وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

طبل جنگ بج چکا ہے !!!

جمعرات 06 اکتوبر 2016 طبل جنگ بج چکا ہے !!!

kashmir

برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کا خیال تھا کہ وہ انتہائی مطلوب حریت پسند رہنماکی موت کا جشن منا ئیں گے، مٹھا ئیاں با نٹیں گے اور نئی کشمیری نسل کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت ایک مہان ملک ہے اور اس کے قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ ختم کرنا جا نتے ہیں۔ لیکن انہیں کشمیریوں کے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، جنہوں نے وانی کی شہادت پر ایسا کر دکھایا کہ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ پورا بھارت ہل کررہ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پر امن مظا ہروں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہواجو ابھی تک جاری ہے۔ ان مظا ہروں اور احتجاج کو روکنے کیلیے بھارتی فورسز بے تحاشہ اور اندھا دھند طا قت کا استعمال کررہی ہے اور جس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد شہید، 16000 سے زائد زخمی، 900کے قریب لوگوں کی پیلٹ گن فائرنگ کے نتیجے میں کلی یا جزوی طور پر آنکھیں متاثر ہوئی ہیں لیکن جدوجہد تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ کشمیریوں کی اس بے مثال جدوجہد اور بھارتی فورسز کی طرف سے بدترین انسانی حقوق کی پا مالیوں سے جو نہی عالمی برادری کو مسئلہ کشمیرکی اہمیت کا اندازہ ہونے لگا، عین اسی دوران18ستمبر 2016اوڑی کیمپ پر بھارتی میڈ یا کے ذریعے حملے کی خبر سنائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس حملے میں 18فوجی ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ کیا یہ حملہ واقعی ہوا ؟یا یہ جان بوجھ کر کرایا گیا، اس پر ابھی بحث جاری تھی کہ 29ستمبر جمعرات کو بھارتی فوج ایک پریس کا نفرنس کا انعقاد کراتی ہے جس میں 28اور29کی شب کنٹرول لائن پار کرکے پاکستانی فوجی چوکیوں اور دہشت گرد ٹھکا نوں پر سرجیکل حملے کرنے کے دعوے کے ساتھ ساتھ یہ مضحکہ خیز جملے بھی ادا کیے جاتے ہیں کہ کارروائی 4گھنٹے تک جاری رہی اور پھر اطمینان سے بھارتی فوجی دستے بغیر کسی جانی نقصان کے بحفاظت اپنے ٹھکانوں پر واپس پہنچے۔

اس دعوے کے بعد اب ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ پاکستانی فوج اور حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ سرے سے ہی ایسا کوئی سرجیکل حملہ نہیں ہوا۔ اور اگر ایسی کوئی شرمناک حرکت کرنے کی کوشش کی گئی تو منہ توڑ جواب دیا جا ئیگا۔ ا دھربھارتی فوج اور حکومت ڈنکا بجا رہی ہے کہ سرجیکل حملہ کرکے پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ بھارتی فوج کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ یہ ایک عیاں حقیقت ہے کہ اگر8جو لائی سے پہلے بھارتی فوج کنٹرول لائن پر حملہ کرتی یا ایسا مبینہ سرجیکل اٹیک کرتی توپاکستان چیخ اٹھتا کہ بھارت نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور مجبوراََ ہم نے بھی توپوں کا رخ ان کی طرف موڑ دیا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگادیتے اور عالمی برادری کو دونوں اپنی مظلو میت یا مجبوری کا احساس دلاتے۔ لیکن آج بھارتی قیادت سینہ تان کے اقرار جرم کرلیتی ہے اور پاکستانی قیادت اس دعوے کو ہی مسترد کررہی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے۔

اس ساری دلچسپ صو رتحال کی کچھ وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ بقول عارف بہار” بھارتی رویہ گاندھی لگیسی کی کلی موت اور سردار پٹیل لگیسی کاکلی غلبہ ہیـ”۔ گاندھی کا وجود سڑسٹھ برس قبل ایسے ہی کسی ہندو جنونی کی گولی سے ختم ہوگیا تھا مگر گاندھی کا فلسفہ نریندر مودی حکومت کے وجود میں آنے کے بعد مکمل طور تحلیل ہوگیا اورعملاََ اس وقت کا پورا حکومتی نظام خود جنونیت کا شکار ہے اور اب تو حد یہ ہوگئی ہے کہ بھارتی میڈیا کو بھی اس جنون نے اپنے ساتھ بہالیا ہے جس کے نتیجے میں پورا بھارتی معاشرہ تیزی سے عدم برداشت اور وحشیانہ پن کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ برہان کی شہادت کے بعد تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ لوگوں کی والہانہ محبت اور وابستگی کے مثا لی اظہار نے اس جنونی قیادت کو یہ سمجھنے پر مجبور کیا کہ کشمیری عوام کے جذ بہ آزادی کو ختم کرنا نا ممکن ہے۔ تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے کے با وجود کشمیری عوام نہ جھکنے اور نہ بکنے کیلئے تیار ہیں۔ بھارتی جنرل ڈی ایس ہوڑا، آفیسر کما نڈنگ (جی او سی) 16کارپس اپنے ایک حالیہ بیان میں اعتراف کرچکے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ یہ جنگ ہار چکے ہیں تو ان حالات میں اب بھارت براہ راست پاکستان کو جو مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہے اور سیاسی، سفارتی اور سیاسی محاذ پر ان کا وکیل بھی ہے کو ڈرانے دھمکانے پر اتر آیا ہے تاکہ وہ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرکے پرویز مشرف کی طرح کشمیریوں کو اپنی جدوجہد ترک کرنے اور لا یعنی مذاکرات میں الجھانے میں آمادہ کرے۔ بھارتی پارلیمنٹ حملے کے بعد سرحدوں پر بھارتی فوج کا اجتماع اور کئی مہینوں بعد واپسی پر جب اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے پو چھا گیا کہ بغیر کچھ حاصل کیے فوج کو واپس بیرکوں میں کیوں بلا یا تو واجپائی نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ ہم جنگ لڑے بغیر جیت چکے ہیں۔ بعد میں پھر اس وقت کے پاکستانی حکمران پرویز مشرف کے اقدامات سے ثا بت ہوا کہ واقعی واجپائی جی جنگ لڑے بغیر جنگ جیت چکے تھے۔

شواہد اور حقائق بتارہے ہیں کہ بھارتی فوج کی طرف سے کوئی سرجیکل حملہ نہیں ہوا، پاکستانی فوج کا یہ دعویٰ سچ ثا بت ہورہا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال سمیت کانگریس کے رہنما بھی اب نریندر مودی سے ثبوت مانگ رہے ہیں۔ عالمی میڈیا بھی اس حملے کو سرجیکل حملہ ماننے کو تیار نہیں۔ ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن بھارتی فوج اور بھارتی حکومت کا سرجیکل حملے کا دعویٰ کرنا بھی کوئی کم خطرناک معاملہ نہیں۔ عملاً انہوں نے طبل جنگ بجا دیا ہے، اگر آج صرف دعویٰ کیا تو کل ایسا حملہ کر بھی سکتے ہیں، کیو نکہ نریندر مودی اٹل بہاری واجپائی نہیں ہیں۔ ایک کشمیری کہاوت ’’ کا کھ اوس گوڑیہ شیطا ن، یلہ کون گوو پتہ گوو واریہ شیطان‘‘ (کاکا ویسے بھی تو شیطان ہی تھا لیکن جب سے کانا ہوا تو زیادہ ہی شیطان بن گیا)کے مصداق مودی ایک جنونی اور ڈریکولا ٹائپ کا انسان نما شیطان ہیں، ایسے شخص سے کسی بھلے کی توقع رکھنا بیوقوفوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے، دھمکیوں سے پاکستان مرعوب نہ ہوا تو اپنی جنونی انا کو تسکین دینے کیلیے سرجیکل اسٹرائیکس عملًاکر سکتا ہے۔ تو صاف ظاہر ہے کہ ایسے ہی جواب کی بھی توقع ہے۔ پھر یہ نہ رکنے والا سلسلہ ہوگا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ جنگ نہ صرف پاک و بھارت بلکہ پورے ساوتھ ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لیکر خاکستر کردے گا۔ ضروری ہے کہ دنیاکو اس جنونی شخص اور اس جنونیت کو کنٹرول کرنے کی کوئی راہ تلاش کرنی چاہیے، لیکن یاد رہے یہ راستہ جموں و کشمیر سے ہوکر جب گذرے گی تو ہی فائدہ ہوگا ورنہ…… ﷲ رحم فرمائے۔


متعلقہ خبریں


 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری ابو محمد نعیم - جمعرات 24 نومبر 2016

وادیٔ نیلم میں مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایاگیا ، تین شہری موقع پر شہید ، زخمیوں میں شامل سات افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی اور ٹوئٹ میں اس کارروائی پر شدید ردعمل دینے کی دھمکی دی تھی بھارتی افواج کی دیدہ دلیری اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ پاک فوج سے مقابلے میں لاشیں اٹھانے کا بدلہ شہری آبادی ،مسافر بسوں، اسکول جاتے بچوں اور حد یہ کہ ایمبولینسز کو نشانہ بنا کر لیا جارہا ہے ۔گزشتہ سے پیوستہ روز 3بھارتی...

 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو وجود - جمعرات 27 اکتوبر 2016

پاکستان بار بار یہی بات دہرارہا ہے لیکن بھارت فوجی قبضے اورتسلط پراَڑاہوا ہے ،نتیجہ آنے تک مقد س اورجائزجدوجہد جاری رکھیں گے بھارتی مظالم کے آگے سینہ سپر87سالہ ناتواں بزرگ لیکن جواں عزائم اورمضبوط اعصاب کے مالک چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس انٹرویوپینل:شیخ امین ۔مقصود منتظر وجود:1990 سے لیکر آج تک ہزاروں نامور عسکری کمانڈر اور سیاسی رہنماشہید ہوئے ۔ آپ کی نظر میں وہ کیا خاص چیز تھی جس نے حزب المجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا یا اور 8جولائی...

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین شیخ امین - هفته 22 اکتوبر 2016

ظلم و جبر پر عالمی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے،پاکستانی قیادت کو سمجھنا چاہیے مذاکرات اور قراردادوں سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، مجاہدین کو وسائل مہیا کیے جائیں جب دنیا ہماری آواز نہیں سن رہی تو پھر ہمارے پاس آزادی کے لیے مسلح جدوجہد ہی آخری آپشن ہے،سید صلاح الدین کا ایوان صحافت مظفر آباد میں خطاب امیر حز ب المجاہدین وچیئرمین متحدہ جہاد کونسل جموں وکشمیر سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات اور قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ بھارت سے آزادی کے لیے پ...

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر ایچ اے نقوی - بدھ 05 اکتوبر 2016

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے گزشتہ روز وزیراعظم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور بھارت کے جنگی جنون سے نمٹنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کرنے کے حوالے سے کوششوں کیلیے وزیر اعظم کابھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس نازک وقت میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کابھرپور ساتھ دینے کااعلان کرکے نہ صرف بالغ نظری کاثبوت دیاہے بلکہ پاکستان کو ایک منقسم قوم تصور کرنے و...

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ الطاف ندوی کشمیری - بدھ 05 اکتوبر 2016

یوں توآج کل پورا برصغیر آپریشنوں اور اسٹرائیکوں کے شور سے پریشان ہے مگر کشمیر براہ راست ان کی زد میں ہے۔ یہاں حکومت نے آپریشن ’’کام ڈاؤن‘‘کا آغاز کرتے ہو ئے پورے کشمیر کو بالعموم اور جنوبی کشمیر کو بالخصوص سیکورٹی ایجنسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ انھیں مکمل طور پر کھلی چھوٹ ہے۔ جسے چاہیں گرفتار کرسکتے ہیں، جہاں چاہیں چھاپا مار سکتے ہیں،جس کو چاہیں گولی یا پیلٹ کے ذریعے جان سے مار سکتے ہیں۔ آنسو گیس، پاواشیلنگ اور لاٹھی چارج اب ان کے لیے معمول کی مشق بن چکی ہے۔ انھیں انسانیت...

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور انوار حسین حقی - منگل 04 اکتوبر 2016

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں زبردست سفارتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہو اہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی نے سفارتی حلقوں کو بہت زیادہ سرگرم کیا ہواہے ۔ پاکستان کے دفاعی اور سفارتی حلقوں کی شبانہ روز کاوشوں نے بھارت کو سفارتی اور دفاعی لحاظ سے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ انڈین آرمی کی جانب سے جس سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ کیا گیا تھا اس من گھڑت معرکے کے حوالے سے پاکستان کے دفاعی ذرائع نے جو جرات مندانہ پالیسی اختیار کی اور انہیں قوم کے ا...

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور

کشمیر کی صورتحال، ہڑتال مضر یا مفید (قسط اول) الطاف ندوی کشمیری - هفته 01 اکتوبر 2016

زندہ قوموں کی زندگی کارازصرف ’’خود احتسابی‘‘میں مضمر ہے۔ جو قومیں احتساب اور تنقید سے خوفزدہ ہو کر اسے ’’عمل منحوس‘‘خیال کرتی ہیں وہ کسی اعلیٰ اور ارفع مقصد کو حاصل کرنے میں بھی ناکام رہتی ہیں۔ احتساب ہی ایک ایسا عمل ہے جس سے کسی فرد، جماعت اور تحریک کی کامیابی اور ناکامی کا صحیح اور درست اندازہ لگا یا جا سکتا ہے، اسی ایک عمل سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہم ایک مقصد میں کتنا کامیابی کی جانب اور کتنا ناکامی کی طرف جارہے ہیں۔ جب امت مسلمہ کا ستارہ آسمان عالم پر چمکتا تھا ت...

کشمیر کی صورتحال، ہڑتال مضر یا مفید (قسط اول)

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا شیخ امین - جمعه 30 ستمبر 2016

اڑی حملے کے بعد نریندر مودی سرکار اور اس کے زیر اثر میڈیا نے پاکستان کیخلاف ایک ایسی جارحا نہ روش اختیار کی، جس سے بھارتی عوام میں جنگی جنوں کی کیفیت طاری ہوگئی اور انہیں یوں لگا کہ دم بھر میں پاکستان پر حملہ ہوگا اور چند دنوں میں اکھنڈ بھارت کا آر ایس ایس کا پرانا خواب پورا ہوگا۔ ڈاول ڈاکٹرائن کے عین مطا بق نریندر مودی سرکار ان دھمکیوں سے دو طرح کے فائدے حاصل کرنا چا ہتی تھی۔ ایک یہ کہ جنگ کے خوف سے وزیر اعظم نواز شریف، سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کی طرح خو فزدہ ہوکر جنرل ا...

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں الطاف ندوی کشمیری - بدھ 28 ستمبر 2016

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس سے خطاب کو جو پذیرائی کشمیر میں حاصل ہوئی ہے ماضی میں شاید ہی کسی پاکستانی حاکم یا لیڈر کی تقریر کو ایسی اہمیت حاصل ہوئی ہو۔ کشمیر کے لیڈر، دانشور، صحافی، تجزیہ نگار، علماء، طلباء اور عوام کو اس تقریر کا بڑی بے صبری سے انتظار تھااگرچہ یہاں آج کل پاکستان کے تمام نیوزچینلزمکمل طور پر بند ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل اورانٹرنیٹ سروسز بھی گذشتہ ڈھائی مہینے سے بند ہیں، البتہ بھارتی نیوز چینلز کے ذریعے سے’ اس ...

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟ محمد اقبال دیوان - پیر 26 ستمبر 2016

پچھلے دنوں وہاں دہلی میں بڑی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے Security Apparatus اور’’ را‘‘ کے نئے پرانے کرتا دھرتا سب کے سب نریندر مودی جی کو سجھاؤنیاں دینے جمع ہوئے۔ ان سب محافل شبینہ کے روح رواں ہمارے جاتی امراء کے مہمان اجیت دوال جی تھے۔ وہ آٹھ سال لاہور میں داتا دربار کے پاس ایک کھولی میں ground -spy کے طور پر رہتے رہے تھے۔ اُنہوں نے کراچی، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور کابل میں اپنے عرصۂ قیام میں کئی سلیپر سیلز بھی قائم کیے جو اب بھی چھپ چھپا کر اپنی تخریب کاری کی کاروائیاں دکھاتے رہت...

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

معروف کشمیری دانشور و صحافی پریم نا تھ بزاز نے 1947ء میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوسکا، تو ایک وقت یہ مسئلہ نہ صرف اس خطے کا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے خرمنِ امن کو خا کستر کردے گا۔ 1947ء سے تحریک آزادی جاری ہے اور تا ایں دم یہ مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ کئی جنگیں ہوئیں اور ایک خو فناک جنگ کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ 9جولائی حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد جموں و کشمیر کے عوام نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مترادف، بھارت کے خلاف ...

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین

وزیراعظم نواز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب، دھیمے لب و لہجے نے مجموعی تاثر کو گہنا دیا……! عارف عزیز پنہور - جمعرات 22 ستمبر 2016

ہر سال ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے امریکا سمیت دنیا بھر کے ملکوں کے سربراہان خطاب کرتے ہیں۔ یہ روایت وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ اس اجلاس کو باہم متحارب ملکوں کے سربراہان کے لیے ایک دوسرے پر حملے کرنے اور اپنا زور خطابت آزمانے کا بھی اچھا موقع سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان……دونوں ہی ملکوں کے سربراہان حکومت عام طور پر اس اجلاس میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے خطاب میں مدمقابل کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔ خاص طور پر بھارت اس فورم پر بھی...

وزیراعظم نواز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب، دھیمے لب و لہجے نے مجموعی تاثر کو گہنا دیا……!