... loading ...

وزیر داخلہ چودھری نثار نے سندھ کے معاملے میں مکمل غیر دانش مندانہ رویہ اختیار کررکھا ہے۔ تازہ ترین واقعہ یہ ہوا ہے کہ اُن کی وزارت سندھ حکومت کی جانب سے ارسال کردہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی سمری کو مکمل مسترد کردیا ہے۔ جس نے سندھ میں بعض خطرناک مباحث کو جنم دینا شروع کردیا ہے۔ انتہائی ناعاقبت اندیشانہ انداز اور یکطرفہ رویئے کے ساتھ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگر رینجرز کے اختیارات کو کراچی تک محدود رکھا گیا اور رینجرز کو پورے سندھ میں اختیارات نہ دیئے گئے تو پھر وفاق دیگر آپشنز پر غور کرے گا۔
اس امر پر اُصولی طور پر کوئی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ امن وامان کا مسئلہ صرف سندھ بھر کا نہیں بلکہ ملک بھر کا ہے۔ مگر رینجرز کی تعیناتی کا عمل اپنے قانونی تقاضوں میں سندھ حکومت کی درخواست پر انحصار کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو جس سمری کو مسترد کیا گیا ، اُ س کی ضرورت بھی وفاقی حکومت کو نہیں ہونی چاہئے اور وفاقی حکومت بغیر کسی سمری کے اپنے اختیارات کا استعمال کر لیتی۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ اس ضمن میں وزیر داخلہ دراصل یہ چاہتے ہیں سندھ حکومت اُن کی مرضی سے سمری کو تیار کرے تاکہ وہ اس کی منظوری دے سکیں۔ سندھ حکومت نے رینجرز اختیارات میں 90 روز کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا تاہم وفاقی وزارت داخلہ نے سندھ حکومت کی یہ سمری مسترد کردی۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی سمری قانونی معیار پر پورا نہیں اترتی اس میں قانونی اورآئینی پیچیدگیاں ہیں اور یہ سمری آئین کے آرٹیکل 147 کے مطابق نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے اپنے اس مبہم موقف میں یہ نہیں بتایا کہ سندھ حکومت کی سمری کس قانونی معیار پر پورا نہیں اُترتی اور اس سے آرٹیکل 147 کا کونسا تقاضا پورا نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے اب بھی وہی سمری وزارت داخلہ کوارسال کی تھی جو وہ اس سے پہلے ہمیشہ وزارت داخلہ کو رینجرز کے اختیارات کی توسیع کے ضمن میں دیتی آئی ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ اب وزارت داخلہ کو اس پر اعتراض ہونے لگا ہے؟ اگر یہ سمری قانون کے مطابق نہیں تو پھر اس سے پہلے وزارت داخلہ جن سمریوں کو منظور کرتی آئی ہے ، کیا وہ یہ منظوری خلاف قانون سمریوں کو دیتی آئی ہے۔ سندھ حکومت نے پہلے دن سے غلط یا صحیح یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ رینجرز کو خصوصی اختیارات صرف کراچی ڈویژن کے لیے دیئے گیے ہیں اور یہ اختیارات بھی چار سنگین جرائم تک محدود ہیں ۔ جن میں دہشت گردی، بھتہ خوری ، اہدافی قتل (ٹارگٹ کلنگ) اور اغوا برائے تاوان شامل ہیں۔ اب یہ موقف تو اختیا رکیا جاسکتا ہے کہ رینجرز کے اختیارات کے دائرے کو کراچی سے سندھ تک وسیع کیا جائے جس کا اختیار سندھ حکومت کے پا س ہے ۔ مگر اُسے قانونی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ جو اختیارات دے رہی ہے وہ آئینی طور پر اُسے حاصل اختیارات کے مطابق نہیں۔
وزیرداخلہ چودھری نثار درحقیقت جن اختیارات کا تعلق وفاقی حکومت سے ہیں اُس کے خاتمے پر تو مکمل چپ سادھے ہوئے ہیں، اور اپنی پوری زور آزمائی سندھ حکومت کے اختیارات پر کررہے ہیں۔ مثلا اے ٹی سی کے تحت رینجرز کو ملزمان کو نوے روز تک ریمانڈ میں رکھنے کے اختیارات تھے، جو وفاقی حکومت کی جانب سے دیے گیے تھے۔ یہ خصوصی اختیارات 14 جون کو ختم ہو چکے ہیں مگر وفاقی حکومت نے اس معاملے میں مکمل چپ سادھ رکھی ہے۔ وزیر داخلہ اس پر لب کشائی سے مکمل گریز کر رہے ہیں کہ رینجرز کو وفاقی حکومت وہ اختیارات کب دے رہی ہیں جس کا کوئی تعلق سندھ حکومت کے ساتھ نہیں ہے۔
وفاقی حکومت یہ امر سمجھنے سے مکمل قاصر نظر آتی ہے کہ اُس کی جانب سے سندھ حکومت پر اُن کی مرضی کے خلاف ایسا دباؤ جو باقی تین صوبوں میں نظر نہ آتا ہو، سندھ کے مخصوص حلقوں میں ایک متعصبانہ موقف پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جو وفاق کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیئے کہ رینجرز نے پہلے بھی صرف کراچی کے لیے اختیارات ہونے کے باوجود بوقت ضرورت سندھ میں بھی کارروائیاں کی ہیں۔ لہذا زیادہ مناسب تو یہی ہے کہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے کو قانونی دائرے میں رہنے دیا جائے اور اسے سیاسی بنانے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ ایسی صور ت میں جو مباحث جنم لیتے ہیں وہ رینجرز اور عسکری اداروں کے لیے مجموعی طور پر کچھ اچھا تاثر پیدا نہیں کرتے۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...