وجود

... loading ...

وجود

فلپائن‘ آتش فشاں پہاڑ ’’پینا ٹوبو‘‘کے اردگردآباد شہریوں کی واپسی

منگل 04 اکتوبر 2016 فلپائن‘ آتش فشاں پہاڑ ’’پینا ٹوبو‘‘کے اردگردآباد شہریوں کی واپسی

mount-pinatubo

20سال قبل شمالی فلپائن میں واقع مشہور آتش فشاں پہاڑ پینا ٹو بو نے جب گرم گرم لاوا اگلنا شروع کیا تھا تو حکومت کو اس علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرکے ان لوگوں کو جو حکومت کی وارننگ کے باوجود علاقہ چھوڑ کر نہیں نکلے تھے ،زبردستی ان کے سازوسامان کے ساتھ محفوظ علاقوں میں منتقل کرنا پڑا تھا ۔اس وقت اس علاقے میں ایک افراتفری کا عالم تھا اور پھر جب آتش فشاں اپنی پوری جولانی پر پہنچا تو اس سے نکلنے والے لاوے کی گرمی دور دور تک محسوس کی جارہی تھی لیکن آج اس واقعے کو 20 سال سے کچھ زیادہ وقت گزرچکا ہے ، یہ پہاڑ لاوا اگلنے کے بعد گزشتہ 20 سال سے خاموش ہے اور اب ایک مرتبہ پھر اس پہاڑ کے گرد شہریوں نے واپس آنا شروع کردیا ہے ، بہت سے لوگ جو 20 سال قبل اس علاقے کو خیر باد کہہ کر گئے تھے ان کے مکان پہاڑ سے نکلنے والے لاوے تلے دب کر اپنا وجود کھوچکے ہیں اور جو مکان باقی بچے ہیں انھیں بھی مکان کے بجائے مکانوں کے آثار ہی کہاجاسکتا ہے ۔

20سال قبل شمالی فلپائن کے آتش فشاں پہاڑ پینا ٹو بو سے نکلنے والے لاوے کی زد میں آکر اس علاقے کے کم وبیش ڈیڑھ ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے اور راکھ کے ڈھیر میں گم ہوگئے تھے ۔ان میں سے بہت سوں کی لاشیں بھی دستیاب نہیں ہوسکی تھیں۔کہتے ہیں کہ اس پہاڑ سے نکلنے والے دھوئیں کے بادل کی وجہ سے اس پورے علاقے کا موسم تبدیل ہوگیا تھا اور کئی سال تک اس علاقے میں گرمی بہت کم ہوگئی تھی اور علاقے میں ٹھنڈک میں اضافہ ہوگیا تھا۔

اب اس پہاڑ کی چوٹی پر صبح ہی صبح کوے آکر بیٹھ کر کائیں کائیں کرنے لگے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب اس پہاڑ کے گرد سے موت کا سایہ ہٹ چکا ہے اور زندگی ایک مرتبہ پھر کروٹ لے رہی ہے ۔

فلپائن کے پیناٹوبو آتش فشاں کے پھٹنے کے واقعے کو 20 ویں صدی کے دوران دوسرا سب سے بڑا ہلاکت خیز آتش فشانی حادثہ قرار دیا جاتا ہے ۔ا س کی وجہ سے وسیع علاقے سے زندگی کے آثار معدوم ہوگئے تھے اور ہر طرف گرم گرم ریت اور مٹی کے ڈھیر لگ گئے تھے ۔

گزشتہ دنوں جب سیاحوں کا پہلا قافلہ اس علاقے میں پہنچا تو ہر طرف اونچی اونچی گھاس اگی ہوئی تھی جس پر تتلیاں اور پتنگے منڈلارہے تھے اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آرہا تھا ، اس علاقے میں مختلف طرح کے درخت اگے ہوئے تھے جو غالباً ا س علاقے میں آنے والے پرندوں کے لائے ہوئے پھلوں کے بیجوں کی وجہ سے خود رو طریقے سے اگ آئے تھے بہرحال علاقے میں زندگی اپنے جوبن پر تھی۔

20سال کے بعد اس علاقے میں پہنچنے والے گروپ میں پورٹر رینڈی ڈومونٹ بھی شامل تھا ، پورٹر کا کہنا ہے کہ جب اس علاقے میں پیناٹوبو پہاڑ نے لاوا اگلنا شروع کیا تھا تو میری عمر 14 سال تھی میرے تمام اہل خانہ ، میرا جھونپڑی نما مکان اور 7.41 ایکڑ کا کھیت جس پر چاول اور آلو کی طرح کی ایک سبزی کی کاشت کی گئی تھی سب کچھ اس پہاڑ سے نکلنے والے لاوے میں دب کر تباہ ہوگیا تھا۔یہ علاقہ فلپائن کے شمال مشرقی علاقے سانتا جولیانا سے کم وبیش 30 کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

پورٹر کے گھر والوں نے 1991 کے بعد یہاں مکان تو دوبارہ تعمیر کرلیا ہے لیکن ان کا کھیت پہاڑ سے نکلنے والے لاوے میں دفن ہوچکا ہے اور اب اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔پورٹر کاکہنا ہے کہ اس پہاڑ کے لاوا اگلنے کی وجہ سے ایک ہی رات کے اندر ہم زمیندار سے بے زمین کسانوں کی صف میں کھڑے ہوگئے اور ہماری حیثیت صرف 1.55 ڈالر یومیہ کی رہ گئی جو کہ فلپائن میں بے زمین کسانوں کو دیے جاتے ہیں ،ہم کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے ۔

پورٹر کا کہنا ہے کہ 20سال قبل شمالی فلپائن میں واقع آتش فشاں پہاڑ نے کوئی 40 سال کے وقفے کے بعد لاوا اگلنا شروع کیا تھا اور ایک ہی رات میں اس علاقے میں 40 سال کے دوران ہونے والی ترقی کو ملیا میٹ کردیا تھا، سب کچھ فنا کردیا تھا ، اس پہاڑ کے لاوا اگلنے کے سبب کم وبیش5 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے بیشتر اپنی زندگی بھر کی پونچی سے محروم ہوکر عرش سے فرش پر آگئے تھے ،بے گھر اور بے در بلکہ دربدر ہوگئے تھے ۔

پورٹر کا کہنا ہے کہ پینا ٹوبو سے لاوا اس قدر تیزی سے اور اس قدر بھاری مقدار میں خارج ہورہا تھا کہ کم وبیش 30 کیلومیٹر کا علاقہ اس کی لپیٹ میں آچکا تھا اور اس سے مجموعی طور پر5 ارب کیوبک میٹر راکھ اور آگ خارج ہوئی تھی ۔اس سے نکلنے والے لاکھوں ٹن سلفورک ایسڈ کے بادل نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے سورج ڈھک گیا تھا ،علاقے میں دھوپ نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی تھی اور اس پورے علاقے کا موسم سرد ہوگیا تھا۔اس پہاڑ سے لاوا نکلنا بند ہوجانے کے کئی سال بعد تک علاقے کا درجہ حرارت 0.6 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہوسکا تھا ، اب ایک دفعہ پھر لوگ زندگی کی امید لے کر اس علاقے میں واپس آرہے ہیں ، نئے سرے سے زندگی شروع کررہے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ 10-20 یا 40 سال بعد یہ پہاڑ ایک دفعہ پھر کروٹ نہیں لے گا اور اس علاقے میں تنکا تنکا جوڑ کر زندگی کا آغاز کرنے والے لوگ ایک دفعہ پھر دربدر نہیں ہوجائیں گے ۔یہ انجانا خوف اس علاقے میں واپس آنے والے ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے لیکن اپنے آبائی گھروں کوآباد کرنے کی خوشی میں وہ یہ خدشات بار بار اپنے ذہن سے جھٹک کر علاقے میں نئی زندگی شروع کرنے کی دھن میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔

دوسری جانب اس اطلاع نے کہ آتش فشاں پہاڑ کے غیض وغضب کا شکار ہوکر تباہ ہوجانے والا علاقہ ایک دفعہ پھر آباد ہورہا ہے ،دنیا بھر کے سیاح بھی اس علاقے کی سیر کے لیے علاقے کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ علاقہ دوبارہ کتنے عرصے بعد اپنی پرانی حیثیت پر آئے گا اور گزشتہ 20 سال کے دوران سائنسی شعبے میں ہونے والی ترقی سے اس علاقے میں دوبارہ آباد ہونے والے لوگ کس حد تک استفادہ کرسکیں گے یا سائنسی ترقی ان کو سابقہ تباہ کاریوں کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں کتنابڑا کردار ادا کرسکے گی۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر