وجود

... loading ...

وجود

انٹارکٹیکا میں برف کی دبیز تہہ میں دبے گمشدہ شہر میں نفیس تعمیرات کا انکشاف

جمعه 13 جنوری 2017 انٹارکٹیکا میں برف کی دبیز تہہ میں دبے گمشدہ شہر میں نفیس تعمیرات کا انکشاف

ناسا کی حاصل کردہ انٹار کٹیکا میں برف کی دبیز تہہ میں دبے گمشدہ شہر کے بارے میں نئے انکشافات نے دنیا بھرکے سائنسدانوں اور ماہرین آثار قدیمہ کو چکرا کر رکھ دیا ہے، ناسا کی جانب سے اس گمشدہ شہر کے حوالے سے جو نئی تصاویر پیش کی ہیں ان کے مطابق یہ شہر اپنے دور کے بہترین فن تعمیر کا نمونہ تھا بلکہ اس شہر میں ہزاروں سال قبل ہونے والی تعمیرات موجودہ دور کے جدید فن تعمیر سے کسی طرح کم نہیں تھیں، ریسرچرز نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ گوگل ارتھ نے اس شہر میں ایک عظیم الجثہ سیڑھی کاپتہ چلایا ہے جو گوگل کی تحقیق کے مطابق ایک پہاڑ کے قریب سے ملی ہے ۔ محققین کاخیال ہے کہ اس دور میں لوگ پہاڑ پر چڑھنے کیلئے یہ سیڑھی استعمال کرتے ہوں گے۔ محققین کے مطابق یہ سیڑھی یو ایف او پر اترنے کیلئے استعمال کی جاتی ہوگی یا یو ایف او کے لائٹ ہائوس تک پہنچنے کیلئے استعمال کی جاتی ہوگی جو یو ایف او کی جانب آنے والوں کو راہ دکھانے کیلئے لگائے گئے ہوں گے۔محققین کاکہناہے کہ بظاہر ایک سیڑھی نظر آنے والی یہ شے کسی اہرام کا حصہ ہو،محققین کا کہناہے کہ ہم کسی خلائی مخلوق پر یقین نہیں رکھتے لیکن مجھے اس بات کایقین ہے کہ ہم اس کرہ ارض پر ماضی میں بھی موجود تھے، اس لئے ہوسکتاہے کہ یہ سیڑھی نہ ہو بلکہ کسی اونچی انجانی جگہ سے اترنے کی جگہ کے طورپراستعمال کی جاتی رہی ہو۔ محققین کا کہناہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس مقام پر پریاں یا فرشتے اترتے ہوں، یا اس مقام پر اس دور کی کوئی بہت ہی جدید ٹیکنیکل سرگرمی ہوتی ہو۔ لیکن ان تمام مفروضوں کے باوجود سوال یہی ہے کہ یہ سیڑھیوں کی طرح کیوں نظر آتی ہے یا یہ سیڑھیوں سے مشابہ کیوں ہے؟
ناسا کی اس نئی دریافت کے بعد ایک مرتبہ پھر ان خیالات کو تقویت ملتی ہے کہ ہزاروں سال قبل لاپتہ ہوجانے والا شہر اٹلانٹس دراصل انٹارکٹیکا میں ہی واقع تھا اور اس براعظم پر برف کی دبیز تہہ چڑھ جانے کی وجہ سے یہ دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوگیاہے۔ناسا کی نئی دریافت کے بعد اس پراسرا علاقے کی پراسراریت میں اضافہ ہوگیاہے ،لیکن اب وقفے وقفے سے ہمیں اس علاقے کے بارے میں نئی معلومات ملنے کے ساتھ ہی نئی نئی تصاویر بھی مل رہی ہیں جس سے ہمیں اس خطے میں جاری تبدیلیوں کا پتہ چلنے کے ساتھ ہی ایسے حیرت انگیز شواہد بھی مل رہے ہیں جن سے اس برفانی براعظم میں ماضی میں موجود زندگی اور اس علاقے میں رہنے والوں کے مہذب ،تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہونے کی بھی نشاندہی ہورہی ہے اوریہ ظاہر ہورہاہے کہ اس حیرت انگیز براعظم میں برف تلے قدیم اسٹرکچر موجود ہیں،جن کے منظر عام پر آجانے سے اس علاقے میں موجود تہذیب کاپتہ چلانا آسان ہوجائے گا۔
حال ہی میں ناسا نے سیٹلائٹ کے ذریعے جس پراسرار سیڑھی کی تصویر جاری کی ہے اسے بہت سے حلقے قدیم اہرام یا اٹلانٹس میں موجود قدیم دور کے عبادت خانے سے تعبیر کررہے ہیں۔حقیقت کیا ہے اور نئے تصویر کسی سیڑھی کی ہے ، کسی اہرام کی ہے یا کسی عبادت
گاہ کی ہے ،اس حوالے سے بحث غالباً اس علاقے میں زمین کے نیچے دبے ہوئے کسی اور آثار کی تصاویر سامنے آنے تک جاری رہے گی تاہم ناسا کی جانب سے حال ہی میں جاری کی جانے والی تازہ ترین تصاویر سے اس خیال کی تصدیق ہوگئی ہے کہ انٹارکٹیکا میںقدیم تہذیب دفن ہے ۔خیال کیا جاتاہے کہ برف سے ڈھکے ہوئے اس براعظم کے نیچے اٹلانٹس کا 12ہزار سال قدیم شہر دبا ہواہے ،اور 12ہزار سال قبل تک انٹارکٹیکا میں برف کانام ونشان تک نہیں تھا اور اٹلانٹس نامی یہ پر رونق شہر آباد تھا لیکن پھر اس شہر کو برف نے ڈھانپنا شروع کیا اور اس پورے شہر کو برف نگل گیا۔ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی انٹارکٹیکا کی تصاویر سے یہ واضح ہوتاہے کہ اس کے نیچے ایک شہر کے آثار موجود ہیں اور ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ آثار 12ہزار سال قبل موجود اٹلانٹس کے ہیں جس کا کوئی سراغ نہیں مل رہاتھا۔ گوگل کی اس سے قبل جاری کی گئی تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتاتھا کہ ایک اہرام جیسی عمارت کا اوپری حصہ اب برف سے سراٹھارہاہے۔
اس طرح نئی تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ بھی کسی حد تک ثابت ہوتاہے کہ ہزاروں سال قبل آباد اٹلانٹس نامی شہر کے لوگ بھی مصر کے قدیم لوگوں کی طرح فن تعمیر کے ماہرتھے ۔اس خیال کو ماہرین کے اس خیال سے بھی تقویت ملتی ہے کہ برف سے سر اٹھاتا نظر آنے والا اہرام نما عمارت کا یہ سرا اس بات کاثبوت ہے کہ اس جگہ قدیم شہر اٹلانٹس آباد تھا جہاں خوبصورت عمارتیں اور اہرام موجود تھا لیکن یہ شہر برف میں دب کر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوگیاتھا۔ناقدین بھی اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ پروفیسرچارلس ہیپ گڈ کاوہ خیال اور ان کا یہ تجزیہ درست تھا جس کا اظہار انھوں نے 1950 میں اپنے ایک مضمون میںکیاتھا کہ سائوتھ پول کے بڑے حصے پر برف کاوجود نہیں تھا اور یہی وہ مقام تھا جہاں قدیم شہر اٹلانٹس آبا د تھاجو اب گم ہوچکاہے۔جبکہ یونانی فلاسفر افلاطون بھی 360قبل مسیح اس شہر کاذکر کرچکے تھے۔ کم از کم 4یوٹیوب پوسٹرز میں بھی یہ خیال ظاہرکیاجاچکاہے کہ انٹارکٹیکا میں گمشدہ شہر موجود ہوسکتاہے۔ ریسرچرز کی ایک ٹیم نے تویہ دعویٰ کیاہے کہ انھوںنے برف پوش براعظم انٹارکٹیکا میں قدیم دور کے 3 اہرام دریافت کیے ہیں اگرچہ یہ دعویٰ کرنے والی ، ٹیم کی جاری کردہ تفصیلات مدھم ہیں لیکن ٹیم نے اپنے دریافت کردہ اہرام کی جو 3تصاویر جاری کی ہیں اوراہرام مصر سے مشابہہ ہیں۔امریکا اور کئی دوسرے یورپی ملکوںسے تعلق رکھنے والے ریسرچرز کی ٹیم بھی یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ انھوںنے دو بڑے اہرام کے ڈھانچے انٹارکٹیکا کے 10میل اندر کے علاقے میں دریافت کیے ہیں جبکہ تیسرا اہرام ساحل سے بہت زیادہ دورنہیں تھا اوریہ اہرام سمندر سے صاف نظر آرہاتھا۔
ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی سیڑھی سے مشابہہ تصویر جاری کیے جانے کے بعد اب ماہرین کے درمیان اس کے بارے میں ایک بحث شروع ہوچکی ہے اور ہرا یک اس کو مختلف پہلوئوں سے دیکھتے ہوئے اس کے بارے میں نئی رائے پیش کررہاہے اور یہ بحث یقینا اس حوالے سے کسی نئی دریافت تک جاری رہے گی اور عین ممکن ہے کہ اگلی دریافت سے ماہرین میں سے کسی بھی ایک ٹیم کا خیال درست ثابت ہوجائے تاہم یہ پراسراریت انٹارکٹیکا کے اس مقام کی کھدائی تک قائم رہے گی جہاں اہرام نما کوئی عمارت یاشے برف کے نیچے سے سر اٹھاتی نظر آرہی ہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر