وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

پاناما کے بعد’’بہاماس لیکس‘‘، انکشافات کی لہر کہاں جاکر تھمے گی؟

هفته 24 ستمبر 2016 پاناما کے بعد’’بہاماس لیکس‘‘، انکشافات کی لہر کہاں جاکر تھمے گی؟

bahamas-leaks

ابھی پاناما لیکس کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھا بھی نہ تھا کہ ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘‘ (آئی سی آئی جے) نے اس اسکینڈل کی اگلی قسط چھاپ دی، جس میں دنیا بھر کی ایسی شخصیات کے ناموں کے انکشاف کیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے ملک میں عائد ٹیکسوں سے بچنے کے لیے جزائر بہاماس میں آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ ان شخصیات میں 150 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں جبکہ 70 سے زائد پاکستانی آف شور کمپنیوں کے وہاں رجسٹرڈ ہونے کا پتہ چلا ہے۔

بہاماس، ریاست ہائے متحدہ امریکا کے جنوب میں واقع 700 چھوٹے بڑے جزائر کا مجموعہ ہے، جن میں سے متعدد جزائر کا رقبہ ایک مربع میل سے بھی کم ہے۔ اس آزاد ریاست کو اس کے صاف وشفاف نیلگوں پانیوں اور سفید ریتیلے ساحلوں کے سبب سیاحوں کی جنت سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ انکشافات سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہ ریاست صرف سیاحوں کی ہی نہیں بلکہ ٹیکس چوروں کے لیے بھی ’’جنت ارضی‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس ریاست کے رازدارانہ قوانین اور غیرملکی حکومتوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے سے گریز کے باعث اسے Caribbean Curtain بھی کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں تو ابھی گزشتہ چھ ماہ سے پاناما میں رجسٹرڈ آف شور کمپنیوں کی ہی تحقیقات نہیں ہوسکی تھی کہ بہاماس لیکس نے اس اسکینڈل کو ازسرنو تازہ کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بہاماس لیکس میں جن پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، ان میں پرویز مشرف دور حکومت کے وزیر صحت محمد نصیر خان کے صاحبزادے جبران خان، جماعت اسلام کے رہنما اور سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد، کنسٹرکشن انڈسٹری کی اہم شخصیت محسن ابوبکر شیخانی، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کی سابق اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی موجودہ اہلیہ تہمینہ درانی (مینڈا سائیں فیم) کی والدہ ثمینہ درانی اور معروف منی چینجر الطاف خانانی کے صاحبزادے عبید الطاف خانانی بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پروفیسر خورشید احمد نے ٹیکس چوری اور بہاماس میں آف شور کمپنی بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ’’آئی سی آئی جے‘‘ کی جانب سے کیے جانے والے الزامات کے مطابق بہاماس میں بیشتر آف شور کمپنیاں 1990ء سے 2011ء کے درمیان رجسٹرڈ کرائی گئی تھیں۔ مذکورہ ادارے نے اس بارے میں جو دستاویزات جاری کی ہیں، ان کے مطابق 150 سے زائد پاکستانیوں نے بہاماس میں آف شور کمپنیاں بنائی ہوئی ہیں۔ 1990ء سے 2016ء تک بہاماس میں رجسٹرڈ کرائی جانے والی آف شور کمپنیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار بتائی جاتی ہے۔

’’آئی سی آئی جے‘‘ کی جانب سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ انکشافات سے بہاماس میں قائم آف شور کمپنیوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘‘ نے بہاماس لیکس کے حوالے سے جو ڈیٹا دنیا بھر میں اپنے میڈیا پارٹنرز کے ساتھ شیئر کیا ہے، وہ اصل میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کے ایک اخبار Süddeutsche Zeitung نے حاصل کیا تھا۔

بیشتر پاکستانی آف شور کمپنیاں چونکہ 1990ء کی دہائی میں رجسٹرڈ کرائی گئی تھیں، اس لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکے گا، چاہے ان کمپنیوں نے ٹیکس ہی کیوں نہ بچایا ہو۔ انکم ٹیکس قوانین کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو، فائلرز کے خلاف صرف پانچ سال پرانے ٹیکس چوری کے مقدمات اور نان فائلرز کے خلاف دس سال تک پرانے ٹیکس بچانے کے کیسز ہی کھول سکتا ہے جبکہ بہاماس لیکس میں منکشف ہونے والے کیسز تقریباً دو دہائیاں پرانے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں ’’آئی سی آئی جے‘‘ نے پاناما کی ایک لاء فرم ’’موسیک فونسیکا‘‘ سے متعلق ایسی دستاویزات جاری کی تھیں، جن سے پتہ چلا تھا کہ دنیا بھر کے ہزاروں افراد نے اپنے ملکوں میں ٹیکس بچانے کے لیے مذکورہ لاء فرم کی مدد سے پاناما میں آف شور کمپنیاں قائم کی ہوئی ہیں۔ اس فہرست میں 600 کے لگ بھگ پاکستانیوں کے نام شامل تھے، جن میں سے محض 444 کو ایف بی آر نے تاحال شناخت کیا ہے۔ ان میں سے 150 افراد پاکستان میں 600 کمپنیوں کے مالک ہیں۔ تاہم حکومت اور متعلقہ ٹیکس ادارے اب تک ان لوگوں کے خلاف کوئی موثر تادیبی کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

گزشتہ منگل کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاناما لیکس کا ایشو بھی اٹھایا گیا تھا، تاہم اس میں متعلقہ سرکاری اداروں نے پاناما گیٹس اسکینڈل کی تحقیقات کرنے کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے سے انکار کردیا۔ مبصرین کو حیرت اس بات پر ہوئی کہ ایک طرف تو حکومت پاکستان پاناما لیکس اسکینڈل کے تحقیقات میں ہر طرح کے روڑے اٹکانے پر کمربستہ رہی ہے۔ کبھی ’’ٹی او آرز‘‘ کے مسئلے پر اپوزیشن کے ساتھ سینگ پھنسائے گئے تو کبھی کسی اور بہانے اس کی تفتیش کی راہیں مسدود کرنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن جیسے ہی بہاماس لیکس کا اسکینڈل سامنے آیا تو وزیراعظم نواز شریف کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فوراً ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اس معاملے کی جامع جانچ پڑتال کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے یہ حکم گزشتہ دنوں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ ہارون اختر کے ساتھ ملاقات کے موقع پر جاری کیا۔ وزیر موصوف نے اس بار صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایات دے ڈالیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کسی بھی شخص کے ساتھ کوئی امتیاز نہ برتا جائے اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں اس معاملے کی جامع تحقیقات فوری طور پر شروع کردی جائیں۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کے مقابلے میں بہاماس لیکس کی تفتیش کے معاملے میں وزیر خزانہ کی ان پھرتیوں کی وجہ شاید یہ ہے کہ تازہ لیکس میں حکومت کی کسی اہم شخصیت یا حکمراں خاندان کے کسی فرد کا نام نہیں آیا ہے۔ جہاں تک پاناما لیکس کی تحقیقات کا تعلق ہے کہ اس بارے میں انکشاف کے لگ بھگ چار مہینے کے بعد فیڈرل بیورو آف ریونیو کو یہ توفیق ہوسکی تھی کہ وہ 250 کے لگ بھگ پاکستانیوں کو انکوائری کے لیے نوٹس جاری کرسکے جبکہ بہاماس لیکس کے منظرعام پر آنے کے ایک دن بعد ہی وفاقی وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کو اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ انہوں نے جن اداروں کو یہ حکم دیا ہے یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان…… یہ سبھی پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ موجودہ متعلقہ قوانین کے تحت ان لیکس کی تحقیقات نہیں کی جاسکتیں……!


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر