... loading ...
نئے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ توجہ حاصل کرنے یا خبروں میں رہنے کے شوقین نہیں۔ بلکہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ مگر ایک فوجی سربراہ کے طور پر جنرل کوئی بھی ہو، اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کام کیا کیا سمجھتا ہے؟ ایک پیشہ ور اور غیر سیاسی سمجھے جانے والے نئے فوجی سربراہ کے لیے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد بہت سے چیلنجز منہ کھولے کھڑے ہیں۔ اُنہیں اپنے پیش رو جنرل سے جو ورثہ ملا ہے وہ سیاسی جماعتوں کے نزدیک کافی “سیاسی” ہے۔ نئے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے اس محاذ کاسب سے خطرناک چیلنج ہی یہ ہوگا کہ کرپشن اور دہشت گردی کے درمیان جو ربط (لنک) جنرل راحیل شریف کے عہد میں قائم کرکے اس پر ایک فوجی پوزیشن لی گئی ، وہ اس حوالے سے کیا قدم اُٹھاتے ہیں۔ اس معاملے میں اُن کے کسی بھی قدم کااثر براہ راست ایک دوسرے اور درحقیقت پہلے سے بھی بڑے چیلنج یعنی سول ملٹری تعلقات پر پڑے گا۔ ایک طویل عرصے سے سول ملٹری تعلقات میں کافی ابتری پائی جاتی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کو ایک ایسے سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو فوجی کردار کو سیاسی اور سول سرحدوں پر نہ صرف ناپسندیدگی سے دیکھتے ہیں بلکہ اُس کردار کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا بہرصورت نئے فوجی سربراہ کو کرنا پڑے گا۔ اس ضمن میں ڈان لیکس کی خبر کے حوالے سے اُن کا موقف بھی اُن کے کردار کا بنیادی طور پر تعین کردے گا۔ اگر نئے فوجی سربراہ اس حوالے سے خاموشی اختیار کرتے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ وہ سول ملٹری تعلقات میں “خوشگوار” تال میل کے خواہاں ہیں۔
نئے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورت میں ہی رہے گا۔ مگر اس حوالے سے اُن کی حکمت عملی سے اندازا ہوسکے گا کہ وہ اس جنگ کو ایک ورثے کے طور پر اختیار کرتے ہیں یا ایک نئے وژن سے اپناتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف ضرب عضب کے نام سے جو جنگ اختیار کی تھی وہ جنرل کیانی کے دور کی حکمت عملی کو اختیار کرنے کے بجائے اس سے کچھ آگے بڑھ کر اُن کے اپنے وژن کے ساتھ نئی شکل اختیار کرگئی تھی۔ مگر اس میں ہونے والی فاش غلطیوں کا حالات کے جبر کے باعث کبھی بھی درست تجزیہ نہیں ہوسکا۔ نئے فوجی سربراہ کے لیے یہ ایک امتحان ہو گا کہ وہ اُن غلطیوں کا کیسے ازالہ کرتے ہیں۔ اسی طرح کراچی کے حوالے سے بھی جاری فوجی آپریشن کی نوعیت بھی اس تبدیلی کو سمجھنے میں ایک کردار ادا کرے گی۔ گزشتہ کئی مہینوں سے بعض فوجی اقدامات کے حوالے سے یہ تاثر اجاگر کیا جاتا رہا ہے کہ اب فوج کی جانب سے اُٹھائے جانے والے اقدامات دراصل کوئی شخصی نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی تائید کے ساتھ اُٹھائے جارہے ہیں جو ہمیشہ جاری رہیں گے۔ کراچی کے علاوہ دہشت گردی اور کرپشن کے ربط پر اُٹھائے جانے والے اقدامات اس امر کا تعین کریں گے کہ دراصل فوج میں آنے والی تبدیلی کے عملی معنی کیا ہوتے ہیں۔اور یہ تبدیلی کسی بھی طرح سے فوجی پالیسوں میں بھی تبدیلیاں لانے پر منتج ہوتی ہے یا نہیں؟
پاک فوج کے نئے سربراہ کو افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے بھی سخت ترین چیلنجز کا سامنا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے عملاً افغانستان کے تمام معاملات اپنےہاتھ میں لے لیے تھے۔ اور وہ براہ راست افغان حکومت کے تمام ذمہ داران سے معاملات طے کرتے تھے۔ اس ضمن میں سیاسی اور عسکری روابط کاوہ باریک فرق باقی نہیں رہا تھا جس کاعام طور پر کبھی خیال کیا جاتا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئے فوجی سربراہ اس کردار کو اسی طرح جاری رکھتے ہیں یا اس کردار میں سیاسی اور عسکری سطح کی کسی تقسیم پر رضامند ہو پاتے ہیں یا نہیں؟ اسی طرح کشمیر کے حوالے سے پاک فوج کی پالیسی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں تعینات رہے ہیں اور فوج کی دسویں کور کو کمانڈ کرچکے ہیں۔جو لائن آف کنٹرول کی ذمہ داری بھی سنبھالتی ہے۔ مگر نئے فوجی سربراہ نے اپنے دشمن ملک بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بطور بریگیڈ کمانڈر کام کیا ہے۔ جبکہ بھارتی فوجی سربراہ وہاں ڈویژن کمانڈر تھے۔
جنرل راحیل شریف کے بہت سے مقبول اقدامات کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ اُن کے نتائج کا ابھی تعین نہیں ہو سکا۔ اور نہ ہی وہ اقدامات ابھی اختتام کو پہنچے ہیں۔ اس لیے نئے فوجی سربراہ کا ان اقدامات کے ساتھ عملی رویہ اُن کے مستقبل کے مقام کا تعین کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...