... loading ...
بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد اپنی مسلم کش اورپاکستان دشمن پالیسیوں کے ذریعہ اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنے اور اپنی پارٹی بی جے پی کی انتہا پسند عناصر کی بھرپور حمایت حاصل کرنے کی جو کوششیں شروع کررکھی ہیں ان سے پوری دنیا اچھی طرح واقف ہے،کبھی بھارت میں گائے ماتا کے تقدس کے نام پر مسلمانوں اوریہاں تک کہ نچلی ذات کے ہندوئوں کو بھی سرعام ذبح کیا گیا ،کبھی اڑی اور کبھی پٹھانکوٹ پرحملے کا الزام لگا کر پاکستان پر فوج کشی کی دھمکی دی گئی اور کبھی مقبوضہ کشمیر کے فوجی کیمپوں کی منصوبہ بندی کرنے اورحملے کرانے کے الزامات پاکستان پر عاید کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور پاکستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی گئی،اورپاکستان کو ان حربوں سے مرعوب کرنے میں ناکامی کے بعد اپنی جھینپ مٹانے اور بھارتی عوام کو بیوقوف بنانے اور ان میں جنگی جنون کو بڑھانے کے لیے سرجیکل اسٹرائیک کا ڈراما رچایا گیا جبکہ کشمیر میں بھارتی حکومت نے ظلم وبربریت کا جو بازار گرم کیاہے اس نے نازی دور کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم ان حربوں کے باوجود کسی طرح کی کوئی کامیابی تو حاصل نہیں کرسکے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی برادری میں ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی یہاں تک کہ ان کا قریبی حلیف امریکا بھی انھیں تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ وجدل کی باتیں چھوڑ کر افہام وتفہیم کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے، یہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس رسوائی کے ساتھ ہی خود بھارت میں بھی نریندرا مودی کی اس جنگجویانہ پالیسی کو پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس کے برعکس بھارت میں اپوزیشن کے ساتھ ہی جو پہلے دن سے ہی نریندرا مودی کی جنگجویانہ پالیسی کی مخالفت کررہی تھی اب خود بی جے پی کے سنجیدہ حلقے اور بھارت کے سابقہ وزرا اور اراکین اسمبلی نے بھی کھل کر اس کی مخالفت کرنا شروع کردی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نے اپنی مسلم کش اور پاکستان دشمن پالیسی کی خود اپنی پارٹی کے رہنمائوں کی جانب سے مخالفت اور عام لوگوں میں اس کو پذیرائی نہ ملنے پر اطلاعات کے مطابق اب مایوسی کے عالم میں اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی شروع کردی ہے اور پارٹی رہنمائوں کے مشورے پر انھوںنے پاکستان کے خلاف قدرے نرم رویہ اختیار کرنے کاعندیہ دیا ہے جس کا اندازہ امریکی اخبار میں گزشتہ روز شائع ہونے والے بھارت کے ایک سفارتکار اور بی جے پی کے رہنما کے انٹرویو سے لگایاجاسکتاہے ۔ امریکی نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے بھارتی سفارتکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اندرون ملک اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر اب مودی آنے والے دنوں میں اپنی موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کرسکتے ہیںاور توقع ہے کہ ان کی جانب سے جلد ہی پاکستان کو مفاہمت کی پیشکش کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے اپنے انٹرویو میں نریندرا مودی کی جانب سے پاکستان کو مفاہمت کی متوقع پیشکش کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم تو نہیں دیا لیکن اتنا اشارہ ضرور دیا کہ ہوسکتاہے کہ بھارتی وزیر اعظم پاکستان کے خلاف اپنی پالیسی میں تبدیلی کے لیے مشرقی پنجاب اور یوپی میں ریاستی انتخابات تک جو مارچ میں ہونے والے ہیں انتظار کریں تاکہ انھوں نے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف جنگجویانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے انتہا پسند ہندوئوں کے جو جذبا ت بھڑکائے ہیں ان انتخابات میں ان سے پوری طرح فائدہ اٹھایاجاسکے۔
بھارتی سفارتکار نے اپنے انٹرویو میں یہ بات بھی واضح کی کہ نریندرا مودی عوامی جذبات سے کھیلنے اور ان کارخ موڑنے کاہنر جانتے ہیں اور جب وہ پاکستان کے ساتھ معاملات استوار کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے تو تمام معاملات خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہوجائیں گے ۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کی جانب سے جاری اس بیان سے بھی بھارتی سفارتکار کے دعووں کی تائیدہوتی ہے جس میں بھارت نے دعویٰ کیاتھا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیالیکن اس کے لیے پاکستان کوماحول کو پرامن بنانا ہوگا ۔
بھارتی سفارتکار نے دعویٰ کیا کہ نریندرا مودی اگر پاکستان کے ساتھ امن کا عمل شروع کریں گے تو اسے تیزی سے آگے بھی بڑھائیں گے۔بھارت کی حکمراں پارٹی کے اس سفارتکارکے انٹرویو سے ظاہرہوتاہے کہ بھارتی حکومت پاکستان اورمسلم دشمنی کو انتہا پر لے جانے کے باوجود پاکستان کو اشتعال دلاکر کوئی جنگجویانہ قدم اٹھانے پر مجبور کرنے میں ناکامی کے بعد اب خود ہی پریشانی کاشکار ہے اور اس جنگی بخار کو کم کرکے حالات معمول پر لانے کی راہیں تلاش کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔
بھارتی مبصرین بھی اس خیال پر متفق نظر آتے ہیں کہ بھارت اپنی طاقت پرمبنی پالیسی کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہاہے ،اور پاک فوج کی جانب سے تحمل اور برداشت کے بے مثال رویے نے اس کے تمام منصوبے خاک میں ملادیے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ دیر ہی سہی اب بھارتی رہنما نوشتہ دیوار کو پڑھنے کی کوشش کریں گے اور اپنی مسلم کش اورپاکستان دشمن پالیسیوں کوترک کر افہام وتفہیم کی راہ اختیار کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے کرنے کے لیے کشمیر ی عوام پر جاری مظالم کاسلسلہ بند کرکے فوری طورپر مذاکرات کی بساط بچھانے پر توجہ دیں گے۔
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...
جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...
آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...
امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...
یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...
آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...
ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...