... loading ...

20سال قبل شمالی فلپائن میں واقع مشہور آتش فشاں پہاڑ پینا ٹو بو نے جب گرم گرم لاوا اگلنا شروع کیا تھا تو حکومت کو اس علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرکے ان لوگوں کو جو حکومت کی وارننگ کے باوجود علاقہ چھوڑ کر نہیں نکلے تھے ،زبردستی ان کے سازوسامان کے ساتھ محفوظ علاقوں میں منتقل کرنا پڑا تھا ۔اس وقت اس علاقے میں ایک افراتفری کا عالم تھا اور پھر جب آتش فشاں اپنی پوری جولانی پر پہنچا تو اس سے نکلنے والے لاوے کی گرمی دور دور تک محسوس کی جارہی تھی لیکن آج اس واقعے کو 20 سال سے کچھ زیادہ وقت گزرچکا ہے ، یہ پہاڑ لاوا اگلنے کے بعد گزشتہ 20 سال سے خاموش ہے اور اب ایک مرتبہ پھر اس پہاڑ کے گرد شہریوں نے واپس آنا شروع کردیا ہے ، بہت سے لوگ جو 20 سال قبل اس علاقے کو خیر باد کہہ کر گئے تھے ان کے مکان پہاڑ سے نکلنے والے لاوے تلے دب کر اپنا وجود کھوچکے ہیں اور جو مکان باقی بچے ہیں انھیں بھی مکان کے بجائے مکانوں کے آثار ہی کہاجاسکتا ہے ۔
20سال قبل شمالی فلپائن کے آتش فشاں پہاڑ پینا ٹو بو سے نکلنے والے لاوے کی زد میں آکر اس علاقے کے کم وبیش ڈیڑھ ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے اور راکھ کے ڈھیر میں گم ہوگئے تھے ۔ان میں سے بہت سوں کی لاشیں بھی دستیاب نہیں ہوسکی تھیں۔کہتے ہیں کہ اس پہاڑ سے نکلنے والے دھوئیں کے بادل کی وجہ سے اس پورے علاقے کا موسم تبدیل ہوگیا تھا اور کئی سال تک اس علاقے میں گرمی بہت کم ہوگئی تھی اور علاقے میں ٹھنڈک میں اضافہ ہوگیا تھا۔
اب اس پہاڑ کی چوٹی پر صبح ہی صبح کوے آکر بیٹھ کر کائیں کائیں کرنے لگے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب اس پہاڑ کے گرد سے موت کا سایہ ہٹ چکا ہے اور زندگی ایک مرتبہ پھر کروٹ لے رہی ہے ۔
فلپائن کے پیناٹوبو آتش فشاں کے پھٹنے کے واقعے کو 20 ویں صدی کے دوران دوسرا سب سے بڑا ہلاکت خیز آتش فشانی حادثہ قرار دیا جاتا ہے ۔ا س کی وجہ سے وسیع علاقے سے زندگی کے آثار معدوم ہوگئے تھے اور ہر طرف گرم گرم ریت اور مٹی کے ڈھیر لگ گئے تھے ۔
گزشتہ دنوں جب سیاحوں کا پہلا قافلہ اس علاقے میں پہنچا تو ہر طرف اونچی اونچی گھاس اگی ہوئی تھی جس پر تتلیاں اور پتنگے منڈلارہے تھے اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آرہا تھا ، اس علاقے میں مختلف طرح کے درخت اگے ہوئے تھے جو غالباً ا س علاقے میں آنے والے پرندوں کے لائے ہوئے پھلوں کے بیجوں کی وجہ سے خود رو طریقے سے اگ آئے تھے بہرحال علاقے میں زندگی اپنے جوبن پر تھی۔
20سال کے بعد اس علاقے میں پہنچنے والے گروپ میں پورٹر رینڈی ڈومونٹ بھی شامل تھا ، پورٹر کا کہنا ہے کہ جب اس علاقے میں پیناٹوبو پہاڑ نے لاوا اگلنا شروع کیا تھا تو میری عمر 14 سال تھی میرے تمام اہل خانہ ، میرا جھونپڑی نما مکان اور 7.41 ایکڑ کا کھیت جس پر چاول اور آلو کی طرح کی ایک سبزی کی کاشت کی گئی تھی سب کچھ اس پہاڑ سے نکلنے والے لاوے میں دب کر تباہ ہوگیا تھا۔یہ علاقہ فلپائن کے شمال مشرقی علاقے سانتا جولیانا سے کم وبیش 30 کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔
پورٹر کے گھر والوں نے 1991 کے بعد یہاں مکان تو دوبارہ تعمیر کرلیا ہے لیکن ان کا کھیت پہاڑ سے نکلنے والے لاوے میں دفن ہوچکا ہے اور اب اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔پورٹر کاکہنا ہے کہ اس پہاڑ کے لاوا اگلنے کی وجہ سے ایک ہی رات کے اندر ہم زمیندار سے بے زمین کسانوں کی صف میں کھڑے ہوگئے اور ہماری حیثیت صرف 1.55 ڈالر یومیہ کی رہ گئی جو کہ فلپائن میں بے زمین کسانوں کو دیے جاتے ہیں ،ہم کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے ۔
پورٹر کا کہنا ہے کہ 20سال قبل شمالی فلپائن میں واقع آتش فشاں پہاڑ نے کوئی 40 سال کے وقفے کے بعد لاوا اگلنا شروع کیا تھا اور ایک ہی رات میں اس علاقے میں 40 سال کے دوران ہونے والی ترقی کو ملیا میٹ کردیا تھا، سب کچھ فنا کردیا تھا ، اس پہاڑ کے لاوا اگلنے کے سبب کم وبیش5 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے بیشتر اپنی زندگی بھر کی پونچی سے محروم ہوکر عرش سے فرش پر آگئے تھے ،بے گھر اور بے در بلکہ دربدر ہوگئے تھے ۔
پورٹر کا کہنا ہے کہ پینا ٹوبو سے لاوا اس قدر تیزی سے اور اس قدر بھاری مقدار میں خارج ہورہا تھا کہ کم وبیش 30 کیلومیٹر کا علاقہ اس کی لپیٹ میں آچکا تھا اور اس سے مجموعی طور پر5 ارب کیوبک میٹر راکھ اور آگ خارج ہوئی تھی ۔اس سے نکلنے والے لاکھوں ٹن سلفورک ایسڈ کے بادل نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے سورج ڈھک گیا تھا ،علاقے میں دھوپ نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی تھی اور اس پورے علاقے کا موسم سرد ہوگیا تھا۔اس پہاڑ سے لاوا نکلنا بند ہوجانے کے کئی سال بعد تک علاقے کا درجہ حرارت 0.6 درجہ سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہوسکا تھا ، اب ایک دفعہ پھر لوگ زندگی کی امید لے کر اس علاقے میں واپس آرہے ہیں ، نئے سرے سے زندگی شروع کررہے ہیں لیکن کون جانتا ہے کہ 10-20 یا 40 سال بعد یہ پہاڑ ایک دفعہ پھر کروٹ نہیں لے گا اور اس علاقے میں تنکا تنکا جوڑ کر زندگی کا آغاز کرنے والے لوگ ایک دفعہ پھر دربدر نہیں ہوجائیں گے ۔یہ انجانا خوف اس علاقے میں واپس آنے والے ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے لیکن اپنے آبائی گھروں کوآباد کرنے کی خوشی میں وہ یہ خدشات بار بار اپنے ذہن سے جھٹک کر علاقے میں نئی زندگی شروع کرنے کی دھن میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔
دوسری جانب اس اطلاع نے کہ آتش فشاں پہاڑ کے غیض وغضب کا شکار ہوکر تباہ ہوجانے والا علاقہ ایک دفعہ پھر آباد ہورہا ہے ،دنیا بھر کے سیاح بھی اس علاقے کی سیر کے لیے علاقے کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس علاقے کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ علاقہ دوبارہ کتنے عرصے بعد اپنی پرانی حیثیت پر آئے گا اور گزشتہ 20 سال کے دوران سائنسی شعبے میں ہونے والی ترقی سے اس علاقے میں دوبارہ آباد ہونے والے لوگ کس حد تک استفادہ کرسکیں گے یا سائنسی ترقی ان کو سابقہ تباہ کاریوں کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں کتنابڑا کردار ادا کرسکے گی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...