وجود

... loading ...

وجود

 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری

جمعرات 24 نومبر 2016  بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری

وادیٔ نیلم میں مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایاگیا ، تین شہری موقع پر شہید ، زخمیوں میں شامل سات افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے
گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی اور ٹوئٹ میں اس کارروائی پر شدید ردعمل دینے کی دھمکی دی تھی

indian-army-kills-lecturer-in-custody-in-occupied-kashmir-1471519396-7445

بھارتی افواج کی دیدہ دلیری اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ پاک فوج سے مقابلے میں لاشیں اٹھانے کا بدلہ شہری آبادی ،مسافر بسوں، اسکول جاتے بچوں اور حد یہ کہ ایمبولینسز کو نشانہ بنا کر لیا جارہا ہے ۔گزشتہ سے پیوستہ روز 3بھارتی فوج کی ہلاکت کا بدلہ مسافر بس کو نشانہ بنا کر لیا گیا۔
بدھ کی صبح وادیٔ نیلم کے علاقے لوات میں لائن آف کنٹرول کے قریب ہندوستانی فورسزنے مسافر بس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 10 شہری جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے۔فائرنگ کا نشانہ بننے والی کوسٹر مظفرآباد جارہی تھی۔جبکہ بعد ازاں (ایل او سی) پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت 3 جوان شہید ہوگئے۔
وادی نیلم کے ایس پی جمیل میرنے بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال اٹھمقام منتقل کردیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ وادی نیلم میں بھارتی فائرنگ کا آغاز رات 3 بجے ہوا تاہم صبح اس میں شدت آگئی۔دوسری جانب کوٹلی ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ کمشنر سردار ذیشان نثار نے بتایا کہ نکیال سیکٹر میں صبح 8 بج کر 40 منٹ پر شروع ہونے والی ہندوستانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جنھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔امریکی خبرساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس واقعے میں دس شہری شہید ہوئے۔ اے پی نے ڈپٹی کمشنر وحید خان کے حوالے سے کہا کہ انڈین فوج نے مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس سے تین شہری موقع پر شہید ہو گئے جبکہ زخمیوں میں شامل سات افراد بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
انڈین فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والی بس کے ڈرائیور راجہ گلفام نے برطانوی خبر رساindian-occupied-kashmir-1ں ایجنسی کی نامہ نگار کو بتایا کہ انڈین فوج کا گولا بس کی چھت پر لگا اور چار مسافر اسی وقت شہید ہو گئے۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے بس روکی نہیں اور اس کو بھگا کر آ گے لے آئے۔گلفام کا کہنا تھا کہ جس جگہ ان کی بس کو نشانہ بنایا گیا وہاں سے دریا کے پار انڈین فوج کی پوسٹ صاف طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق ڈڈیال کے قریب ہونے والے اس حملے کے بعد جب ایک ایمبولینس زخمیوں کو لینے کے لیے وہاں پہنچی تو اس پر بھی فائرنگ کی گئی، واقعے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم انھوں نے مزید نقصان کا بھی خدشہ ظاہر کیا کیونکہ بھارت کی جانب سے شدید شیلنگ جاری ہے۔کوٹلی ڈسٹرکٹ کے تتا پانی سیکٹر میں بھی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوا، جبکہ ڈسڑکٹ پونچھ کے بٹل اور مدارپور سیکٹرز پر بھی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والوں میں کیپٹن تیمور علی، حوالدار مشتاق حسین اور لانس نائیک غلام حسین شامل ہیں۔
پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 7بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے لائن آف کنٹرول کے نزدیک اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی اورہندوستانی فوج کی ٹوئٹ میں اس کارروائی پر شدید ردعمل دینے کی دھمکی دی گئی تھی تاہم بھارتی فوج نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ حملہ کس نے کیا جبکہ فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے بھی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ٹوئیٹ میں ایک فوجی کی لاش کے متعلق بتایا گیا کہ وہ ’مسخ شدہ‘ تھی، تاہم پاکستان نے بھارتی میڈیا کی جانب سے فوجی کے جسم کو مسخ کیے جانے کےarmy1-16-1460746931-12-1468278980 جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی تردید کردی تھی۔لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ہندوستانی افواج کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزیاں حالیہ کچھ عرصے سے ایک معمول بن چکی ہیں۔رواں ماہ 19 نومبر کو بھی ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر ہندوستانی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 4 پاکستانی بچے جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے، اسی روز 6 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم بھارت نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔
قبل ازیںایک کارروائی میں 7پاکستانی جوانوں کی شہادت کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ہندوستان کوغیرت دلائی تھی کہ ہمارے 7 جوانوں کی شہادت کے دن بھارت کے 11 فوجی مارے گئے تھے، ہم اپنے جوانوں کی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں، بھارتی فوج بھی مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہلاک فوجیوں کا بتایا کرے۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر اب تک 45 سے زائد بھارتی فوجی مارے جاچکے ہیں۔اس بیان کے جواب میں بھارتی وزارت دفاع نے 11کے بجائے 13فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی۔
پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ایل او سی کے شاہ کوٹ، جورا، بٹل، کریلہ، باغ، باگسر اور تتا پانی سیکٹر پر بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فورسز تمام سیکٹرز پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جس پر پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی اور ہندوستان چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ رواں ماہ 18 نومبر کو بھارتی بحریہ کی جانب سے بھی پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی، تاہم پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر انھیں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔جبکہ ایک جاسوس ڈرون بھی پاکستانی حدود میں گھس آیا تھا جسے پاک فوج کے جوانوں نے مار گرایا تھا۔
ان واقعات کے بعد حالیہ دنوں میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور بھارتی سفارتکاروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جائیں گی اور اس کی تفصیلات پاکستان کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
بھارتی حکام نے لائن آف کنٹرول پرشہریوں کی ہلاکتوں کے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم انڈین فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ بدھ کی صبح پاکستان کی طرف سے بھمبر گلی، کرشنا گھاٹی اور نواشہر سیکٹر میں بلااشتعال اور اندھا دھن فائرنگ شروع کی دی۔اس سے قبل آئی ایس پی آر نے اطلاع دی تھی کہ انڈین فوج نے کشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنانا شروع کررکھا ہے۔ان علاقوں میں شاہ کوٹ، جورا، بٹل، کریلا، باغ اور گرم چشمہ سیکٹر شامل ہیں۔فائرنگ کے مسلسل واقعات کے بعد لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے اردگرد دیہات میں رہنے والے افراد میں خوف پایا جاتا ہے اور وہ خطرے کے پیشِ نظر عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی،موبائل سگنل بحال رکھنے کا فیصلہ وجود - منگل 23 جون 2026

وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا سرکاری ملازمین 4 چھٹیوں سے مستفید ہوں گے، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہ...

9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی،موبائل سگنل بحال رکھنے کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، وزیراعظم وجود - منگل 23 جون 2026

اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیلئے مخلص ہے، شہبازشریف پاک امریکا تعلقات وقت کیساتھ مزید مضبوط اور گہرے ہوئے،صحافیوں سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیل...

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، وزیراعظم

عمران خان سے مشاورت کے بغیروفاق کو پیسے نہیں دینگے،اسد قیصر وجود - منگل 23 جون 2026

حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن، لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں،پی ٹی آئی رہنماکی میڈیا سے گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔...

عمران خان سے مشاورت کے بغیروفاق کو پیسے نہیں دینگے،اسد قیصر

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

مضامین
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ وجود منگل 23 جون 2026
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران وجود منگل 23 جون 2026
خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران

سب سے مہنگا آدمی کون؟ وجود منگل 23 جون 2026
سب سے مہنگا آدمی کون؟

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو وجود منگل 23 جون 2026
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو

موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر