وجود

... loading ...

وجود

ایٹمی دہشت گردی کے خدشات کاپروپیگنڈا ۔ ۔ ۔ اصل نشانا پاکستان ؟

بدھ 21 دسمبر 2016 ایٹمی دہشت گردی کے خدشات کاپروپیگنڈا ۔ ۔ ۔ اصل نشانا پاکستان ؟

سیکورٹی، تجارتی اور گھریلومقاصد کے لیے ایٹمی توانائی پر انحصار میں اضافے کے ساتھ ایٹمی دہشت گردی میں اضافے کے خدشات میں بھی اضافہ ہوتاجارہاہے۔عام تاثر یہ ہے کہ دہشت گردگروپ ایٹمی اسلحہ اور اسلحہ کی تیاری میں کام آنے والے موادیا سازوسامان ،ٹیکنالوجی اور انفرااسٹرکچر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔حالیہ دنوں میں ایشیا اور یورپی ممالک میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات کے ساتھ ہی اس گروپ کی جانب سے کسی بھی صورت میں ایٹمی حملے کے خطرات یاخدشات میں بھی اضافہ ہواہے اوربعض یورپی ممالک نے برملا اس خطرے کا اعتراف بھی کیا۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی ممالک اس حوالے سے دراصل ایک تیر سے دوشکار کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،ایک طرف تو وہ اس خدشے کابرملا اظہار کررہے ہیں کہ دہشت گرد گروپ خاص طورپر داعش کے دہشت گرد جنگجوکسی نہ کسی طرح ایٹمی مواد تک رسائی حاصل کرکے ایٹمی دہشت گردی کرسکتے ہیں، اس لیے ایٹمی اسلحہ اور مواد کے تحفظ کے اطمینان بخش انتظامات کیے جانے چاہئیں ، دوسری جانب وہ ایٹمی مواد اور سازوسامان کے موثر اور اطمینان بخش تحفظ کے نام پر پاکستان جیسے ممالک کے ایٹمی اسلحہ کے ذخائر ،تنصیبات اور وسائل تک رسائی حاصل کرکے ان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ اسلحہ ان کی مرضی کے خلاف استعمال نہ کیاجاسکے اور پاکستان بھارت کی ایٹمی تیاریوں کامقابلہ کرنے کے لیے نئے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کے حق سے محروم ہوجائے۔
دراصل یورپی ممالک امریکا کے اشارے پر ایٹمی اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں اور بار بار اس بات کااعادہ کررہے ہیں کہ دہشت گرد گروپوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز ایٹمی دہشت گردی کے خلاف عالمی سلامتی اور سیکورٹی کے انتظامات کو تہہ وبالا کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ اس خطے میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہی ہے، اس لیے اس پروپیگنڈے کے ذریعے وہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو غیر محفوظ اور پوری دنیا کے لیے خطرہ قرار دے کر پاکستان کو اپنے دفاع کے اس موثر ذریعے سے محروم کرنے کی ایک منظم سازش پر عمل پیرا ہیں ۔
امریکا اوراس کے حواری یورپی ممالک طویل عرصے سے یہ ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں کہ ایٹمی دہشت گردی کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور اس سے نمٹنا بہت ہی مشکل کام ہے اور یہ پوری دنیا کے امن کے لیے زبردست خطرہ ہے ۔ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی جانب سے منعقد کرائی گئی حالیہ بین الاقوامی کانفرنس کا موضوع بھی اسی حوالے سے’’ ایٹمی تحفظ وعدے اور عمل‘‘ رکھاگیاتھا۔
اس کانفرنس کے دوران آئی اے ای اے کے سربراہ یوکی یا امانو نے کہا کہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر ایٹمی تحفظ کے عالمی اداروں کی خامیوں اوران انتظامات میں موجود نقائص یاسقم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیںاور اس کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک کو اس کے نقل وحمل کا مرکزاور کسی بھی ملک کو اس کے حملوں کانشانہ بنایاجاسکتاہے۔انھوںنے اپنے اس بیان کے ذریعے ایٹمی اسلحہ یا مواد دہشت گردوںکے ہاتھ لگنے کے حوالے سے عالمی سطح پر پائی جانے والی تشویش کااظہارکرنے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ان خطرات سے نمٹنے یا تحفظ کے لیے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ایٹمی خطرات اور چیلنجز میںمسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ان خطرات کی نت نئی اشکال وضع کی جارہی ہیں،یعنی اس کے استعمال کیے جانے کے مختلف طریقہ کار بھی وضع کیے جارہے ہیں۔اس لیے ایٹمی دہشت گردی کے خطرات کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے اس کے ممکنہ ذرائع اور اس کے لیے آلہ کار بنائے جاسکنے والے عناصر کی نشاندہی کی جانی چاہیے تاکہ ان کے خلاف موثر کارروائی کرکے ایٹمی مواد کی اسمگلنگ کے امکانات کاسدباب کیاجاسکے اورایٹمی تنصیبات اور مواد کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے ماہرین کی تقریروںا ور ان کے پیش کردہ مقالہ جات میں ایسی بے شمار ٹیکنکس کا ذکر کیاگیاجس کے ذریعے دہشت گرد گروپ ایٹمی مواد اور انفرااسٹرکچر کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ماہرین نے کانفرنس میں یہ بات واضح کی کہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایٹمی دہشت گردی کی مختلف صورتیں اور طریقہ کار ہوسکتے ہیں اور اس کی ہر صورت اور طریقہ کار کے اپنی اپنی سطح کے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے ایٹمی دہشت گردی کے حوالے سے 4 اہم صورتوں اور طریقہ کار کی وضاحت کی جن میں دہشت گردوں کی جانب سے ایٹمی مواد کی چوری یابلیک مارکیٹ سے ان کو کسی ذریعے سے خریدکر حاصل کرنا، سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایٹمی تنصیبات پر حملے کرنایا ایٹمی اسلحہ یا تابکاری اثرات پھیلانے والے آلات تیار کرناشامل ہے۔اگرچہ دہشت گرد گروپوں کی جانب سے ایٹمی اسلحہ کی تیاری بظاہر خارج از امکان نظر آتی ہے کیونکہ یہ کوئی کھلونا نہیں جسے کسی خفیہ تہہ خانے یا محدود مقام پر بیٹھ کر تیار کیاجاسکے ،ایٹمی اسلحہ تیار کرنے کے لیے فیزائل میٹریل کی ضرورت ہوتی ہے اور فیزائل میٹریل کا حصول آسان کام نہیں ہے۔دوسری جانب دہشت گردوں کے لیے ڈرٹی یعنی تابکاری پھیلانے والا بم یا تابکاری پھیلانے والی ڈیوائس کی تیاری زیادہ آسان کام ہے، کیونکہ کم تر درجہ کے ایٹمی فضلے یا ایٹمی بجلی گھروں کے بائی پراڈکٹ اور میڈیکل فضلے کے ذریعہ سنگین بایولوجیکل افراتفری پھیلانا اور لوگوں کی صحت کوشدید خطرے سے دوچار کرنا ممکن ہوسکتاہے۔اس کے ساتھ ہی مہلک تابکار مادے کو روایتی بم دھماکوں کے لیے استعمال کیاجانا بھی تباہ کن ہوسکتاہے۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ غلط اندازوں ، ناواقفیت یاغفلت کے رویئے نے ایٹمی دہشت گردی کو عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بنادیاہے۔
ایٹمی تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے نے اس حوالے سے سلامتی اور تحفظ کے بنیادی اصول وضع کیے ہیں جن میں خطرات کے امکانات کو ختم کرنا ،ان کا پتہ چلانا اور اس کے مطابق عمل کرناشامل ہیں۔اس حوالے سے آئی اے ای اے کا دعویٰ ہے کہ اس کامقصد ایٹمی یا اس سے تعلق رکھنے والے مواد ،انفرااسٹرکچر اور سازوسامان کی پرامن مقاصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے نقل وحمل کوروکناشامل ہے، اس مقصد کے لیے آئی اے ای اے ایٹمی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایٹم سے متعلق اکیوئپمنٹ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تربیتی ورکشاپس اور ایڈوائزری سروس مشنز شروع کررہی ہے۔اس حوالے سے دوسری بات یانکتہ ایٹمی دہشت گردی کے امکانات کاپتہ چلانا ہے اس مقصد کے لیے ایٹمی اور تابکار مادے کی غیر قانونی نقل وحمل کے طریقہ کار کا پتہ چلانے کو یقینی بنانے کے لیے نمایاں اقدامات کا انتظام کرنا اور تیسرا اہم نکتہ ایٹمی حملے کی صورت میں فوری اور تیزی کے ساتھ کارروائی کرنا شامل ہے۔اس مقصد کے لیے آئی اے ای اے قومی، بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مختلف ممالک کے ساتھ مل کر کر کام کررہاہے۔ آئی اے ای اے اور اس کے رکن ممالک اس بات کااندازہ لگانے کے لیے کہ سبوتاژ اور ایٹمی حملے سے تحفظ کویقینی بنانے کے لیے مشترکہ یا اجتماعی اقدامات کس طرح کیے جاسکتے ہیں ،ورکشاپس کا اہتمام کررہے ہیں۔
آئی اے ای اے کے مطابق ایٹمی بجلی کے دہرے استعمال اورجدید ترین معلومات کے حامل داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گردگروپوں کے سامنے آنے کے بعد ایٹمی دہشت گردی کے امکانات حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ جبکہ ان حقائق کے باوجود ایٹمی دہشت گردی کے امکانات کو نظر انداز کرنے کے رویئے سے مختلف ممالک کی پالیسیوں میں ایک خلا نظر آنے لگاہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ ایٹمی دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے ،اس عالمی خطرے کاتقاضہ یہی ہے کہ اس سے بچنے اوراس کی روک تھام کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر اجتماعی اور مشترکہ میکانزم تیار کیاجائے اور اس حوالے سے موثر اقدامات کیے جائیں۔اس خطرے کامقابلہ کرنے اور سماجی ، اقتصادی ،سیاسی اور سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر بھرپور اقدامات کیے جائیں اور اس حوالے سے علاقائی سطح پر تعاون کو وسیع کیاجائے کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ ایٹمی حملے کا دفاع کرنا ممکن نہیں ہوسکتا،جبکہ اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لیے احتیاطی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک) وجود - جمعرات 25 جون 2026

ہلاک دہشتگردوں میں خلیل الرحمان، نعیم الدین کفایت اللہ شامل ہیں، حکام دہشت گردوں سے 6 کلاشنکوف، 3 دستی بم برآمد، فرار ساتھیوں کی تلاش جاری لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں پولیس اور خوارج کے مابین جھڑپ کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق برچڑی پہاڑی میں دہشت گرد...

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک)

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا وجود - جمعرات 25 جون 2026

مودی سرکارکی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری سوشل میڈیاپر تماشا بن گئی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،رپورٹ مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بی جے پی کے کٹ...

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

مضامین
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں! وجود جمعه 26 جون 2026
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

کربلا،ایک واقعہ نہیں! وجود جمعه 26 جون 2026
کربلا،ایک واقعہ نہیں!

شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب وجود جمعه 26 جون 2026
شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب

سیاسی استحکام سے محرومی وجود جمعرات 25 جون 2026
سیاسی استحکام سے محرومی

کربلا، مشعل راہ وجود جمعرات 25 جون 2026
کربلا، مشعل راہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر