امریکی محکمہ خارجہ نے جماعت الفقرا کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں کیاہے۔ایسی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جن میں ان اسلامی جہادی نیم فوجی گروپوں کی فوٹیج دیکھی جاسکتی ہیں جن میں ان گروپوں کے بارے میں رپورٹیں اور فلمیں شامل ہیں۔
امریکا کی 50ریاستوں میں داعش کی موجودگی اور ان کے فعال ہونے کے حوالے سے ان انکشافات نے امریکی انٹیلی جنس کے اداروں کے علاوہ پوری انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب جبکہ چند دن بعد ہی نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عہدے کاحلف اٹھانے والے ہیں،امریکا کی ہرریاست میں داعش کی موجودگی کی خبریں امریکی سیکورٹی فورسز کے علاوہ خود ایف بی آئی اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں، ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد امریکی سی آئی اے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ان خیالات کو تقویت ملے گی کہ امریکی سی آئی اے ایک ایسے سفید ہاتھی سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو خزانے سے بھاری تنخواہیں مراعات اور دیگر سہولتیں تو حاصل کرتاہے لیکن اس ادارے نے اب تک کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا جس پر فخر کیاجاسکے۔ امریکی سی آئی اے کے بارے میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات کے حامی حلقوں کاکہناہے کہ سی آئی اے انٹیلی جنس کا وہ ادارہ ہے جو ہمیشہ کسی بڑی کارروائی اورتباہ کاری کے بعد ہوش میں آتا ہے۔اس حلقے کاکہنا ہے کہ اگر سی آئی اے واقعی فعال اور ملک کی سلامتی کے لیے کارآمد ہوتی تو شاید 9/11کاسانحہ کبھی رونما نہ ہوتا اور امریکا کو عراق پر فوج کشی کرکے پوری دنیا میں رسوا نہ ہونا پڑتا۔
سی آئی اے کے مخالف حلقوں کاکہناہے کہ ملک میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے بعد ہوش میں آنے کے حوالے سے شہرت رکھنے والا یہ ادارہ بعد از وقت ہوش میں آنے کے بعد بھی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے کسی بڑے نیٹ ورک کو پکڑنے اورناکام بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام آج پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں ، اور امریکی نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند نظر آتے ہیں۔
دوسری طرف بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے صدارت سنبھالنے سے پہلے امریکی اسٹیبلشمنٹ ایک خاص خوف کی فضا پیدا کررہی ہے جس کے لیے داعش کا نام استعمال کیا جار ہا ہے تاکہ اس خوف کی فضا میں نو منتخب صدر کو اپنی مرضی کے فیصلوں پر مجبور رکھا جائے۔ جہاں تک جماعت الفقراء اور مبارک علی گیلانی کے حوالے سے حقائق کا تعلق ہے تو ماضی میں بھی اس حوالے سے خاصی باتیں افسانوی رنگ میں بیان کی جاتی رہی ہیں مگر اس میں سے اکثر باتیں بعد ازاں غلط ثابت ہو ئی ہیں۔ اس لیے ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ امر حیرت انگیز ہے کہ ایک طرف امریکا او رداعش کے درمیان خفیہ تعلقات کے حوالے سے حقائق سامنے آرہے ہیں اور دوسری طرف اُسے خود امریکا کے لیے ایک خطرہ بنا کر بھی پیش کیا جارہا ہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر