وجود

... loading ...

وجود

زرعی شعبے سے حکومتی بے اعتنائی و موسمی تغیرات بدترین خشک سالی کاسامنا،کاشکار بے حال

هفته 26 نومبر 2016 زرعی شعبے سے حکومتی بے اعتنائی و موسمی تغیرات بدترین خشک سالی کاسامنا،کاشکار بے حال

کپاس کی پیدوار میں 28 فیصد کمی کی وجہ سے ملک کی اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا،وزیر خزانہ کا اعتراف
اقتصادی شرح ِنمو 5.1 فیصد کے ہدف کے برعکس 4.71 فیصد رہی ،

cottonslide1

گندم کی اچھی فصل بھی نقصان کو پورا کرنے میں ناکام
حکومت کی مسلسل عدم توجہی اور کاشتکاروں کو درپیش مسائل حل کرنے سے گریز کی پالیسیوں کے منفی نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ رواں سال کے دوران زرعی شعبے کی ناقص کار کردگی کے سبب زرعی شعبے کی شرح نمو منفی رہی۔خود وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں 28 فیصد کمی کی وجہ سے ملک کی اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔حکومت پاکستان نے سرکاری طورپر یہ اعتراف کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا ہے اور اقتصادی شرح نمو 5.1 فیصد کے ہدف کے برعکس 4.71 فیصد رہی ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ بات گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اقتصادی جائزہ رپورٹ 2015-2016 جاری کرتے ہوئے برملا اس بات کااعتراف کیا کہ اقتصادی ترقی کا ہدف حاصل نہ ہونے کی سب سے بڑا وجہ زرعی شعبے کی منفی شرح نمو ہے۔
ملک کے خام ملکی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ 21 فیصد ہے جبکہ یہ شعبہ 42.3 فیصد افراد کو ملازمت فراہم کرتا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے میں ترقی کے بجائے کمی آئیہے۔انھوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3.2 فیصد رکھا گیا تھا تاہم اس میں منفی0.19 فیصد کی کمی رہی۔ان کا کہنا تھا کہ گندم کی اچھی فصل بھی نقصان کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔انھوں نے کہا کہ کپاس کی پیدوار میں تین لاکھ گانٹھوں سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے جبکہ چاول کی پیدوار بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں منفی شرح نمو پاکستان کی خام ملکی پیداوار کی شرح نمو پر اثرانداز ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کپاس کی خراب فصل کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار میں 0.5 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔اقتصادی سروے کے مطابق مجموعی طور پر صنعتی ترقی کی شرح 6.8 فیصد رہی جبکہ گزشتہ سال صنعتوں میں ترقی کی شرح 4.81 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح 4.61 فیصد رہی۔شائد یہی وجہ ہے کہ حکومت کواگلے مالی سال میں زرعی شعبے پر خاطر خواہ توجہ دینے پر مجبور ہونا پڑااور اس شعبے میں کئی مراعات کا اعلان کیا گیاہے۔ زرعی شعبے کو سہارا دینے اور کاشتکاروں کو بہتر فصل اگانے میں مدد دینے کیلئے حکومت نے یوریا کھاد کی بوری کی قیمت 1800 روپے کم کر کے 1400 روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح فاسفیٹ کھاد کی بوری کی قیمت 2800 سے کم کر کے 2500 روپے فی بوری کر دی گئی ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے کاشتکاروں کو کھاد کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی دینے اور زرعی قرضوں کا حجم 600 ارب سے بڑھا کر 700 ارب روپے کر نے اورزرعی قرضوں پر شرح سود میں دو فیصد تک کمی کرنے کااعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے آبپاشی کی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں کاشتکاروں کیلئے زرعی ٹیوب ویل کے لیے بجلی کا فی یونٹ 8.85 پیسے سے کم کر کے 5.53 پیسے کر نے کا بھی اعلان کیاہے۔فصلوں کو کیڑوں اور وائرس کے حملوں سے بچانے اور کاشتکاروں کو فصلوں پر مناسب طورپر کیڑے مار ادویات کا اسپرے کرنے کی ترغیب دینے کیلئے حکومت نے کیڑے مار ادویات پر عائد سات فیصد سیلز ٹیکس ختم کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحول میں آلودگی کے سبب پیدا ہونے والے مسائل سے پاکستان بری طرح متاثر ہورہا ہے ،اور خشک سالی کی موجودہ لہر بھی اسی کا نتیجہ ہے ۔ ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان میں خشک سالی کے سبب گزشتہ کچھ برسوں میں باغات اور زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔بروقت بارش نہ ہونے کی وجہ سے بڑے رقبے پر گندم کی بوائی شروع نہیں ہو سکی جبکہ ترش پھلوں کے بہت سے باغات کو نقصان ہوا ہے۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک میں گندم کی پیدوار 1.6 فیصد اضافہ کے ساتھ 25ملین ٹن سے زائد رہی تھی جس کے بعد دنیا میں گندم پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان آٹھویں سے چھٹے نمبر پر آگیا تھا۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں 20 سے 25 ملین ایکڑ زمین پر گندم کاشت کی جاتی ہے۔ مگر رواں برس بارش نہ ہونے کے سبب اکثریت زمینداروں اور کسانوں نے بوائی شروع ہی نہیں کی اور جنھوں نے بوائی کردی ہے بارش نہ ہونے کے سبب وہ بھی پریشان حال ہیں۔فیصل آباد کے زمیندار چوہدری نصیر کا کہنا ہے کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ربیع کے سیزن کے لیے تاحال بوائی ممکن نہیں ہو سکی اور بارش کے انتظار میں سیزن ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ہری پور کے زمیندار ملک خوشحال کا کہنا تھا کہ ہم بارش کی امید میں بوائی کرچکے ہیں مگر سیزن ختم ہونے کے قریب ہے اور بارش کا نہ ہونا انتہائی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
مالٹے اور کینو کا شمار پاکستان کے اہم پھلوں میں ہوتا ہے جن کے باغات مجموعی طور پر 194,000 ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن آّفپاکستان کے مطابق گزشتہ سال 427,025 ہزار ڈالر کا پھل در آمد کیا گیا جس میں ترش پھل کا حصہ بیس فیصد تھا۔صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع ہری پور کے علاقے خانپورکا ریڈ بلڈ مالٹا اپنے ذائقے کی بنا پر بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے۔ مگر اس سال خشک سالی کی وجہ سے اس کے باغات بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔محمد نذیر مالٹے کے باغ کے مالک ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دس سال قبل اس طرح کی خشک سالی آئی تھی جس سے مالٹے کو نقصاں پہنچا تھا۔ اور اب دوبارہ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درختوں کو بیماریاں لگ رہی ہیں، پھل خراب ہو رہا ہے اور اچھی طرح افزائش نہیں کر رہا، درخت پھلوں سے خالی ہیں اور جو پھل موجود ہے اس کا معیار متاثر ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ہماری سوچ سے بھی زیادہ خراب ہے اور اس سال ممکنہ طور پر در آمد کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
ایوب ایگلریکلچر ریسرچ سنٹر فیصل آباد میں شعبہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد اکرم کے مطابق موجودہ سیزن میں بارشوں کا نہ ہونا بدترین ماحولیاتی تبدیلی ہے جس کا براہ راست اثر زراعت پر پڑرہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت بارشوں کے نہ ہونے سے گندم کی کاشت اور پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال کا سامنا دیگر فصلوں کو بھی جن میں سبزیاں اور دالیں بھی شامل ہیں، لاحق ہیں۔ہری پور یونیورسٹی شعبہ ماحولیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہکا کہنا تھا کہ عالمی تنظیم جرمن واچ کے مطابق موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ بر وقت بارشوں کا نہ ہونا اور پھر بے وقت ہونا بدترین موسی تبدیلی ہے جو کہ نہ صرف انسانی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ زراعت کے شعبے میں بھی بدترین مسائل پیدا کردے گی۔ جس سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ آنے والے وقتوں میں ہماری نسلیں خوراک کے بدترین بحران کاشکار ہوجائیں گی۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر