وجود

... loading ...

وجود

پاناما لیکس ..آئی ایم ایف نے بھی حکمرانوں سے آنکھیں پھیر لیں

بدھ 26 اکتوبر 2016 پاناما لیکس ..آئی ایم ایف نے بھی حکمرانوں سے آنکھیں پھیر لیں

پاناما پیپرز اور بہاماس لیکس ایمانداری اور شفافیت کا معاملہ ہے، متعلقہ افراد کااحتساب ہونا چاہیے،کرسٹین لغرادکی صاف گوئی
وزیر خزانہ اسحاق ڈار مشترکہ کانفرنس کے دوران عالمی مالیاتی فنڈ کی ایم ڈی کے بیان پرمتحیر نظر آئے ،احتساب مطالبے کو سیاسی قراردے دیا
panama-pakistanپاکستان کے دورے پر آئی ہوئی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لغراد نے بھی پاناما اور بہامالیکس کے حوالے سے نواز شریف اور ان کے رفقا ئے کار کی کوئی مدد کرنے سے گریز کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ پاناما پیپرز اور بہاماس لیکس ایمانداری، شفافیت اور احتساب کا معاملہ ہے اور اس حوالے سے متعلقہ افراد کے احتساب کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتساب تو بہرحال سب کا ہونا چاہیے۔اپنے دو روزہ دورہ پاکستان کے آخری روز اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ ’احتساب اور شفافیت ہی بہتر راستہ ہے‘۔پاکستانی رہنماؤں کے نام پاناما پیپرز میں سامنے آنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاناما ہو یا بہاماس پیپرز احتساب اور شفافیت ہی آگے بڑھنے کا بہتر راستہ ہے‘۔انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور معلومات تک رسائی کی وجہ سے اب چھپنا اور راہ فرار اختیار کرنا ناممکن ہوچکا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو غالباً یہ توقع نہیں تھی کہ عالمی مالیاتی فنڈز کی منیجنگ ڈائریکٹر کی پریس کانفرنس میں جس میں وہ خود بھی موجود ہوں ،وہاں کوئی صحافی پاناما پیپرز کا سوال بھی اٹھاسکتاہے ،اس لیے وہ اس اچانک سوال پر سٹپٹا گئے اور اس سوال پر عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر کے جواب نے انھیں اور زیادہ پریشان کردیا تاہم انھوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے معاملے کو ایک دفعہ پھر احتساب کے بجائے سیاسی مسئلہ قرار دے کر اس کی اہمیت کم کرنے کے لیے اسے سیاسی رنگ دیتے ہوئے کہاکہ پاناما کے معاملے کو بنیاد بناکر سیاسی تخریب کاری کا کوئی جواز نہیں بنتا‘۔انہوں نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور اس حوالے سے سماعت یکم نومبر کو ہوگی ، پاکستان تحریک انصاف کے 2 نومبر کے اسلام آباد دھرنے کی وجہ سے عوام کو پریشانی ہوگی جبکہ کاروبار اور معیشت پر بھی برا اثر پڑے گا۔گویا انھوں نے پاناما پیپرز میں ملوث ارباب اختیارجن میں وزیر اعظم نواز شریف اور شہباز شریف کا پورا خاندان اور ان کے بعض رفیق خاص شامل ہیں ،انکے احتساب کے مطالبے کو سیاسی تخریب کاری قرار دے دیا، ان کے اس جواب کا عالمی بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر نے (جو عوام کو ٹیکس کے چنگل میں اچھی طرح جکڑنے پر ان کی تعریف کرتی رہی تھیں) کیا نتیجہ اخذ کیاہوگا اس کا اندازہ اسحاق ڈار کے اس جواب کے بعد ان کے چہرے کے رنگ سے ہی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
کرسٹین لغراد نے اپنے افتتاحی بیان میں آئی ایم ایف کے تعاون سے معاشی اصلاحات پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے پر پاکستان کو مبارکباد دی۔انہوں نے کوئی لگی لپٹی بغیر یہ تسلیم کیا کہ عالمی مالیاتی فنڈز کی تجاویز کے مطابق ترتیب دیے گئے پروگرام کے نتیجے میں حکومت نے کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم کی جس سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوا اور مختلف شعبوں میں سرکاری سرمایہ کاری اور سماجی اخراجات کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آئے۔کرسٹین لغراد نے عالمی مالیاتی فنڈز کی تجاویز اور ہدایت پر عملدرآمد کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تین سال پہلے کے مقابلے میں اب مزید 15 لاکھ خاندان سماجی بہبود کے پروگرام سے مستفید ہورہے ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ بتدریج کم ہورہی ہے اور پاور سیکٹر کی مالیاتی کارکردگی بہتر ہورہی ہے۔انہوں نے عالمی مالیاتی فنڈز کی امداد اور معاونت کے باوجود ملک میں بیروزگاری اور دیگر معاشی مسائل کی موجودگی کااعتراف کرتے ہوئے یہ کہہ کر حکومت پاکستان کو اس کی ذمہ داریوں کااحساس دلایا کہ اس وقت پاکستانی قیادت کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ اپنے دیگر معاشی مسائل کو بھی حل کرے اور نجی شعبے میں زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
کرسٹین لغراد نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ واضح کیا کہ اگلے برسوں کے دوران پاکستان کو زیادہ بڑے معاشی اور اقتصادی چیلنجز کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے ۔اطلاعات کے مطابق انہوں نے پاکستانی رہنماؤں سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں آنے والے ممکنہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہا جائے اور اس حوالے سے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔انہوں نے ارباب اختیار پر یہ بھی واضح کیا کہ توانائی کے شعبے میں ساختیاتی اصلاحات اور ٹیکس پالیسی کے لیے زیادہ سے زیادہ اور قابل تسلسل شرح نمو کا حصول ناگزیر ہے۔انہوں نے سرکاری اداروں میں خسارے کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے سرکاری اداروں کے خسارے کو کم کرنے کے لیے گورننس کو بہتر بنانے پر زوردیا اورکہا کہ برآمدات میں اضافے کی صلاحیت رکھنے والے نجی شعبے کے فروغ کی بھی ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کا کہنا تھا کہ صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری،صنفی خلاکو ختم اور سماجی تحفظ کا احساس پیدا کرکے اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ یکساں طور پر معیار زندگی بلند ہونے کے فوائد وسیع حلقے تک پہنچ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صنعتی انقلاب نوجوان (جن کی تعداد کل آبادی کا 60 فیصد ہے)اور خواتین کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈز کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سپورٹ پروگرام کی تکمیل کے بعد بھی پالیسی مذاکرات اور صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈز اور پاکستان کے ساتھ شراکت داری جاری رہے گی۔اس موقع پر کرسٹین لغراد نے مہمان نوازی اور تعمیری تبادلہ خیال پر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، اسٹیٹ بینک کے گورنر اشرف وتھرا اور دیگر سینئر عہدے داروں کا شکریہ ادا کیا۔
عالمی مالیاتی فنڈز کی سربراہ کرسٹین لغراد نے اگرچہ اپنی آمد کے بعد وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقاتوں کے بعد ملک کی معاشی صورتحال اور معیشت کے استحکام کے لیے موجودہ حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی اور یہ اعتراف کیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں پاکستان اقتصادی اعتبار سے مضبوط ہواہے اور اس کی شرح نمو میں اضافہ ہواہے لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کردیاہے کہ اس وقت پاکستان میں نظر آنے والی اقتصادی ترقی دیرپا نہیں ہے اور اگلے برسوں کے دوران حکومت کو زیادہ سخت اور سنگین چیلنجوں کاسامنا کرنا پڑسکتاہے۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے حکومت کی توجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی جانب مبذول کراتے ہوئے بیروزگاری اور معاشی مسائل حل کرنے کی ضرورت کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں کااحساس دلایا۔ عالمی مالیاتی فنڈزکی سربراہ نے160حکومت کی توجہ صحت ،تعلیم اور علاج معالجے کی سہولتوں کے فقدان کی طرف بھی مبذول کرائی اور لوگوں میں موجود سماجی عدم تحفظ کے احساس کا بھی ذکر کرکے یہ ثابت کیاہے کہ عالمی مالیاتی فنڈز پاکستان کو صرف فنڈزہی فراہم نہیں کرتابلکہ اس ملک کے مسائل سے بھی لاعلم نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر