وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین

جمعه 23 ستمبر 2016 خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین

معروف کشمیری دانشور و صحافی پریم نا تھ بزاز نے 1947ء میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوسکا، تو ایک وقت یہ مسئلہ نہ صرف اس خطے کا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے خرمنِ امن کو خا کستر کردے گا۔ 1947ء سے تحریک آزادی جاری ہے اور تا ایں دم یہ مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ کئی جنگیں ہوئیں اور ایک خو فناک جنگ کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ 9جولائی حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد جموں و کشمیر کے عوام نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مترادف، بھارت کے خلاف احتجاج کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا۔ معصوم بچے اور جوان بھارتی فورسز اور ان کی حا شیہ بردار ریاستی ٹا سک فورسز پر پتھر برسا رہے ہیں اور ادھر سے جدید ہتھیاروں سے فائرنگ، پیلٹ گن فائرنگ اور پیپر گیس کا بے تحا شا استعمال ہو رہا ہے۔ اب تک ان 76دنوں میں 104ا فراد جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے، جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ تیرہ ہزارسے زائد افرد زخمی ہیں۔ 873افراد کی بینائی کلی یا جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاج معالجے کے بعد شاید کئی لوگوں کی بینا ئی بحال ہو بھی جائے لیکن یہ ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے کہ وہ دائمی بھی رہے کیونکہ ان متاثرہ آنکھوں میں انفیکشن ہونے کے زیادہ خطرات موجود رہتے ہیں۔ بہر صورت عملاََ پوری ریاست ایک جیل، انٹرا گیشن سینٹر یا تعذیب خانے میں تبدیل ہو چکی ہے، لیکن اس سب کے با وجود کشمیریوں کا عزم آزادی برقرار ہے اور اس میں کمی آنے کے بجائے روز بروز اضا فہ ہوتا جارہا ہے۔ ہر گھر سے برہان نکل رہے ہیں اور برہان کی طرح ایک دن کی زندگی کو غلامی کی سو سالہ زندگی پر ترجیح دے رہے ہیں۔

انہی حالات میں اوڑی بارہمولہ میں برگیڈ ہیڈ کورٹر میں فدائی حملہ ہو جاتا ہے، جس میں بھارتی میڈیا کے مطابق 18فوجی ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو ئے ہیں۔ بھارتی فوج کے ترجمان کے بقول چار فدائی بھی اس حملے کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ یہ حملہ ابھی جاری تھا کہ بھارتی قیادت اور میڈیا نے پاکستان پر دشنام طرازی شروع کی اور حد یہ ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے۔ خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پاکستان پر الزام عائد کیا اور یہ تک کہہ ڈالا کہ اس واقعہ میں ملوث افرد کو،وہ جہاں بھی ہو ں گے بخشا نہیں جا ئیگا۔بھارتی میڈ یا پر لگتا ہے جنگی جنوں سوار ہے اور اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بھارتی فوج پاکستان پر سرجیکل ا سٹرائیکس کیلئے پر تول رہے ہیں۔ تاہم عسکری ماہرین کا ایک خاص طبقہ بھارتی قیادت کو یہ مشورہ بھی دے رہا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیکس، ایک مکمل جنگ کا بھی شا خسانہ بن سکتا ہے اور دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ، بہت ہی خطرناک ثا بت ہو سکتی ہے۔ادھر پاکستان نے بھی واضح کردیا ہے کہ کسی بھی نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کو پاکستان کی سالمیت پر حملہ سمجھا جائیگا اور اس کا بھر پور جواب دیا جائیگا۔اطلاعات ہیں کہ بھارت نے اپنے جنگی جیٹ جہاز سرحد پر پہنچا ئے ہیں اور ادھر یہ بھی اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ پاکستان نے بھی جوابی حکمت عملی طے کی ہے اور جوابی حملے کیلئے بھر پور تیاری کی گئی ہے۔ ایک طرف یہ جنگی ما حول کی کہا نی ہے تودوسری طرف سفارتی محاذ پر بھی تیاریاں جاری ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور وہاں انسانی حقوق کی پا ما لیوں پر زور دار خطاب کیا۔ نہ صرف تحریک آزادی کشمیر کی وکالت کی بلکہ شہید برہان وانی کو تحریک مزاحمت کا Symbolقرار دیا۔ایک طویل عرصے بعد کشمیری محکوم و مظلوم عوام کو یہ محسوس ہوا کہ پاکستان نہ صرف مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہے بلکہ وہ ان کا وکیل بھی ہے اور پہلی بار پوری جرات اور دلائل کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے ان کا کیس لڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کئی عالمی رہنماؤں سے گفتگو بھی کی اور انہیں مسئلہ کشمیر حل کرنے اور کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی پا مالیاں روکنے کیلئے مدد بھی ما نگی ہے۔

بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ اوڑی حملہ مشکوک حالات میں کرایا گیا ہے کیو نکہ عالمی برادری کسی حد تک بھارت کے ہاتھوں کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی پا مالیوں کی طرف متوجہ ہوئی تھی لیکن اس حملے سے بھارت نے عالمی توجہ مسئلہ کشمیر سے موڑ کر نام نہاد عالمی دہشت گردی کے مفروضے کی طرف موڑ دیا ہے۔ بھارت نواز تنظیم جموں و کشمیر نیشنل کا نفرنس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے بھارتی میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے واشگا ف الفاظ میں کہا کہ اس موقع پر جب کہ اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کا اجلاس جاری ہے اور نواز شریف کو کشمیر میں انسانی حقوق کی پا مالیوں پر بات کرنی تھی ایسے میں یہ حملہ سازش نہیں تو اور کیا۔ہے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ایسا ہی واقعہ 2000میں بھی ہوا تھا جب بل کلنٹن بھارت کے دورے پر آئے تو چھٹی سنگھ پورہ کی سکھ برادری کا قتل عام کیا گیا۔

اللہ کرے دو ممالک کے درمیان جنگ ٹل جائے۔ عالمی امن محفوظ رہے۔ لیکن کشمیریوں کو بھی امن، چین اور آزادی سے زندہ رہنے کا حق ہے اور جب تک یہ حق انہیں نہیں دیا جائیگا۔ خطے میں دیرپا امن کی خواہش، خواہش تک ہی محدود رہے گی اور اوڑی جیسی معمولی چنگاری خرمن امن کو کسی بھی وقت خا کستر کرسکتی ہے۔ جو کشمیری بچے آج جدید ہتھیار سے لیس بھارتی فوجیوں کے سامنے کھڑے ہوکرسینہ تان کے “ہم کیا چا ہتے آزادی” گو انڈیا گو کے نعرے لگاتے ہیں۔ اگر ان بچوں کی خواہشات کا احترام نہیں کیا گیا گیا، تو کیا ایسے بچے کل کے فدائی نہیں بن سکتے۔ تاریخ گواہ ہے جنہیں آزادی سے زندہ رہنے کا حق نہیں دیا گیا،انہوں نے اپنی جان کی با زی لگاکر کئی قوموں کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ قابض قوتیں کشمیریوں کو آزاد حیثیت میں جینے کا حق نہیں دے رہی۔ بات اسی طرح چلی تو بات دور تک پہنچ جا ئیگی۔پھر نہ بانس رہے گا اور نہ با نسری بجے گی اور اس سارے عمل کے ذمہ دار کشمیری بچے نہیں بلکہ اس کی آزادی پر شب خون مارنے والے ہونگے۔پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران، کچھ اسی طرح کی صورتحال کا تذکرہ کیا۔بہتر ہے کہ بھارت سمیت تمام دنیا اس حقیقت کو سمجھے۔

معروف کشمیری دانشور و صحافی پریم نا تھ بزاز نے 1947ء میں ہی یہ پیشگوئی کی تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطا بق حل نہ ہوسکا، تو ایک وقت یہ مسئلہ نہ صرف اس خطے کا بلکہ پورے ساوتھ ایشیا کے خرمن امن کو خا کستر کردے گا۔ اوڑی کیمپ حملہ اس پیشگوئی کی یاد ہا نی کرارہا ہے۔ حالات جوں کے توں رہے تو یہ پیشگوئی سو فیصد صحیح ثا بت ہوگی۔اللہ رحم فرمائے!


متعلقہ خبریں


 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری ابو محمد نعیم - جمعرات 24 نومبر 2016

وادیٔ نیلم میں مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایاگیا ، تین شہری موقع پر شہید ، زخمیوں میں شامل سات افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی اور ٹوئٹ میں اس کارروائی پر شدید ردعمل دینے کی دھمکی دی تھی بھارتی افواج کی دیدہ دلیری اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ پاک فوج سے مقابلے میں لاشیں اٹھانے کا بدلہ شہری آبادی ،مسافر بسوں، اسکول جاتے بچوں اور حد یہ کہ ایمبولینسز کو نشانہ بنا کر لیا جارہا ہے ۔گزشتہ سے پیوستہ روز 3بھارتی...

 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو وجود - جمعرات 27 اکتوبر 2016

پاکستان بار بار یہی بات دہرارہا ہے لیکن بھارت فوجی قبضے اورتسلط پراَڑاہوا ہے ،نتیجہ آنے تک مقد س اورجائزجدوجہد جاری رکھیں گے بھارتی مظالم کے آگے سینہ سپر87سالہ ناتواں بزرگ لیکن جواں عزائم اورمضبوط اعصاب کے مالک چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس انٹرویوپینل:شیخ امین ۔مقصود منتظر وجود:1990 سے لیکر آج تک ہزاروں نامور عسکری کمانڈر اور سیاسی رہنماشہید ہوئے ۔ آپ کی نظر میں وہ کیا خاص چیز تھی جس نے حزب المجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا یا اور 8جولائی...

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین شیخ امین - هفته 22 اکتوبر 2016

ظلم و جبر پر عالمی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے،پاکستانی قیادت کو سمجھنا چاہیے مذاکرات اور قراردادوں سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، مجاہدین کو وسائل مہیا کیے جائیں جب دنیا ہماری آواز نہیں سن رہی تو پھر ہمارے پاس آزادی کے لیے مسلح جدوجہد ہی آخری آپشن ہے،سید صلاح الدین کا ایوان صحافت مظفر آباد میں خطاب امیر حز ب المجاہدین وچیئرمین متحدہ جہاد کونسل جموں وکشمیر سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات اور قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ بھارت سے آزادی کے لیے پ...

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین

طبل جنگ بج چکا ہے !!! شیخ امین - جمعرات 06 اکتوبر 2016

برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کا خیال تھا کہ وہ انتہائی مطلوب حریت پسند رہنماکی موت کا جشن منا ئیں گے، مٹھا ئیاں با نٹیں گے اور نئی کشمیری نسل کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت ایک مہان ملک ہے اور اس کے قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ ختم کرنا جا نتے ہیں۔ لیکن انہیں کشمیریوں کے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، جنہوں نے وانی کی شہادت پر ایسا کر دکھایا کہ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ پورا بھارت ہل کررہ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پر امن مظا ہ...

طبل جنگ بج چکا ہے !!!

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر ایچ اے نقوی - بدھ 05 اکتوبر 2016

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے گزشتہ روز وزیراعظم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور بھارت کے جنگی جنون سے نمٹنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کرنے کے حوالے سے کوششوں کیلیے وزیر اعظم کابھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس نازک وقت میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کابھرپور ساتھ دینے کااعلان کرکے نہ صرف بالغ نظری کاثبوت دیاہے بلکہ پاکستان کو ایک منقسم قوم تصور کرنے و...

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ الطاف ندوی کشمیری - بدھ 05 اکتوبر 2016

یوں توآج کل پورا برصغیر آپریشنوں اور اسٹرائیکوں کے شور سے پریشان ہے مگر کشمیر براہ راست ان کی زد میں ہے۔ یہاں حکومت نے آپریشن ’’کام ڈاؤن‘‘کا آغاز کرتے ہو ئے پورے کشمیر کو بالعموم اور جنوبی کشمیر کو بالخصوص سیکورٹی ایجنسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ انھیں مکمل طور پر کھلی چھوٹ ہے۔ جسے چاہیں گرفتار کرسکتے ہیں، جہاں چاہیں چھاپا مار سکتے ہیں،جس کو چاہیں گولی یا پیلٹ کے ذریعے جان سے مار سکتے ہیں۔ آنسو گیس، پاواشیلنگ اور لاٹھی چارج اب ان کے لیے معمول کی مشق بن چکی ہے۔ انھیں انسانیت...

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور انوار حسین حقی - منگل 04 اکتوبر 2016

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں زبردست سفارتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہو اہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی نے سفارتی حلقوں کو بہت زیادہ سرگرم کیا ہواہے ۔ پاکستان کے دفاعی اور سفارتی حلقوں کی شبانہ روز کاوشوں نے بھارت کو سفارتی اور دفاعی لحاظ سے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ انڈین آرمی کی جانب سے جس سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ کیا گیا تھا اس من گھڑت معرکے کے حوالے سے پاکستان کے دفاعی ذرائع نے جو جرات مندانہ پالیسی اختیار کی اور انہیں قوم کے ا...

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور

کشمیر کی صورتحال، ہڑتال مضر یا مفید (قسط اول) الطاف ندوی کشمیری - هفته 01 اکتوبر 2016

زندہ قوموں کی زندگی کارازصرف ’’خود احتسابی‘‘میں مضمر ہے۔ جو قومیں احتساب اور تنقید سے خوفزدہ ہو کر اسے ’’عمل منحوس‘‘خیال کرتی ہیں وہ کسی اعلیٰ اور ارفع مقصد کو حاصل کرنے میں بھی ناکام رہتی ہیں۔ احتساب ہی ایک ایسا عمل ہے جس سے کسی فرد، جماعت اور تحریک کی کامیابی اور ناکامی کا صحیح اور درست اندازہ لگا یا جا سکتا ہے، اسی ایک عمل سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہم ایک مقصد میں کتنا کامیابی کی جانب اور کتنا ناکامی کی طرف جارہے ہیں۔ جب امت مسلمہ کا ستارہ آسمان عالم پر چمکتا تھا ت...

کشمیر کی صورتحال، ہڑتال مضر یا مفید (قسط اول)

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا شیخ امین - جمعه 30 ستمبر 2016

اڑی حملے کے بعد نریندر مودی سرکار اور اس کے زیر اثر میڈیا نے پاکستان کیخلاف ایک ایسی جارحا نہ روش اختیار کی، جس سے بھارتی عوام میں جنگی جنوں کی کیفیت طاری ہوگئی اور انہیں یوں لگا کہ دم بھر میں پاکستان پر حملہ ہوگا اور چند دنوں میں اکھنڈ بھارت کا آر ایس ایس کا پرانا خواب پورا ہوگا۔ ڈاول ڈاکٹرائن کے عین مطا بق نریندر مودی سرکار ان دھمکیوں سے دو طرح کے فائدے حاصل کرنا چا ہتی تھی۔ ایک یہ کہ جنگ کے خوف سے وزیر اعظم نواز شریف، سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کی طرح خو فزدہ ہوکر جنرل ا...

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں الطاف ندوی کشمیری - بدھ 28 ستمبر 2016

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس سے خطاب کو جو پذیرائی کشمیر میں حاصل ہوئی ہے ماضی میں شاید ہی کسی پاکستانی حاکم یا لیڈر کی تقریر کو ایسی اہمیت حاصل ہوئی ہو۔ کشمیر کے لیڈر، دانشور، صحافی، تجزیہ نگار، علماء، طلباء اور عوام کو اس تقریر کا بڑی بے صبری سے انتظار تھااگرچہ یہاں آج کل پاکستان کے تمام نیوزچینلزمکمل طور پر بند ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل اورانٹرنیٹ سروسز بھی گذشتہ ڈھائی مہینے سے بند ہیں، البتہ بھارتی نیوز چینلز کے ذریعے سے’ اس ...

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟ محمد اقبال دیوان - پیر 26 ستمبر 2016

پچھلے دنوں وہاں دہلی میں بڑی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے Security Apparatus اور’’ را‘‘ کے نئے پرانے کرتا دھرتا سب کے سب نریندر مودی جی کو سجھاؤنیاں دینے جمع ہوئے۔ ان سب محافل شبینہ کے روح رواں ہمارے جاتی امراء کے مہمان اجیت دوال جی تھے۔ وہ آٹھ سال لاہور میں داتا دربار کے پاس ایک کھولی میں ground -spy کے طور پر رہتے رہے تھے۔ اُنہوں نے کراچی، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور کابل میں اپنے عرصۂ قیام میں کئی سلیپر سیلز بھی قائم کیے جو اب بھی چھپ چھپا کر اپنی تخریب کاری کی کاروائیاں دکھاتے رہت...

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟

وزیراعظم نواز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب، دھیمے لب و لہجے نے مجموعی تاثر کو گہنا دیا……! عارف عزیز پنہور - جمعرات 22 ستمبر 2016

ہر سال ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے امریکا سمیت دنیا بھر کے ملکوں کے سربراہان خطاب کرتے ہیں۔ یہ روایت وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ اس اجلاس کو باہم متحارب ملکوں کے سربراہان کے لیے ایک دوسرے پر حملے کرنے اور اپنا زور خطابت آزمانے کا بھی اچھا موقع سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان……دونوں ہی ملکوں کے سربراہان حکومت عام طور پر اس اجلاس میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے خطاب میں مدمقابل کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔ خاص طور پر بھارت اس فورم پر بھی...

وزیراعظم نواز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب، دھیمے لب و لہجے نے مجموعی تاثر کو گہنا دیا……!