وجود

... loading ...

وجود

نمل شہر علم کی کہانی… عمران خان کی زبانی

هفته 17 دسمبر 2016 نمل شہر علم کی کہانی… عمران خان کی زبانی

’’نمل شہر علم ‘‘ پنجاب کے ایک دور اُفتادہ علاقے میانوالی میں کوہستان نمک کے طویل پہاڑی سلسلہ کے سب سے اُونچے پہاڑ’’ڈھک‘‘ کی ڈھلوان اور ایک خوبصورت جھیل نمل کے کنارے عمران خان نے آج سے پانچ سال پہلے آباد کیا تھا ۔ اس عظیم الشان منصوبے کے پہلے پڑاؤکے طور پر یہاں نمل کالج قائم کیا گیاتھا ۔ جس کا الحاق برطانیہ کی یونیورسٹی آف بریڈ فورڈ کے ساتھ ہے ۔ ایک پسماندہ علاقے میں قائم اس جامعہ میں ملک کے ترقی یافتہ علاقوں سے طالب علموں کی بڑی تعداد حصولِ علم کے لیے آتی ہے ۔ عمران خان نے اس منصوبے کو کیسے شروع کیا ۔ تعمیر کے مراحل میں کن مشکلات کا انہیں سامنا کرنا پڑا اور اس منصوبے کے مستقبل کے بارے میں وہ کیا خیالات رکھتے ہیں یہ جاننے کے لیے ان سے ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین کی جارہی ہے ۔
جرأت :۔آپ کا نام کبھی کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا ،آپ نے کرکٹ کھیلی ، بامِ عروج تک پہنچے، سماجی خدمت میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسا منصوبہ آپ کے کریڈٹ پر ہے ۔ شوکت خانم ہسپتال پشاور بھی فنکشنل ہو چُکا ہے ۔ کراچی میں بھی اس منصوبے پر کام جاری ہے لیکن ساتھ ہی آپ نے نمل یونیورسٹی جیسا عظیم تعلیمی منصوبہ بھی شروع کر دیا ہے ۔۔۔ تعلیم کے شعبے میں اپنے مشن کے بارے میں ہمارے قارئین کو کچھ بتایئے گا ۔
عمران خان :۔ تعلیم مسلمانوں کا زیور ہے ۔ علم کا حصول مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے ۔ ہمارے ہاں اب تعلیمی پسماندگی بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا نظام ِ تعلیم دنیا بھر میں بد ترین بن چُکا ہے ۔ انگریز جب یہاں سے گیا تو وہ بہترین تعلیمی ادارے چھوڑ کر گیا تھا ۔ جن دنوں میں زیر تعلیم تھا تو میں دیکھتا تھا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں دور دور سے طالب علم پڑھنے کے لیے آتے تھے ۔ ایچی سن کالج میں ملائیشیاء کے شہزادے پڑھا کرتے تھے ۔ پھر ہمارے ہاں تعلیمی اداروں کی تباہی کا دور شروع ہو گیا ۔ سرکاری تعلیمی ادارے تباہ کر دیے گئے ۔ ایک وقت میں ہمارے ہاں تین قسم کے نظام ہائے تعلیم رائج ہیں ۔ اردو میڈیم ۔ انگلش میڈیم اور مدرسے ۔۔۔سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہی کے نتیجے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا قیام ایک پُر کشش کاروبار بن چُکا ہے ۔ ہمارے تعلیمی نظام کی خامیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں اس صورتحال کے بھیانک نتائج سے نبر د آزما ہونے کے لیے ہمیں ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے ہاں اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔
اس صورتحال پر ملک کے دیگر دردمندوں کی طرح مجھے بھی پریشانی تھی ۔ میں جب 2002 ء کے عام انتخابات میں میانوالی سے قومی اسمبلی کا رکن بنا تو میں دیکھا کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کا کتنا فقدان ہے ۔ لہذا اسی وقت میں نے اس بارے میں کچھ کرنے کے لیے سوچنا شروع کیا ۔

جرأت :۔ نمل یونیورسٹی کے قیام کے ابتدائی مراحل آپ نے کیسے طے کیے ، روشنی کے اس سفر میں دوسروں کے لیے کیا انسپائریشن موجود ہے؟
عمران خان :۔ پہلے پہلے میں اپنے حلقہ انتخاب( میانوالی ) میں شدید بے روزگاری سے پریشان ہوا ۔ دیہی علاقوں میں بے روزگاری کے مسئلے کی نوعیت اس وجہ سے بھی سنگین ہو جاتی تھی کہ نوجوان جرائم اور منشیات کی جانب مائل ہو رہے تھے ۔ شروع میں میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک ٹیکنیکل کالج قائم کروں ۔انہی دنوں کی بات ہے کہ برطانیا کی بریڈ فورڈ یونیورسٹی نے مجھے چانسلر کے منصب کی پیش کش کی ۔ اس موقع سے میں نے فائدہ اُٹھانے کا سوچا ۔ ساتھ ہی میں نے فیصلہ کیا کہ کالج کے ساتھ ساتھ ایک یونیورسٹی بنادوں ۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے جب علاقے کے لوگوں سے بات کی تو انہوں نے انتہائی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس صورتحال نے میرے جذبے کے لیے مہمیز کا کام دیا ۔ میں نے کالج کے منصوبے کو وسیع ترکرنے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔ صرف ایک کالج ہی کیوں ؟؟؟؟ ایک سرسبز و شاداب اور خود انحصار شہرِ علم ہی کیوں نہیں ۔۔۔؟
اللہ پاک کا نام لے کر ہم نے تعمیر کا آغاز کر دیا ۔ ابتداء میں خاصی مشکلات تھیں ۔ شوکت خانم کے منصوبے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے، میں نے اپنی جدوجہد کو مزید تیز اور ان تھک بنایا ، نمل شہرعلم ِ کے لیے فنڈ زیزنگ شروع کر دی ۔ لوگوں نے دل کھول کر تعاون کیا ۔ 2007ء میں طلبہ کی پہلی کھیپ اس ادارے میں داخل ہوئی ۔2012 ء میں ان کی تعلیم مکمل ہوئی میرے لیے خوشی کی انتہاء نہ تھی کہ میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں طالبعلموں کے ہاتھوں میں بریڈ فورڈ کی ڈگریاں تھیں ۔ یہ سلسلہ دن بدن آگے بڑھ رہا ہے ۔ نمل یونیورسٹی کا چوتھا سالانہ کانووکیشن منعقد ہو رہا ہے ۔۔۔ماہرین اور کاریگروں کی کمی کی وجہ سے نمل کے فارغ التحصیل طلبہ کو فوراً ملازمت مل جاتی ہے ۔
جرأت:۔ نمل شہر علم کے خواب کو آپ کی زندگی میں خاصی اہمیت حاصل ہے، آپ سیاست بھی کر رہے ہیں ۔ شوکت خانم کے منصوبے بھی کمال کامیابی سے چل رہے ہیں اور نمل یونیورسٹی کا سفر بھی جاری ہے ۔ سب میں توازن کیسے قائم رکھتے ہیں ؟
عمران خان :۔دیکھے سیاست میرا مشن ہے جبکہ تعلیم میرا جنون ہے ۔ میں میانوالی میں نمل کے مقام پر ایک ’’شہر علم ‘‘ قائم کرنا چاہتا ہوں ۔ ابتدائی طور پر یہ ایک ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ ہے ۔ جہاں پر ایک پرائمری سکو ل سے لے کر یونیورسٹی تک ہر قسم کے تعلیمی ادارے ہوں گے ۔ ٹیکنیکل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہاں پر گزشتہ سال بزنس کالج کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے ۔
ساتھ ساتھ میں نمل جھیل کے کنارے ایک خوبصورت ٹیکنالوجی پارک کا خواب بھی دیکھتا ہوں ۔ پہاڑوں کے پیچھے سکیسر کے مقام پر انگریزوں نے ایک سیر گاہ بنائی تھی ۔ میری آرزو ہے کہ نمل یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے میں موسم گرما کا ایک صحت افزاء مقام تعمیر کروں ۔
جرأت:۔ نمل یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں آپ کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟؟
عمران خان :۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مشکلات تو ہر کام میں ہوتی ہیں، مقصد جتنا بڑا ہوگا مشکلات اور آزمائشیں بھی اُسی قدر ہوں گی ۔ نیکی کے کام میں، انسانیت کے فلاح کے منصوبوں میں سب سے بڑی مدد اللہ پاک کی طرف سے آتی ہے ۔ جب اُس کی مخلوق کی بھلائی کا کام کیا جائے تو اُس کی خاص رحمت شاملِ حال ہو جاتی ہے ۔ شوکت خانم جیسا ادارہ قائم کرنا مشکل ہی نہیں بظاہر نا ممکن نظر آتا تھا لیکن اللہ پاک کے کرم سے ممکن ہوا ۔ نمل نالج سٹی کا پہلا قدم ہم نے اللہ پاک کا نام لے کر اُٹھا یا تھا تب بہت مشکلات تھیں، مخیر اور اہلِ دل کی جانب سے تعاون کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔پھر دردِ دل رکھنے والوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ۔
ایک بات جس کی وجہ سے مجھے اپنی قوم پر ہمیشہ فخر رہا ہے کہ پاکستانی قوم دنیا میں سب زیادہ دل کھول کر عطیات دیتی ہے ۔ ملک اور اندرونِ ملک سے مجھے ہمیشہ بھر پور عطیات ملے ہیں ۔ مجھے پاکستان کے لوگوں نے کبھی مایوس نہیں کیا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی جیسے بڑے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں ۔
لیکن مقامی سیاستدانوں کی جانب سے اس منصوبے کی مزاحمت اور مخالفت بھی ہوئی ہے ۔ جتنی رُکاوٹیں وہ کھڑی کر سکتے تھے انہوں نے کی۔ جیسے ہی میں نے یہ منصوبہ اپنے لوگوں کے سامنے رکھا،10 کلومیٹر دور صوبائی حکومت نے ایک کالج کی تعمیر شروع کر دی جو خطیر سرمائے کی لاگت سے بھی اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکا ۔ محکمہ ریونیو نے تین سال تک یونیورسٹی کے لیے خریدی جانے والی اراضی کا انتقال نہیں کیا جس کی وجہ سے ہاسٹل سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر ہوئی ۔
جرأت :۔نمل یونیورسٹی کی کارکردگی سے آپ کہاں تک مطمئن ہیں ؟؟
عمران خان :۔ آپ اطمینان کی بات کر رہے ہیں ،مجھے اس عظیم الشان ادارے اور اس سے وابستہ تمام افراد پر فخر ہے، ان خواتین و حضرات کے لیے میں ہمیشہ سپاس گزار رہوں گا جنہوں نے اپنی کمائی اور دولت کا حصہ اس نیک کام میں صرف کیا ہے ۔
اس وقت اس ادارے میں 90 فی صد طلبہ مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں جس میں سے 75 فی صد کا تعلق ملک کے پسماندہ و درماندہ علاقوں سے ہوتا ہے ۔ نمل یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن میں بریڈ فورڈ کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلباء میں وزیرستان جیسے پسماندہ ،رزمک جیسے دوردراز ، لاہور اور فیصل آباد جیسے ترقی یافتہ علاقوں کے طالب علم بھی شامل تھے ۔ ابھی 17 دسمبر 2016 ء کو کامیاب طلبہ کا نیا بیچ سامنے آئے گا ۔ میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے کہ پہلے میرے ضلع میانوالی سے لوگ پڑھنے کے لیے لاہور اور دیگر ترقی یافتہ علاقوں کا رُخ کیا کرتے تھے اور اب ترقی یافتہ علاقوں سے لوگ حصولِ علم کے لیے میانوالی کا رُخ کر رہے ہیں ۔
اس دارے کی فیکلٹی میں زیادہ تر تعداد پی ایچ ڈی ہے ۔ نمل شہر علم میرا جنون ہے، میرے پاکستانی بھائی اس مقصد کے لیے مجھے دل کھول کر امداد دے رہے ہیں ۔ اس ادارے کی کامیابی نیک نیتی خلوص اور اعتماد کی مرہونِ منت ہے ۔ مجھے اپنے اللہ کی رحمت پر پورا یقین اور بھروسہ ہے۔ ان شاء اللہ میری اور میرے ساتھیوں کی کاوشیں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی اور نمل شہر علم (Namal Knowlodge City ) کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر