وجود

... loading ...

وجود

پاک روس تعلقات میں پیش رفت۔۔۔ امریکاوبھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی

هفته 17 دسمبر 2016 پاک روس تعلقات میں پیش رفت۔۔۔ امریکاوبھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی

ایک زمانہ تھا جب پاکستان اورروس کے تعلقات عروج پر تھے اورروس پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میںمدد دینے میں پیش پیش رہتاتھا ،پاکستان اسٹیل ملز اور ایسے کئی دوسرے ادارے اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن اس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری کا دور شروع ہوا اوراس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات طویل عرصے تک نہ صرف یہ کہ سردمہری کاشکار رہے بلکہ سابقہ حکومتوں خاص طورپر فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی امریکا نواز پالیسیوں نے دونوں حکومتوں کے درمیان نہ صرف یہ کہ دوریوں میں اضافہ کیا بلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو دشمنی کی حد تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس تناظر میں اگر پاکستان اور روس کے تعلقات میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی پیش رفت کاجائزہ لیا جائے تو ان دونوںممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے باب کا اضافہ ہورہاہے جس کی ابتدا پاکستان اورروس کی مشترکہ فوجی مشقوں سے شروع ہوئی جس کے بعداب دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کاسلسلہ بھی شروع ہوگیاہے، گزشتہدنوںوزارتِ خارجہ امور (ایم او ایف اے) میں پاکستان اور روس کے درمیان وزارتِ خارجہ کی سطح پر پہلا مشاورتی اجلاس بھی ہوا۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کے جاری کردہ بیان کے مطابق ماسکو سے اسلام آباد پہنچنے والے وفد کی سربراہی روسی وزارتِ خارجہ میں محکمہ سی آئی ایس کے تیسرے سربراہ الیگزینڈر اسٹیرنک نے کی جبکہ پاکستان کی جانب سے وزارتِ خارجہ امور کے ڈائریکٹر جنرل احمد حسین دایو موجود تھے۔مشاورت میں دو طرفہ تعلقات، تجارت اور مواصلات سے متعلق امورزیرِ غور آئے جبکہ عالمی اور علاقائی امور پر بھی باہمی مشاورت کی گئی۔دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی مشاورتی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور روس کے دوران مشاورات کا اگلا دور آئندہ سال روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہوگا۔ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان اور روس بہت تیزی سے ایک دوسرے سے قریب ہوتے جا رہے ہیں، دونوں ممالک میں دو طرفہ تعلقات، تجارت اور مواصلات سے متعلق امورزیرِ غور آنے سے قبل دفاعی تعاون بڑھانے کا باقاعدہ سلسلہ 2014 میں اس وقت شروع ہوا تھا، جب روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئے گو نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، اسی دورے میں ماسکو اور اسلام آباد نے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اگست 2015 میں پاکستان نے روس سے ایم آئی 35 ہیلی کاپٹرز خریدنے کا بھی معاہدہ کیا۔خیال رہے کہ روس اپنے دیرینہ اتحادی ہندوستان کی مخالفت کے باعث پاکستان سے دفاعی تعاون کے سلسلے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہا ہے اور ماضی میں ایک عرصے تک اس کی مخالفت بھی کی جاتی رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کاسلسلہ تو کافی عرصے سے جاری تھا لیکن گزشتہ دنوں روسی فوج کی پاکستان آمد اور پاک فوج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت نے امریکااور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ ہی بھارت کو بھی پریشان کردیا ہے ، مشترکہ جنگی مشقوں کے حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روسی افواج پہلی بار مشترکہ مشقیں کر رہی ہیں۔ یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں ہو ئیں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدگی کی انتہا پر تھے جبکہ روس کو طویل عرصے سے بھارت کے بہت قریب خیال کیا جاتا رہا ہے، لیکن پاک روس مشترکہ فوجی مشقوں سے ظاہر ہوتاہے کہ روس کی پالیسی میں رواں دہائی کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے جس کی وجہ سے روس ، بھارت کے علاوہ پاکستان کے تعلقات میںبھی تغیر آیا ہے، اسلام آبادنے بھی اب ماسکو کے ساتھ تعلقات تیزی سے قریب لانے کے اقدامات کیے ہیں۔ جس کااندازہ دونوں ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد گزشتہ دنوں دونوں ملکوں کے مشاورتی اجلاس سے لگایاجاسکتاہے۔
پاکستان اور روس کے درمیان ہونے والی جنگی مشقوں پر بھارت کے خدشات پر روسی وزارت خارجہ نے ہی بیان جاری کیا تھا کہ نئی دہلی کو ان مشقوں پر پریشان نہیں ہونا چایئے، کیونکہ یہ جنگی مشقیں کسی متنازع علاقے میں نہیں کی جا رہی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے خبردار کیا تھا کہ آئندہ 20 برسوں میں روس، چین، پاکستان اور شمالی کوریا کا نیا اتحاد بن سکتا ہے اور ان سے امریکی برتری کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔پینٹاگون کے ڈیفنس ٹیکنیکل انفارمیشن سینٹر کی جانب سے مرتب کی جانے والی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ آئندہ دو دہائیوں میں امریکہ عالمی سطح پر طاقت ور ترین ملک تو برقرار رہے گا لیکن عالمی منظر نامے میں اس وقت تک نئے کردار بھی سامنے آچکے ہوں گے۔جوائنٹ فورس ان کنٹیسٹڈ اینڈ ڈس آرڈرڈ ورلڈ نامی اس رپورٹ میں موجودہ اور 2035 کے دوران ہونے والی معاشی اور سیاسی تبدیلیوں کے رجحان اور اس کے امریکی بالادستی پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ میں روس اور چین کو تبدیلی کی خواہاں ریاستیں قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ممکن ہے یہ دونوں ممالک موجودہ عالمی نظام کو تبدیل کرنے کیلئے چھوٹے لیکن عسکری طور پر متحرک پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک سے اتحاد کرلیں اور انہیں شراکت دار بنالیں۔رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہوسکتا ہے چین مشرقی اور جنوبی بحیرہ چین کے متنازع جزائر پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے مزید متحرک حکمت عملی اپنا لے۔روس کے بارے میں رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ روس مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں خود کو بطور سیکیورٹی پارٹنر پیش کرکے اپنے اثر و رسوخ کو وسیع کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین خطے میں قائم اتحاد کو کمزور کرنے کی کوشش کرسکتا ہے اور پڑوسی ممالک کو اپنی برتری تسلیم کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت اور ایران بھی خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور نئے اتحادی بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
پاکستان اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ستمبر 2012 میں پاکستان کا دورہ بھی کرنا تھا، لیکن عین وقت پر چند وجوہات کی بنا پر انہوں نے اپنا یہ دورہ ملتوی کر دیا، تاہم اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے عمل کو کوئی دھچکا نہیں پہنچا۔


متعلقہ خبریں


ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر