وجود

... loading ...

وجود

ڈونلڈ ٹرمپ نئے صدر۔۔۔امریکا انتہا پسندی کی طرف گامزن

جمعرات 10 نومبر 2016 ڈونلڈ ٹرمپ نئے صدر۔۔۔امریکا انتہا پسندی کی طرف گامزن

امریکا سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر مزید منقسم ہو گیا ہے،سوشل میڈیا پر کسی نے اسے نفرت کی جیت قرار دیا،کسی نے عوامی مسائل پر آواز اٹھانا ٹرمپ کی فتح کا سبب قراردیا ،خانہ جنگی کے خدشات کا بھی اظہار
ٹرمپ کی سیاہ فاموں ،مسلمانوں اور تارکین وطن کیلیے نفرت اور تجارتی و خارجہ پالیسی کے لیے اپنے نئے اصول اور موجودہ نظام کیخلاف کھری کھری باتیں ہی امریکیوں کے لیے خوبی ٹھہریں،ووٹرز کو روزگارکی امیدی
trump-dominica-1-copyارب پتی امریکی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا کے 45ویں صدر منتخب ہونے پر سوشل میڈیا پر خوشی اور غم سے بھرپور ملے جلے تاثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں، جہاں کئی لوگ خوشی سے سرشار تھے تو کچھ نے انتخابی نتائج پر حیرانی و پریشانی کا اظہار کیا۔ٹرمپ کی کامیابی کو مجموعی طور پر دنیا میں منفی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ ان کا ماضی اور صدارتی مہم سے قبل اور اس دوران دیے جانے والے متنازع بیانات ہیں۔ٹرمپ کی کامیابی کے بعد جہاں ایشیائی شیئرز کی مارکیٹ متاثر ہوئی وہیں عوام کی اکثریت نے بھی غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ٹوئٹر ہینڈل شہباز جمال نے لکھا کہ امریکا 9/11 کو کبھی نہیں بھولے گا اور 11/9 پر ہمیشہ افسوس کرے گا۔ماجد آغا نے ٹرمپ کے انتخاب پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں انتہا پسندی کا ٹھیکیدار امریکا آج خود انتہا پسندی کا شکار ہو گیا۔
سرجیکل اسٹرائیکر کے نام سے کی گئی ٹوئٹ میں خبردار کیا گیا کہ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد امریکا خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔انکا خیال ہے کہ امریکا کے بھی برے دن شروع ہوگئے ہیں کیونکہ
ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں اور کالوں سے شدید نفرت کرتا ہے،ایسے شخص کے صدر بننے کے بعددوسرے ملکوں میں دہشت گردی کروانے والے امریکا کو خود خانہ جنگی کا خطرہ درپیش ہے۔
اس دوران آصف بٹ نے اچھا سوال اٹھایا ہے کہ آیا امریکا کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد ملنے والا کولیشن سپورٹ فنڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد بھی ملتا رہے گا یا نہیں۔پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی ٹرمپ کی آمد کو زیادہ سراہا نہیں جا رہا اور اسے دنیا بھر کیلیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔پیڈی پاورٹوئٹر ہینڈل سے ڈبلیو ڈبلیو ای کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس کے مطابق اب صرف ریسلر اسٹون لوڈ ہی امریکا کو بچا سکتے ہیں۔جب کہ ایک خاتون نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے کہ ’’اب خوبصورت خواتین بے روزگار نہیں رہیں گی ،لیکن ہم جیسوں کا کیا ہوگا ‘‘؟
فلپ بلوم نے ڈبلیو ڈبلیو ای کی ایک اور ویڈیو میں ٹرمپ کی متشدد شخصیت کی عکاسی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ امریکا کے نئے صدر ہیں۔رینی نے ٹرمپ کے انتخاب کو امریکا کی ‘ڈراؤنی کہانی’ قرار دیا۔
ایک اور شخص نے امریکی عوام پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے امریکی صدر کے انتخاب سے زیادہ میک ڈونلڈ پر آرڈر دیتے ہوئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اپنی حریف ہلیری کلنٹن ہی کو شکست نہیں دی بلکہ تمام اندازوں، تخمینوں اور پیش گوئیوں کو بھی مات دے دی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان عہدہ صدارت کے لیے کانٹے کا مقابلہ ہوا جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے 290 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ صدر منتخب ہونے کے لیے 538 میں سے کم سے کم 270 الیکٹورل ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹرمپ کے بارے میں عام تاثر تھا کہ وہ صدارت کے لیے موزوں امیدوار نہیں ہیں۔ ان کا کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق انھوں نے عشروں سے ٹیکس ادا نہیں کیا، انھوں نے عورتوں کا تمسخر اڑایا، ان کے درجنوں جنسی اسکینڈل سامنے آئے، انھوں نے تارکینِ وطن کو ناراض کیا، مسلمانوں کی امریکا آمد پر پابندی لگانے کا اعلان کیا، میکسیکو والوں کو جنسی مجرم کہا، میڈیا کے خلاف جنگ لڑی، خود اپنی ہی جماعت کے رہنماؤں سے مخالفت مول لی، وغیرہ وغیرہ۔لیکن پھر بھی جیت اپنے نام کر لی، اس صورتِ حال میں مبصرین ان کی حیران کن فتح کوسیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ قرار دے رہے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر انھوں نے ہلیری کلنٹن جیسی منجھی ہوئی سیاست دان کو شکست سے کیسے ہمکنار کر دیا؟
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرِ معاشیات اور سیاسی مبصر منظور اعجاز نے کہا کہ دراصل ان انتخابات میں لوگوں نے ٹرمپ کو نہیں بلکہ اپنے روزگار کو ووٹ دیے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے امریکا کے ان علاقوں سے بڑے پیمانے پر ووٹ حاصل کیے ہیں جنھیں ‘رسٹ بیلٹ’ یا ‘زنگ آلود پٹی’ کہا جاتا ہے۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں کئی عشرے قبل بھاری انڈسٹری قائم تھی لیکن امریکی معیشت کی سست رفتاری کی وجہ سے کارخانے رفتہ رفتہ دوسرے ملکوں میں منتقل ہو گئے ، اس عمل کا نتیجہ لاکھوں لوگوں کی بیروزگاری کی شکل میں نکلا۔اس پٹی میں مشی گن، اوہایو، وسکانسن اور پینسلوینیا جیسی ریاستیں شامل ہیں۔منظور اعجاز کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں رہنے والے سفید فام قطار اندر قطار ٹرمپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے کیوں کہ انھیں توقع ہے کہ چونکہ ٹرمپ خود ارب پتی بزنس مین ہیں اس لیے وہ اپنی کاروباری سوجھ بوجھ سے کام لے کر اس علاقے کی کاروباری سرگرمیاں بحال کر سکتے ہیں۔
اس کے مقابلے پر ہلیری کلنٹن کو دو چیزوں نے سخت نقصان پہنچایا۔ ایک تو یہ کہ ان کی اپنی ہی جماعت کی جانب سے امیدواری کے متمنی برنی سینڈرز کے ساتھ انھیں طویل اور تند و تلخ جنگ لڑنا پڑی جس کے دوران برنی سینڈرز نے خاصی کامیابی سے کلنٹن کو ‘بدعنوان نظام’ کا حصہ ظاہر کر دیا۔سینڈرز نے لوگوں کو باور کروا دیا کہ ہلیری کلنٹن چونکہ اسی نظام کی پیداوار اور اس کی تقویت کی ذمہ دار ہیں، اس لیے ان سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ ملک میں کوئی حقیقی تبدیلی لا سکتی ہیں۔دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے ہلیری کلنٹن کے خلاف ای میلز معاملے کی تحقیقات عین وقت پر کھولنے سے بھی ہلیری کو زک پہنچی، اور لوگوں کا یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا کہ سیاست دانوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
واشنگٹن میں مقیم ایک تبصرہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان انتخابات میں ایک چیز یہ بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ امریکا اکیسویں صدی میں بھی کسی عورت کو صدر بنانے کے لیے تیار نہیں ۔جب کہ ایک اورچیز جو پہلے ہی واضح تھی اور ان انتخابات میں مزید کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ امریکا سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر مزید منقسم ہو گیا ہے۔
ان میں سے ایک تقسیم شہری اور دیہی کی ہے، شہری علاقے بڑی حد تک ڈیموکریٹ پارٹی کی حمایت کرتے ہیں لیکن دیہی حصوں کی بھاری اکثریت رپبلکن پارٹی کی حامی ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور خلیج سفید فام امریکیوں اور بقیہ تمام امریکیوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ سفید فاموں کی غالب اکثریت رپبلکن پارٹی کی حامی ہے، جب کہ سیاہ فام، لاطینی امریکی اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے مہاجرین بڑی حد تک ڈیموکریٹ پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ایک اور تقسیم زیادہ تعلیم یافتہ اور کم تعلیم یافتہ ووٹروں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ کم پڑھے لکھوں کی بڑی تعداد رپبلکن ہے، جب کہ کالج کے سندیافتہ ووٹر زیادہ تر ڈیموکریٹ امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں۔
مقامی صحافی رانا آصف سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جس شخص کا مضحکہ اْڑایا جائے، جسے سنکی، مسخرہ اور احمق تصور کیا جاتا ہو وہ سیاست کے میدان میں کام یاب ہواہو؟ ابھی کل کی بات ہے مودی جیسا ’’لوکل‘‘ سیاست داں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سے کام یابی کا تمغہ سینے پر سجائے دنیا بھر میں سیلیفیاں لے رہا ہے۔ کیا ہم بھول گئے ، پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی لیڈر نے جس شخص کے بارے میں کہا تھا کہ ہم نے ایک ایسے آدمی کو وزیر اعظم بنایا ہے جس کے سر کی جگہ تربوز ہے، کاغذ کا شیر ہے۔ سیاست کے جنگل کا وہ شیر آج تیسری مرتبہ ایوان وزیر اعظم میں ہے۔ سرد جنگ کے فیصلہ کن موڑ پر ایک ایسا ہی آدمی کیا ریاست ہائے متحدہ کا صدر نہیں تھا جس کے دور سیاست کی سب سے بڑی یاد گار اس کے چٹکلے تھے۔ ریگن کا ایسا ہی ایک چٹکلا ہے کہ ’’پیشہ ور سیاست دانوں کا پسندیدہ مشغلہ حکومت کرنے کے لیے تجربے کی اہمیت پر بات کرنا ہے۔ بکواس! سیاست سے آپ واحد تجربہ یہ حاصل کرتے ہیں کہ سیاسی کیسے ہوا جائے‘‘ اور سیاسی آدمی اپنی ’’پبلک‘‘ کو خوش کرنے کا گْر جانتا ہے۔ چاہے ایسا کرتے ہوئے وہ دنیا کی نظر میں مذاق ہی کیوں نہ بن کر رہ جائے، میرے جیسے مڈل کلاس نیم خواندہ اس پر تاڑیاں مار کر ہنستے رہیں، پھبتیاں کستے رہیں لیکن اسے معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کے کھیل میں وہی ایشو دراصل ایشو ہوتا ہے جو عوام کی سمجھ میں آجائے۔ ٹرمپ کی فتح پر لطائف کا سلسلہ تو جاری رہے گا، لیکن اس کی فتح نے ہمیں بتا دیا کہ آج امریکا کن مسائل کا شکار ہے؟ اگر آپ اپنے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی بات کریں گے، انھیں خواب بیچنے میں کام یاب ہوجائیں گے، تو چاہے وہ خواب دوسروں کے لیے ڈراؤنے کیوں نہ ہوں، چاہے آپ کے پیش کردہ حل دوسروں کے لیے بحران کیوں نہ ثابت ہوں، میڈیا آپ پر قہقہہ بار ہو اور عالمی رائے عامہ آپ کو نفرت اور تضحیک کی نظر سے دیکھتی ہو، پھر بھی میدان آپ ہی کا ہوگا۔ یہی سیاست ہے اور یہی امریکی انتخاب کی اس ’’ٹریجڈی‘‘ کا سبق کہ اب ہمیں بھی اب اپنی سیاست میں اپنا اپنا ’’ٹرمپ‘‘ تلاش کرنا ہوگا۔
بہر حال جو بھی ہو ،نتیجہ یہ نکلا کہ آخر کار ٹرمپ کی سیاسی ناتجربہ کاری، لاپروایانہ انداز اور کھری کھری سنا دینے جیسی ‘خامیاں’ ہی ان کی خوبیاں قرار پائیں اور ہلیری کلنٹن کو منجھا ہوا سیاست دان ہونے، طویل انتظامی تجربہ، نظام کی سمجھ بوجھ جیسے میدانوں میں جو برتری حاصل تھی، وہی بالاًخر ان کے گلے کا ہار بن گئی۔


متعلقہ خبریں


خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

 مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت کے سمری پر دستخط

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

اگر مجھے یا کسی پارلیمنٹرین کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی ہوں گے ، صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت دیگر اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سماجی رابطے کی ویب سائ...

پولیس نے تمام اراکین پارلیمنٹ کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے، شفیع جان

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا جائے گا، وزیراعظم ہائوس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے، کابینہ اراکین خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی...

وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں لگانے کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر وجود - اتوار 11 اکتوبر 2026

ریاض ایئرپورٹ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ہوائی اڈوں میں سرفہرست آگیا سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد فضائی سفر کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا جہاں دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ سے سیکڑوں پروازیں منسوخ کردی گئیں جبکہ متعدد طیاروں کا رخ دوسرے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔فلائ...

ریاض ایئرپورٹ پر سیکڑوں پروازیں منسوخ، دیگر ایئرپورٹس بھی متاثر

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

مضامین
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان وجود پیر 12 اکتوبر 2026
مہنگائی کا جن قابو سے باہر، غریب محنت کش خاندانوں کا کڑا امتحان

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر