وجود

... loading ...

وجود
وجود

!!!میں حسینؓ ہوں

اتوار 09 اکتوبر 2016 !!!میں حسینؓ ہوں

مارچ 1979 کے مہینے کا آخری دن تھا۔تجر شریف سوپور کے ایک نو جوان محمد اکبر لون جو جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے ساتھ وابستہ تھے ،صورہ سری نگر کے دفترِجماعت میں داخل ہوکر سید ھے اس وقت کے امیر جماعت مولانا سعد الدین ؒ کے کمرے میں داخل ہوئے۔ابتدائی سلام و علیک کے بعد لون صاحب نے عرض کیا کہ امیر محترم! میں نے رات کو خواب دیکھا ، کوئی میرے گھر کے دروازے کو کھٹکھٹا رہا ہے ۔ دروازہ کھولا تو باہر ایک انتہائی خوبصورت اور پرکشش نوجوان کوکھڑا پایا،جس نے مجھے موقع دیے بغیر سلام میں پہل کی اور مصا فحے کے لیے ہاتھ بڑھائے ۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے سرخ کپڑوں کا ایک جوڑا پہننے کے لیے دیا ۔میں نے وہ پہن لیا ۔وہ تب تک گھر کے باہر رہے ۔کپڑے پہننے کے بعد میں با ہر نکلا اور ان کے ساتھ کہیں روانہ ہوا ۔راستے میں انہوں نے اپنا تعارف کرایا کہ میں حسینؓ ہوں،میری خوشی کی انتہا نہ رہی ۔میں ان سے لپٹ گیا ، آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا ، شاید کچھ پوچھنے کی بھی ہمت کرتا لیکن اسی دوران میری آنکھ کھل گئی،چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔مو لانا سعد الدین ؒ جو ایک عالم ،دانشور ،ماہر تعلیم اورمنتظم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی شخصیت بھی تھے ،کے دمکتے چمکتے چہرے پر ایک جلالی کیفیت طاری ہوئی ۔محمد اکبر لون کی طر ف نگاہیں جمائیں اور ایک مختصر بات کی کہ تمہارا انتخاب ہوا ہے،مبارک ہو ۔کمرے میں نہ صرف محمد اکبر لون بلکہ وہاں پرموجود دیگر لوگوں کو بھی سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ کس انتخاب کی طرف اشا رہ ہے ۔
صرف چند دن گزرے ،4اپریل کی تاریخ تھی ۔پاکستان میں ذوا لفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔کشمیر میں پاکستانی حکمرانوں کے خلاف ایک خوفناک رد عمل دیکھنے میں آیا ۔اس رد عمل کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کشمیری عوام بھٹو کو تحریک آزادی کشمیر کا محسن اور بھارت کا دشمن سمجھتے تھے ۔احتجاج شروع ہوا ،بھارت نواز لابی اور بھارتی ایجنسیاں بھی حرکت میں آگئیں ۔انہوں نے اس احتجاج کا رخ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی طرف یہ تاثر پھیلا کرموڑ دیا کہ اصل میں بھٹو کو جماعت اسلامی پاکستان کی ایما پر جنرل محمد ضیا ء الحق نے قتل کروایا ،حتیٰ کہ یہ بھی لوگوں کے ذہنوں میں کمال چا لاکی اور مکاری سے بٹھایا گیا کہ جنرل محمد ضیاالحق کا تعلق بھی جماعت اسلامی سے ہے ۔یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جب جنرل ضیا ء الحق ایک ہوائی حادثے میں جا ں بحق ہوئے ،تو اس موقع پر بھی پوری وادی مرد مومن ،مرد حق ضیا ء الحق کے نعروں سے گونج اٹھی ۔۔۔بہر حال یہ الگ موضوع ہے ۔
جماعت کے خلاف اشتعال پیداکرنے والوں نے اپنا کام کردکھایا ۔پوری ریاست میں جماعت کے دفاتر ،ان سے منسلک تعلیمی اداروں ،حتیٰ کہ جماعت کے اراکین کے گھروں پر حملے ہوئے ۔تجر شریف سوپور میں بھی ایک بھاری ہجوم نے جماعت سے وابستہ اسکول پر ہلہ بول دیا ۔اسکول کی لائبریری میں موجود کتابیں باہر پھینکیں ۔جذبات میں یہ خیال بھی نہ رہا کہ اس لا ئبریری میں قرآن پاک کے نسخے اور تفا سیر بھی موجود ہیں ۔محمد اکبر لون نے جو نہی اسکول پر حملے کی خبر سنی ،وہ دوڑتا ہوا آیا اور قرآن پاک اور تفا سیر کو اٹھاتا رہا اور انہیں سینے سے لگا تا رہا ،چومتا رہا اور رو رو کر مجمعے سے کہتا رہا کہ تمہیں کیاہوا ظالمو!قرآن کو بھی نہ بخشو گے۔ مجمعے میں سے کچھ زیادہ ہی پرجوش اور جذباتی نوجوانوں کو محمد اکبر کا رویہ پسند نہ آیا،وہ اس کی طرف لپکے اور لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے اس پر حملہ کیا ۔محمد اکبر جس نے دونوں ہاتھوں سے قرآن پاک کے نسخے سینے سے چمٹائے رکھے تھے ،وار سہتے رہے ،لیکن قرآن کے نسخوں کو اپنی آخری سانس تک علٰیحدہ نہ کرنے کی ٹھان لی۔ اللہ کا کرنا کہ اس بندۂ مو من نے اسی حال میں اپنی جان ،جان آفرین کے سپرد کردی۔انتخاب ہوا تھا اور بندۂ مومن جس کا انتخاب ہوا تھا اس نے بھی اپنا انتخاب سچا ثا بت کرکے دکھا یا ۔ خدا رحمت کنند ایں عا شقان پاک طنیت را
تحریک آزادی کشمیر کی جد وجہد میں بھی کربلا اور امام حسینؓ کے تذکروں کا ایک کلیدی کردار ہے ۔امام حسینؓ کشمیری قوم کے آئیڈ یل ہیں ۔کشمیر کے بچے بچے کو امام حسینؓ کے ساتھ عشق ہے ،عقیدت ہے ،ایسا عشق اور ایسی عقیدت جو مثالی ہے ،تاریخی ہے ۔امامؓ نے جس طرح اس وقت کے یزید کے ساتھ اصولوں پر سمجھوتا کرنے کی بجائے جان دینے کو ترجیح دی ،بالکل اسی نقش قدم اور اسی عمل کو مشعل راہ بنا کے کشمیری قوم قربانیوں کی ایک لا زوال تاریخ رقم کررہی ہے۔دور تک جائیں تو بات لمبی ہو جائیگی ،8جولائی 2016 سے ہی بات شروع کرتے ہیں ۔تب سے وادی کشمیر مسلسل کرفیو کی زد میں ہے۔محاصرے،چھاپے ،خانہ تلا شیاں جاری ہیں ۔جدید اسلحہ سے لیس بھارتی فوجی نہتے لوگوں پرپیلٹ گن سے گولیاں برسا رہے ہیں ،جس کے نتیجے میں سو سے زیادہ افراد شہید ،16000سے زائد زخمی اور 1000سے زائد لوگوں کی بینائی کلی یا جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے ۔5000سے زائد لوگ تعذیب خانوں میں مقید اور ان تمام متاثرین میں بچوں اور بچیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔
تاریخ گواہ ہے اور زمینی حقائق بھی یہی ہیں کہ تب کا یزید مرا ہے اور حسینؓ زندہ ہے ،آج کے یزید بھی مریں گے لیکن ان شا ء اللہ حسینی زندہ رہیں گے۔حسینیت یہی ہے کہ حسینؓ کے نقش پا کو اہمیت دی جائے ۔یزیدوں کے ساتھ سمجھوتااور ان کے احکامات کی تعمیل اور پھر حسینی ہونے کا نعرہ دینا ،امام حسینؓ کی عظیم قربانی کی توہین ہے ۔ ہمارا ایمان ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں ۔ان پر اللہ تعالی کی عنا یات ہوتی ہیں ،یہی وجہ ہے کہ کشمیری شہدا کے جنا زوں میں مائیں ،بہنیں شہدا کوپھول ما لائیں پہنا تی ہیں ،دلہا کی طرح سجاتی ہیں اورآزادی کے نغمے اور ترانے گا تے رخصت کرتی ہیں ۔حسینؓ زندہ ہیں ،تاقیامت ان کا مشن زندہ رہے گا اور دنیا میں جہاں کہیں طاغوت اپنی طا قت کے بل پر انسانوں کی آزادی چھیننے کی کوشش کرے گا ،امامؓ کے عاشقوں کو اپنے سامنے وہ مقابلے پرپائے گا ۔آج کئی سالوں بعد تجر شریف کے شہید محمد اکبر لون امام حسینؓ اور کربلا کی وساطت سے یاد آئے۔آنکھیں ضرور نم ہوئیں ۔لیکن ان کی دائمی پر لطف زندگی کا احساس ،ایک مٹھاس بھرا تاثر بھی ذہن میں ابھرا۔اللہ اس تاثر کی لطا فت تا ابد قائم رکھے۔(آمین)


متعلقہ خبریں


شہید برہان وانی بھارت کے لیے زیادہ بڑا خطرہ بن گیا! اشتیاق احمد خان - هفته 08 جولائی 2017

کشمیری پاکستانیوں سے سینئر پاکستانی ہیں کہ پاکستان کا قیام14 اگست 1947 کو وجود میں آیا اس سے قبل تمام لوگ ہندوستان کے شہری تھے جو ہندوستان سے ہجرت کر کے جب پاکستان میں داخل ہوئے وہ اس وقت سے پاکستانی کہلائے لیکن کشمیریوں نے 13 جولائی1947کو پاکستان سے الحاق کا اعلان کرتے ہوئے ریا...

شہید برہان وانی بھارت کے لیے زیادہ بڑا خطرہ بن گیا!

برہان وانی کی شہادت ۔تحریک آزادیٔ کشمیر کا سنگ میل بن گئی وجود - هفته 08 جولائی 2017

اکتوبر2015ء میں جب کشمیر میں تاریخی معرکے لڑنے والے ابوالقاسم عبدالرحمن شہادت کی خلعت فاخرہ سے سرفراز ہوئے توابوالقاسم شہیدکے قافلہ جہاد سے متاثر برہان مظفروانی نامی ایک چمکتا دمکتاستارہ جہادی افق پرنمودارہوا۔اس نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی رُوح پھونک دی۔ برہان وانی ایک تو با...

برہان وانی کی شہادت ۔تحریک آزادیٔ کشمیر کا سنگ میل بن گئی

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان وجود - جمعه 30 جون 2017

امریکا نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے دورۂ امریکا کے موقع پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے مسلح رہنما محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین کو ’خصوصی طورپر نامزد عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔بھارت نے جہاںامریکا کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ...

صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے کشمیر ی عسکریت کے گلوبلائزد ہونے کا امکان

کشمیریوں کے بدلتے تیور ‘ذمہ دار کون؟ الطاف ندوی کشمیری - جمعرات 16 مارچ 2017

پرنٹ میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا تک آج ہر جگہ ایک ہی بات موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ آخر فوج اور دوسری سیکورٹی ایجنسیوں کے’’ہتھیار بندمجاہدین‘‘کو گھیرنے کے بعدکشمیر کی نہتی عوام انہیں بچانے کے لیے اپنی زندگی کیوں داؤ پر لگا دیتی ہے ؟حیرت یہ کہ عوام کچھ عرصے سے تمام تر تنبیہات ...

کشمیریوں کے بدلتے تیور ‘ذمہ دار کون؟

کشمیر میں جاری نسل کشی الطاف ندوی کشمیری - جمعرات 23 فروری 2017

اب اورجنازے اٹھانے کی سکت نہیں رہی ہے ہم میں ۔کشمیر گزشتہ دو سو برس میں کئی بار جلا،اس کے گام و شہرکو کھنڈرات میں تبدیل کر دیاگیا ۔اس کی عزتیں لوٹی گئیں۔ اس کے بزرگوں کو بے عزت کیا گیا ۔اس کی بیٹیاں لا پتہ کر دی گئیں ۔اس کی اکثریت کے جذبات کو بوٹوں تلے روندا گیا ۔اس کی اقلیت کو و...

کشمیر میں جاری نسل کشی

حافظ صاحب کی نظر بندی۔۔۔۔کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے رضوان رضی - جمعه 03 فروری 2017

جس دن اہلِ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ یومِ یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں اور مظفر وانی شہید کی شہادت سے شروع ہونے والی مزاحمتی تحریک ایک نیا جنم لے چکی ہے،عین اُسی دن بھارت کے وزیر اعظم نریندرا مودی امریکا یاترا کوپدھاریں گے۔ جہاں اہلِ نظر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ میں یکسانیت ڈھونڈنے میں مصر...

حافظ صاحب کی نظر بندی۔۔۔۔کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے

کشمیر کاز:ہر ایک کو ایجنٹ قراردینے کی نقصان دہ روِش الطاف ندوی کشمیری - بدھ 18 جنوری 2017

ایجنٹ انگریزی زبان کا لفظ ہے مگر یہ دنیا کی اکثر زبانوں میں اس قدر بولا جاتا ہے کہ گویا ہر زبان کا لفظ ہو ۔اس کی وجہ شاید صرف یہ ہے کہ اس لفظ کو ہر شخص بلا کم و کاست اپنے دشمن کے لیے استعمال کرتا ہے ۔دنیا میں جتنے بھی انسان رہتے ہیں ان کے ارد گرد صرف ان کے دوست ہی نہیں بستے ہیں ب...

کشمیر کاز:ہر ایک کو ایجنٹ قراردینے کی نقصان دہ روِش

کشمیری مجاہدین کا فدائی حملہ، 2افسران سمیت 7بھارتی فوجی ہلاک وجود - بدھ 30 نومبر 2016

فدائین نے رنگروٹہ کے اس فوجی کیمپ پر دھاوا بولا جس میں ایل او سی اور پاکستانی علاقے پر بلااشتعال فائرنگ کی منصوبہ سازی ہوتی تھی ،ذرائع۔درجنوں بھارتی فوجی زخمی۔3فدائین کی شہادت کی بھی اطلاعات ۔بھارتی فوج مظالم سے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کرسکتی ،حریت رہنما ۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی...

کشمیری مجاہدین کا فدائی حملہ، 2افسران سمیت 7بھارتی فوجی ہلاک

صبر کے امتحان میں ناکام ہوا۔۔۔تاہم امیدبہار قائم ہے شیخ امین - بدھ 23 نومبر 2016

میں 16سال7مہینے سے اپنے وطن ،اپنے گا ؤں ،اپنے محلے ،اپنے گھر ،اپنے رشتے ،اپنے دوستوں اور اپنے ہم وطنوں سے دورجوانی کا سفر طے کرکے بڑھاپے میں داخل ہو چکا ہوں ۔۔۔۔۔۔یہ دوری کتنی تکلیف دہ ہے اس کا بہتر اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں،جو ایسے حالات سے یا تو دوچار ہوئے ہوں یا دوچار ہیں ۔کئ...

صبر کے امتحان میں ناکام ہوا۔۔۔تاہم امیدبہار قائم ہے

کشمیر ، جہاں انسانیت شکست کھاگئی الطاف ندوی کشمیری - هفته 19 نومبر 2016

8 جولائی 2016ءسے اب تک ہم پر کیا گزری اور کیا گزر رہی ہے ،دنیا کے لوگ کیسے سمجھ سکتے ہیں جبکہ ہمارے پاس انھیں سنانے کے ذرائع بالکل معدوم ہیں۔خبروں کی ترسیل کے تیز ترین ذرائع دلی کے پاس ہیں۔ سینکڑوں نیوز چینلز کے مالکان اُن کے غلام ہیں۔معروف نیوز ایجنسیاں ان کی مرضی سے چلتی ہیں ۔ا...

کشمیر ، جہاں انسانیت شکست کھاگئی

مودی سے ٹرمپ تک شیخ امین - اتوار 13 نومبر 2016

28فروری2002ء جب گجرات میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے اور بی جے پی ،شیو سینا،بجرنگ دل کے غنڈوں نے گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لیے، عفت مآب خواتین کی عصمت دری کی۔ اورمحتاط اندازے کے مطا بق ایک لاکھ لوگوں کو بے گھر کردیا ۔ نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے...

مودی سے ٹرمپ تک

وطن ہمارا آدھا کشمیر شیخ امین - منگل 01 نومبر 2016

کالم کے عنوان پر بعض لوگ مسکرانے پر اکتفا کریں گے ،بعض قہقہے بھی لگا سکتے ہیں لیکن شاید یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ اسے اپنی توہین سمجھ کر ،نا زیبا زبان کا استعمال کرتے ہوئے راقم کو ریاست دشمن بھی قرار دے سکتے ہیں۔لیکن میری گزارش ہے کہ یہ الفاظ استعمال کرنے کی صرف میں ہی گستاخی نہی...

وطن ہمارا آدھا کشمیر

مضامین
کچہری نامہ (٣) وجود پیر 06 مئی 2024
کچہری نامہ (٣)

چور چور کے شور میں۔۔۔ وجود پیر 06 مئی 2024
چور چور کے شور میں۔۔۔

غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا وجود پیر 06 مئی 2024
غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا

بھارت دہشت گردوں کا سرپرست وجود پیر 06 مئی 2024
بھارت دہشت گردوں کا سرپرست

اک واری فیر وجود اتوار 05 مئی 2024
اک واری فیر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر