... loading ...
محمد علی شیخ نے غیر ملکی ایئر لائن کے ذریعے دبئی اور پھر امریکہ جانا تھا‘ ایئرپورٹ سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا
اویس ٹپی کے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتے رہے‘ ٹپی کا کردار محدود ہوا تو فریال تالپور کی سرپرستی میں کام کرنے لگے
سابق صدر آصف علی زرداری کے دست راست اور انتہائی منفعت بخش معاملات کے نگران رہنے والے محمد علی شیخ اچانک دبئی پہنچ گئے ہیں۔ وہ 18 جون 2015ءکو ائیرپورٹ پر بیرون ملک جانے کے لئے پہنچے تھے، جہاں سے ا±نہیں ایک غیر ملکی ائیر لائن سے دبئی اور پھر امریکا جانا تھا۔ مگر وہ مذکورہ ائیر لائن میں سوار نہیں ہو سکے اور ائیرپورٹ سے پراسرار طور پر غائب ہو گئے تھے۔ وہ پیپلز پارٹی کی مرکزی اور سندھ حکومت کے تمام عرصے میں انتہائی بااثر شخصیت کے طور پر لین دین سے لے کر ہر قسم کے معاملات میں انتہائی فیصلہ کن حیثیت کا حامل رہے تھے۔ محمد علی شیخ ابتدا میں آصف علی زرداری کے بھائی سمجھے جانے والے اویس ٹپی کے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتے رہے۔ اس دوران میں جب اویس ٹپی کے کردار کو محدود کیا گیا تو محمد علی شیخ آصف زرداری کی ہمشیرہ ڈاکٹر فریال تالپور کے سرپرستی میں کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پھر ا±نہیں براہ راست آصف علی زرداری سے احکامات ملنے لگے۔ باخبر ذرائع کے مطابق محمد علی شیخ محکمہ لینڈ ریونیو کے تمام اختیارات کو اس دوران میں استعمال کرتے رہے۔ ا±ن پر کراچی کی اربوں روپے کی زمینوں پر قبضے کے الزامات ہیں۔ وہ سندھ حکومت میں ا±س گروپ کے بھی نگران تھے جس پر سرکاری محکموں سے کروڑوں روپے کے ماہانہ بنیادوں پر فنڈز بٹورنے کے الزامات لگتے رہے۔ اس ضمن میں سرکاری محکموں میں گریڈ 16 سے گریڈ 21 تک کے سرکاری افسروں کی لوٹ مار کے علاوہ ا±ن کی بھاری رشوتیں لے کر تعیناتی کے سنگین نوعیت کے الزامات بھی محمد علی شیخ پر لگتے رہے ہیں۔ اسی طرح کا معاملہ محکمہ پولیس میں تعیناتیوں کے حوالے سے بھی تھا جس میں بھاری رقم کے عوض ایس ایچ او سے لے کر ڈی آئی جی تک کے مناصب پر تعیناتیوں میں بھی محمد علی شیخ کا نام آتا رہا ہے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق کراچی میں منظم جرائم کے ایک طویل سلسلے سے محمد علی شیخ وابستہ رہے جس میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے وابستہ ایک ایسا گروپ بھی تھا، جو پولیس سمیت اہم سرکاری اداروں کے ا فسروں پر مشتمل تھا۔ محمد علی شیخ پر الزام رہا کہ انہوں نے اس گروپ کی بھی منافع بخش سرپرستی کی ہے۔ محمد علی شیخ کی پراسرار گمشدگی کے بعد ا±ن کی بازیابی کے لئے ایک درخواست عدالت عالیہ سندھ میں عابدہ بیگم کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ جس پر ایک جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ عدالت میں جمع کی گئی رپورٹ میں محمد علی شیخ کے بھائی محمد اسلم شیخ اور ا±س کے گن مین محمد ہارون کے بیانات بھی موجود ہیں۔ جس کے مطابق 18 جون 2015 کو محمد علی شیخ اپنے گرین کارڈ کی تجدید کے لیے امریکا جانے کی خاطر اپنے دوست محمد فرقان پاریکھ کے ہمراہ ایئر پورٹ گئے تھے۔ مگر پھر وہ اپنی متعلقہ فلائٹ نہیں لے سکے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ پروٹوکول افسر فرحان شیخ کے مطابق ا±نہیں ایئر پورٹ کی پارکنگ میں موجود لوگوں نے بتایا کہ ایک سیاہ گاڑی میں سوار سادہ لباس میں موجود مسلح افراد محمد علی شیخ کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے جس کے بعد سے محمد علی شیخ کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ واضح رہے کہ محمد علی شیخ کے ساتھ ہی ا±س کا دوست اور ایک شوروم کا مالک فرقان پاریکھ بھی کافی عرصہ لاپتہ رہے۔ اسی طرح گلف منی چینجر کے عمران نامی ایک شخص کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو ان کے ساتھ ہی لاپتہ ہوئے۔ بعض ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان گرفتاریوں کو بوجوہ تسلیم نہیں کیا تھا۔ محمد علی شیخ کی پراسرار حراست کے دوران میں یہ یقین کر لیا گیا تھا کہ دراصل وہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک بہت سی کڑیوں کو ملانے والے فرد کے طور پر انتہائی اہمیت رکھتے تھے۔ اور ا±ن کے ذریعے قانون اپنا راستہ لیتے ہوئے ڈاکٹر فریال ٹالپور اور آصف زرداری کی طرف رخ کرنے والا ہے۔ اس کے علاوہ اس محمدعلی شیخ کی گمشدگی سے بھی سندھ کی بیوروکریسی میں کافی عرصے تک ہلچل رہی تھی، کیونکہ سندھ کی بیوروکریسی میں جاری کرپشن کی گہری جڑوں میں سے اکثر کا تعلق محمد علی شیخ کے پلائے ہوئے پانی یا چوسے ہوئے خون سے تھا۔ مگر اب نئے حالات میں اچانک وہ تمام افراد رہا ہورہے ہیں جو کسی بھی وقت آصف علی زرداری کے لیے کسی پریشانی کا باعث بن سکتے تھے۔ محمد علی شیخ بھی ا±ن میں شامل ہیں جو اچانک رواں ہفتے اپنے گھر پہنچے اور بلاتاخیر اپنا سامان سمیٹ کر دبئی روانہ ہو گئے۔
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...