وجود

... loading ...

وجود

پاناما کے بعد’’بہاماس لیکس‘‘، انکشافات کی لہر کہاں جاکر تھمے گی؟

هفته 24 ستمبر 2016 پاناما کے بعد’’بہاماس لیکس‘‘، انکشافات کی لہر کہاں جاکر تھمے گی؟

bahamas-leaks

ابھی پاناما لیکس کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھا بھی نہ تھا کہ ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘‘ (آئی سی آئی جے) نے اس اسکینڈل کی اگلی قسط چھاپ دی، جس میں دنیا بھر کی ایسی شخصیات کے ناموں کے انکشاف کیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے ملک میں عائد ٹیکسوں سے بچنے کے لیے جزائر بہاماس میں آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ ان شخصیات میں 150 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں جبکہ 70 سے زائد پاکستانی آف شور کمپنیوں کے وہاں رجسٹرڈ ہونے کا پتہ چلا ہے۔

بہاماس، ریاست ہائے متحدہ امریکا کے جنوب میں واقع 700 چھوٹے بڑے جزائر کا مجموعہ ہے، جن میں سے متعدد جزائر کا رقبہ ایک مربع میل سے بھی کم ہے۔ اس آزاد ریاست کو اس کے صاف وشفاف نیلگوں پانیوں اور سفید ریتیلے ساحلوں کے سبب سیاحوں کی جنت سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ انکشافات سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہ ریاست صرف سیاحوں کی ہی نہیں بلکہ ٹیکس چوروں کے لیے بھی ’’جنت ارضی‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس ریاست کے رازدارانہ قوانین اور غیرملکی حکومتوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے سے گریز کے باعث اسے Caribbean Curtain بھی کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں تو ابھی گزشتہ چھ ماہ سے پاناما میں رجسٹرڈ آف شور کمپنیوں کی ہی تحقیقات نہیں ہوسکی تھی کہ بہاماس لیکس نے اس اسکینڈل کو ازسرنو تازہ کردیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بہاماس لیکس میں جن پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، ان میں پرویز مشرف دور حکومت کے وزیر صحت محمد نصیر خان کے صاحبزادے جبران خان، جماعت اسلام کے رہنما اور سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد، کنسٹرکشن انڈسٹری کی اہم شخصیت محسن ابوبکر شیخانی، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کی سابق اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی موجودہ اہلیہ تہمینہ درانی (مینڈا سائیں فیم) کی والدہ ثمینہ درانی اور معروف منی چینجر الطاف خانانی کے صاحبزادے عبید الطاف خانانی بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پروفیسر خورشید احمد نے ٹیکس چوری اور بہاماس میں آف شور کمپنی بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ’’آئی سی آئی جے‘‘ کی جانب سے کیے جانے والے الزامات کے مطابق بہاماس میں بیشتر آف شور کمپنیاں 1990ء سے 2011ء کے درمیان رجسٹرڈ کرائی گئی تھیں۔ مذکورہ ادارے نے اس بارے میں جو دستاویزات جاری کی ہیں، ان کے مطابق 150 سے زائد پاکستانیوں نے بہاماس میں آف شور کمپنیاں بنائی ہوئی ہیں۔ 1990ء سے 2016ء تک بہاماس میں رجسٹرڈ کرائی جانے والی آف شور کمپنیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار بتائی جاتی ہے۔

’’آئی سی آئی جے‘‘ کی جانب سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ انکشافات سے بہاماس میں قائم آف شور کمپنیوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘‘ نے بہاماس لیکس کے حوالے سے جو ڈیٹا دنیا بھر میں اپنے میڈیا پارٹنرز کے ساتھ شیئر کیا ہے، وہ اصل میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کے ایک اخبار Süddeutsche Zeitung نے حاصل کیا تھا۔

بیشتر پاکستانی آف شور کمپنیاں چونکہ 1990ء کی دہائی میں رجسٹرڈ کرائی گئی تھیں، اس لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکے گا، چاہے ان کمپنیوں نے ٹیکس ہی کیوں نہ بچایا ہو۔ انکم ٹیکس قوانین کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو، فائلرز کے خلاف صرف پانچ سال پرانے ٹیکس چوری کے مقدمات اور نان فائلرز کے خلاف دس سال تک پرانے ٹیکس بچانے کے کیسز ہی کھول سکتا ہے جبکہ بہاماس لیکس میں منکشف ہونے والے کیسز تقریباً دو دہائیاں پرانے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں ’’آئی سی آئی جے‘‘ نے پاناما کی ایک لاء فرم ’’موسیک فونسیکا‘‘ سے متعلق ایسی دستاویزات جاری کی تھیں، جن سے پتہ چلا تھا کہ دنیا بھر کے ہزاروں افراد نے اپنے ملکوں میں ٹیکس بچانے کے لیے مذکورہ لاء فرم کی مدد سے پاناما میں آف شور کمپنیاں قائم کی ہوئی ہیں۔ اس فہرست میں 600 کے لگ بھگ پاکستانیوں کے نام شامل تھے، جن میں سے محض 444 کو ایف بی آر نے تاحال شناخت کیا ہے۔ ان میں سے 150 افراد پاکستان میں 600 کمپنیوں کے مالک ہیں۔ تاہم حکومت اور متعلقہ ٹیکس ادارے اب تک ان لوگوں کے خلاف کوئی موثر تادیبی کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

گزشتہ منگل کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاناما لیکس کا ایشو بھی اٹھایا گیا تھا، تاہم اس میں متعلقہ سرکاری اداروں نے پاناما گیٹس اسکینڈل کی تحقیقات کرنے کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے سے انکار کردیا۔ مبصرین کو حیرت اس بات پر ہوئی کہ ایک طرف تو حکومت پاکستان پاناما لیکس اسکینڈل کے تحقیقات میں ہر طرح کے روڑے اٹکانے پر کمربستہ رہی ہے۔ کبھی ’’ٹی او آرز‘‘ کے مسئلے پر اپوزیشن کے ساتھ سینگ پھنسائے گئے تو کبھی کسی اور بہانے اس کی تفتیش کی راہیں مسدود کرنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن جیسے ہی بہاماس لیکس کا اسکینڈل سامنے آیا تو وزیراعظم نواز شریف کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فوراً ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اس معاملے کی جامع جانچ پڑتال کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے یہ حکم گزشتہ دنوں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ ہارون اختر کے ساتھ ملاقات کے موقع پر جاری کیا۔ وزیر موصوف نے اس بار صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایات دے ڈالیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کسی بھی شخص کے ساتھ کوئی امتیاز نہ برتا جائے اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں اس معاملے کی جامع تحقیقات فوری طور پر شروع کردی جائیں۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کے مقابلے میں بہاماس لیکس کی تفتیش کے معاملے میں وزیر خزانہ کی ان پھرتیوں کی وجہ شاید یہ ہے کہ تازہ لیکس میں حکومت کی کسی اہم شخصیت یا حکمراں خاندان کے کسی فرد کا نام نہیں آیا ہے۔ جہاں تک پاناما لیکس کی تحقیقات کا تعلق ہے کہ اس بارے میں انکشاف کے لگ بھگ چار مہینے کے بعد فیڈرل بیورو آف ریونیو کو یہ توفیق ہوسکی تھی کہ وہ 250 کے لگ بھگ پاکستانیوں کو انکوائری کے لیے نوٹس جاری کرسکے جبکہ بہاماس لیکس کے منظرعام پر آنے کے ایک دن بعد ہی وفاقی وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کو اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ انہوں نے جن اداروں کو یہ حکم دیا ہے یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان…… یہ سبھی پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ موجودہ متعلقہ قوانین کے تحت ان لیکس کی تحقیقات نہیں کی جاسکتیں……!


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر