وجود

... loading ...

وجود

کتاب شناسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک فن

هفته 17 دسمبر 2016 کتاب شناسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک فن

’’حافظ شیرازی کا یہ مصرعہ
؎فراغتے وکتابے وگوشہ چمنے‘‘ہر اس شخص کے حافظے کا جز ہے جسے کتابوں سے تعلق ہے، مشہورعربی شاعر متنبی کے شعر کا مصرعہ ہے:’’وخیر جلیس فی الزمان کتاب‘‘ یعنی زمانے میں سب سے بہتر ہم نشیں کتاب ہے۔ قلم اور کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ قرآن مجید میں قلم اور کتاب کی قسم کھائی گئی ہے:’’ن والقلم ومایسطرون‘‘ ۔آخری پیغمبر پر سب سے پہلی وحی جو آسمان سے نازل ہوئی اس میں پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا، گویا یہ امت،امت اقراء ہے اور کتاب اور قلم سے اس کا رشتہ ناقابل انفکاک ہے۔ اسے ہر زمانے میں علم کی خردافروزی ، فکر کی تازہ کاری اور عالم ایجاد کی تحیرسامانیوں میں دوسروں کا امام اور پیشوا اور سب سے ممتاز اور فائق تر ہونا چاہیے تھا، اسے ’’قلم گوید کہ من شاہ جہانم‘‘ سے لاگ اور لگائو ہونا چاہیے تھا، صریر خامہ کو اس کے لیے نوائے سروش ہونا چاہیے تھا اور کتاب خانہ کو اس کے لیے دولت خانہ بننا چاہیے تھا، اس کی نظر میں ’’چیک بُک‘‘ سے زیادہ ’’بُک‘‘ کی اہمیت ہونی چاہیے تھی، ایک صاحب قلم کی عزت اس کے نزدیک بڑے بڑے صاحب جبروت بادشاہوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے تھی، بساط ورق اور بساط قلم کے مقابلے میں مسند عیش وتجمل کو ہیچ ہونا چاہیے تھا، ایک شہنشاہ قلم کی عزت اورنگ نشیں صاحبِ کَروفر سلطان سے زیادہ ہونی چاہیے تھی، لیکن وائے حسرت ونامرادی کہ مسلمان اب علم سے دور اور تعلیم سے نفور ہیں۔ اب وہ اس زمانے میں علم میں دوسروں سے کوسوں پیچھے ہیں اور گرد کارواں بھی نہیں ہیں، اور دوسروں کے علم کا کارواں منزل بہ کنار ہے، یاران تیزگام نے محمل کو جالیا ہے اور ہم ابھی تک محو نالۂِ جرس ہیں‘‘۔ امت مسلمہ میں علم کے تنزل کا یہ مرثیہ ہندوستان کے نام ور صاحب قلم پروفیسر محسن عثمانی کے گہربار قلم سے ہے۔
آسمان علم پر چھائی گھنگور گھٹائوں کے ایسے لمحات میں امید کی کوئی ایک کرن بھی دلوں کو مسرت انگیزی کا احساس دلادیتی ہے، ان دنوں شہر کراچی میں ایک کتابی نمائش چرچا ہے،جو ہر سال دسمبر کے مہینے میں منعقد ہوا کرتی ہے، کتابوں کی یہ نمائشیں گرچہ فیشن کا ہی ایک حصہ بنتی جاتی ہیں،اس لیے خالص علمی ماحول بھی کتب بینی یا کتابوں کی خریداری کے بجائے لذت کام ودہن اورلباس وپوشاک کی نمائش سے شاد کامی کے متنوع مظاہر کی بھینٹ چڑھتا نظر آتا ہے، لیکن پھر بھی کتابی ذوق کے حامل عاشقان علم کی بھی ایک بڑی تعداد اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان نمائشوں کا رخ کرتی ہے، اور یوں یہ تقریب کسی درجے میں کتاب دوستی میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہے۔
یہ تحریر ایسے کتاب دوستوں سے ہی مخاطب ہے، جنہیں کتاب شناسی کے آزمودہ اصولوں سے آشنا کرنا مقصود ہے، جو تجربے کی بھٹی میں پستے ہوئے یا کتابوں کی سیر کے دوران ہاتھ آئے ہیں۔ (۱) پروفیسر محسن عثمانی لکھتے ہیں:’’ مطالعے کے لیے صحیح کتابوں کا انتخاب ضروری ہے، کتابیں سمندر کی مانند ہیں، ضرورت اور ذوق کے مطابق کتابوں کا انتخاب کرنا چاہیے، اس میں کسی صاحب علم اور صاحب ذوق کی رہنمائی بھی اشد ضروری ہے، دل کے بارے میںجگر مرادآبادی کا شعر ہے
؎کامل رہبر قاتل رہزن
دل سا دوست نہ دل سا دشمن
جگر مراد آبادی نے دل کے بارے میں جو بات کہی ہے، وہ کتاب پر اس سے زیادہ صادق آتی ہے۔کتابیں انسان کو ساحل ہدایت تک پہنچاتی ہیں، کتابیں انسان کو گمراہی کے بھنور میں ڈبوتی بھی ہیں، کتابیں انسان کو گم کردہ راہ بھی بناتی ہیں، وہ کامل رہبر بھی ہیں اور قاتل رہزن بھی ہیں‘‘۔
(۲)ہر علم وفن میں کچھ کتابیں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، جنہیں حوالہ جاتی کتب (Reference books) کہا جاتا ہے، یہی کتابیں فن کے طالب علم کی اولین ضرورت ہوتی ہیں، اس لیے پہلے مرحلے میں ایسی کتب کے حصول کی تگ ودو کرنی چاہیے۔
(۳)کتاب کی خریداری سے قبل اہل علم اور ماہرین فن سے مشورہ کیجیے اور کتاب کے عمدہ ایڈیشن کے متعلق آگاہی حاصل کیجیے، ایک اچھا محقق کتاب کے حسن کو چار چاند لگادیتا ہے جبکہ خود غرض ناشر اسے ماند کردیتا ہے، تاجرانہ ذہن نے بہتیری کتابوں کے بخیے ادھیڑ کر انہیں مصنف کی مراد سے کوسوں دور پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ایسے ایڈیشن کے مطالعے سے مصنف کے فکر تک پہنچنا دشوار ہے، اس لیے کتاب کے کئی ایڈیشن ہوں تو تقابلی جائزہ لیجیے اور ایسے ایڈیشن خریدیے جو اہل علم کے ہاں معتبر ہوں اور جن کا حوالہ دیا جاتا ہو۔
(۴) ایسے مصنفین کی کتابیں قابل ترجیح ہواکرتی ہیں جو تحقیقی مزاج کے حامل ہوں ، فن پر دسترس رکھتے ہوں، صاحب مطالعہ ہوں اور قلم پر مضبوط گرفت بھی رکھتے ہوں،قلم کو ’’احد اللسانین‘‘(اظہار کا دوسرا ذریعہ) کہا گیا ہے، کتاب مصنف کی فکر کی عکاس ہوا کرتی ہے، اس لیے معتمد وممتاز مصنفین کو پڑھیے۔
(۵) خریدنے سے پہلے کتاب کی ورق گردانی کرلیجیے، تاکہ کتاب کے عیوب سامنے آجائیں، ممکن ہے کہیں بیاض رہ گئی ہو یا کوئی حصہ چھُوٹا ہوا ہو، جلد سالم نہ ہو، دیگر اشیا ئے ضرورت کی طرح کتاب کی خریداری بھی عمدہ ذوق اور مہارت چاہتی ہے۔
(۶)کتاب پر کسی صاحب فن کاتبصرہ (Book review )ہو تو اسے پڑھ ڈالیے، مقدمہ ، پیش لفظ ، عرض مولف وغیرہ دیکھیے، فہرست پر نگاہ ڈالیے، خاتمے سے نتائج فکر کا جائزہ لیجیے اور اہل فن سے اس کے مقام ومرتبہ کو جانیے، بہت سی کتابیں فن کی دسیوں کتب سے مستغنی کردیتی ہیں، آج کل کی نئی کتابوں میں عموما نئی معلومات کم ہوتی ہیں، اکثر وبیشتر معلومات کا تکرار ہوتا ہے، تاہم بعض کتابیں اس تکرار کے باوجود اسلوب کی سہل انگاری ،ترتیب کی عمدگی یا دیگر اضافی خصوصیات کی بنا پر خریداری کے لائق ہوتی ہیں۔
(۷) ایسے اشاعتی اداروں کی کتابیں خریدنے سے احتیاط برتیے جو بدمعاملگی یا علمی سرقے میں معروف ہوں، البتہ بعض اوقات ایسے اداروں کے ہاں بھی عمدہ ایڈیشن دستیاب ہوجاتے ہیں۔
(۸) کتابی نمائشوں سے فائدہ اٹھائیے، ان میں دسیوں ممتاز ادارے یکجا ہوجاتے ہیں، جن کتابوں کے لیے سفر کی ضرورت بھی پیش آسکتی تھی، وہ ایک ہی چھت تلے دستیاب ہوتی ہیں، ایسے میں اچھی کتابیں سستے داموں بھی مل جاتی ہیں، البتہ یہ پہلو ذہن میں رکھیے کہ بعض نمائشوں میں اداروں کو جگہ کے کرائے اوردیگر اخراجات کی بنا پر مجبوراً قیمتیں زیادہ کرنا پڑتی ہیں، ایسے ادارے اگر شہر میں ہی ہوں اور کوئی فوری ضرورت بھی درپیش نہ ہو تو نمائش کی بجائے ادارے سے کتاب کے حصول کو ترجیح دیجیے، جبکہ وہاں مناسب قیمت میں کتاب ملنے کا امکان ہو۔ (۹) نمائشوں میں بھی اپنی ضرورت کو دیکھیے، رواروی اور دیکھا دیکھی میں کتاب نہ خریدیے، بلکہ چھان پھٹک سے کام لے کر ہی انتخاب کیجیے۔
(۱۰) کتابوں پر صرف کی گئی رقم کو بیکار خیال نہ کیجیے،مفید علمی کتابوں پر لگایا گیا مال ’’ہم خرما وہم ثواب ‘‘ کا مصداق ہوتا ہے، قیمتوں میں کمی ضرور کرائیے لیکن
جمادے چند دادم جاں فریدم بحمد اللہ عجب ارزاں خریدم
( چند روپوں کے عوض عزیز از جاں شے حاصل کرلی ہے، شکر ہے کہ یہ سود ا ارزاں ہے، گھاٹے کا نہیں) پیش نگاہ رکھیے۔
تلک عشرۃ کاملۃ۔

مفتی محمد یاسر عبداللہ


متعلقہ خبریں


کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 07 جنوری 2026

خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارس...

کسی جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں،سیاسی جماعتیں بحران کا حل نکالیں،ترجمان پاک فوج

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف وجود - بدھ 07 جنوری 2026

اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...

عمران خان سے ملاقات تک مذاکرات نہیں ہوں گے، سیکرٹری جنرل تحریک انصاف

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار وجود - منگل 06 جنوری 2026

مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ وجود - منگل 06 جنوری 2026

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا 9 سے 11 جنوری تک سندھ کا تاریخی دورہ کریں گے،پی ٹی آئی آٹھ فروری یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ...

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - منگل 06 جنوری 2026

ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے ...

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے وجود - منگل 06 جنوری 2026

روشنیوں کا شہر مختلف مسائل کا شکار، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی،ماہرین نے صحت کیلئے ہولناک قرار دیدیا ان فوڈ اسٹریٹس اور غذائی اسٹالز میں پہلے ہی حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان ہے رہی سہی کسر اڑتی دھول مٹی نے پوری کردی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسا...

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی وجود - منگل 06 جنوری 2026

15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن...

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ وجود - پیر 05 جنوری 2026

پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

بلاول بھٹو کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 05 جنوری 2026

سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں،پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول ...

بلاول بھٹو کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم

پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے سندھ دورے کو حتمی شکل دیدی وجود - پیر 05 جنوری 2026

9 تا 11 جنوری کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا دورہ کریں گے، سلمان اکرم راجا مزارقائد پر حاضری شیڈول میں شامل، دورے سے اسٹریٹ موومنٹ کو نئی رفتار ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اپنے دورے کے دوران کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ عوام سے براہِ را...

پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے سندھ دورے کو حتمی شکل دیدی

وینزویلا صدر نکولس مادورو گرفتار، امریکا سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کیخلاف نعرے بازی وجود - پیر 05 جنوری 2026

اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ ...

وینزویلا صدر نکولس مادورو گرفتار، امریکا سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کیخلاف نعرے بازی

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے وجود - اتوار 04 جنوری 2026

کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

مضامین
خواہش وجود بدھ 07 جنوری 2026
خواہش

گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار وجود بدھ 07 جنوری 2026
گزشتہ برس ساڑے سات ہزارکشمیری گرفتار

امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟ وجود بدھ 07 جنوری 2026
امریکہ کے خلاف نفرت کا پس منظر کیا ہے ؟

قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم وجود منگل 06 جنوری 2026
قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم

مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ وجود منگل 06 جنوری 2026
مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر