وجود

... loading ...

وجود

بھارتی وزیر اعظم کی اپنے پیر پر کلہاڑی.. 500 اور1000 کے نوٹوں پر اچانک پابندی سے شہری بِلبلا اٹھے

جمعه 18 نومبر 2016 بھارتی وزیر اعظم کی اپنے پیر پر کلہاڑی.. 500 اور1000 کے نوٹوں پر اچانک پابندی سے شہری بِلبلا اٹھے

کالے دھن کے خلاف کارروائی یا مخالف سیاستدانوں کے ہاتھ پیر باندھنے کی کوشش،اترپردیش انتخابات میں حکمراں جماعت کو ہزیمت کا سامنا ہے
مودی کے اعلان نے بھارت سمیت پوری دنیا میں منی چینجرز کو ہلاکر رکھ دیا،بینکوں کے باہر لمبی قطاریں، لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ کے واقعات عام ہوگئے

دنیا بھر میں بعض اوقات کچھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بعض ممالک کی معیشت کو شدید دھچکا لگتاہے جبکہ دنیا بھر میں بعض ایسے اقدامات بھی ہوتے ہیں جو مالیاتی منڈی پر بجلی بن کر گرتے ہیں اوراسے اتھل پتھل کرکے رکھ دیتے ہیں۔ ان اچانک اقدامات کے سبب کرنسی کالین دین کرنے والے بعض ادارے منہ کے بل گرتے ہیں اور ان کو سنبھلنے کا موقع کم ہی مل پاتاہے ، کچھ ایسا ہی لیکن انتہائی غیر متوقع اور اچانک قدم بھارت میں بھی گزشتہ روز ہزار اور 500 کے نوٹ فوری طورپر بند کرنے کا اعلان کرکے اٹھایاگیا، کسی نوٹس اور انتباہ کے بغیر بڑے کرنسی نوٹ فوری طورپر بند کرنے کے اس اعلان نے بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کرنسی کالین دین کرنے والے منی چینجرز کو ہلاکر رکھ دیا اور راتوں رات انھیں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کے خسارے سے دوچار کردیا۔یاد رہے کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا کرنسی نوٹ 100روپے کا ہے ۔
بھارت میں بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کا اعلان بھارت کے مرکزی بینک یا وزارت خزانہ کی جانب سے نہیں کیاگیا بلکہ یہ اعلان براہ راست وزیر اعظم نریندرا مودی نے کیا ہے ،نریندرا مودی کا کہناہے کہ ملک کے مفاد میں بعض ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور ان کے اعلان سے قبل انھیں بالکل خفیہ رکھنا بھی ملک کے مفاد میں ہوتاہے۔بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کے اعلان کے اسباب بیان کرتے ہوئے نریندرا مودی نے یہ موقف اختیارکیاہے کہ اگرچہ پانامہ پیپرز کے منظر عام پر آجانے کے بعد یہ ثابت ہوچکاتھا کہ ملک میں وسیع پیمانے پر کالا دھن گردش کررہاہے اور اس کو کنٹرول کرنے خاص طورپر اسے ملک سے باہر اسمگل ہونے سے روکنے کیلئے سخت قدم اٹھانے کی ضرورت تھی جس میں ایک قدم بڑے کرنسی نوٹوں کی بندش بھی تھا لیکن کرنسی نوٹ اچانک بند کرنے کے اس اعلان کا بڑا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کرناتھا کیونکہ دہشت گردوں کے سہولت کاردہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے بڑے کرنسی نوٹوں ہی کے ذریعہ ادائیگی کرتے ہیں اور کوئی بھی چھوٹے نوٹوں کا صندوق اٹھا کر چلنے کی حماقت نہیں کرتا۔
نریندرا مودی کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کے اعلان نے پورے بھارتی معاشرے کو بھی ہلاکر رکھ دیا اور اب ہر شخص تمام کام کاج چھوڑ کر اپنی جمع کردہ رقم کو بچانے کیلئے بینکوں کے سامنے صبح سویرے ہی سے قطار لگانے پر مجبور ہوگیاہے،بینکوں کا عملہ بھی بینکوں کے باہر ہزاروں افراد کی اس قطار کی وجہ سے پیداہونے والی اس صورتحال اور کام کے اس اچانک اورہوشربا بوجھ سے پریشان ہے اور بھارتی بینکوں میں نوٹ تبدیل کرانے کیلئے آنے والے لوگوں اور بینک کے عملے کے درمیان لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔اس کی وجہ سے پورے ملک میں کاروباری اورمعاشی سرگرمیاں جمود کاشکار ہوکر رہ گئی ہیں۔حکومت نے پرانے نوٹوں پر پابندی کے بعد ایک دن میں ایک شخص کو چار ہزار روپے کے نوٹ تبدیل کرنے کی ہی اجازت دی ہے جبکہ نوٹ تبدیل کرانے والے کی انگلی پر سیاہی لگائی جا رہی ہے تاکہ ایک شخص دوبارہ لائن نہ لگاسکے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی اور بھارت کے مرکزی بینک کے کرتادھرتاﺅں کاکہناہے کہ بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کا اچانک اعلان نہ کیاجاتااور اگر اس اعلان سے قبل لوگوں کوا س کی سن گن بھی مل جاتی تو بڑے پیمانے پر کالا دھن دیہی علاقوں میں منتقل کردیاجاتاجہاں غریب دیہاتیوں کے پاس بڑے نوٹ شاذ ہی کبھی ہوتے ہیں اور اس طرح اس کارروائی کی افادیت مشکوک ہوجاتی یااس سے حاصل ہونے والے فوائد نصف بھی نہ رہتے۔اس کے علاوہ پہلے سے کرنسی نوٹ بند کرنے کے اعلان کی صورت میں کالادھن رکھنے والے رشوت خور سرکاری ملازم ،وزرا ، اسمگلر ،دہشت گردوں کے سہولت کار اور خود دہشت گرد ،اور دیگر بدقماش ٹیکس چور تاجر اور صنعت کار اپنے کالے دھن سے بآسانی سونا اور جائیدادیں خرید کر اپنی رقم بچانے میں کامیاب ہوجاتے ۔نوٹ بند کرنے کے اس اعلان کے بعد اپنے گھروں میں کروڑوں روپے کاکالا دھن چھپاکر رکھنے والے ان لوگوں کو بینکوں میں یہ رقم جمع کرانے یا تبدیل کرانے کیلئے بھاری رقم گھر میں رکھنے کاسبب اور اپنے کاروبار سے ہونے والے منافع اور اس پر ٹیکس کی ادائیگی کے ثبوت پیش کرناہوں گے جو کہ ممکن نہیں ہے اور ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ ان کی ناجائز جمع کی ہوئی دولت بحق سرکار ضبط کی جاسکے گی بلکہ کالادھن جمع کرنے اورٹیکس چوری کے الزام میں ان کو لمبی سزائیں بھی ہوسکتی ہیں۔اچانک بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کے اس اعلان کے بارے میں حکومت کی جانب سے پیش کی گئی یہ توضیح درست معلوم ہوتی ہے لیکن اگر نریندرا مودی کے اس اعلان کا گہرائی میں جاکر جائزہ لیاجائے تو بات کچھ اور نکلتی ہے اوریہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس اعلان کا بنیادی مقصد کالے دھن اور کالا دھن رکھنے والوں پر ضرب لگانا نہیں تھا بلکہ اس کامقصد بی جے پی مخالف سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں پر ضرب لگانے اور اترپردیش کے عام انتخابات سے قبل ان کے ہاتھ پیر باندھ دینا ہے تاکہ بی جے پی کو جسے اترپردیش میں بظاہر سخت مقابلے کاسامنا کرنا پڑسکتاہے انتخابات آسانی سے جیتنے کاموقع مل سکے۔
عام طورپر یہ تصور کیاجاتا ہے کہ بھارت میں بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کا یہ اعلان سال رواں کے اوائل میں یورپی مرکزی بینک کی جانب سے 500یورو کاکرنسی نوٹ بند کرنے کے اعلان سے متاثر ہوکرکیاگیاہے تاہم اس میں چالاکی یہ کی گئی کہ نوٹ تبدیل کرانے کی کسی تاریخ کااعلان کرکے بتدریج نوٹ واپس لینے کے بجائے پوری معیشت کاپہیہ روک دیاگیا کیونکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میںبلکہ مارکیٹ میںکرنسی نوٹ زیر گردش رہتے ہیں کیونکہ کوئی بھی تاجر اور صنعت کار اپنی دولت بینک میں رکھ کر جمود کاشکار کرنے کا خطرہ نہیں مول لے سکتا۔کاروباری افراد تو زیادہ سے زیادہ رقم کو مسلسل گردش میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کرنسی جتنی زیادہ گردش میں ہوگی ان کو اس سے اتنا ہی زیادہ منافع ملنے کی توقع ہوتی ہے ۔تاجروں اور صنعت کاروں کے پاس جو رقم موجود ہوتی ہے وہ بھی رواں اور ناگہانی اخراجات کیلئے ہوتی ہے ،اب حکومت کی جانب سے نوٹ بند کئے جانے کے اعلان سے ان کی ہنگامی اور رواں اخراجات کیلئے رکھی گئی رقم بھی جمود کا شکار ہوگئی اور اس طرح اب نہ تو وہ مارکیٹ سے ہنگامی طورپر نقد ادائیگی کے ذریعہ کوئی چیز خریدسکتے ہیں اور نوٹ بند ہوجانے کی وجہ سے نہ ہی انھیں اپنی ذخیرہ کردہ اشیا کی فروخت کیلئے کوئی گاہک مل سکتاہے۔اسی طرح اگر کسی مل کا کوئی بڑا پرزہ ٹوٹ جاتاہے یاخراب ہوجاتاہے تو مل مالک رواں اخراجات کی رقم کے جمود کی وجہ سے مل اس وقت تک بند رکھنے پر مجبور ہوگاجب تک کہ اس کی رقم تبدیل ہوکر بینک سے نہیں آجاتی۔اس طرح اپنے آپ کو چالاک سمجھنے والے نریندرا مودی نے اپنی اس اچانک کارروائی سے پوری بھارتی معیشت کو جمود کاشکار کرکے ملک کے ڈیڑھ ارب عوام کو ذہنی کرب میں مبتلا کردیا ہے اور اس کی وجہ سے کالادھن رکھنے والے چند سویاچند ہزار بدقماش افسران اور ٹیکس چوروں کے ساتھ ہی پوری قوم کو کڑی سزا مل گئی ہے ۔
اگرچہ بھارتی وزیر اعظم اپنی اس اچانک کارروائی کامقصد کالے دھن کی ریل پیل کو ختم کرکے ملک کی معیشت کو مضبوط خطوط پر استوار کرنا اور کالے دھن کی ریل پیل کی وجہ سے افراط زر کی شرح میں تیزی سے اضافے کی صورت حال پر قابو پانا قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے کہ اگر ان کی اس کارروائی کا بغور جائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ نریندرا مودی نے اس وقت جبکہ اترپردیش میں انتخابات ہونے والے ہیں یہ قدم اٹھا کر اترپردیش میں بی جے پی کامقابلہ کرنے والی سیاسی پارٹیوں اور سیاسی اتحادوں کے ہاتھ باندھنے کی کوشش کی ہے کیونکہ یہ ایک عام سی بات ہے کہ عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما انتخابی مہم پر بے اندازہ رقم خرچ کرتے ہیں اور اس رقم کا بڑا حصہ ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ ہوتاہے۔اس طرح نریندرا مودی کی اس اچانک کارروائی کے بعد اب بے جے پی کے مخالف امیدواروںا ور سیاسی پارٹیوں کو انتخابی اخراجات کیلئے اتنی بھاری رقم کا انتظام کرنے میں مشکلات کاسامنا کرنا پڑے گا اورانھیں فوی طورپر رقم کے حصول کیلئے اپنے سونے کے ذخائر یا پراپرٹیز فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا جس سے ملک میں سونے اور پراپرٹیز کی قیمتوں میں اچانک کمی ہونے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا، اس طرح نریندرا مودی اپنی اس کارروائی کے ذریعے بی جے پی مخالف جماعتوں پر بھرپور ضرب لگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں یہ الگ بات ہے کہ مخالف جماعتوں پر ضرب لگانے کی اس کوشش میں انھوںنے اپنے ملک کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت کو جمود کا شکار کرکے اسے کی سال پیچھے دھکیل دیاہے۔


متعلقہ خبریں


عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک وجود - هفته 14 مارچ 2026

عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...

عراق میں امریکی فوجی طیارہ تباہ، تمام اہلکار ہلاک

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان وجود - هفته 14 مارچ 2026

بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...

پیٹرولیم ڈیلرز کا عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی وجود - هفته 14 مارچ 2026

عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...

ملک پر مسلط ٹولے نے عدلیہ، پارلیمنٹ کو ہیک کر رکھا ہے، سہیل آفریدی

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ وجود - هفته 14 مارچ 2026

شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...

وفاق کے ادارے فعال ،مریم نواز کے نقشہ قدم پر چلیں گے، نومنتخب گورنر سندھ

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

مضامین
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک وجود اتوار 15 مارچ 2026
ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

مودی ، انتہا پسند حکمران وجود اتوار 15 مارچ 2026
مودی ، انتہا پسند حکمران

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں وجود اتوار 15 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی سیاست عالمی قومی تناظر میں

اگلے ہدف کی بازگشت وجود اتوار 15 مارچ 2026
اگلے ہدف کی بازگشت

بھارتی معیشت زوال پزیر وجود هفته 14 مارچ 2026
بھارتی معیشت زوال پزیر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر