وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کابل سے القدس تک

پیر 03 اکتوبر 2016 کابل سے القدس تک

سولہ ستمبر 1977ء کی ایک سرد رات اسرائیلی جنرل موشے دایان پیرس کے جارج ڈیگال ائر پورٹ پر اترتا ہے، وہ تل ابیب سے پہلے برسلز اور وہاں سے پیرس آتا ہے جہاں پر وہ اپنا روایتی حلیہ بالوں کی نقلی وگ اور نقلی مونچھوں کے ساتھ تبدیل کرکے گہرے رنگ کی عینک لگاکر اگلی منزل کی جانب روانہ ہوتا ہے، اگلی منزل مراکش کا شہر رباط ہے جہاں پر اس کی ملاقات شاہ حسین خامس اور سادات کے نمائندے حسن التہامی سے طے ہے۔ تل ابیب سے مراکش پہنچنے کے لیے یورپ کے دو شہروں سے گزرنا اور پیرس میں حلیہ بدلنے کا مقصد اپنے آپ کو عالمی پریس سے پوشیدہ رکھنا تھا اس کے ساتھ ساتھ یورپ خصوصاً پیرس میں فلسطینی مجاہدین کا انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی خاصا مضبوط تھاجس کی زیادہ تر باگ ڈور الجزائری نژادمسلمانوں کے ہاتھ میں تھی۔ مصری نمائندہ حسن التہامی جمال عبدالناصر کا قریبی ساتھی رہا تھا۔ 1953ء میں اسے امریکی سی آئی اے کے تحت تربیت دینے کے بعد پہلے آسٹریا میں مصری سفیر اور اس کے بعد انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی میں نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔ رباط میں ملاقات کا بڑا مقصد سادات کی ’’امن کی خواہش‘‘ کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے اسرائیل سے پیشگی معاملات طے کرنا تھے۔ ان سارے مذاکرات میں موشے دایان کے نقلی حلیے سے نکل کر اصلی حلیے میں آنے کے سوا کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن فلسطین کے مسئلے پر عربوں کو تقسیم کرنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔

زیادہ دور کی بات نہیں مشکل سے چالیس برس پہلے کا قصہ ہوگا جب تمام دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ مقبوضہ فلسطین کی آزادی ہوا کرتا تھا، اس مسئلے کو دوآتشہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبلہ اول پر صہیونی ریاست کے قبضے نے کردیا تھا۔ پھر کیا تھا عالم اسلام خصوصا عرب دارالحکومتوں میں آئے روز قبلہ اول کی آزادی کے لیے زبردست احتجاج ہوا کرتے تھے۔ بات صرف عرب دارالحکومتوں کی نہیں تھی، اسلامی دنیا کے غیر عرب ممالک بھی اس میں پیش پیش تھے۔ کبھی کسی اخبار یا جریدے کے ریکارڈ روم میں جاکر پرانی تصاویر دیکھی جائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ لاہور کے مال روڈ نے بھی قبلہ اول کی آزادی کے حق میں مظاہروں کے بہت سے مناظر دیکھے ہیں۔ بلیک اینڈ وائٹ دور کی ان تصاویر میں مقاصد پوری سچائی کے ساتھ لوگوں کے چہروں پر عیاں دیکھے جاسکتے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ مغرب کی صہیونی سرمایہ دار اشرافیہ نے مصری حکومت میں موجود اپنے کارندوں کے ذریعے انور سادات کو ’’امن کی پٹی‘‘ پڑھانی شروع کی اور اس طرح مصری صدر انور سادات کو ’’امن کا شہزادہ‘‘ بننے کی سوجھی اور وہ 1977ء میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرکے مغرب کا تو منظور نظر بن گیا لیکن عرب قوم نے اسے یکسر مسترد کردیا۔ عالم عرب کو خصوصا اور عالم اسلام کو عموما القدس کے مسئلے سے دور رکھنے کے لیے عالمی صہیونیت کا یہ دوسرا قدم تھا۔ پہلا قدم اس وقت اٹھایا گیا جب عرب دنیا کا اسلام سے تعلق ختم کرنے کے لیے ’’عرب ازم‘‘ کی تحریک چلائی گئی تھی اور جمال عبدالناصر نے اس حوالے سے عالم عرب میں خاصی شہرت حاصل کر لی تھی۔ عرب ازم کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو یہ ہوا کہ مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کی بجائے عالم عرب کا مسئلہ بنانے میں آسانی ہوگئی، اس طرح عالمی سطح پر اٹھنے والا ردعمل علاقائی سطح تک محدود کیا جاسکتا تھا۔ جس وقت مصر نے اسرائیل کے ساتھ ’’امن معاہدہ‘‘ کیا، اس وقت مصر ابھی جمال عبدالناصر کے سیاسی ترکے انور سادات کے ہی ہاتھ میں تھا لیکن اس کے باوجود اس زمانے میں باقی عرب ملکوں میں ابھی جرأتِ اظہار کا کچھ مادہ موجود تھا۔ اسی بنا پر انہوں نے مصر کو عرب لیگ سے نکال باہر کیا اور مصر اپنوں میں غیر اور غیروں میں اپنا بن گیا، مغربی میڈیا نے تل ابیب میں سادات کے قدم کو نیل آرمسٹرانگ کے چاند پر رکھے گئے قدم سے کہیں زیادہ اہم قرار دے دیا۔ یہ وہ دور تھا جب عرب قوم کے درمیان فلسطین کے معاملے میں ابھی ایک ’’غیر تحریری‘‘ معاہدہ چلا آرہا تھا کہ ہر وہ عرب لیڈر جو اسرائیل کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انور سادات نے یہ قیمت چھ اکتوبر 1981ء کو قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران ادا کی، خالد اسلامبولی کی مشین گن سے نکلنے والی 17 گولیوں نے عربوں کے ’’غیر تحریری‘‘ معاہدے کی توثیق کردی۔ یہ سب کچھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا اس سے بہت پہلے 20جولائی 1950ء میں موجودہ اردن کے شاہ عبداﷲ بن الحسین کے پردادا شاہ عبداﷲ کو مسجد اقصی کی سیڑھیوں پر محض اس لیے گولی مار دی گئی تھی کہ اپنے بڑوں کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے انہوں نے بھی صہیونی ریاست کے قیام کے لیے درپردہ سودے بازی کی تھی۔ 1970ء میں اردن کے شاہ حسین حملہ آور کی گولی سے بار بار بچے۔ اسی خطرے کے تدارک کے لیے اردن نے اپنے ہاں قائم فلسطینی پناہ گزینوں کے خلاف مسلح کارروائی کی تھی۔ سادات کے قتل کے ایک برس بعد یعنی 1982ء میں لبنان کے صدر اور لبنانی عیسائی ملیشیا کے کمانڈربشیر الجمائیل کو بھی اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط کی قیمت جان دے کراداکرنا پڑی یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ اس جرم میں 1948ء سے 1971ء تک تین عرب وزرائے اعظم قتل کردیے گئے تھے۔ مصری وزیر اعظم محمود فہمی النقرشی نے 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی اور عربوں کے ہاتھوں مارا گیا، اردنی وزیر اعظم واسفی الطال جس نے 1971ء میں پی ایل او کو اسرائیل کے خلاف اردنی سرزمین استعمال کرنے سے روکا، وہ اپنی جان سے گیا، اس سے پہلے 1951ء میں لبنانی وزیر اعظم رائد الصالح نے معاملے کو محض اسرائیل کے ساتھ ہلکی پھلکی بات چیت تک محدود رکھا مگر اسے بھی وہی قیمت ادا کرنا پڑی۔ 1958ء میں عراقی شاہی خاندان کے 17 اہم افراد بغداد کے قصر الورود میں مشین گن کے صرف ایک برسٹ کا رزق بنا دیے گئے انہوں نے عراقی یہودیوں کو اسرائیل پہنچنے میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ یوں تین عرب وزرائے اعظم اور ایک بادشاہ کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ عرب حکمران اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی استواری میں انتہائی محتاط ہوا کرتے تھے۔

1977ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد مغربی صہیونی ساہوکاروں کو سوویت یونین کی شکل میں ایک ایسا حریف میسر آیا جس نے آنے والے دور میں عالمی سیاسی بساط کو سرے سے ہی تبدیل کرا دیا۔ اب فلسطین پر قابض قوتیں اور عرب مزاحمت سوویت یونین کے خلاف ایک ہی مورچے میں بیٹھ گئی تھیں۔ 1977ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد 1979ء میں سوویت یونین کی افغانستان میں باقاعدہ عسکری مداخلت نے عالمی منظر کو یکسر بدل دیا تھا، عالمی صہیونی دجالی قوتوں نے اسے اسرائیل کے لیے ایک نادر موقع جانا کہ اب’’ اسلامی مزاحمت‘‘ کا رخ مقبوضہ القدس کی بجائے مقبوضہ کابل کی جانب ہوگا۔ افغانستان کی آزادی کے لیے ہزاروں عرب مجاہدین نے افغانستان کا رخ کیا، ان میں مصر سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کی بڑی تعداد شامل تھی جن کے لیے ایک طرف اسرائیل سے اسلحہ خریدا جاتا تھا تو دوسری جانب مصر کے لیے سوویت یونین سے دوستی کے دور کا حاصل کیا گیا ہلکا اسلحہ بھی افغانستان پہنچایا جانے لگا اور انور سادات جیسا لبرل لیڈر بڑھ چڑھ کر جہاد کی فضیلت پر تقریریں کرنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کی کوششوں سے 1989ء میں مصر کو دوبارہ عرب لیگ کا ممبر بنا لیا گیا یوں عرب لیگ کے پلیٹ فارم میں اسرائیل نے پہلی نقب لگا لی جس کا سلسلہ بعد میں اردن، مراکش، عمان اور قطر تک جاپہنچا۔ جہاد افغانستان مجاہدین کی فتح اور سوویت یونین کی تحلیل پر منتج ہوا لیکن عالمی صہیونی قوتوں کے نزدیک کابل القدس کی فتح کا بیس کیمپ بن سکتا تھا اس لیے افغانستان پر چڑھائی کرکے سب سے زیادہ ان عرب مجاہدین کو نشانہ بنایا جانے لگا جو واپس جاکر ایک مرتبہ پھر مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔


متعلقہ خبریں


پاکستانی دینی جماعتیں عالم عرب کی ’’عرب بہار‘‘ سے سبق حاصل کریں محمد انیس الرحمٰن - جمعرات 29 ستمبر 2016

عالم عرب میں جب ’’عرب بہار‘‘ کے نام سے عالمی صہیونی استعماریت نے نیا سیاسی کھیل شروع کیا تو اسی وقت بہت سی چیزیں عیاں ہوگئی تھیں کہ اس کھیل کو شروع کرنے کا مقصد کیا ہے اور کیوں اسے شروع کیا گیا ہے۔جس وقت تیونس سے اٹھنے والی تبدیلی کی ہوا نے شمالی افریقہ کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی کا رخ اختیار کیا تھا اسی وقت ہم نے اسے ایک بڑے صہیونی استعماری کھیل سے تعبیر کردیا تھا۔ تیونس کا بن علی، مصر کا حسنی مبارک، شام کا بشار الاسد اوریمن کے صدر صالح کسی لحاظ سے بھی مغربی مفادات کے خلاف نہیں ...

پاکستانی دینی جماعتیں عالم عرب کی ’’عرب بہار‘‘ سے سبق حاصل کریں

لیڈراور کباڑیا محمد انیس الرحمٰن - هفته 24 ستمبر 2016

ایران میں جب شاہ ایران کے خلاف عوامی انقلاب نے سر اٹھایا اور اسے ایران سے فرار ہونا پڑاتواس وقت تہران میں موجود سوویت یونین کے سفارتخانے میں اعلی سفارتکار کے کور میں تعینات روسی انٹیلی جنس ایجنسی کے اسٹیشن ماسٹر جنرل شبارچین کو اچانک ماسکو بلایا گیا۔ کے جی بی کے سابق سربراہ یوری اندرے پوف صدر چرننکو کی موت کے بعد سوویت یونین کے صدر بن چکے تھے۔ جنرل شبارچین نے ایرانی انقلاب کے حوالے سے اپنے صدر کو جو رپورٹ پیش کی اس کے مطابق شاہ ایران امریکا کی مدد سے سابق وزیر اعظم مصدق کی طر...

لیڈراور کباڑیا

کسنجر کا خواب اور نئی عالمی’’دجالی تقسیم‘‘ محمد انیس الرحمٰن - اتوار 18 ستمبر 2016

جن دنوں امریکامیں نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تھا اس وقت مسلم دنیا میں کوئی ادارہ یا شخصیت ایسی نہ تھی جو اس واقعے کے دور رس عواقب پر حقیقت پسندانہ تجزیہ کرکے اسلامی دنیا کو آنے والی خطرات سے آگاہ کرسکتی۔مغرب کے صہیونی میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ نے منفی پروپیگنڈے کی وہ دھول اڑائی کہ کوئی بھی سمت کے صحیح تعین کی طرف راغب نہیں ہوسکا بلکہ مسلم دنیا کے ممالک اور ان کی انتظامیہ کا یہ حال تھا کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو چور محسوس کرنے لگے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس...

کسنجر کا خواب اور نئی عالمی’’دجالی تقسیم‘‘

افغان مہاجرین کی پاکستان سے جبری بے دخلی بھارت کے لیے خوش خبری محمد انیس الرحمٰن - هفته 03 ستمبر 2016

دنیا کی معلوم تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قدرت نے جب کبھی کسی قوم پر احتساب کی تلوار لٹکائی تو اس کی معیشت کو تباہ کردیا گیا۔قران کریم نے بھی چند مثالوں کے ذریعے عالم انسانیت کو اس طریقہ احتساب سے خبردار کیا ہے جس میں سب سے واضح مثال یمن کے ’’سد مارب‘‘ کی تباہی ہے۔ جزیرہ العرب کے جنوب میں یمن کے مقام پر قائم قوم سبا کی تہذیب معلوم تاریخ میں دنیا کی چار بڑی اور طاقتور تہذیبوں میں شمار ہوتی تھی ان کی مضبوط معیشت کا دارومدار قوم سبا کے قدیم دارالحکومت مارب میں قائم...

افغان مہاجرین کی پاکستان سے جبری بے دخلی بھارت کے لیے خوش خبری

ترکی میں ناکام انقلاب : امریکا اور روس میں براہ راست ٹکراؤ کے امکانات محمد انیس الرحمٰن - منگل 16 اگست 2016

ترکی کے صدر طیب اردگان نے گزشتہ دنوں امریکی سینٹرل کمانڈ کے چیف جنرل جوزف ووٹیل پر ناکام بغاوت میں ملوث افراد کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو اپنی اوقات میں رہنا چاہئے۔ اس سے پہلے جنرل جوزف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی میں بغاوت میں ملوث سینکڑوں ترک فوجی افسروں کی گرفتاری سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ترکی میں بغاوت کی ناکامی کے بعد اسے امریکا کی جانب سے دھمکی قرار دیا جاسکتاہے جبکہ ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے ہی اس ...

ترکی میں ناکام انقلاب : امریکا اور روس میں براہ راست ٹکراؤ کے امکانات

مدینہ منورہ میں خودکش حملہ: مقامات مقدسہ کو نشانا بنانے کا منصوبہ نیا نہیں محمد انیس الرحمٰن - جمعه 22 جولائی 2016

گزشتہ دنوں مسجد نبوی شریف کی پارکنگ میں خودکش دھماکے نے پوری اسلامی د نیا کو بنیادوں سے ہلا کر رکھا دیا اور شام اور عراق میں پھیلی ہوئی جنگی صورتحال پہلی مرتبہ ان مقدس مقامات تک دراز ہوتی محسوس ہوئی۔ جس نے اسلامی دنیا کو غم غصے کی کیفیت سے دوچار کررکھا ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ جس بدبخت مسلمان کے ذریعے یہ کام کروایا گیا ہے وہ یقینا دجالی صہیونی قوتوں کا آلہ کار تھا۔یہ وہ قوتیں ہیں جو مختلف حیلے بہانوں سے مسلمانوں کے بنیادی عقائد اور مقدس مقامات کی جانب دبے پاؤں پیش قدمی کررہ...

مدینہ منورہ میں خودکش حملہ: مقامات مقدسہ کو نشانا بنانے کا منصوبہ نیا نہیں

افغانستان میں ہاری جنگ اسلام آباد میں جیتنے کی کوشش محمد انیس الرحمٰن - بدھ 13 جولائی 2016

امریکی سینیٹر جان مکین کی اسلام آباد آمد سے ایک روز قبل وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا بھارتی جوہری اور روایتی ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے بیان خاصا معنی خیز ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سب کچھ اس وقت ہوا ہے جب امریکی سینیٹر جان مکین ’’ڈو مور‘‘ کی لمبی لسٹ ساتھ لائے جو یقینی بات ہے افغانستان کے حوالے سے ہیں۔سرتاج عزیز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارت کی دفاعی حکمت عملی کے پیش نظر پاکستان شارٹ رینج کے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری انہیں ترقی دینے کے عمل کو رول بیک کرنے ...

افغانستان میں ہاری جنگ اسلام آباد میں جیتنے کی کوشش

کیا جنوبی ایشیا بڑی تبدیلی کی زد میں آنے والا ہے؟ محمد انیس الرحمٰن - اتوار 26 جون 2016

گزشتہ دنوں جب امریکہ کی جانب سے ایک تیسرے درجے کا پانچ رکنی وفد اسلام آباد آیا تھا تو ہم یہ سمجھے کہ شاید امریکہ کو نوشکی میں کی جانے والی واردات پر اظہار افسوس کا خیال آگیا ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ وفد جن افراد پر مشتمل تھا ان کی حیثیت بااختیار وفد سے زیادہ ایک ’’ڈاکیے‘‘ کی سی تھی جو اس وعدے پر واپس گیا کہ ’’آپ کی گزارشات واشنگٹن پہنچا دی جائیں گی‘‘۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا یہ بیان کہ ’’امریکہ خود غرض دوست ہے، مطلب ہو تو گلے لگاتا ہے ‘‘۔ سرتاج عزیز شریف اور قابل احترام...

کیا جنوبی ایشیا بڑی تبدیلی کی زد میں آنے والا ہے؟

نریندر مودی کی خطے میں ’’شٹل ڈپلولیسی‘‘ کیا رنگ لائے گی؟ محمد انیس الرحمٰن - جمعه 17 جون 2016

خطے کے حالات جس جانب پلٹا کھا رہے ہیں اس کے مطابق افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت پاکستان کے خلاف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماضی کی کرزئی انتظامیہ کا روپ دھارتی جارہی ہے جس کا مظاہرہ اس وقت کابل انتظامیہ کی جانب سے بھارت اور ایران کے ساتھ مزیدزمینی تعلقات استوار کرنے کی کوششوں کی شکل میں سامنے آرہا ہے جس کا مظاہرہ کچھ عرصہ قبل تہران میں تینوں ممالک کے سربراہوں نے جمع ہوکر کیا اور اب کابل یاترا کے وقت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا ہے۔ بھارت کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کی جا...

نریندر مودی کی خطے میں ’’شٹل ڈپلولیسی‘‘ کیا رنگ لائے گی؟

افغان مسئلے کا حل۔۔۔ جنگ یا مذاکرات؟ محمد انیس الرحمٰن - هفته 11 جون 2016

ایک ایسے وقت میں جب طالبان قیادت کی جانب سے بھی کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کا واضح اشارہ مل چکا تھا اور طالبان لیڈر ملا اختر منصور اس سلسلے میں دیگر طالبان کمانڈروں کو اعتماد میں لے رہے تھے پھر اچانک امریکیوں کو ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ انہوں نے طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو نشانہ بناکرافغانستان میں قیام امن کی کوششوں پر اچانک پانی پھیر دیا۔ ملا اختر منصور کو نشانہ بنانے کے بعد امریکیوں نے اسکا یہ جواز پیش کیا تھا کہ طالبان رہنما افغانستان میں امن مذاکرات ...

افغان مسئلے کا حل۔۔۔ جنگ یا مذاکرات؟

جزیہ محمد انیس الرحمٰن - پیر 30 مئی 2016

میڈیا ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور پر فضائی حملہ کیا اورممکنہ طور پر وہ اس حملے میں مارے گئے ہیں، تاہم حکام اس حملے کے نتائج کاجائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ حملہ صدر باراک اوباما کی منظوری سے کیا گیا ہے۔خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق طالبان رہ نما ملا اختر منصور کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے میں بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے کے ذریعے نشانہ بنایا گیاتھا، جس کے نتیج...

جزیہ

پاناما لیکس : عالمی معاشی نظام تبدیلی کے دہانے پر محمد انیس الرحمٰن - بدھ 04 مئی 2016

جدید تاریخ میں جب بھی دنیا کو کسی بڑی تبدیلی سے دوچار کیا گیا تو اس سے پہلے اس عالم رنگ وبو کو ایک زبردست ـ’’جھٹکا‘‘ دیا گیا۔ اس کی مثال اس انداز میں دی جاسکتی ہے کہ جس وقت جدید تاریخ کے پہلے دور میں دنیا خصوصا مغرب کو معاشرتی اور معاشی تبدیلیوں سے گزارا گیا تو پہلی عالمی جنگ کا ’’جھٹکا‘‘ اس دنیا کو لگا اور اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ جغرافیائی تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں۔ اس کے تقریبا پچاس برس بعد جب باقی ماندہ کام مکمل کرنا مقصود ہوا تو دوسری جنگ عظیم کا اس دنیا کو سامنا کرنا...

پاناما لیکس : عالمی معاشی نظام تبدیلی کے دہانے پر