وجود

... loading ...

وجود

مودی کے جنگی جنون کانشہ اترنے لگا؟؟

جمعرات 29 دسمبر 2016 مودی کے جنگی جنون کانشہ اترنے لگا؟؟

بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد اپنی مسلم کش اورپاکستان دشمن پالیسیوں کے ذریعہ اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنے اور اپنی پارٹی بی جے پی کی انتہا پسند عناصر کی بھرپور حمایت حاصل کرنے کی جو کوششیں شروع کررکھی ہیں ان سے پوری دنیا اچھی طرح واقف ہے،کبھی بھارت میں گائے ماتا کے تقدس کے نام پر مسلمانوں اوریہاں تک کہ نچلی ذات کے ہندوئوں کو بھی سرعام ذبح کیا گیا ،کبھی اڑی اور کبھی پٹھانکوٹ پرحملے کا الزام لگا کر پاکستان پر فوج کشی کی دھمکی دی گئی اور کبھی مقبوضہ کشمیر کے فوجی کیمپوں کی منصوبہ بندی کرنے اورحملے کرانے کے الزامات پاکستان پر عاید کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور پاکستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی گئی،اورپاکستان کو ان حربوں سے مرعوب کرنے میں ناکامی کے بعد اپنی جھینپ مٹانے اور بھارتی عوام کو بیوقوف بنانے اور ان میں جنگی جنون کو بڑھانے کے لیے سرجیکل اسٹرائیک کا ڈراما رچایا گیا جبکہ کشمیر میں بھارتی حکومت نے ظلم وبربریت کا جو بازار گرم کیاہے اس نے نازی دور کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم ان حربوں کے باوجود کسی طرح کی کوئی کامیابی تو حاصل نہیں کرسکے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی برادری میں ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی یہاں تک کہ ان کا قریبی حلیف امریکا بھی انھیں تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جنگ وجدل کی باتیں چھوڑ کر افہام وتفہیم کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے، یہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس رسوائی کے ساتھ ہی خود بھارت میں بھی نریندرا مودی کی اس جنگجویانہ پالیسی کو پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس کے برعکس بھارت میں اپوزیشن کے ساتھ ہی جو پہلے دن سے ہی نریندرا مودی کی جنگجویانہ پالیسی کی مخالفت کررہی تھی اب خود بی جے پی کے سنجیدہ حلقے اور بھارت کے سابقہ وزرا اور اراکین اسمبلی نے بھی کھل کر اس کی مخالفت کرنا شروع کردی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نے اپنی مسلم کش اور پاکستان دشمن پالیسی کی خود اپنی پارٹی کے رہنمائوں کی جانب سے مخالفت اور عام لوگوں میں اس کو پذیرائی نہ ملنے پر اطلاعات کے مطابق اب مایوسی کے عالم میں اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی شروع کردی ہے اور پارٹی رہنمائوں کے مشورے پر انھوںنے پاکستان کے خلاف قدرے نرم رویہ اختیار کرنے کاعندیہ دیا ہے جس کا اندازہ امریکی اخبار میں گزشتہ روز شائع ہونے والے بھارت کے ایک سفارتکار اور بی جے پی کے رہنما کے انٹرویو سے لگایاجاسکتاہے ۔ امریکی نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے بھارتی سفارتکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اندرون ملک اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر اب مودی آنے والے دنوں میں اپنی موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کرسکتے ہیںاور توقع ہے کہ ان کی جانب سے جلد ہی پاکستان کو مفاہمت کی پیشکش کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے اپنے انٹرویو میں نریندرا مودی کی جانب سے پاکستان کو مفاہمت کی متوقع پیشکش کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم تو نہیں دیا لیکن اتنا اشارہ ضرور دیا کہ ہوسکتاہے کہ بھارتی وزیر اعظم پاکستان کے خلاف اپنی پالیسی میں تبدیلی کے لیے مشرقی پنجاب اور یوپی میں ریاستی انتخابات تک جو مارچ میں ہونے والے ہیں انتظار کریں تاکہ انھوں نے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف جنگجویانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے انتہا پسند ہندوئوں کے جو جذبا ت بھڑکائے ہیں ان انتخابات میں ان سے پوری طرح فائدہ اٹھایاجاسکے۔
بھارتی سفارتکار نے اپنے انٹرویو میں یہ بات بھی واضح کی کہ نریندرا مودی عوامی جذبات سے کھیلنے اور ان کارخ موڑنے کاہنر جانتے ہیں اور جب وہ پاکستان کے ساتھ معاملات استوار کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے تو تمام معاملات خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہوجائیں گے ۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ کی جانب سے جاری اس بیان سے بھی بھارتی سفارتکار کے دعووں کی تائیدہوتی ہے جس میں بھارت نے دعویٰ کیاتھا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیالیکن اس کے لیے پاکستان کوماحول کو پرامن بنانا ہوگا ۔
بھارتی سفارتکار نے دعویٰ کیا کہ نریندرا مودی اگر پاکستان کے ساتھ امن کا عمل شروع کریں گے تو اسے تیزی سے آگے بھی بڑھائیں گے۔بھارت کی حکمراں پارٹی کے اس سفارتکارکے انٹرویو سے ظاہرہوتاہے کہ بھارتی حکومت پاکستان اورمسلم دشمنی کو انتہا پر لے جانے کے باوجود پاکستان کو اشتعال دلاکر کوئی جنگجویانہ قدم اٹھانے پر مجبور کرنے میں ناکامی کے بعد اب خود ہی پریشانی کاشکار ہے اور اس جنگی بخار کو کم کرکے حالات معمول پر لانے کی راہیں تلاش کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔
بھارتی مبصرین بھی اس خیال پر متفق نظر آتے ہیں کہ بھارت اپنی طاقت پرمبنی پالیسی کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہاہے ،اور پاک فوج کی جانب سے تحمل اور برداشت کے بے مثال رویے نے اس کے تمام منصوبے خاک میں ملادیے ہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ دیر ہی سہی اب بھارتی رہنما نوشتہ دیوار کو پڑھنے کی کوشش کریں گے اور اپنی مسلم کش اورپاکستان دشمن پالیسیوں کوترک کر افہام وتفہیم کی راہ اختیار کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے کرنے کے لیے کشمیر ی عوام پر جاری مظالم کاسلسلہ بند کرکے فوری طورپر مذاکرات کی بساط بچھانے پر توجہ دیں گے۔


متعلقہ خبریں


وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر