وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ترکی اور قوم پرستی، رجب طیب اردوغان کا ایمان افروز واقعہ

بدھ 27 جولائی 2016 ترکی اور قوم پرستی، رجب طیب اردوغان کا ایمان افروز واقعہ

مسلم ممالک میں مغربی طرز کی قوم پرستی کی ابتدائی بنیادیں ترکی میں پڑیں۔ عثمانی سلطنت ہی کے عہد میں یہاں نوجوانان ترک جیسی خالص قوم پرست تنظیمیں وجود میں آئیں جو بہت جلد بڑے اثر و رسوخ کی حامل بن گئیں اور عثمانی عہد میں ہی اہم ترین سرکاری عہدوں پر اسی کے کارکن ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی میں قوم پرستوں کا شروع سے بہت اثر و رسوخ رہا ہے۔ جب پہلی جنگ عظیم کے بعد ترکی نے ہتھیار ڈال دیے تو قوم پرستی کی بنیاد پر فوج نے بغاوت کا اعلان کیا اور قابض قوتوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہاں تک کہ ملک کو آزاد کرا لیا اور ایک جدید جمہوریت کی بنیاد رکھی جس میں ترک قوم پرستی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

ترکی کے اس پس منظر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قوم پرستی وہاں کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ ترک قیادت کی اٹھان اسلامی طرز فکر پر ہوئی ہے کہ جس میں قوم پرستی کو بالکل پسند نہیں کیا جاتا۔ ایک ایسے معاشرے میں کہ جس کے خمیر میں قوم پرستی ہو، وہاں عدالت و ترقی پارٹی کا موقف کیا ہے؟ صدر رجب طیب اردوغان کی یہ وڈیو بتانے کے لیے کافی ہے۔

ترک صدر کی یہ وڈیو سوشل میڈیا پر خاصی مقبول ہو رہی ہے جس میں وہ اپنا واقعہ بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے والد سے یہ سوال کیا تھا کہ ہم لازب ہیں یا ترک؟ والد کا جواب اس وڈیو میں دیکھیں:


متعلقہ خبریں


امریکا مجھے بے دخل نہیں کرے گا! فتح اللہ گولن کا امریکا پر اظہاراعتماد وجود - پیر 22 اگست 2016

ترکی میں فوج کی ناکام بغاوت کے بعد اب یہ بات ہرگزرتے دن پایہ ثبوت کو پہنچ رہی ہے کہ اس کی پشت پر فتح اللہ گولن اور امریکا کی مشترکہ منصوبہ بندی موجود تھی۔ اس تاثر کو مضبوط کرنے میں خود فتح اللہ گولن کے بیانات نے بھی خاصا کردار ادا کیا ہے۔ اب فتح اللہ گولن نے العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا اُنہیں ہرگز ترکی کے حوالے نہیں کرے گا۔اُن کے اپنے الفاظ اس ضمن میں یہ تھے کہ "امریکا ترکی کی جانب سے باضابطہ درخواست کے باوجود اُنہیں بے دخل نہیں کرے گ...

امریکا مجھے بے دخل نہیں کرے گا! فتح اللہ گولن کا امریکا پر اظہاراعتماد

ترکی امریکی ڈالر سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے پر غور کرنے لگا وجود - هفته 13 اگست 2016

انقرہ اور مغرب کے درمیان تلخ کلامی کے بعد ترکی نے امریکی ڈالرز سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے کے منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔ نیٹو کی جانب سے ترکی کو یاددہانی کے صرف ایک روز بعد کہ وہ اب بھی نیٹو کا رکن ہے، ترک وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے کہا ہے کہ ملک دفاعی صنعت کے تعاون کے لیے نیٹو سے باہر دیگر آپشنز پر بھی غور کر سکتا ہے، البتہ اس کا پہلا انتخاب ہمیشہ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعاون ہوگا۔ یہ بیان و فوری تردید اسی روز سامنے آئی ہے جب ترکی نے کہا کہ وہ شام میں...

ترکی امریکی ڈالر سے پیچھا چھڑانے اور نیٹو سے نکل جانے پر غور کرنے لگا

جمہور کی طاقت کا عظیم مظاہرہ، استنبول میں 10 لاکھ افراد کا سمندر وجود - پیر 08 اگست 2016

ترکی میں 15 جولائی کی فوجی بغاوت سے لے کر اب تک ہر رات عوام سڑکوں پر بیٹھ کر جمہوریت کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہے اور اب 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے طاقت کے ایک عظیم الشان مظاہرے کے ساتھ اپنا فرض مکمل کردیا ہے۔ 15 جولائی کی شب ہونے والی بغاوت کے دوران 270 لوگ مارے گئے تھے لیکن عوام کی بھرپور مداخلت کی وجہ سے حکومت بغاوت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ شہدائے جمہوریت کی یاد میں حکومت نے طاقت کا ایک عظیم الشان مظاہرہ کیا۔ بحیرۂ مرمرہ کے کنارے پر ینی قاپی کے علاقے میں دنیا...

جمہور کی طاقت کا عظیم مظاہرہ، استنبول میں 10 لاکھ افراد کا سمندر

رجب طیب اردوغان کی نظم جسے سن کر عوام آبدیدہ وجود - پیر 01 اگست 2016

ترک صدر رجب طیب اردوغان ترک عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ جس قوم کے افراد اس رہنما کے لیے ٹینکوں کے آگے لیٹ جائیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے تقریر کے دوران شہدا کی یاد میں ایک خوبصورت نظم پڑھی جس کا عنوان "اے میری پیاری قوم" تھا۔ اس نظم نے اجتماع میں موجود ہزاروں افراد کی آنکھیں نم کردیں۔ یہ نظم اردو ترجمے کے ساتھ رجب طیب اردوغان کے فیس بک پر موجود اردو پیج سے شیئر کی گئی ہے۔ ہم...

رجب طیب اردوغان کی نظم جسے سن کر عوام آبدیدہ

مغربی ممالک اپنے کام سے کام رکھیں، طیب اردوغان وجود - هفته 30 جولائی 2016

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ملک میں ناکام بغاوت کے بعد مغربی رہنماؤں کی جانب سے انقرہ کے ساتھ اظہار یکجہتی نہ کرنے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک جنہیں ترکی میں جمہوریت کے بجائے باغیوں کی فکر کھائے جا رہی ہے، ہر گز ترکی کے دوست نہیں ہو سکتے۔ انقرہ کے صدارتی محل میں گفتگو کرتے ہوئے اردوغان نے کہا کہ 15 جولائی کو بغاوت کی کوشش پر ترک حکومت کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنانے والے رہنماؤں کو "اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے"۔ انہوں نے کہا کہ "جب پانچ سے دس لوگ کسی دہشت...

مغربی ممالک اپنے کام سے کام رکھیں، طیب اردوغان

ترکی میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا وجود - جمعرات 21 جولائی 2016

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد صدر رجب طیب اردوغان نے تین مہینے کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے۔ جس کی وجہ ذمہ دار افراد کے خلاف فوری و موثر کارروائی کرنا ہے۔ یہ اعلان قومی سلامتی کونسل کے گھنٹوں جاری رہنے والے طویل اجلاس کے بعد براہ راست قومی ٹیلی وژن پر کیا گیا۔ طیب اردوغان نے کہا کہ ہنگامی حالت نافذ کرنے کا مقصد ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے حقوق و آزادی کو درپیش خطرات کو کم کرنے کے لیے فوری اور موثر قدم اٹھانا ہے۔ اردوغان نے کہا کہ...

ترکی میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا

ترکی سے پاکستان تک مختار عاقل - منگل 19 جولائی 2016

15 جولائی 2016 ء کی شب گزشتہ 48 سال کے دوران چوتھی مرتبہ ترکی میں ’’فوجی انقلاب‘‘ کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوگئی۔ بغاوت کا المیہ ہے کہ اگر کامیاب ہوجائے تو انقلاب اور ناکام ہو تو غداری کہلاتی ہے۔ 15 جولائی کا فوجی اقدام چونکہ ناکام ثابت ہوا لہٰذا باغیوں کے سرخیل 5 جرنیل اور 29 کرنل حراست میں لے کر فارغ کردیئے گئے اور 1500 کے قریب نچلے درجے کے افسر اور سپاہی گرفتار ہوگئے جن پر مقدمات چلیں گے اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے مطابق انہیں عبرتناک سزائیں دی جائیں گی اور ترک فوج کو غدا...

ترکی سے پاکستان تک

ناکام بغاوت کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے، ترکی وزیر وجود - پیر 18 جولائی 2016

جب ترکی کی جانب سے اپنی فضائی حدود بند کردی گئیں اور انجرلک کی بڑی ایئربیس سے امریکا کے تمام مشن رک گئے کہ جہاں پر امریکا کے 50 ایٹم بم بھی موجود ہیں، ایسا لگ رہا تھا کہ صدر طیب اردوغان کے سب سے بڑے دشمن فتح اللہ گولن کی حوالگی کے لیے اس ایئربیس کو "یرغمال" بنالے گا اور اسی روز صدر طیب اردوغان نے امریکا سے واقعی مطالبہ کر بھی دیا کہ وہ فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرے جو اس وقت امریکی ریاست پنسلوینیا میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عین اسی وقت ترک وزیر محنت سلیما...

ناکام بغاوت کے پیچھے امریکا کا ہاتھ ہے، ترکی وزیر

باغی ترک جرنیل اسرائیل میں اہم عہدے پر فائز تھے وجود - پیر 18 جولائی 2016

ترکی میں افواج کے چھ کمانڈروں کو ناکام بغاوت سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کرلیا گیا ہے جس میں جنرل آکن اوزترک بھی شامل ہیں کہ جو 90ء کی دہائی میں اسرائیل کے لیے ترکی کے ملٹری اتاشی تھے۔ اوزترک، جنہوں نے بعد میں ترک فضائیہ کے کمانڈر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، 1998ء سے 2000ء تک تل ابیب میں موجود ترک سفارت خانے میں کام کیا۔ 64 سالہ فوجی شخصیت نے گزشتہ سال فضائیہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا لیکن ترکی کی سپریم ملٹری کونسل میں بدستور کام کر رہے تھے۔ اب ترک حکومت بالخصوص ...

باغی ترک جرنیل اسرائیل میں اہم عہدے پر فائز تھے

ترکی میں فوج کے باغی ٹولے کی بغاوت مکمل ناکام! وجود - هفته 16 جولائی 2016

ترکی میں فوج کے باغی گروپ کی جانب سے رجب طیب اردوغان کی منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش مکمل طور پر ناکام بنا دی گئی ہے۔ صدر رجب طیب اردوغان کی اپیل پر عوام فوج کے باغی ٹولے کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے بڑی تعداد میں سڑکوں پر امڈ آئے۔ اس دوران میں ترک صدر رجب طیب اردوغان استنبول سے فوراً انقرہ پہنچے۔ اور صدارتی محل میں ایک پریس بریفنگ کا اہتمام کیا ۔ جس میں اُنہوں نے کہا کہ بغاوت میں ملوث فوجیوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ترکی کے فوجی سربراہ جنرل ہلوسی آکار کو بغ...

ترکی میں فوج کے باغی ٹولے کی بغاوت مکمل ناکام!

ترکی میں فوجی بغاوت کے خلاف عوام کی مزاحمت کامیاب! وجود - هفته 16 جولائی 2016

ترکی میں فوج کے ایک ٹولے کی جانب سے اقتدارپر قبضے کی کوشش کے فوراً بعد ترکی کے مقبول ترین صدر رجب طیب اردوان نے فوراً ہی ایک موبائل فون کے ذریعے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے عوام سے اس بغاوت کو ناکام بنانے کی اپیل کی اور اُنہیں گھروں سے باہر سڑکوں پرآنے کا کہا۔ ترک صدر نے اس اپیل کے ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ وہ استنبول سے دارالحکومت انقرہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ ترک صدر کے اس اعلان کے فوراً ہی بعد عوام بڑی تعداد میں تقسیم اسکوائر پر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ ایک طرف عوام بلاخوف...

ترکی میں فوجی بغاوت کے خلاف عوام کی مزاحمت کامیاب!

ترکی میں فوجی بغاوتوں کا مستقبل: کب کیا ہوا؟ وجود - هفته 16 جولائی 2016

ترک آئین میں فوج کو ملکی سلامتی کا محافظ قرار دینے کے باعث ملک میں فوجی بغاوتوں کے محرکات جنم لیتے رہے۔ ترک فوج نے مختلف مواقع پر بغاوت کر کے جمہوریت کو تہس نہس کیا۔ گزشتہ دس برسوں میں ترکی کی اردوان حکومت کی معاشی کامیابیوں کے باعث مسلح افواج کا کردار رفتہ رفتہ پس منظر میں چلا گیا۔ مگر مسلح افواج کو ترکی میں روایتی طور پرایک مضبوط سیاسی قوت اور اتاترک کی جمہوریہ کے محافظ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ اس تناظر میں فوج نے اپنے تئیں خود کانصب العین جمہوریت، سیکولرازم اور اتاترک ک...

ترکی میں فوجی بغاوتوں کا مستقبل: کب کیا ہوا؟