وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

وزیراعظم تین سمتوں سے گھیرے میں آگئے!

جمعه 21 اکتوبر 2016 وزیراعظم تین سمتوں سے گھیرے میں آگئے!

پانامالیکس کی عدالتی کارروائی میں پیش رفت کو حزب اختلاف کے تمام رہنماؤں نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے،معاملہ معمول کی درخواستوں کی سماعت سے مختلف ثابت ہوسکتا ہے
عمران خان دھرنے میں دائیں بازو کی جماعتوں کولانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ دھڑن تختہ کاپیش خیمہ ہوسکتا ہے،متنازعخبر کے معاملے کی تحقیقات سے فوج دستبردار ہونے کو تیار نہیں
panama-papers-pakistani

وزیر اعظم نوازشریف اور مسلم لیگ نون کی حکومت ایک کٹھن دور میں داخل ہو چکی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ نون کے خود سے ہی مقابلہ کرنے والے بلامقابلہ صدر نوازشریف بھی اپنے مستقبل سے جنگ آزما ہیں۔ یہ بازی دونوں رہنماؤں میں سے ایک کی سیاسی زندگی کے خاتمے پر منتج ہو سکتی ہے۔ عمران خان کی ناکامی کی صورت میں وہ نہ صرف اگلے انتخابات میں بھی ناکامی کا منہ دیکھ سکتے ہیں بلکہ اپنی سیاسی زندگی کے مستقبل سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ چنانچہ عمران خان 2 نومبر کے دھرنے میں اپنے تما م ہنر ، تمام رابطے ، تمام وسائل اور تمام راستے اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ نون کے سربراہ اوروزیراعظم نوازشریف کا معاملہ بھی قطعی مختلف نہیں۔ اگر وہ دھرنے میں ڈھے گئے یا کسی بھی دوسرے راستے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے تو اْن کی اگلی سیاست کا دم بھی ساتھ ہی گْھٹ جائے گا۔
وزیراعظم نوازشریف اس وقت تین جانب سے خطرات کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک طرف سے اْنہیں پاناما لیکس پر عدالتی کارروائی کا اب سامنا ہے۔ جس کا آغاز 20 اکتوبر(جمعرات) کو ہوگیا۔ پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالت عظمیٰ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں جس پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر یہ درخواستیں واپس کردی تھیں، بعدازاں گزشتہ ماہ 27 ستمبر کو عدالت عظمیٰ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلی تھیں۔اب ان درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر، بیٹوں حسن نواز، حسین نواز، ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔پاناما لیکس پر وزیراعظم کے خلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔عدالت کی جانب سے پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت کو حزب اختلاف کے تمام رہنماؤں نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ معمول کی دیگر درخواستوں کی سماعتوں سے برآمد ہونے والے نتائج سے کچھ مختلف بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ شاید اسی لیے عمران خان نے عدالت عظمیٰ میں نااہلی کے مقدمے کی سماعت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے تاریخی دن بھی قرار دیا۔
وزیراعظم نوازشریف کو جس دوسرے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ پہلے سے زیادہ بڑ ااور اثرات میں زیادہ گہرا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔عمران خان 2 نومبر کے جس دھرنے کی تیاری کررہے ہیں ، وہ زیادہ ہمہ گیر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس دھرنے میں عمران خان کی تحریک انصاف کے علاوہ کچھ دیگر جماعتیں بھی شرکت کر رہی ہیں۔ جن کے بظاہر سیاسی مفادات کوئی نہیں مگر جو مسلم لیگ نون کی حکومت میں اپنے دیگر مقاصد کو قربان ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ یہ قوتیں پاکستان کے اندر قومی سلامتی کے بعض بنیادی مقاصد سے وابستہ ہیں ، جنہیں ملک کے اندر ایک لابی نے خطرناک طور پر منفی پروپیگنڈے کی زد میں لے رکھا ہے۔ ان قوتوں کی دھرنے میں شرکت فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ جسے مسلم لیگ نون کی حکومت نے خطرے کی گھنٹی سمجھنا شروع کردیا ہے۔یہ بلاوجہ نہیں ہے کہ وزیردفاع خواجہ آصف نے اچانک یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ دھرنے میں مدرسہ حقانیہ کی افرادی قوت استعمال ہوگی۔ اگرچہ وزیردفاع نے اِسے خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے مدرسے کو دیے گئے فنڈز سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ مگر عملاً یہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ خطرنا ک ہے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت اپنے اْس طرزِ فکر پر غور کر نے کو تیار نہیں جو اْس نے دائیں بازو کی قوتوں کے خلاف اختیار کررکھا ہے، جو درحقیقت بھارتی مفادات کو بالواسطہ طور پر پورا کررہا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف عالمی قوتوں کو یہ مسلسل باور کرارہے ہیں کہ وہ حقانی نیٹ ورک ، لشکر طیبہ اور جیش محمد کے خلا ف کارروائی کرنا چاہتے ہیں ،مگرمقتدر قوتیں اس راہ میں مزاحم ہیں۔حالانکہ ان قوتوں کے خلاف پاکستان میں کوئی ایک شکایت بھی نہیں۔ مگر یہ تما م قوتیں امریکا ، بھارت اور افغانستان کی موجودہ پاکستان دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قوتوں کی حامی قوتیں جو پاکستان میں اپنے کوئی سیاسی مفادات بھی نہیں رکھتیں ، ان دنوں میں اپنا وزن اس پلڑے میں کیوں نہیں ڈالے جو نوازشریف کی حکومت کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتا ہو۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ تمام قوتیں اپنے اپنے ناموں کے بجائے کسی ایسی مشترکہ چھتری تلے اس دھرنے میں شرکت کرسکتی ہیں جو فیصلہ کن ثابت ہو۔ اس ضمن میں دفاع پاکستان کونسل میں شامل تمام جماعتوں کے باہمی مشورے عروج پر ہیں۔ جو نوازشریف حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
وزیراعظم نوازشریف کے لیے تیسر ابڑا چیلنج سیرل المیڈا کی ڈان میں چھپنے والی خبر ہے۔ جس کے متعلق فوج اپنی حساسیت باربار ظاہر کررہی ہے اور کسی بھی طرح سے اس معاملے کی تحقیقات سے دستبردار ہونے کوتیار نہیں۔ وزیراعظم نوازشریف اس معاملے میں ایک نئے “مشاہد اللہ ” کی تلاش میں ہیں۔ مگر اس مرتبہ یہ معاملہ کسی مشاہد اللہ کی قربانی پر ٹلنے والا نہیں لگتا۔ وزیراعظم نوازشریف کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ تحقیقات کے نتیجے میں معاملہ اْن کے گھر آنگن تک پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ یہ معاملہ وزیراعظم کی طرف سے پاناما لیکس کی طرح لٹکانے سے لٹکتا نظر نہیں آتا۔ فوجی حلقے مسلسل اس معاملے میں اپنا دباؤ ڈالے ہوئے ہیں کہ اس خبر کے محرک کو تلاش کیا جائے جو کچھ زیادہ پوشیدہ بھی نہیں۔
نوازشریف کی سمت بڑھتے یہ تینوں چیلنج ہر گزرتے دن بڑے سے بڑے ہوتے جارہے ہیں۔ جو اس ماہ کے آخری ہفتے میں نئے نئے بحرانوں کو پیدا کرنے کا بھی باعث بن سکتے ہیں۔ نوازشریف کے لیے یہ ایک امتحان ہوگا کہ وہ ان تینوں چیلنجوں سے کس طرح عہدہ برآں ہوتے ہیں اور اپنے لیے ایک محفوظ راستا تلاش کرپاتے ہیں!!!ماہرین سیاست کے مطابق نوازشریف ہمیشہ قسمت کے دھنی ثابت ہوئے ہیں۔ مگر کیا ہر مرتبہ قسمت کسی پر مہربان رہ سکتی ہے جبکہ وہ تقدیر بدلنے والی غلطیوں کو مسلسل دْہرانے کا موجب ہو۔ نومبر کے آغاز سے قبل ہی یہ واضح ہو جائے گاکہ اس مرتبہ قسمت کے تیور نوازشریف کے حق میں ہیں یا نہیں۔


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر