وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چیلنج قبول کریں میاں صاحب!

منگل 27 ستمبر 2016 چیلنج قبول کریں میاں صاحب!

اسپین میں ایک کہاوت ہے ‘ کسی کو دو مشورے کبھی نہیں دینے چاہئیں ایک شادی کرنے کا اور دوسرا جنگ پر جانے کا۔ یہ محاورہ غالباً دوسری جنگ عظیم کے بعد ایجاد ہوااس کا پس ِ منظر یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں یورپ میں مردوں کی تعداد نہایت کم ہو گئی تھی اور عورتیں آبادی کا بڑا حصہ بن گئی تھیں‘ ان حالاات میں حکومتوں نے شادی کے حوالے سے بہت سے معیارات پر نظرثانی کی اور آج یورپ میں شادی کے ادارے کی تحقیر اسی کا نقطۂ عروج ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اب تک کل چار جنگیں لڑی ہیں لیکن جنگ درحقیقیت ہوتی کیاہے یہ اب تک پاکستانیوں کو واقعی نہیں معلوم‘ یہ تو کوئی یورپ سے ہی پوچھے دوسری جنگ عظیم کے دوران چھ سالوں میں چھ کروڑ سے زائد لوگ مارے گئے‘وبائی امراض‘ بیروزگاری ‘ غربت‘ تباہ حالی‘ نفسیاتی مسائل یہ سب بہت چھوٹے الفاظ ہیں یورپ میں اس عرصے میں ایسے ایسے انسانی المیوں نے جنم لیا جنہیں مورخ شاید کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ بھی لکھ نہیں پایا‘ کتنے ہی لوگوں نے اپنے پیاروں کے اعضاء ابال کر پیٹ کے دوزخ کو ٹھنڈاکیا شاید اس لئے یورپ میں کہاجاتاہے ’’معدے کے ساتھ بحث بیکار ہے کیونکہ اس کے کان نہیں ہوتے‘‘

9 جولائی کو کشمیر میں نوجوان مجاہد برہان وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد سے کشمیر میدان جنگ بنا ہوا ہے‘ 12ہفتوں سے نماز جمعہ کے اجتماعات نہیں ہونے دیئے گئے جھڑپوں میں اب تک 108افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ برہان وانی کی تدفین میں شرکت کیلئے دو لاکھ لوگ اُمڈ آئے تھے سو بھارتی حکومت کا معدہ اسے ہضم نہ کرسکا۔ کشمیر میں بھارت کے خلاف ایک نیا جنون پیدا ہوا تو بھارت کی مودی سرکار پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر کمر بند ہوگئی۔ بھارت کشمیر کو ایک اندرونی انتشار کا مسئلہ قرار دیتاہے اور پاکستان پر اس معاملے میں خفیہ دراندازی کا الزام عائد کرتاہے جبکہ پاکستان کشمیر کی جدوجہد کو تحریک آزادی قراردیتاہے اور کشمیریوں کی مکمل اخلاقی حمایت کرتے رہنے کے عزم کا اظہار کرتاہے‘ صرف کشمیر ہی نہیں اس تازہ منظر نامے سے بھارتی ایجنٹ کل بھوشن یادیو کی گرفتاری اور پاکستان میں چائنہ پاکستان کوریڈور کی تعمیر بھی نتھی ہے۔ اس کوریڈور پر بھار ت کو سخت صدمہ ہے اور وہ اسے ناکام بنانے کیلئے سرگرم ہے اور اسی کوشش میں پکڑے جانے والے ایجنٹ کی گرفتاری اس کیلئے سبکی کا سبب بھی بنی سو مودی سرکار کی حالت کچھ یوں ہوچلی ہے جیسے اسے باؤلے کتے نے کاٹ کھایاہو۔

وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا قصد کیاتو اچانک بھارت میں اُڑی فوجی اڈے پر حملہ ہوگیا‘ اس حملے میں18بھارتی فوجی ہلاک ہوئے حملے کے تقریباً 12گھنٹوں بعد ہی بھارتی وزیرخارجہ اور وزیراعظم نے اپنے بیانات میں انگلیاں پاکستان کی جانب اٹھادیں۔ اس کے بعد اچانک لائن آف کنٹرول پر غیر معمولی نقل و حرکت شروع ہوگئی اور اطلاعات آئیں کہ بھارت نے دوبریگیڈ فوج ایل او سی پر لا جمع کی ہے‘ چہ میگوئیاں شروع ہوئیں‘ بھارتی میڈیا میں زعماء نے پہلے پہل پاکستان کے ساتھ ایک بھرپور ایٹمی جنگ کے امکانات کو روشن قراردیا پھر اگلے روز بات سرجیکل اسٹرائیکس تک محدود رہے پر ہونے لگی‘ دو تین روز گذرے تو سرحدی جھڑپوں کو کافی قرار دیاجانے گا اور اب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کیرالہ میں بی جے پی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت کو غربت کے خلاف لڑنے کا چیلنج دے کر جان چھڑا لی ہے گویا ٹائیں ٹائیں فش۔ دفاعی ماہرین کے مطابق انڈیا کو جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ ’’ایڈونچر ازم‘‘ خطرناک ثابت ہوگالہٰذا اراہ ترک کردیاگیاہے۔

پنجابی کی ایک کہاوت ہے ’’آندروں بُھکیاں تے مُچھاں اُتّے چول‘‘ یعنی آنتیں بھوک سے قل ھواﷲ پڑھ ہی ہوں اور رعب جھاڑنے کیلئے مونچھوں پر چاول لگارکھے ہوں ۔ انڈیا کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے‘ اجیت دوال جیسے جنونیوں کو ان کے سنجیدہ حلقوں نے سمجھایا کہ بھارت ایسی کوئی صورتحال خود برداشت نہیں کرپائے گا‘ لڑائی صرف پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ چین کے ساتھ بھی لڑنی پڑیگی‘ پاکستانی فوج دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کی منزل تک جاپہنچی ہے اور پاکستان کی پشت پر کئی مضبوط اسلامی ممالک بہرحال موجود ہیں جبکہ بھارت میں موجود مسلمان بھی پاکستانی افواج کا ہی ساتھ دیں گے۔لگتاہے بڑاہونے زعم میں مبتلا بھارت کوبات سمجھ آئی گئی ہے خودسابق بھارتی وزیرداخلہ نتورسنگھ نے ایک بھارتی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بڑا ہے اور بڑے کو ہمیشہ صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے ہمارے لوگ حکومت سے پبلک ٹوائلٹس مانگ رہے ہیں اور ہم جنگ کی باتیں کررہے ہیں۔

پاکستان قوم نے اب تک جنگ صحیح طرح دیکھی ہی نہیں انہیں تو جنگ پکنک جیسی کوئی شے لگتی ہے۔’’ہم نے ایٹم بم شادیوں میں چلانے کے لئے نہیں بنائے ‘‘اور ’’غوری شاہین‘ ابدالی شب برأت پر چھوڑنے کیلئے تھوڑ اہی رکھے ہیں‘‘ ایسی بڑھکوں کا دور چل پڑاہے پاکستانی لڑاکا طیاروں کی موٹروے پر ہنگامی لینڈنگ کی مشقوں کی تصاویر کے ساتھ جذباتی کیشن کھ کر انہیں سوشل میڈیاپر شیئر کیاجانے لگا کہ ’’سن لو بھارتیوں تم لو لاہور میں ناشتہ نہ کرسکے‘ ہمارا متھا گھوم گیا ناں تو تاج محل میں تمہاری گؤماتا کی کڑھائی کھاکر دکھائیں گے‘‘قصہ مختصر جنگ کے حوالے سے اظہار شوق‘‘ کوئی اچھی بات بہرحال نہیں۔

بھارتی وزیراعظم مودی نے دعویٰ کیاہے کہ وہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیں گے مگر ان کا یہ دعویٰ خالی خولی بھپکی سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہوسکا اخباری اطلاعات کے مطابق انہوں نے روس کو پاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں سے روکنے کی کوشش بھی کہ مگر روسی فوجی دستہ پاکستان آپہنچاہے امریکہ بھی بھی اڑی حملے کی براہ راست مذمت تک سے گریز کیااور اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ اختلافات کا حل بات چیت سے نکالا جانا چاہئے ادھر ترکی نے کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا بھی اعلان کردیا۔

اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو بخوبی اجاگر کرنے پر وزیراعظم نوازشریف کی مقبولیت کچھ بڑھی ہے مگر دیکھاجائے تو بادی النّظر میں نوازشریف بہرطور نریندرمودی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں‘ سب جانتے ہیں کہ بھارت کے حوالے سے ان کی ذاتی رائے‘ پالیسی اور رویہ کیاہے‘ رمضان شوگر مل کاریکارڈ جل گیا اور وہاں تین سو بھارتیوں کی موجودگی کے حوالے سے سے اب تک انہوں نے کوئی واضح موقف نہیں اپنایاہے‘ بھارت سے کسی بھی قسم کی جھڑپ ہوجانا انہیں سیاسی طور فائدہ پہنچائے گا۔ایک طرف کا منظر نامہ تو یہ ہے دوسری طرف نریندر مودی کے ماضی اور گجرات کے فسادات سے واضح ہونے والی ان کی ذہنی کیفیت کو ملحوظ رکھاجائے تو باآسانی کہا جاسکتاہے کہ ایک اور الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان سے لڑپڑنا ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں گویا جنگ کو مکمل طور پر خارج ازامکان قرار دنہیں دیاجاسکتایہ الگ بات ہے کہ جنگ ایک بار شروع کئے جانے کے بعد اس کا اختتام کسی ایک فریق کی مرضی سے نہیں ہوسکتا‘ رہ گئے عوام تو ان کے لئے دونوں ممالک ہی اپنی اپنی معاشرتی علوم کی کتابوں میں فتح یاب ہوں گے۔

دنیا مین ایک نئی عالمی جنگ کی تھیوری کم و بیش گذشتہ 6سالوں سے گردش کررہی ہے‘ 2009سے مختلف فورسز پر عالمی لیڈران اس کے خدشات ظاہرکررہے ہیں‘ پوپ نے بھی اسے قرین از قیاس قراردیا‘ بعض دفاعی ماہرین کے مطابق اس عالمی جنگ کا اصل میدان جنوبی ایشیا ہوگااور اس کا خرچہ عالمی طاقتیں سعودی عرب‘ ایران ‘ بھارت‘ پاکستان‘ روس اور چین سے ہی اٹھوائیں گی اور عالمی استعمار اس سے مالی مفادات بھی سمیٹے گا۔ اﷲ کی پناہ۔

دونوں ممالک کے عوام کو چاہئے کہ وہ اپنی قیادتوں پر جنگ سے بچنے کے لئے دباؤ ڈالیں نہ کہ جنگی جنون کو ہوادیں‘ جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے پاکستان کیلئے اس کی اہمیت آبی وسائل کے مرکز کے طور پر بے پناہ ہے لیکن پاکستان کو کشمیر کا مقدمہ اس کے ’’حق خودارادیت‘‘ کی جدوجہد کے طور پر دنیا کے سامنے رکھنا چاہئے اور کشمیر کمیٹی کا سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جگہ کسی اہل اور متحرک شخض کو لگانا چاہئے۔ ایک مشورہ میاں محمد نوازشریف صاحب کو یہ بھی ہے کہ وہ غربت کے خاتمے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم کا چیلنج فوراً قبول کرلیں اور اپنی باقی ماندہ مدّتِ اقتدار کا آرام‘ عیش و نشاط اس چیلنج کو جیتنے پر قربان کردیں قوم انہیں دعائیں دے گی۔ یادرہے اپنی قوم کے لئے زندگی کے بیش قیمت 27سال جیل میں گذارنے والے رہنما نیلسن منڈیلا نے کہا تھا ’’غربت خیرات سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے‘‘


متعلقہ خبریں


میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی وجود - هفته 29 جولائی 2017

سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلیت کے بعد اب اُن کا نام تمام قومی اور سرکاری جگہوں سے بتدریج ہٹایا جانے لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے رکن اسمبلی کے طور پر اُن کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح کراچی ائیرپورٹ پر قائداعظم اور صدرِ مملکت ممنون حسین کے ساتھ اُن کی موجود تصویر کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے نوازشریف کو 28 جولائی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد فوری طور پر لندن میں بھی زیر بحث آگئی اور نوازشریف کی نااہلیت کے عدالتی فیصل...

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں وجود - هفته 29 جولائی 2017

٭3 اپریل 2016۔پاناما پیپرز (گیارہ اعشاریہ پانچ ملین دستاویزات پر مبنی ) کے انکشافات میں پہلی مرتبہ وزیراعظم نوازشریف اور اْن کا خاندان منظر عام پر آیا۔ ٭5 اپریل 2016۔وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خاندان کے حوالے سے ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا عندیہ دیاتاکہ وہ پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی کے قیام کے حوالے سے اپنی تحقیقات کرے۔ ٭22 اپریل 2016- وزیراعظم کا دوسرا خطاب نشر کیا گیا جس میں اْنہوں نے یقین دلایا کہ اگر پاناما کیس کی تحقیقات میں ذمہ دار ثابت ہوئے...

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ انوار حسین حقی - هفته 29 جولائی 2017

عدالت ِ عظمیٰ کے لارجر بنچ کی جانب سے میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے فیصلے نے پاکستان تحریک انصاف اور اُس کی قیادت کی اُس جدو جہد کو ثمر بار کیا ہے جو 2013 ء کے عام انتخابات کے فوری بعد سے چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع ہوئی تھی۔ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو اُن کے مخالفین نے ر وایتی قرار دے کر حصول انصاف کی جدو جہد کو لا حاصل اور لکیر پیٹنے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن...

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے  مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ

نوازشریف کی نااہلی عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ رانا خالد محمود - هفته 29 جولائی 2017

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعدعمومی طور پر پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے جیسے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں5رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا اور میڈیا کے ذریعے اس فیصلے کی خبر عوام تک پہنچی تو ان کا پہلا رد عمل وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہمدردی اور دوسرا سپریم کورٹ پر تحفظات کا اظہار تھا۔ اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ بھی کہا جارہا ہے مگر پنجاب کے عوام کی نظر میں یہ ایسا فیصلہ نہیں ہے جس کی مثال دی جاسکے ۔اس حوالے سے ن لیگ سے تعلق رکھنے ...

نوازشریف کی نااہلی  عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ

سانحہ کوئٹہ:"را" اورافغان خفیہ اداروں کی مشترکہ کارروائی، کَڑیاں ملنے لگیں وجود - جمعرات 27 اکتوبر 2016

کوئٹہ پولیس ٹریننگ مرکز پر حملے کی نگرانی افغانستان سے کی گئی، مقامی نیٹ ورک کو استعمال کیا گیا حساس اداروں نے تفصیلات جمع کرنا شروع کردیں ، افغانستان سے دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے  بھاری ہتھیاروں  کے ساتھ کوئٹہ پولیس کے تربیتی مرکز پر ہونے والے خود کش  حملے کے سراغ ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ انتہائی باخبر ذرائع نے جرات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارسی بولنے والے حملہ آوروں کی تمام گفتگو کا ریکارڈ حسا س اداروں کے پاس موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مستقل ...

سانحہ کوئٹہ:

سفارتی محاذ پربھارت کو ایک اور شکست,برطانیہ نے بھی پاکستان مخالف پٹیشن مسترد کردی شہلا حیات نقوی - هفته 22 اکتوبر 2016

امریکاکے بعد برطانیہ نے بھی پاکستان کودہشت گردوں کی پناہ گاہ قراردینے کا بھارتی دعویٰ یکسر مسترد کردیا برطانیہ میں مقیم بھارتیوں کی آن لائن پٹیشن پر پاکستان کی قربانیوں کے برطانوی  اعتراف نے بھارتی غبارے سے ہوا نکال دی امریکا اوربرطانیہ دونوں ممالک نے بھارتی حکومت کے اشارے اور ان ممالک میں موجود بھارتی سفارت خانوں کی مبینہ مالی امداد کے سہارے برٹش او ر امریکی بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی آن لائن مہم کوناکام بنادیاہے اور اس حوالے سے پٹیشن خارج کردی ہیں...

سفارتی محاذ پربھارت کو ایک اور شکست,برطانیہ نے بھی پاکستان مخالف پٹیشن مسترد کردی

بھارتی جارحیت، مقابلے کے لیے جارحانہ سفارتکاری کی ضرورت ایچ اے نقوی - جمعرات 06 اکتوبر 2016

بھارتی فوج کی جانب سیکنٹرول لائن پر دراندازی کے واقعے کے بعدجسے اس نے سرجیکل اسٹرائیک کانام دینے کی ناکام کوشش کی، بھارتی فوج کے سربراہ نے عالمی سطح پر بھارت کی اس مذموم کارروائی کی مذمت سے بچنے کیلیے اعلان کیاتھا کہ کنٹرول لائن پر جو واقعہ ہوا، اس کے بعد اب بھارت پاکستان کے خلاف کسی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا اور ا ب حالات معمول پر آجانے چاہییں۔ لیکن ابھی بھارتی فوج کے سربراہ کے اس بیان کی گونج بھی کم نہیں ہوئی تھی کہ بھارتی فوج نے چھمب سیکٹر میں ایک اور کارروائی کی ا...

بھارتی جارحیت، مقابلے کے لیے جارحانہ سفارتکاری کی ضرورت

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر ایچ اے نقوی - بدھ 05 اکتوبر 2016

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے گزشتہ روز وزیراعظم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور بھارت کے جنگی جنون سے نمٹنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کرنے کے حوالے سے کوششوں کیلیے وزیر اعظم کابھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس نازک وقت میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کابھرپور ساتھ دینے کااعلان کرکے نہ صرف بالغ نظری کاثبوت دیاہے بلکہ پاکستان کو ایک منقسم قوم تصور کرنے و...

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ الطاف ندوی کشمیری - بدھ 05 اکتوبر 2016

یوں توآج کل پورا برصغیر آپریشنوں اور اسٹرائیکوں کے شور سے پریشان ہے مگر کشمیر براہ راست ان کی زد میں ہے۔ یہاں حکومت نے آپریشن ’’کام ڈاؤن‘‘کا آغاز کرتے ہو ئے پورے کشمیر کو بالعموم اور جنوبی کشمیر کو بالخصوص سیکورٹی ایجنسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ انھیں مکمل طور پر کھلی چھوٹ ہے۔ جسے چاہیں گرفتار کرسکتے ہیں، جہاں چاہیں چھاپا مار سکتے ہیں،جس کو چاہیں گولی یا پیلٹ کے ذریعے جان سے مار سکتے ہیں۔ آنسو گیس، پاواشیلنگ اور لاٹھی چارج اب ان کے لیے معمول کی مشق بن چکی ہے۔ انھیں انسانیت...

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ

بڑی طاقتوں کی صبر کی تلقین، پاک بھارت جنگ نہیں روک سکتی ایچ اے نقوی - منگل 04 اکتوبر 2016

بھارت کنٹرول لائن پر در اندازی کی کوشش کو پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کا نام دے کر دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرکے مقبوضہ کشمیر کے عوام پر اپنے سفاکانہ مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں ناکامی اور اس ناکامی کے بعد سے مسلسل سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہے، جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ ہفتہ کی رات کو بھارتی فوج نے ایک دفعہ پھرکنٹرول لائن پر بھمبر کے چھمب سیکڑپرصبح 4 بجے بلااشتعال فائرنگ کی۔ فائرنگ کایہ سلسلہ 4گھنٹے تک جاری رہا لیکن پاک فوج کے چوکس جوانوں نے اس...

بڑی طاقتوں کی صبر کی تلقین، پاک بھارت جنگ نہیں روک سکتی

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور انوار حسین حقی - منگل 04 اکتوبر 2016

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں زبردست سفارتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہو اہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی نے سفارتی حلقوں کو بہت زیادہ سرگرم کیا ہواہے ۔ پاکستان کے دفاعی اور سفارتی حلقوں کی شبانہ روز کاوشوں نے بھارت کو سفارتی اور دفاعی لحاظ سے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ انڈین آرمی کی جانب سے جس سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ کیا گیا تھا اس من گھڑت معرکے کے حوالے سے پاکستان کے دفاعی ذرائع نے جو جرات مندانہ پالیسی اختیار کی اور انہیں قوم کے ا...

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور

سیاسی قائدین کا اجلاس‘ عمران خان اور اسفند یار کی عدم شرکت سے کیا پیغام گیا؟ عارف عزیز پنہور - منگل 04 اکتوبر 2016

پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ وزیراعظم نواز شریف کے اہم مشاورتی اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے صدر میر حاصل بزنجو شریک ہوئے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی نیشنل پارٹی کے صد...

سیاسی قائدین کا اجلاس‘ عمران خان اور اسفند یار کی عدم شرکت سے کیا پیغام گیا؟

مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار